Loading...

Loading...
کتب
۳۴۵ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں“، پھر دوسری بار آپ میرے پاس تشریف لے آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو میں آج روزہ توڑ دوں گا حالانکہ میں نے روزہ کی نیت کر لی تھی“۔
اخبرني صفوان بن عمرو، قال حدثنا احمد بن خالد، قال حدثنا اسراييل، عن سماك بن حرب، قال حدثني رجل، عن عايشة بنت طلحة، عن عايشة ام المومنين، قالت جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فقال " هل عندكم من طعام " . قلت لا . قال " اذا اصوم " . قالت ودخل على مرة اخرى فقلت يا رسول الله قد اهدي لنا حيس . فقال " اذا افطر اليوم وقد فرضت الصوم
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص طلوع فجر سے پہلے روزہ کی نیت نہ کرے تو اس کا روزہ نہ ہو گا“ ۱؎۔
اخبرني القاسم بن زكريا بن دينار، قال حدثنا سعيد بن شرحبيل، قال انبانا الليث، عن يحيى بن ايوب، عن عبد الله بن ابي بكر، عن سالم بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر، عن حفصة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من لم يبيت الصيام قبل الفجر فلا صيام له
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے فجر سے پہلے روزہ کی نیت نہیں کی تو اس کا روزہ نہیں ہو گا“۔
اخبرنا عبد الملك بن شعيب بن الليث بن سعد، قال حدثني ابي، عن جدي، قال حدثني يحيى بن ايوب، عن عبد الله بن ابي بكر، عن ابن شهاب، عن سالم، عن عبد الله، عن حفصة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من لم يبيت الصيام قبل الفجر فلا صيام له
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص روزہ کا پختہ ارادہ طلوع فجر سے پہلے نہ کر لے تو وہ روزہ نہ رکھے“۔
اخبرني محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن اشهب، قال اخبرني يحيى بن ايوب، وذكر، اخر ان عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، حدثهما عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، عن حفصة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من لم يجمع الصيام قبل طلوع الفجر فلا يصوم
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے روزہ کی نیت رات ہی میں نہ کر لی ہو تو اس کا روزہ نہیں“۔
اخبرنا احمد بن الازهر، قال حدثنا عبد الرزاق، عن ابن جريج، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابن عمر، عن حفصة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من لم يبيت الصيام من الليل فلا صيام له
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی تھیں کہ جس نے رات ہی میں روزہ کی پختہ نیت نہ کر لی ہو تو وہ روزہ نہ رکھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا معتمر، قال سمعت عبيد الله، عن ابن شهاب، عن سالم، عن عبد الله، عن حفصة، انها كانت تقول من لم يجمع الصيام من الليل فلا يصوم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني حمزة بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، قال قالت حفصة زوج النبي صلى الله عليه وسلم لا صيام لمن لم يجمع قبل الفجر
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔
اخبرني زكريا بن يحيى، قال حدثنا الحسن بن عيسى، قال انبانا ابن المبارك، قال انبانا معمر، عن الزهري، عن حمزة بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر، عن حفصة، قالت لا صيام لمن لم يجمع قبل الفجر
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔
اخبرنا محمد بن حاتم، قال انبانا حبان، قال انبانا عبد الله، عن سفيان بن عيينة، ومعمر، عن الزهري، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، عن حفصة، قالت لا صيام لمن لم يجمع الصيام قبل الفجر
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا سفيان، عن الزهري، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، عن حفصة، قالت لا صيام لمن لم يجمع الصيام قبل الفجر
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔ مالک بن انس نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے ۱؎۔
اخبرنا احمد بن حرب، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن حمزة بن عبد الله، عن حفصة، قالت لا صيام لمن لم يجمع الصيام قبل الفجر . ارسله مالك بن انس
ام المؤمنین عائشہ و ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہما سے اسی کے مثل روایت ہے کہ صرف وہی شخص روزہ رکھے جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت کر لے۔
قال الحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن عايشة، وحفصة، مثله لا يصوم الا من اجمع الصيام قبل الفجر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آدمی نے رات ہی میں روزہ کی پختہ نیت نہ کی ہو تو وہ روزہ نہ رکھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا المعتمر، قال سمعت عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال اذا لم يجمع الرجل الصوم من الليل فلا يصم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ روزہ صرف وہی رکھے جس نے فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت کر لی ہو۔
قال الحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن نافع، عن ابن عمر، انه كان يقول لا يصوم الا من اجمع الصيام قبل الفجر
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کو روزوں میں سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے تھے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب نماز بھی داود علیہ السلام کی نماز تھی، وہ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات قیام کرتے تھے، اور رات کے چھٹویں حصہ میں پھر سوتے تھے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن عمرو بن اوس، انه سمع عبد الله بن عمرو بن العاص، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احب الصيام الى الله عز وجل صيام داود عليه السلام كان يصوم يوما ويفطر يوما واحب الصلاة الى الله عز وجل صلاة داود عليه السلام كان ينام نصف الليل ويقوم ثلثه وينام سدسه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضر میں ہوں یا سفر میں ایام بیض میں بغیر روزہ کے نہیں رہتے تھے ۱؎۔
اخبرنا القاسم بن زكريا، قال حدثنا عبيد الله، قال حدثنا يعقوب، عن جعفر، عن سعيد، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يفطر ايام البيض في حضر ولا سفر
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے: آپ روزے رکھنا بند نہیں کریں گے، اور آپ بغیر روزے کے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزے رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اور آپ جب سے مدینہ آئے رمضان کے علاوہ آپ نے کسی بھی مہینہ کے مسلسل روزے نہیں رکھے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم حتى نقول لا يفطر ويفطر حتى نقول ما يريد ان يصوم وما صام شهرا متتابعا غير رمضان منذ قدم المدينة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے: آپ بغیر روزہ کے رہیں گے ہی نہیں، اور بغیر روزہ کے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔
اخبرنا محمد بن النضر بن مساور المروزي، قال حدثنا حماد، عن مروان ابي لبابة، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم حتى نقول ما يريد ان يفطر ويفطر حتى نقول ما يريد ان يصوم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو، اور نہ ہی میں یہ جانتی ہوں کہ آپ نے کبھی پوری رات صبح تک قیام کیا ہو، اور نہ ہی میں یہ جانتی ہوں کہ رمضان کے علاوہ آپ نے کبھی کوئی پورا مہینہ روزہ رکھا ہو۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، عن خالد، قال حدثنا سعيد، قال حدثنا قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، عن عايشة، قالت لا اعلم نبي الله صلى الله عليه وسلم قرا القران كله في ليلة ولا قام ليلة حتى الصباح ولا صام شهرا قط كاملا غير رمضان
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ روزہ رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ ( برابر ) روزہ ہی رکھا کریں گے، اور آپ افطار کرتے ( روزہ نہ رہتے ) تو ہم کہتے کہ آپ برابر بغیر روزہ کے رہیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آنے کے بعد سوائے رمضان کے کبھی کوئی پورا مہینہ روزہ نہیں رکھا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن ايوب، عن عبد الله بن شقيق، قال سالت عايشة عن صيام النبي، صلى الله عليه وسلم قالت كان يصوم حتى نقول قد صام ويفطر حتى نقول قد افطر وما صام رسول الله صلى الله عليه وسلم شهرا كاملا منذ قدم المدينة الا رمضان