Loading...

Loading...
کتب
۳۴۵ احادیث
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کرتے تھے، تو ہم میں بعض روزہ دار ہوتے تھے اور بعض بغیر روزہ کے، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے کو عیب کی نظر سے نہیں دیکھتا تھا، اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار کو عیب کی نظر سے دیکھتا تھا۔
اخبرنا سعيد بن يعقوب الطالقاني، قال حدثنا خالد، - وهو ابن عبد الله الواسطي - عن ابي مسلمة، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال كنا نسافر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فمنا الصايم ومنا المفطر ولا يعيب الصايم على المفطر ولا يعيب المفطر على الصايم
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو ہم میں سے بعض نے روزہ رکھے اور بعض نے نہیں۔
اخبرنا ابو بكر بن علي، قال حدثنا القواريري، قال حدثنا بشر بن منصور، عن عاصم الاحول، عن ابي نضرة، عن جابر، قال سافرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فصام بعضنا وافطر بعضنا
ابو سعید خدری اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا، تو روزہ رکھنے والا روزہ رکھتا، اور نہ رکھنے والا کھاتا پیتا، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والے کو معیوب نہیں سمجھتا، اور روزہ نہ رکھنے والا روزہ دار کو معیوب نہیں سمجھتا۔
اخبرني ايوب بن محمد، قال حدثنا مروان، قال حدثنا عاصم، عن ابي نضرة المنذر، عن ابي سعيد، وجابر بن عبد الله، انهما سافرا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فيصوم الصايم ويفطر المفطر ولا يعيب الصايم على المفطر ولا المفطر على الصايم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح صايما في رمضان حتى اذا كان بالكديد افطر
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کیا تو روزہ رکھا یہاں تک کہ عسفان پہنچے، پھر آپ نے ( پانی سے بھرا ) ایک برتن منگایا، اور دن ہی میں پیا، تاکہ لوگ آپ کو دیکھ لیں، پھر آپ بغیر روزہ کے رہے، یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے۔ تو آپ نے مکہ کو رمضان میں فتح کیا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا، اور روزہ توڑ بھی دیا ہے، تو جس کا جی چاہے روزہ رکھے، اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا مفضل، عن منصور، عن مجاهد، عن طاوس، عن ابن عباس، قال سافر رسول الله صلى الله عليه وسلم فصام حتى بلغ عسفان ثم دعا باناء فشرب نهارا ليراه الناس ثم افطر حتى دخل مكة فافتتح مكة في رمضان قال ابن عباس فصام رسول الله صلى الله عليه وسلم في السفر وافطر فمن شاء صام ومن شاء افطر
انس بن مالک (قشیری) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”آؤ کھانا کھاؤ“۔ انہوں نے عرض کیا: میں روزہ دار ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مسافر کو روزہ کی، اور آدھی نماز کی چھوٹ دے دی ہے، نیز حاملہ اور مرضعہ کو بھی روزہ نہ رکھنے کی چھوٹ دی گئی ہے“۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا مسلم بن ابراهيم، عن وهيب بن خالد، قال حدثنا عبد الله بن سوادة القشيري، عن ابيه، عن انس بن مالك، رجل منهم انه اتى النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة وهو يتغدى فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " هلم الى الغداء " . فقال اني صايم . فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " ان الله عز وجل وضع للمسافر الصوم وشطر الصلاة وعن الحبلى والمرضع
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» ”جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ( اور وہ روزہ نہ رکھنا چاہیں ) تو ان کا فدیہ یہ ہے کہ کسی مسکین کو دو وقت کا کھانا کھلائیں“ ( البقرہ: ۱۸۴ ) نازل ہوئی تو ہم میں سے جو شخص چاہتا کہ وہ افطار کرے ( کھائے پئے ) اور فدیہ دیدے ( تو وہ ایسا کر لیتا ) یہاں کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو اس نے اسے منسوخ کر دیا ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال انبانا بكر، - وهو ابن مضر - عن عمرو بن الحارث، عن بكير، عن يزيد، مولى سلمة بن الاكوع عن سلمة بن الاكوع، قال لما نزلت هذه الاية { وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين } كان من اراد منا ان يفطر ويفتدي حتى نزلت الاية التي بعدها فنسختها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه» میں «يطيقونه» کی تفسیر میں کہتے ہیں معنی یہ ہے کہ جو لوگ روزہ رکھنے کے مکلف ہیں، ( تو ہر روزہ کے بدلے ) ان پر ایک مسکین کے دونوں وقت کے کھانے کا فدیہ ہے، ( اور جو شخص ازراہ ثواب و نیکی و بھلائی ) ایک سے زیادہ مسکین کو کھانا دے دیں تو یہ منسوخ نہیں ہے، ( یہ اچھی بات ہے، اور زیادہ بہتر بات یہ ہے کہ روزہ ہی رکھے جائیں ) یہ رخصت صرف اس شخص کے لیے ہے جو روزہ کی طاقت نہ رکھتا ہو، یا بیمار ہو اور اچھا نہ ہو پا رہا ہو۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا يزيد، قال انبانا ورقاء، عن عمرو بن دينار، عن عطاء، عن ابن عباس، في قوله عز وجل { وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين } يطيقونه يكلفونه فدية طعام مسكين واحد { فمن تطوع خيرا } طعام مسكين اخر ليست بمنسوخة { فهو خير له وان تصوموا خير لكم } لا يرخص في هذا الا للذي لا يطيق الصيام او مريض لا يشفى
معاذہ عدویہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا عورت جب حیض سے پاک ہو جائے تو نماز کی قضاء کرے؟ انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ۱؎ ہے؟ ہم عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حیض سے ہوتی تھیں، پھر ہم پاک ہوتیں تو آپ ہمیں روزہ کی قضاء کا حکم دیتے تھے، اور نماز کی قضاء کے لیے نہیں کہتے تھے۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا علي، - يعني ابن مسهر - عن سعيد، عن قتادة، عن معاذة العدوية، ان امراة، سالت عايشة اتقضي الحايض الصلاة اذا طهرت قالت احرورية انت كنا نحيض على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم نطهر فيامرنا بقضاء الصوم ولا يامرنا بقضاء الصلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھ پر رمضان کے روزہ ہوتے تھے تو میں قضاء نہیں کر پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان آ جاتا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال سمعت ابا سلمة، يحدث عن عايشة، قالت ان كان ليكون على الصيام من رمضان فما اقضيه حتى يجيء شعبان
محمد بن صیفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے آج کے دن کھایا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہم میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن ہوں نے روزہ رکھا ہے، اور کچھ لوگوں نے نہیں رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا باقی دن ( بغیر کھائے پیئے ) پورا کرو ۱؎، اہل عروض ۲؎ کو خبر کرا دو کہ وہ بھی اپنا باقی دن ( بغیر کھائے پئے ) پورا کریں“۔
اخبرنا عبد الله بن احمد بن عبد الله بن يونس ابو حصين، قال حدثنا عبثر، قال حدثنا حصين، عن الشعبي، عن محمد بن صيفي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم عاشوراء " امنكم احد اكل اليوم " . فقالوا منا من صام ومنا من لم يصم . قال " فاتموا بقية يومكم وابعثوا الى اهل العروض فليتموا بقية يومهم
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”لوگوں میں عاشوراء کے دن اعلان کر دو: جس نے کھا لیا ہے وہ باقی دن ( بغیر کھائے پیئے ) پورا کرے، اور جس نے نہ کھایا ہو وہ روزہ رکھے“۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى، عن يزيد، قال حدثنا سلمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لرجل " اذن - يوم عاشوراء - من كان اكل فليتم بقية يومه ومن لم يكن اكل فليصم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس آئے، اور پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ( کھانے کو ) ہے؟“ تو میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو میں روزہ سے ہوں“، اس دن کے بعد پھر ایک دن آپ میرے پاس سے گزرے، اس دن میرے پاس تحفہ میں حیس ۱؎ آیا ہوا تھا، میں نے اس میں سے آپ کے لیے نکال کر چھپا رکھا تھا، آپ کو حیس بہت پسند تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے حیس تحفے میں دیا گیا ہے، میں نے اس میں سے آپ کے لیے چھپا کر رکھا ہے، آپ نے فرمایا: ”لاؤ حاضر کرو، اگرچہ میں نے صبح سے ہی روزہ کی نیت کر رکھی ہے“ ( مگر کھاؤ گا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا، پھر فرمایا: ”نفلی روزہ کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو اپنے مال میں سے ( نفلی ) صدقہ نکالتا ہے، جی چاہا دے دیا، جی چاہا نہیں دیا، روک لیا“۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا عاصم بن يوسف، قال حدثنا ابو الاحوص، عن طلحة بن يحيى بن طلحة، عن مجاهد، عن عايشة، قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فقال " هل عندكم شىء " . فقلت لا . قال " فاني صايم " . ثم مر بي بعد ذلك اليوم وقد اهدي الى حيس فخبات له منه وكان يحب الحيس قالت يا رسول الله انه اهدي لنا حيس فخبات لك منه . قال " ادنيه اما اني قد اصبحت وانا صايم " . فاكل منه ثم قال " انما مثل صوم المتطوع مثل الرجل يخرج من ماله الصدقة فان شاء امضاها وان شاء حبسها
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوم کر میرے پاس آئے اور پوچھا: ”تمہارے پاس کوئی چیز ( کھانے کی ) ہے؟“ میں نے عرض کیا، میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں“، پھر ایک اور بار میرے پاس آئے، اس وقت ہمارے پاس حیس ہدیہ میں آیا ہوا تھا، تو میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوئی تو آپ نے اسے کھایا، تو مجھے اس بات سے حیرت ہوئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمارے پاس آئے تو روزہ سے تھے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیس کھا لیا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں عائشہ! جس نے کوئی روزہ رکھا لیکن وہ روزہ رمضان کا یا رمضان کی قضاء کا نہ ہو، یا نفلی روزہ ہو تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اپنے مال میں سے ( نفلی ) صدقہ نکالا، پھر اس میں سے جتنا چاہا سخاوت کر کے دے دیا اور جو بچ رہا بخیلی کر کے اسے روک لیا“ ۱؎۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا يزيد، انبانا شريك، عن طلحة بن يحيى بن طلحة، عن مجاهد، عن عايشة، قالت دار على رسول الله صلى الله عليه وسلم دورة قال " اعندك شىء " . قالت ليس عندي شىء . قال " فانا صايم " . قالت ثم دار على الثانية وقد اهدي لنا حيس فجيت به فاكل فعجبت منه فقلت يا رسول الله دخلت على وانت صايم ثم اكلت حيسا . قال " نعم يا عايشة انما منزلة من صام في غير رمضان - او غير قضاء رمضان او في التطوع - بمنزلة رجل اخرج صدقة ماله فجاد منها بما شاء فامضاه وبخل منها بما بقي فامسكه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تھے اور پوچھتے تھے: ”کیا تمہارے پاس کھانا ہے؟“ میں کہتی تھی: نہیں، تو آپ فرماتے تھے: ”میں روزہ سے ہوں“، ایک دن آپ ہمارے پاس تشریف لائے، اس دن ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا تھا، آپ نے کہا: ”کیا تم لوگوں کے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟“ ہم نے کہا: جی ہاں ہے، ہمارے پاس ہدیہ میں حیس آیا ہوا ہے، آپ نے فرمایا: ”میں نے صبح روزہ رکھنے کا ارادہ کیا تھا“، پھر آپ نے ( اسے ) کھایا۔ قاسم بن یزید نے ان کی یعنی ابوبکر حنفی کی مخالفت کی ہے ۱؎، ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
اخبرنا عبد الله بن الهيثم، قال حدثنا ابو بكر الحنفي، قال حدثنا سفيان، عن طلحة بن يحيى، عن مجاهد، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجيء ويقول " هل عندكم غداء " . فنقول لا . فيقول " اني صايم " . فاتانا يوما وقد اهدي لنا حيس فقال " هل عندكم شىء " . قلنا نعم اهدي لنا حيس . قال " اما اني قد اصبحت اريد الصوم " . فاكل خالفه قاسم بن يزيد
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، ہم نے عرض کیا: ہمارے پاس حیس کا تحفہ بھیجا گیا، ہم نے اس میں آپ کا ( بھی ) حصہ لگایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں روزہ سے ہوں“، پھر آپ نے روزہ توڑ دیا۔
اخبرنا احمد بن حرب، قال حدثنا قاسم، قال حدثنا سفيان، عن طلحة بن يحيى، عن عايشة بنت طلحة، عن عايشة ام المومنين، قالت اتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فقلنا اهدي لنا حيس قد جعلنا لك منه نصيبا . فقال " اني صايم " . فافطر
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آتے تھے اور آپ روزہ سے ہوتے تھے ( اس کے باوجود ) پوچھتے تھے: ”تمہارے پاس رات کی کوئی چیز ہے جسے تم مجھے کھلا سکو؟“ ہم کہتے نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”میں نے روزہ رکھ لیا“ پھر اس کے بعد ایک بار آپ ان کے پاس آئے، تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس ہدیہ آیا ہوا ہے آپ نے پوچھا: ”کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: حیس ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے صبح روزہ کا ارادہ کیا تھا“ پھر آپ نے کھایا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا طلحة بن يحيى، قال حدثتني عايشة بنت طلحة، عن عايشة ام المومنين، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان ياتيها وهو صايم فقال " اصبح عندكم شىء تطعمينيه " . فنقول لا . فيقول " اني صايم " . ثم جاءها بعد ذلك فقالت اهديت لنا هدية . فقال " ما هي " . قالت حيس . قال " قد اصبحت صايما " . فاكل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا: ”تمہارے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے؟“ ہم نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تو میں روزہ سے ہوں“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا وكيع، قال حدثنا طلحة بن يحيى، عن عمته، عايشة بنت طلحة عن عايشة ام المومنين، قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم فقال " هل عندكم شىء " . قلنا لا . قال " فاني صايم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو میں روزہ سے ہوں“، پھر آپ ایک اور دن تشریف لائے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس ہدیہ میں حیس آیا ہوا ہے، تو آپ نے اسے منگوایا، اور فرمایا: ”میں نے صبح روزہ کی نیت کی تھی“، پھر آپ نے کھایا۔
اخبرني ابو بكر بن علي، قال حدثنا نصر بن علي، قال اخبرني ابي، عن القاسم بن معن، عن طلحة بن يحيى، عن عايشة بنت طلحة، ومجاهد، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتاها فقال " هل عندكم طعام " . فقلت لا . قال " اني صايم " . ثم جاء يوما اخر فقالت عايشة يا رسول الله انا قد اهدي لنا حيس فدعا به فقال " اما اني قد اصبحت صايما " . فاكل
مجاہد اور ام کلثوم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، اور ان سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟“ آگے اسی طرح ہے جیسے اس سے پہلی روایت میں ہے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: اور اسے سماک بن حرب نے بھی روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک شخص نے روایت کی اور اس نے عائشہ بنت طلحہ سے روایت کی ہے ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔
اخبرني عمرو بن يحيى بن الحارث، قال حدثنا المعافى بن سليمان، قال حدثنا القاسم، عن طلحة بن يحيى، عن مجاهد، وام كلثوم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل على عايشة فقال " هل عندكم طعام " . نحوه . قال ابو عبد الرحمن وقد رواه سماك بن حرب قال حدثني رجل عن عايشة بنت طلحة