Loading...

Loading...
کتب
۳۴۵ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے لیے نکلے، آپ روزہ رکھے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ آپ عسفان ۱؎ پہنچے، تو ایک پیالہ منگایا اور پیا۔ شعبہ کہتے ہیں: یہ واقعہ رمضان کے مہینے کا ہے، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: سفر میں جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، عن شعبة، عن منصور، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم الى مكة فصام حتى اتى عسفان فدعا بقدح فشرب - قال شعبة - في رمضان فكان ابن عباس يقول من شاء صام ومن شاء افطر
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سفر کیا، اور آپ روزہ رکھے ہوئے تھے، یہاں تک کہ عسفان پہنچے تو آپ نے ایک برتن منگایا، تو دن ہی میں پی لیا، لوگ اسے دیکھ رہے تھے، پھر آپ بغیر روزہ کے رہے۔
اخبرنا محمد بن قدامة، عن جرير، عن منصور، عن مجاهد، عن طاوس، عن ابن عباس، قال سافر رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان فصام حتى بلغ عسفان ثم دعا باناء فشرب نهارا يراه الناس ثم افطر
عوام بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں روزہ رکھتے تھے اور نہیں بھی رکھتے تھے ۱؎۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، قال حدثنا سفيان، عن العوام بن حوشب، قال قلت لمجاهد الصوم في السفر قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم ويفطر
مجاہد کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے مہینے میں روزے رکھے، اور سفر میں بغیر روزے کے رہے۔
اخبرني هلال بن العلاء، قال حدثنا حسين، قال حدثنا زهير، قال حدثنا ابو اسحاق، قال اخبرني مجاهد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صام في شهر رمضان وافطر في السفر
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”چاہو تو روزہ رکھو، اور چاہو تو نہ رکھو“۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا ازهر بن القاسم، قال حدثنا هشام، عن قتادة، عن سليمان بن يسار، عن حمزة بن عمرو الاسلمي، انه سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصوم في السفر قال " ان - ثم ذكر كلمة معناها ان - شيت صمت وان شيت افطرت
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آگے اوپر والی حدیث کے مثل ہے اور یہ حدیث مرسل ۲؎ ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن بكير، عن سليمان بن يسار، ان حمزة بن عمرو، قال يا رسول الله مثله مرسل
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم روزہ رکھنا چاہو تو رکھو اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو“۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن عبد الحميد بن جعفر، عن عمران بن ابي انس، عن سليمان بن يسار، عن حمزة، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصوم في السفر قال " ان شيت ان تصوم فصم وان شيت ان تفطر فافطر
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم روزہ رکھنا چاہو تو رکھو، اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو“۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابو بكر، قال حدثنا عبد الحميد بن جعفر، عن عمران بن ابي انس، عن سليمان بن يسار، عن حمزة بن عمرو، قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصوم في السفر فقال " ان شيت ان تصوم فصم وان شيت ان تفطر فافطر
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں سفر میں اپنے اندر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں ( تو کیا میں روزہ رکھوں؟ ) آپ نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور چاہو تو نہ رکھو“۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني عمرو بن الحارث، والليث، وذكر، اخر عن بكير، عن سليمان بن يسار، عن حمزة بن عمرو الاسلمي، قال يا رسول الله اني اجد قوة على الصيام في السفر قال " ان شيت فصم وان شيت فافطر
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا: تو آپ نے فرمایا: ”اگر رکھنا چاہو تو رکھو، اور اگر نہ رکھنا چاہو تو نہ رکھو“۔
اخبرني هارون بن عبد الله، قال حدثنا محمد بن بكر، قال انبانا عبد الحميد بن جعفر، قال اخبرني عمران بن ابي انس، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن حمزة بن عمرو، انه سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصوم في السفر قال " ان شيت ان تصوم فصم وان شيت ان تفطر فافطر
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلسل روزہ رکھتا تھا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر میں مسلسل روزہ رکھوں؟ تو آپ نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو“۔
اخبرنا عمران بن بكار، قال حدثنا احمد بن خالد، قال حدثنا محمد، عن عمران بن ابي انس، عن سليمان بن يسار، وحنظلة بن علي، قال حدثاني جميعا، عن حمزة بن عمرو، قال كنت اسرد الصيام على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله اني اسرد الصيام في السفر فقال " ان شيت فصم وان شيت فافطر
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں مسلسل روزہ رکھنے والا آدمی ہوں تو کیا میں سفر میں بھی برابر روزہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔
اخبرنا عبيد الله بن سعد بن ابراهيم، قال حدثنا عمي، قال حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، عن عمران بن ابي انس، عن حنظلة بن علي، عن حمزة، قال قلت يا نبي الله اني رجل اسرد الصيام افاصوم في السفر قال " ان شيت فصم وان شيت فافطر
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا وہ ایک ایسے آدمی تھے جو سفر میں روزہ رکھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔
اخبرنا عبيد الله بن سعد، قال حدثنا عمي، قال حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، قال حدثني عمران بن ابي انس، ان سليمان بن يسار، حدثه ان ابا مراوح حدثه ان حمزة بن عمرو حدثه انه، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان رجلا يصوم في السفر فقال " ان شيت فصم وان شيت فافطر
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میں اپنے اندر سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، تو کیا ( اگر میں روزہ رکھوں تو ) مجھ پر گناہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ عزوجل کی جانب سے رخصت ہے، تو جس نے اس رخصت کو اختیار کیا تو یہ اچھا ہے، اور جو روزہ رکھنا چاہے تو اس پر کوئی حرج نہیں“۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال انبانا ابن وهب، قال انبانا عمرو، وذكر، اخر عن ابي الاسود، عن عروة، عن ابي مراوح، عن حمزة بن عمرو، انه قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم اجد في قوة على الصيام في السفر فهل على جناح قال " هي رخصة من الله عز وجل فمن اخذ بها فحسن ومن احب ان يصوم فلا جناح عليه
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں سفر روزہ میں رکھوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، عن محمد بن بشر، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن حمزة بن عمرو الاسلمي، انه سال رسول الله صلى الله عليه وسلم اصوم في السفر قال " ان شيت فصم وان شيت فافطر
حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں روزہ رکھنے والا آدمی ہوں، کیا میں سفر میں روزہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔
اخبرنا علي بن الحسن اللاني، بالكوفة قال حدثنا عبد الرحيم الرازي، عن هشام، عن عروة، عن عايشة، عن حمزة بن عمرو، انه قال يا رسول الله اني رجل اصوم افاصوم في السفر قال " ان شيت فصم وان شيت فافطر
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال انبانا ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت ان حمزة قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم يا رسول الله اصوم في السفر وكان كثير الصيام . فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان شيت فصم وان شيت فافطر
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! سفر میں روزہ رکھوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔
اخبرني عمرو بن هشام، قال حدثنا محمد بن سلمة، عن ابن عجلان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت ان حمزة سال رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اصوم في السفر فقال " ان شيت فصم وان شيت فافطر
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا وہ ایک ایسے آدمی تھے جو مسلسل روزہ رکھتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو رکھو، اور اگر چاہو تو نہ رکھو“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبدة بن سليمان، قال حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان حمزة الاسلمي، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصوم في السفر وكان رجلا يسرد الصيام . فقال " ان شيت فصم وان شيت فافطر
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رمضان میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ) سفر کرتے تھے۔ ہم میں سے کوئی روزہ سے ہوتا تھا، اور کوئی بغیر روزہ کے، اور روزہ دار روزہ نہ رکھنے والوں کو عیب کی نظر سے نہیں دیکھتا اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والا روزہ رکھنے والے کو معیوب سمجھتا تھا۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال حدثنا حماد، عن سعيد الجريري، عن ابي نضرة، قال حدثنا ابو سعيد، قال كنا نسافر في رمضان فمنا الصايم ومنا المفطر لا يعيب الصايم على المفطر ولا يعيب المفطر على الصايم