Loading...

Loading...
کتب
۳۴۵ احادیث
ابوالمہاجر کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوامیہ یعنی ضمری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا موسى بن مروان، قال حدثنا محمد بن حرب، عن الاوزاعي، قال اخبرني يحيى، قال حدثني ابو قلابة، قال حدثني ابو المهاجر، قال حدثني ابو امية يعني الضمري، انه قدم على النبي صلى الله عليه وسلم فذكر نحوه
ابوقلابہ جرمی کا بیان ہے کہ ان سے ابوامیہ ضمری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ ایک سفر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ نے ان سے کہا: ”ابوامیہ! دوپہر کے کھانے کا انتظار کر لو“ ( کھا کر چلے جانا ) میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب آؤ، میں مسافر کے بارے میں تمہیں بتاتا ہوں: اللہ نے اس سے روزے کی چھوٹ دے دی ہے، اور نماز آدھی کر دی ہے“۔
اخبرني شعيب بن شعيب بن اسحاق، قال حدثنا عبد الوهاب، قال حدثنا شعيب، قال حدثني الاوزاعي، قال حدثني يحيى، قال حدثني ابو قلابة الجرمي، ان ابا امية الضمري، حدثهم انه، قدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم من سفر فقال " انتظر الغداء يا ابا امية " . قلت اني صايم . قال " ادن اخبرك عن المسافر ان الله وضع عنه الصيام ونصف الصلاة
ابوامیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ سفر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور وہ روزے سے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ” ( تم جانا چاہتے ہو ) کیا، تم دوپہر کے کھانے کا انتظار نہیں کرو گے“، انہوں نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ میں روزے سے متعلق تمہیں بتاتا ہوں۔ اللہ عزوجل نے مسافر کو روزے کی چھوٹ دی ہے اور نماز آدھی کر دی ہے“۔
اخبرنا محمد بن عبيد الله بن يزيد بن ابراهيم الحراني، قال حدثنا عثمان، قال حدثنا معاوية، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي قلابة، ان ابا امية الضمري، اخبره انه، اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم من سفر وهو صايم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا تنتظر الغداء " . قال اني صايم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تعال اخبرك عن الصيام ان الله عز وجل وضع عن المسافر الصيام ونصف الصلاة
ابوامیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفر سے آئے، آگے راوی نے پوری روایت اسی طرح ذکر کی۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا عثمان بن عمر، قال انبانا علي، عن يحيى، عن ابي قلابة، عن رجل، ان ابا امية، اخبره انه، اتى النبي صلى الله عليه وسلم من سفر نحوه
انس (قشیری) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے اور، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی“ ( روزے کی چھوٹ دی ہے ) ۔
اخبرنا عمر بن محمد بن الحسن بن التل، قال حدثنا ابي قال، حدثنا سفيان الثوري، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله وضع عن المسافر نصف الصلاة والصوم وعن الحبلى والمرضع
ایوب قبیلہ قشیر کے ایک شیخ سے، اور وہ قشیری اپنے چچا ۱؎ سے روایت کرتے ہیں، (ایوب کہتے ہیں) ہم سے حدیث بیان کی گئی، پھر ہم نے انہیں ( شیخ قشیری کو ) ان کے اونٹوں میں پایا، تو ان سے ابوقلابہ نے کہا: آپ ان سے ( ایوب سے ) حدیث بیان کیجئے تو ( قشیری ) شیخ نے کہا: مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا کہ وہ اپنے اونٹوں میں گئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، آپ کھانا کھا رہے تھے ( راوی کو شک ہے «یا ٔکل» کہا یا «یطعم» کہا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب آؤ اور کھانا کھاؤ“ ( راوی کو شک ہے «ادن فکل» کہا یا «ادن فاطعم» کہا ) تو میں نے کہا: «مںَ صائم» ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دے دی ہے، اور حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی“ ۲؎۔
اخبرنا محمد بن حاتم، قال حدثنا حبان، قال انبانا عبد الله، عن ابن عيينة، عن ايوب، عن شيخ، من قشير عن عمه، حدثنا ثم، الفيناه في ابل له فقال له ابو قلابة حدثه فقال الشيخ حدثني عمي انه ذهب في ابل له فانتهى الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو ياكل او قال يطعم فقال " ادن فكل او قال " ادن فاطعم " . فقلت اني صايم . فقال " ان الله عز وجل وضع عن المسافر شطر الصلاة والصيام وعن الحامل والمرضع
ایوب کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوقلابہ نے یہ حدیث بیان کی، پھر مجھ سے کہا: کیا آپ اس حدیث کے بیان کرنے والے سے ملنا چاہیں گے؟ پھر انہوں نے ان کی طرف میری رہنمائی کی، تو میں جا کر ان سے ملا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے ایک رشتہ دار نے جنہیں انس بن مالک کہا جاتا ہے نے بیان کیا کہ میں اپنے اونٹوں کے سلسلے میں جو پکڑ لیے گئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں پہنچا تو آپ کھانا کھا رہے تھے، تو آپ نے مجھے اپنے کھانے میں شریک ہونے کے لیے بلایا۔ میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب آؤ میں تمہیں اس کے متعلق بتاتا ہوں، ( سنو ) اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ، اور آدھی نماز کی چھوٹ دی ہے“۔
اخبرنا ابو بكر بن علي، قال حدثنا سريج، قال حدثنا اسماعيل ابن علية، عن ايوب، قال حدثني ابو قلابة، هذا الحديث ثم قال هل لك في صاحب الحديث فدلني عليه فلقيته فقال حدثني قريب لي يقال له انس بن مالك قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في ابل كانت لي اخذت فوافقته وهو ياكل فدعاني الى طعامه فقلت اني صايم . فقال " ادن اخبرك عن ذلك ان الله وضع عن المسافر الصوم وشطر الصلاة
ایک صحابی کہتے ہیں میں ایک ضرورت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اتفاق کی بات آپ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، آپ نے کہا: آؤ کھانا میں شریک ہو جاؤ، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: آؤ میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے، اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی چھوٹ دی ہے ۱؎۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن رجل، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم لحاجة فاذا هو يتغدى قال " هلم الى الغداء " . فقلت اني صايم . قال " هلم اخبرك عن الصوم ان الله وضع عن المسافر نصف الصلاة والصوم ورخص للحبلى والمرضع
ابو العلاء بن شخیر بھی ایک شخص سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن خالد الحذاء، عن ابي العلاء بن الشخير، عن رجل، نحوه
ہانی بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور میں روزے سے تھا، اور آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”آؤ“ ( کھانے میں شریک ہو جاؤ ) میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”ادھر آؤ، کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے“۔ میں نے کہا: اللہ نے مسافر کو کیا چھوٹ دی ہے؟ آپ نے فرمایا: روزے کی، اور آدھی نماز کی۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن هاني بن الشخير، عن رجل، من بلحريش عن ابيه، قال كنت مسافرا فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم وانا صايم وهو ياكل قال " هلم " . قلت اني صايم . قال " تعال الم تعلم ما وضع الله عن المسافر " . قلت وما وضع عن المسافر قال " الصوم ونصف الصلاة
ہانی بن عبداللہ بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور رہا ہم سفر کرتے رہے، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”آؤ کھانا کھاؤ“، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں: اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزے کی چھوٹ دی ہے، اور آدھی نماز کی بھی۔
اخبرنا عبد الرحمن بن محمد بن سلام، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن هاني بن عبد الله بن الشخير، عن رجل، من بلحريش عن ابيه، قال كنا نسافر ما شاء الله فاتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يطعم فقال " هلم فاطعم " . فقلت اني صايم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احدثكم عن الصيام ان الله وضع عن المسافر الصوم وشطر الصلاة
عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ کھانا کھا رہے تھے اور میں روزے سے تھا، آپ نے فرمایا: آؤ ( کھانا کھا لو ) میں نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں وہ چیز معلوم ہے جس کی اللہ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے؟، میں نے کہا: کس چیز کی اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے اور آدھی نماز کی“۔
اخبرنا عبيد الله بن عبد الكريم، قال حدثنا سهل بن بكار، قال حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن هاني بن عبد الله بن الشخير، عن ابيه، قال كنت مسافرا فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو ياكل وانا صايم فقال " هلم " . قلت اني صايم . قال " اتدري ما وضع الله عن المسافر " . قلت وما وضع الله عن المسافر قال " الصوم وشطر الصلاة
غیلان کہتے ہیں میں ابوقلابہ کے ساتھ ایک سفر میں نکلا ( کھانے کے وقت ) انہوں نے کھانا میرے آگے بڑھایا تو میں نے کہا: میں تو روزے سے ہوں، اس پر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں نکلے، آپ نے کھانا آگے بڑھاتے ہوئے ایک شخص سے کہا: ”قریب آ جاؤ کھانا کھاؤ“، اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ـ: ”اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لیے آدھی نماز کی اور سفر میں روزے کی چھوٹ دی ہے“۔ تو اب آؤ کھاؤ، تو میں قریب ہو گیا، اور کھانے لگا۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا عبيد الله، قال انبانا اسراييل، عن موسى، - هو ابن ابي عايشة - عن غيلان، قال خرجت مع ابي قلابة في سفر فقرب طعاما فقلت اني صايم . فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج في سفر فقرب طعاما فقال لرجل " ادن فاطعم " . قال اني صايم . قال " ان الله وضع عن المسافر نصف الصلاة والصيام في السفر " . فادن فاطعم فدنوت فطعمت
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے تھے اور کچھ لوگ بغیر روزے کے تھے، ہم نے ایک گرم دن میں پڑاؤ کیا، اور ہم ( چھولداریاں اور خیمے لگا لگا کر ) سایہ کرنے لگے، تو روزہ دار ( سخت گرمی کی تاب نہ لا کر ) گر گر پڑے، اور روزہ نہ رہنے والے اٹھے، اور انہوں نے سواریوں کو پانی پلایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج غیر روزہ دار ثواب مار لے گئے“۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا ابو معاوية، قال حدثنا عاصم الاحول، عن مورق العجلي، عن انس بن مالك، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في السفر فمنا الصايم ومنا المفطر فنزلنا في يوم حار واتخذنا ظلالا فسقط الصوام وقام المفطرون فسقوا الركاب فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ذهب المفطرون اليوم بالاجر
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہا جاتا ہے سفر میں روزہ رکھنا ایسا ہے جیسے حضر میں افطار کرنا۔
اخبرنا محمد بن ابان البلخي، قال حدثنا معن، عن ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عبد الرحمن بن عوف، قال يقال الصيام في السفر كالافطار في الحضر
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں سفر میں روزہ رکھنے والا ایسا ہی ہے جیسے حضر میں روزہ نہ رکھنے والا۔
اخبرنا محمد بن يحيى بن ايوب، قال حدثنا حماد بن الخياط، وابو عامر قالا حدثنا ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن عبد الرحمن بن عوف، قال الصايم في السفر كالمفطر في الحضر
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں سفر میں روزہ رکھنے والا حضر میں افطار کرنے والے کی طرح ہے ۱؎۔
اخبرني محمد بن يحيى بن ايوب، قال حدثنا ابو معاوية، قال حدثنا ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف، عن ابيه، قال الصايم في السفر كالمفطر في الحضر
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں سفر پر نکلے، تو آپ روزے سے رہے۔ یہاں تک کہ آپ قدید پہنچے، تو آپ کے سامنے دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، تو آپ نے پیا، اور آپ نے اور آپ کے صحابہ نے روزہ توڑ دیا۔
اخبرنا محمد بن حاتم، قال انبانا سويد، قال اخبرنا عبد الله، عن شعبة، عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج في رمضان فصام حتى اتى قديدا ثم اتي بقدح من لبن فشرب وافطر هو واصحابه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں روزہ رکھا، ( اور چلے ) یہاں تک کہ آپ قدید آئے، پھر آپ نے روزہ توڑ دیا، اور مکہ پہنچنے تک بغیر روزہ کے رہے۔
اخبرنا القاسم بن زكريا، قال حدثنا سعيد بن عمرو، قال حدثنا عبثر، عن العلاء بن المسيب، عن الحكم بن عتيبة، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال صام رسول الله صلى الله عليه وسلم من المدينة حتى اتى قديدا ثم افطر حتى اتى مكة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا یہاں تک کہ آپ قدید آئے، پھر آپ نے دودھ کا ایک پیالہ منگایا اور ( اسے ) پیا، اور آپ نے اور آپ کے اصحاب نے روزہ توڑ دیا۔
اخبرنا زكريا بن يحيى، قال انبانا الحسن بن عيسى، قال انبانا ابن المبارك، قال انبانا شعبة، عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صام في السفر حتى اتى قديدا ثم دعا بقدح من لبن فشرب فافطر هو واصحابه