Loading...

Loading...
کتب
۳۴۵ احادیث
ابوعثمان ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے ہر مہینے میں تین روزہ رکھے تو اس نے ( گویا ) پورے مہینے کے روزہ رکھے“، یا یہ ( فرمایا ) : ”اس کے لیے پورے مہینے کے روزہ کا ثواب ہے“، عاصم راوی کو یہاں شک ہوا ہے۔
اخبرنا محمد بن حاتم، قال انبانا حبان، قال انبانا عبد الله، عن عاصم، عن ابي عثمان، عن رجل، قال ابو ذر سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من صام ثلاثة ايام من كل شهر فقد تم صوم الشهر او فله صوم الشهر " . شك عاصم
عثمان بن ابی العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر مہینے کے تین دن کے روزہ بہترین روزہ ہیں“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن سعيد بن ابي هند، ان مطرفا، حدثه ان عثمان بن ابي العاص قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " صيام حسن ثلاثة ايام من الشهر
اس سند سے سعید بن ابی ہند نے روایت کی ہے کہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کہا ہے، اور یہ مرسل ہے۔
اخبرنا زكريا بن يحيى، قال انبانا ابو مصعب، عن مغيرة بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن سعيد بن ابي هند، عن محمد بن اسحاق، عن سعيد بن ابي هند، قال عثمان بن ابي العاص نحوه مرسل
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے۔
اخبرنا يوسف بن سعيد، قال حدثنا حجاج، عن شريك، عن الحر بن صياح، قال سمعت ابن عمر، يقول كان النبي صلى الله عليه وسلم يصوم ثلاثة ايام من كل شهر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزے رکھتے تھے، مہینے کے پہلے دوشنبہ ( پیر ) کو، اور اس کے بعد کے قریبی جمعرات کو، پھر اس کے بعد کے جمعرات کو۔
اخبرنا الحسن بن محمد الزعفراني، قال حدثنا سعيد بن سليمان، عن شريك، عن الحر بن صياح، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصوم ثلاثة ايام من كل شهر يوم الاثنين من اول الشهر والخميس الذي يليه ثم الخميس الذي يليه
ہنیدہ خزاعی کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین کے پاس آیا، اور میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزہ رکھتے تھے۔ مہینے کے پہلے کہ دوشنبہ ( پیر ) کو، پھر جمعرات کو، پھر اس کے بعد کے آنے والے جمعرات کو۔
اخبرنا علي بن محمد بن علي، قال حدثنا خلف بن تميم، عن زهير، عن الحر بن الصياح، قال سمعت هنيدة الخزاعي، قال دخلت على ام المومنين سمعتها تقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم من كل شهر ثلاثة ايام اول اثنين من الشهر ثم الخميس ثم الخميس الذي يليه
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ چار باتیں ایسی ہیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں چھوڑتے تھے: ۱- عاشوراء کے روزے کو ۲- ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کے روزے کو ۱؎ ۳- ہر مہینہ کے تین روزے ۴- اور فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں کو۔
اخبرنا ابو بكر بن ابي النضر، قال حدثنا ابو اسحاق الاشجعي، - كوفي - عن عمرو بن قيس الملايي، عن الحر بن الصياح، عن هنيدة بن خالد الخزاعي، عن حفصة، قالت اربع لم يكن يدعهن النبي صلى الله عليه وسلم صيام عاشوراء والعشر وثلاثة ايام من كل شهر وركعتين قبل الغداة
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی الحجہ کے نو روزے، عاشوراء کے دن ( یعنی دسویں محرم کو ) اور ہر مہینے میں تین روزے رکھتے ۱؎ ہر مہینہ کے پہلے دوشنبہ ( پیر ) کو، اور دوسرا اس کے بعد والی جمعرات کو، پھر اس کے بعد والی جمعرات کو۔
اخبرني احمد بن يحيى، عن ابي نعيم، قال حدثنا ابو عوانة، عن الحر بن الصياح، عن هنيدة بن خالد، عن امراته، عن بعض، ازواج النبي صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصوم تسعا من ذي الحجة ويوم عاشوراء وثلاثة ايام من كل شهر اول اثنين من الشهر وخميسين
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ذی الحجہ کے پہلے ) عشرہ میں روزے رکھتے تھے، اور ہر مہینہ میں تین دن: دوشنبہ ( پیر ) اور ( دو ) جمعرات کو۔
اخبرنا محمد بن عثمان بن ابي صفوان الثقفي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا ابو عوانة، عن الحر بن الصياح، عن هنيدة بن خالد، عن امراته، عن بعض، ازواج النبي صلى الله عليه وسلم قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يصوم العشر وثلاثة ايام من كل شهر الاثنين والخميس
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن۔ ہر مہینے کی پہلی جمعرات کو، اور دو اس کے بعد والے دو شنبہ ( پیر ) کو پھر اس کے بعد والے دوشنبہ ( پیر ) کو روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے ۱؎۔
اخبرنا ابراهيم بن سعيد الجوهري، قال حدثنا محمد بن فضيل، عن الحسن بن عبيد الله، عن هنيدة الخزاعي، عن امه، عن ام سلمة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامر بصيام ثلاثة ايام اول خميس والاثنين والاثنين
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے میں تین دن کا روزے پورے سال کا روزے ہے“ ( یعنی ایام بیض کے روزے ) اور ایام بیض ( چاند کی ) تیرہویں چودہویں اور پندرہویں راتیں ہیں ۱؎۔
اخبرنا مخلد بن الحسن، قال حدثنا عبيد الله، عن زيد بن ابي انيسة، عن ابي اسحاق، عن جرير بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " صيام ثلاثة ايام من كل شهر صيام الدهر وايام البيض صبيحة ثلاث عشرة واربع عشرة وخمس عشرة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بھنا ہوا خرگوش لے کر آیا، اور اسے آپ کے سامنے رکھ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو روکے رکھا خود نہیں کھایا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں، اور اعرابی ( دیہاتی ) بھی رکا رہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی ( دیہاتی ) سے پوچھا: ”تم کیوں نہیں کھا رہے ہو؟“ اس نے کہا: میں مہینے میں ہر تین دن روزے رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”اگر تم روزے رکھتے ہو تو ان دنوں میں رکھو جن میں راتیں روشن رہتی ہیں“ ۱؎۔
اخبرنا محمد بن معمر، قال حدثنا حبان، قال حدثنا ابو عوانة، عن عبد الملك بن عمير، عن موسى بن طلحة، عن ابي هريرة، قال جاء اعرابي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم بارنب قد شواها فوضعها بين يديه فامسك رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم ياكل وامر القوم ان ياكلوا وامسك الاعرابي فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " ما يمنعك ان تاكل " . قال اني اصوم ثلاثة ايام من الشهر . قال " ان كنت صايما فصم الغر
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم مہینے کے تین روشن دنوں: تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو روزے رکھا کریں۔
اخبرنا محمد بن عبد العزيز، قال انبانا الفضل بن موسى، عن فطر، عن يحيى بن سام، عن موسى بن طلحة، عن ابي ذر، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نصوم من الشهر ثلاثة ايام البيض ثلاث عشرة واربع عشرة وخمس عشرة
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ہر مہینے کے ایام بیض یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کو روزے رکھیں۔
اخبرنا عمرو بن يزيد، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا شعبة، عن الاعمش، قال سمعت يحيى بن سام، عن موسى بن طلحة، عن ابي ذر، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نصوم من الشهر ثلاثة ايام البيض ثلاث عشرة واربع عشرة وخمس عشرة
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو مقام ربذہ میں کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم مہینے میں کچھ دن روزے رکھو تو تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو رکھو“۔
اخبرنا عمرو بن يزيد، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا شعبة، عن الاعمش، قال سمعت يحيى بن سام، عن موسى بن طلحة، قال سمعت ابا ذر، بالربذة قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا صمت شييا من الشهر فصم ثلاث عشرة واربع عشرة وخمس عشرة
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”تم تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کے روزے کو اپنے اوپر لازم کر لو“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہاں ( راوی سے ) غلطی ہوئی ہے، یہ بیان کی روایت نہیں ہے۔ غالباً ایسا ہوا ہے کہ سفیان نے کہا «حدثنا اثنان» کہا ہو تو «اثنان» کا الف گر گیا پھر «ثنان» سے بیان ہو گیا ( جیسا کہ اگلی روایت میں ہے ) ۔
اخبرنا محمد بن منصور، عن سفيان، عن بيان بن بشر، عن موسى بن طلحة، عن ابن الحوتكية، عن ابي ذر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لرجل " عليك بصيام ثلاث عشرة واربع عشرة وخمس عشرة " . قال ابو عبد الرحمن هذا خطا ليس من حديث بيان ولعل سفيان قال حدثنا اثنان فسقط الالف فصار بيان
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو روزے رکھنے کا حکم دیا۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا رجلان، محمد وحكيم عن موسى بن طلحة، عن ابن الحوتكية، عن ابي ذر، ان النبي صلى الله عليه وسلم امر رجلا بصيام ثلاث عشرة واربع عشرة وخمس عشرة
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس کے ساتھ ایک بھنا ہوا خرگوش اور روٹی تھی، اس نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے لا کر رکھا۔ پھر اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ اسے حیض آتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”کوئی نقصان نہیں تم سب کھاؤ“، اور آپ نے اعرابی ( دیہاتی ) سے فرمایا: تم بھی کھاؤ، اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ نے پوچھا: ”کیسا روزے؟“ اس نے کہا: ہر مہینے میں تین دن کا روزے، آپ نے فرمایا: ”اگر تمہیں یہ روزے رکھنے ہیں تو روشن اور چمکدار راتوں والے دنوں یعنی تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو لازم پکڑو“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: صحیح «عن ابی ذر» ہے، قرین قیاس یہ ہے کہ «ذر» کاتبوں سے چھوٹ گیا۔ اس طرح وہ «ابی بن کعب» ہو گیا۔
اخبرنا احمد بن عثمان بن حكيم، عن بكر، عن عيسى، عن محمد، عن الحكم، عن موسى بن طلحة، عن ابن الحوتكية، قال قال ابى جاء اعرابي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه ارنب قد شواها وخبز فوضعها بين يدى النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال اني وجدتها تدمى . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاصحابه " لا يضر كلوا " . وقال للاعرابي " كل " . قال اني صايم . قال " صوم ماذا " . قال صوم ثلاثة ايام من الشهر . قال " ان كنت صايما فعليك بالغر البيض ثلاث عشرة واربع عشرة وخمس عشرة " . قال ابو عبد الرحمن الصواب عن ابي ذر ويشبه ان يكون وقع من الكتاب ذر فقيل ابى
موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش لے کر آیا، آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کے لانے والے نے کہا: میں نے اس کے ساتھ خون ( حیض ) دیکھا تھا ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں، ایک آدمی لوگوں سے الگ تھلگ بیٹھا ہوا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا بات ہے، تم الگ تھلگ کیوں بیٹھے ہو؟“ اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: ”پھر تم ایام بیض: تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کو کیوں نہیں رکھتے؟“۔
اخبرنا عمرو بن يحيى بن الحارث، قال حدثنا المعافى بن سليمان، قال حدثنا القاسم بن معن، عن طلحة بن يحيى، عن موسى بن طلحة، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم بارنب وكان النبي صلى الله عليه وسلم مد يده اليها فقال الذي جاء بها اني رايت بها دما . فكف رسول الله صلى الله عليه وسلم يده وامر القوم ان ياكلوا وكان في القوم رجل منتبذ فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ما لك " . قال اني صايم . فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " فهلا ثلاث البيض ثلاث عشرة واربع عشرة وخمس عشرة
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خرگوش لایا گیا جسے ایک شخص نے بھون رکھا تھا، جب اس نے اسے آپ کے سامنے پیش کیا تو کہا: میں نے دیکھا اسے خون ( حیض ) آ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا، نہیں کھایا، اور ان لوگوں سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا: ”تم کھاؤ، اگر مجھے اس کی خواہش ہوتی میں بھی کھاتا“، اور وہ شخص ( جو اسے لایا تھا ) بیٹھا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”قریب آ جاؤ، اور تم بھی لوگوں کے ساتھ کھاؤ“، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو تم نے بیض کے روزے کیوں نہیں رکھے؟“ اس نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کے روزے“۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا يعلى، عن طلحة بن يحيى، عن موسى بن طلحة، قال اتي النبي صلى الله عليه وسلم بارنب قد شواها رجل فلما قدمها اليه قال يا رسول الله اني قد رايت بها دما فتركها رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم ياكلها وقال لمن عنده " كلوا فاني لو اشتهيتها اكلتها " . ورجل جالس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ادن فكل مع القوم " . فقال يا رسول الله اني صايم . قال " فهلا صمت البيض " . قال وما هن قال " ثلاث عشرة واربع عشرة وخمس عشرة