Loading...

Loading...
کتب
۲۷۲ احادیث
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ جب ام ابان مر گئیں تو میں ( بھی ) لوگوں کے ساتھ ( تعزیت میں ) آیا، اور عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے بیچ میں بیٹھ گیا، عورتیں رونے لگیں تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم انہیں رونے سے روکو گے نہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے ، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کہتے تھے، ( ایک بار ) میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ہم بیداء پہنچے، تو انہوں نے ایک درخت کے نیچے کچھ سواروں کو دیکھا تو ( مجھ سے ) کہا: دیکھو ( یہ ) سوار کون ہیں؟ چنانچہ میں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے ہیں، لوٹ کر ان کے پاس آیا، اور ان سے کہا: امیر المؤمنین! وہ صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے ہیں، تو انہوں نے کہا: صہیب رضی اللہ عنہ کو میرے پاس لاؤ، پھر جب ہم مدینہ آئے تو عمر رضی اللہ عنہ زخمی کر دئیے گئے، صہیب رضی اللہ عنہ ان کے پاس روتے ہوئے بیٹھے ( اور ) وہ کہہ رہے تھے: ہائے میرے بھائی! ہائے میرے بھائی! تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: صہیب! روؤ مت، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ( ابن عباس ) کہتے ہیں: میں نے اس بات کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو انہوں نے کہا: سنو! اللہ کی قسم! تم یہ حدیث نہ جھوٹوں سے روایت کر رہے ہو، اور نہ ایسوں سے جنہیں جھٹلایا گیا ہو، البتہ سننے ( میں ) غلط فہمی ہوئی ہے، اور قرآن میں ( ایسی بات موجود ہے ) جس سے تمہیں تسکین ہو: «ألا تزر وازرة وزر أخرى» کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوں ) فرمایا تھا: اللہ کافر کا عذاب اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے ۔
اخبرنا سليمان بن منصور البلخي، قال حدثنا عبد الجبار بن الورد، سمعت ابن ابي مليكة، يقول لما هلكت ام ابان حضرت مع الناس فجلست بين عبد الله بن عمر وابن عباس فبكين النساء فقال ابن عمر الا تنهى هولاء عن البكاء فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الميت ليعذب ببعض بكاء اهله عليه " . فقال ابن عباس قد كان عمر يقول بعض ذلك خرجت مع عمر حتى اذا كنا بالبيداء راى ركبا تحت شجرة فقال انظر من الركب فذهبت فاذا صهيب واهله فرجعت اليه فقلت يا امير المومنين هذا صهيب واهله . فقال على بصهيب . فلما دخلنا المدينة اصيب عمر فجلس صهيب يبكي عنده يقول وااخياه وااخياه . فقال عمر يا صهيب لا تبك فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الميت ليعذب ببعض بكاء اهله عليه " . قال فذكرت ذلك لعايشة فقالت اما والله ما تحدثون هذا الحديث عن كاذبين مكذبين ولكن السمع يخطي وان لكم في القران لما يشفيكم { الا تزر وازرة وزر اخرى } ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله ليزيد الكافر عذابا ببكاء اهله عليه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں کسی کا انتقال ہو گیا تو عورتیں اکٹھا ہوئیں ( اور ) میت پر رونے لگیں، تو عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر انہیں روکنے اور بھگانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! انہیں چھوڑ دو کیونکہ آنکھوں میں آنسو ہے، دل غم میں ڈوبا ہوا ہے، اور موت کا وقت قریب ہے ۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل، - هو ابن جعفر - عن محمد بن عمرو بن حلحلة، عن محمد بن عمرو بن عطاء، ان سلمة بن الازرق، قال سمعت ابا هريرة، قال مات ميت من ال رسول الله صلى الله عليه وسلم فاجتمع النساء يبكين عليه فقام عمر ينهاهن ويطردهن فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " دعهن يا عمر فان العين دامعة والقلب مصاب والعهد قريب
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ۱؎ جو منہ پیٹے، گریباں پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے ( یعنی نوحہ کرے ) ۔ یہ الفاظ علی بن خشرم کے ہیں، اور حسن کی روایت «بدعا الجاہلیۃ» کی جگہ «بدعویٰ الجاہلیۃ» ہے۔
اخبرنا علي بن خشرم، قال حدثنا عيسى، عن الاعمش، ح انبانا الحسن بن اسماعيل، قال حدثنا ابن ادريس، عن الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعاء الجاهلية " . واللفظ لعلي وقال الحسن " بدعوى
صفوان بن محرز کہتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری پر بے ہوشی طاری ہو گئی، لوگ ان پر رونے لگے، تو انہوں نے کہا: میں تم سے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ کہہ کر برات کا اظہار کیا تھا کہ جو سر منڈائے کپڑے پھاڑے، واویلا کرے ہم میں سے نہیں۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا شعبة، عن عوف، عن خالد الاحدب، عن صفوان بن محرز، قال اغمي على ابي موسى فبكوا عليه فقال ابرا اليكم كما بري الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس منا من حلق ولا خرق ولا سلق
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو گال پیٹے، گریباں پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے ہم میں سے نہیں ۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا سفيان، قال حدثني زبيد، عن ابراهيم، عن مسروق، عن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهلية
عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری ( کی بیماری ) سخت ہوئی، تو ان کی عورت چلاتی ہوئی آئی۔ ( ان کی بیماری میں کچھ ) افاقہ ہوا، تو انہوں نے کہا: کیا میں تجھے نہ بتاؤں کہ میں ان چیزوں سے بری ہوں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری تھے، ان دونوں نے ان کی بیوی سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: میں اس شخص سے بری ہوں جو سر منڈائے، کپڑے پھاڑے اور واویلا کرے ۔
اخبرنا احمد بن عثمان بن حكيم، قال انبانا جعفر بن عوف، قال حدثنا ابو عميس، عن ابي صخرة، عن عبد الرحمن بن يزيد، وابي، بردة قالا لما ثقل ابو موسى اقبلت امراته تصيح - قالا - فافاق فقال الم اخبرك اني بريء ممن بري منه رسول الله صلى الله عليه وسلم قالا وكان يحدثها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انا بريء ممن حلق وخرق وسلق
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو گال پیٹے، گریبان پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے ۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن زبيد، عن ابراهيم، عن مسروق، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهلية
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان پر غشی طاری ہوئی، تو ان کی ام ولد رو پڑی، جب ( کچھ ) افاقہ ہوا تو انہوں نے اس سے کہا: کیا تجھے وہ بات نہیں پہنچی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے؟ تو ہم نے اس سے پوچھا ( آپ نے کیا فرمایا تھا؟ ) تو اس نے کہا: آپ نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو گال پیٹے، سر منڈائے، اور کپڑے پھاڑے ۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن منصور، عن ابراهيم، عن يزيد بن اوس، عن ابي موسى، انه اغمي عليه فبكت ام ولد له فلما افاق قال لها اما بلغك ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالناها فقالت قال " ليس منا من سلق وحلق وخرق
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو سر منڈائے، واویلا کرے اور کپڑے پھاڑے ۔
اخبرنا عبدة بن عبد الله، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا اسراييل، عن منصور، عن ابراهيم، عن يزيد بن اوس، عن ام عبد الله، امراة ابي موسى عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس منا من حلق وسلق وخرق
قرثع کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری بڑھ گئی تو ان کی بیوی چیخ مار کر رونے لگی، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے کیا تجھے معلوم نہیں؟ اس نے کہا: کیوں، نہیں ضرور معلوم ہے، پھر وہ خاموش ہو گئی، تو اس سے اس کے بعد پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہر اس شخص پر ) لعنت فرمائی ہے جو سر منڈوائے، یا واویلا کرے، یا گریبان پھاڑے۔
اخبرنا هناد، عن ابي معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن سهم بن منجاب، عن القرثع، قال لما ثقل ابو موسى صاحت امراته فقال اما علمت ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت بلى . ثم سكتت فقيل لها بعد ذلك اى شىء قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن من حلق او سلق او خرق
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی نے آپ کو صلی اللہ علیہ وسلم کہلا بھیجا کہ میرا بیٹا ۱؎ مرنے کو ہے آپ آ جائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلا بھیجا کہ آپ سلام کہتے ہیں، اور کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو ( کچھ ) لے، اور اسی کے لیے ہے جو ( کچھ ) دے، اور اللہ کے نزدیک ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے، تو چاہیئے کہ تم صبر کرو، اور اللہ سے اجر طلب کرو، بیٹی نے ( دوبارہ ) قسم دے کے کہلا بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور آ جائیں، چنانچہ آپ اٹھے، آپ کے ساتھ سعد بن عبادہ، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور کچھ اور لوگ تھے، ( بچہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر اس حال میں لایا گیا کہ اس کی سانس ٹوٹ رہی تھی، تو آپ کی آنکھوں ( سے ) آنسو بہ پڑے، اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھ رکھا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو رحم دل ہوتے ہیں ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن عاصم بن سليمان، عن ابي عثمان، قال حدثني اسامة بن زيد، قال ارسلت بنت النبي صلى الله عليه وسلم اليه ان ابنا لي قبض فاتنا . فارسل يقرا السلام ويقول " ان لله ما اخذ وله ما اعطى وكل شىء عند الله باجل مسمى فلتصبر ولتحتسب " . فارسلت اليه تقسم عليه لياتينها فقام ومعه سعد بن عبادة ومعاذ بن جبل وابى بن كعب وزيد بن ثابت ورجال فرفع الى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصبي ونفسه تقعقع ففاضت عيناه فقال سعد يا رسول الله ما هذا قال " هذا رحمة يجعلها الله في قلوب عباده وانما يرحم الله من عباده الرحماء
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر وہی ہے جو صدمہ ( غم ) پہنچتے ہی ہو ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثنا شعبة، عن ثابت، قال سمعت انسا، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الصبر عند الصدمة الاولى
قرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کے ساتھ اس کا بیٹا ( بھی ) تھا، آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟ تو اس نے جواب دیا: اللہ آپ سے ایسے ہی محبت کرے جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پھر وہ ( لڑکا ) مر گیا، تو آپ نے ( کچھ دنوں سے ) اسے نہیں دیکھا تو اس کے بارے میں ( اس کے باپ سے ) پوچھا ( تو انہوں نے بتایا کہ وہ مر گیا ہے ) آپ نے فرمایا: کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں ہو گی کہ تم جنت کے جس دروازے پر جاؤ گے ( اپنے بچے ) کو اس کے پاس پاؤ گے، وہ تمہارے لیے دوڑ کر دروازہ کھولنے کی کوشش کرے گا ۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا ابو اياس، - وهو معاوية بن قرة - عن ابيه، رضى الله عنه ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم ومعه ابن له فقال له " اتحبه " . فقال احبك الله كما احبه . فمات ففقده فسال عنه فقال " ما يسرك ان لا تاتي بابا من ابواب الجنة الا وجدته عنده يسعى يفتح لك
عمرو بن شعیب نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین کو ان کے بیٹے کی وفات پر تعزیت کا خط لکھا، اور اپنے خط میں ذکر کیا کہ انہوں نے اپنے والد کو بیان کرتے سنا وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے لیے جب وہ زمین والوں میں سے اس کی سب سے محبوب چیز یعنی بیٹا کو لے لے، اور وہ اس پر صبر کرے، اور اجر چاہے، اور وہی کہے جس کا حکم دیا گیا ہے، جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، قال انبانا عمر بن سعيد بن ابي حسين، ان عمرو بن شعيب، كتب الى عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي حسين يعزيه بابن له هلك وذكر في كتابه انه سمع اباه يحدث عن جده عبد الله بن عمرو بن العاص قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله لا يرضى لعبده المومن اذا ذهب بصفيه من اهل الارض فصبر واحتسب وقال ما امر به بثواب دون الجنة
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی تین صلبی اولاد مر جائیں ( اور ) وہ اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر و ثواب چاہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گا ( اتنے میں ) ایک عورت کھڑی ہوئی اور بولی: اور دو اولاد مرنے پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو اولاد کے مرنے پر بھی ، اس عورت نے کہا: کاش! میں ایک ہی کہتی ۱؎۔
اخبرنا احمد بن عمرو بن السرح، قال حدثنا ابن وهب، حدثني عمرو، قال حدثني بكير بن عبد الله، عن عمران بن نافع، عن حفص بن عبيد الله، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من احتسب ثلاثة من صلبه دخل الجنة " . فقامت امراة فقالت او اثنان قال " او اثنان " . قالت المراة يا ليتني قلت واحدا
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کے بھی تین نابالغ بچے مر جائیں، تو اللہ تعالیٰ اسے ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کرے گا ۔
اخبرنا يوسف بن حماد، قال حدثنا عبد الوارث، عن عبد العزيز، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من مسلم يتوفى له ثلاثة من الولد لم يبلغوا الحنث الا ادخله الله الجنة بفضل رحمته اياهم
صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ میں ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا: مجھ سے حدیث بیان کیجئے تو انہوں کہا: اچھا سنو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس مسلمان ماں باپ کی بھی تین نابالغ اولاد مر جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان پر اپنی رحمت کے فضل سے بخش دیتا ہے ۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا بشر بن المفضل، عن يونس، عن الحسن، عن صعصعة بن معاوية، قال لقيت ابا ذر قلت حدثني . قال نعم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من مسلمين يموت بينهما ثلاثة اولاد لم يبلغوا الحنث الا غفر الله لهما بفضل رحمته اياهم
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سے جس شخص کے بھی تین بچے مر جائیں، تو اسے جہنم کی آگ صرف قسم ۱؎ پوری کرنے ہی کے لیے چھوئے گی ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يموت لاحد من المسلمين ثلاثة من الولد فتمسه النار الا تحلة القسم
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان ماں باپ کے تین نابالغ بچے مر جائیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کرے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، تو وہ کہیں گے ( ہم نہیں داخل ہو سکتے ) جب تک کہ ہمارے والدین داخل نہ ہو جائیں، ( پھر ) کہا جائے گا: ( جاؤ ) اپنے والدین کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ ۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم ابن علية، وعبد الرحمن بن محمد، قالا حدثنا اسحاق، - وهو الازرق - عن عوف، عن محمد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من مسلمين يموت بينهما ثلاثة اولاد لم يبلغوا الحنث الا ادخلهما الله بفضل رحمته اياهم الجنة " . قال " يقال لهم ادخلوا الجنة فيقولون حتى يدخل اباونا فيقال ادخلوا الجنة انتم واباوكم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا بیٹا لے کر آئی جو بیمار تھا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ڈر رہی ہوں کہ یہ مر نہ جائے، اور ( اس سے پہلے ) تین بچوں کو بھیج چکی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے جہنم کی آگ سے بچاؤ کے لیے زبردست ڈھال بنا لیا ہے ۔
اخبرنا اسحاق، قال انبانا جرير، قال حدثني طلق بن معاوية، وحفص بن غياث، قال حدثني جدي، طلق بن معاوية عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال جاءت امراة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم بابن لها يشتكي فقالت يا رسول الله اخاف عليه وقد قدمت ثلاثة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لقد احتظرت بحظار شديد من النار