Loading...

Loading...
کتب
۲۷۲ احادیث
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید اور جعفر کی موت کی اطلاع ( کسی آدمی کے ذریعہ ) ان کی ( موت ) کی خبر آنے سے پہلے دی، اس وقت آپ کی دونوں آنکھیں اشکبار تھیں۔
اخبرنا اسحاق، قال انبانا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن حميد بن هلال، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نعى زيدا وجعفرا قبل ان يجيء خبرهم فنعاهم وعيناه تذرفان
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، اور فرمایا: اپنے بھائی کے لیے مغفرت کی دعا کرو ۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا يعقوب، قال حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، قال حدثني ابو سلمة، وابن المسيب، ان ابا هريرة، اخبرهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نعى لهم النجاشي صاحب الحبشة اليوم الذي مات فيه وقال " استغفروا لاخيكم
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ اچانک آپ کی نگاہ ایک عورت پہ پڑی، ہم یہی گمان کر رہے تھے کہ آپ نے اسے نہیں پہچانا ہے، تو جب بیچ راستے میں پہنچے تو آپ کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ وہ ( عورت ) آپ کے پاس آ گئی، تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں، آپ نے ان سے پوچھا: فاطمہ! تم اپنے گھر سے کیوں نکلی ہو؟ انہوں نے جواب دیا: میں اس میت کے گھر والوں کے پاس آئی، میں نے ان کے لیے رحمت کی دعا کی، اور ان کی میت کی وجہ سے ان کی تعزیت کی، آپ نے فرمایا: شاید تم ان کے ساتھ کدیٰ ۱؎ تک گئی تھیں؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ! میں وہاں تک کیوں جاتی اس سلسلے میں آپ کو ان باتوں کا ذکر کرتے سن چکی ہوں جن کا آپ ذکر کرتے ہیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: اگر تم ان کے ساتھ وہاں جاتی تو تم جنت نہ دیکھ پاتی یہاں تک کہ تمہارے باپ کے دادا ( عبدالمطلب ) اسے دیکھ لیں ۲؎۔ نسائی کہتے ہیں: ربیعہ ضعیف ہیں۔
اخبرنا عبيد الله بن فضالة بن ابراهيم، قال حدثنا عبد الله، هو ابن يزيد المقري ح وانبانا محمد بن عبد الله بن يزيد المقري، قال حدثنا ابي قال، سعيد حدثني ربيعة بن سيف المعافري، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن عبد الله بن عمرو، قال بينما نحن نسير مع رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ بصر بامراة لا تظن انه عرفها فلما توسط الطريق وقف حتى انتهت اليه فاذا فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لها " ما اخرجك من بيتك يا فاطمة " . قالت اتيت اهل هذا الميت فترحمت اليهم وعزيتهم بميتهم . قال " لعلك بلغت معهم الكدى " . قالت معاذ الله ان اكون بلغتها وقد سمعتك تذكر في ذلك ما تذكر . فقال لها " لو بلغتها معهم ما رايت الجنة حتى يراها جد ابيك " . قال ابو عبد الرحمن ربيعة ضعيف
ام عطیہ انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ۱؎ کی وفات ہوئی، آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اسے پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے دو تین یا پانچ یا اس سے زیادہ بار اگر مناسب سمجھو غسل دو، اور آخری بار میں کچھ کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لو ( اور ) جب تم ( غسل سے ) فارغ ہو تو مجھے خبر کرو ۔ تو جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر دی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا اور فرمایا: اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو ۲؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ايوب، عن محمد بن سيرين، ان ام عطية الانصارية، قالت دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم حين توفيت ابنته فقال " اغسلنها ثلاثا او خمسا او اكثر من ذلك ان رايتن ذلك بماء وسدر واجعلن في الاخرة كافورا او شييا من كافور فاذا فرغتن فاذنني " . فلما فرغنا اذناه فاعطانا حقوه وقال " اشعرنها اياه
ام قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرا بیٹا مر گیا، تو میں اس پر رونے لگی اور اس شخص سے جو اسے غسل دے رہا تھا کہا: میرے بیٹے کو ٹھنڈے پانی سے غسل نہ دو کہ اس ( مرے کو مزید ) مارو، عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اور آپ کو ان کی یہ بات بتائی تو آپ مسکرا پڑے، پھر فرمایا: کیا کہا اس نے؟ اس کی عمردراز ہو ، ( راوی کہتے ہیں ) تو ہم نہیں جانتے کہ کسی عورت کو اتنی عمر ملی ہو جتنی انہیں ملی ۱؎۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الحسن، مولى ام قيس بنت محصن عن ام قيس، قالت توفي ابني فجزعت عليه فقلت للذي يغسله لا تغسل ابني بالماء البارد فتقتله . فانطلق عكاشة بن محصن الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبره بقولها فتبسم ثم قال " ما قالت طال عمرها " . فلا نعلم امراة عمرت ما عمرت
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ان عورتوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے سر کی تین چوٹیاں بنائیں، میں نے پوچھا: اسے کھول کر انہوں نے تین چوٹیاں کر دیں، تو انہوں نے کہا: جی ہاں۔
اخبرنا يوسف بن سعيد، قال حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال ايوب سمعت حفصة، تقول حدثتنا ام عطية، انهن جعلن راس ابنة النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثة قرون . قلت نقضنه وجعلنه ثلاثة قرون قالت نعم
ام عطیہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے سلسلہ میں فرمایا: ان کے داہنے اعضاء، اور وضو کے مقامات سے نہلانا شروع کرو ۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، قال حدثنا اسماعيل، عن خالد، عن حفصة، عن ام عطية، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في غسل ابنته " ابدان بميامنها ومواضع الوضوء منها
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی انتقال کر گئیں، تو آپ نے ہمیں بلا بھیجا اور فرمایا: اسے پانی اور بیر کے پتوں سے غسل دینا، اور طاق بار یعنی تین بار، یا پانچ بار غسل دینا، اگر ضرورت سمجھو تو سات بار دینا، اور آخری بار تھوڑا کافور ملا لینا ( اور ) جب تم فارغ ہو چکو تو مجھے خبر کرنا ، تو جب ہم ( نہلا کر ) فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا، اور فرمایا: اسے ( ان کے جسم پہ ) لپیٹ دو ، ( پھر ) ہم نے ان کی تین چوٹیاں کیں، اور انہیں ان کے پیچھے ڈال دیا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا هشام، قال حدثتنا حفصة، عن ام عطية، قالت ماتت احدى بنات النبي صلى الله عليه وسلم فارسل الينا فقال " اغسلنها بماء وسدر واغسلنها وترا ثلاثا او خمسا او سبعا ان رايتن ذلك واجعلن في الاخرة شييا من كافور فاذا فرغتن فاذنني " . فلما فرغنا اذناه فالقى الينا حقوه وقال " اشعرنها اياه " . ومشطناها ثلاثة قرون والقيناها من خلفها
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم آپ کی بیٹی کو نہلا رہے تھے، آپ نے فرمایا: انہیں پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے تین یا پانچ بار غسل دو، یا اگر مناسب سمجھو اس سے بھی زیادہ، اور آخری بار کافور یا کافور کی کچھ ( مقدار ) ملا لینا، اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو ۔ چنانچہ جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کی تو آپ نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا، اور فرمایا: اسے ان کے جسم سے لپیٹ دو ۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، عن يزيد، قال حدثنا ايوب، عن محمد بن سيرين، عن ام عطية، قالت دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نغسل ابنته فقال " اغسلنها ثلاثا او خمسا او اكثر من ذلك ان رايتن ذلك بماء وسدر واجعلن في الاخرة كافورا او شييا من كافور فاذا فرغتن فاذنني " . فلما فرغنا اذناه فالقى الينا حقوه وقال " اشعرنها اياه
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کی وفات ہو گئی، تو آپ نے ہمیں بلوایا ( اور ) فرمایا: اسے پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے تین یا پانچ بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر مناسب سمجھو، اور آخری بار کچھ کافور یا کافور کی کچھ ( مقدار ) ملا لینا، اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو ۔ تو جب ہم فارغ ہوئے تو ہم نے آپ کو خبر کی، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: اسے ( اس کے جسم سے ) لپیٹ دو ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، قال حدثنا ايوب، عن محمد، عن ام عطية، قالت توفيت احدى بنات النبي صلى الله عليه وسلم فارسل الينا فقال " اغسلنها ثلاثا او خمسا او اكثر من ذلك ان رايتن بماء وسدر واجعلن في الاخرة كافورا او شييا من كافور فاذا فرغتن فاذنني " . فلما فرغنا اذناه فالقى الينا حقوه وقال " اشعرنها اياه
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، مگر ( اس میں یہ الفاظ ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں تین بار یا پانچ بار یا سات بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر اس کی ضرورت سمجھو ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن ايوب، عن حفصة، عن ام عطية، نحوه غير انه قال " ثلاثا او خمسا او سبعا او اكثر من ذلك ان رايتن ذلك
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی کی وفات ہو گئی، تو آپ نے مجھے انہیں نہلانے کا حکم دیا اور فرمایا: تین بار، یا پانچ بار، یا سات بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو ، تو میں نے کہا: طاق بار؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور آخری مرتبہ کچھ کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لو، ( اور ) جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے باخبر کرنا ، چنانچہ جب ہم فارغ ہوئے، ہم نے آپ کو خبر کی تو آپ نے ہمیں اپنا تہبند دیا، اور فرمایا: اسے ( اس کے جسم سے ) لپیٹ دو ۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا بشر، عن سلمة بن علقمة، عن محمد، عن بعض، اخوته عن ام عطية، قالت توفيت ابنة لرسول الله صلى الله عليه وسلم فامرنا بغسلها فقال " اغسلنها ثلاثا او خمسا او سبعا او اكثر من ذلك ان رايتن " . قالت قلت وترا قال " نعم واجعلن في الاخرة كافورا او شييا من كافور فاذا فرغتن فاذنني " . فلما فرغنا اذناه فاعطانا حقوه وقال " اشعرنها اياه
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے، آپ نے فرمایا: انہیں پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے تین بار، یا پانچ بار، غسل دو ، یا اس سے زیادہ، اور آخری بار کچھ کافور یا کافور کی مقدار ملا لو ( اور ) جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے آگاہ کرو ، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ کو خبر کی، آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: اسے ( اس کے جسم سے ) لپیٹ دو ، راوی کہتے ہیں یا حفصہ بنت سیرین کہتی ہیں: اسے تین، پانچ، یا سات بار غسل دو، راوی کہتے ہیں: ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے ان کی تین چوٹیاں کیں۔
اخبرنا عمرو بن زرارة، قال حدثنا اسماعيل، عن ايوب، عن محمد، عن ام عطية، قالت اتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نغسل ابنته فقال " اغسلنها ثلاثا او خمسا او اكثر من ذلك ان رايتن ذلك بماء وسدر واجعلن في الاخرة كافورا او شييا من كافور فاذا فرغتن فاذنني " . فلما فرغنا اذناه فالقى الينا حقوه وقال " اشعرنها اياه " . قال او قالت حفصة اغسلنها ثلاثا او خمسا او سبعا . قال وقالت ام عطية مشطناها ثلاثة قرون
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں کیں۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا ايوب، عن محمد، قال اخبرتني حفصة، عن ام عطية، قالت وجعلنا راسها ثلاثة قرون
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے ان کے سر کی تین چوٹیاں کیں۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا حماد، عن ايوب، وقالت، حفصة عن ام عطية، وجعلنا، راسها ثلاثة قرون
محمد بن سیرین کہتے ہیں ام عطیہ رضی اللہ عنہا ایک انصاری عورت تھیں، وہ ( بصرہ ) آئیں، اپنے بیٹے سے جلد ملنا چاہ رہی تھیں لیکن وہ اسے نہیں پا سکیں، انہوں نے ہم سے حدیث بیان کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم آپ کی بیٹی کو غسل دے رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں پانی اور بیر ( کی پتیوں ) سے تین بار، یا پانچ بار غسل دو، یا اس سے زیادہ بار اگر ضرورت سمجھو، اور آخر میں کافور یا کافور کی کچھ مقدار ملا لینا ( اور ) جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتاؤ ، تو جب ہم فارغ ہوئے تو آپ نے ہماری طرف اپنا تہبند پھینکا اور فرمایا: اسے ان کے بدن پر لپیٹ دو ، اور اس سے زیادہ نہیں فرمایا۔ ( ایوب نے ) کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ آپ کی کون سی بیٹی تھی ں، راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا اشعار سے کیا مراد ہے؟ کیا ازار ( تہبند ) پہنانا مقصود ہے؟ ایوب نے کہا: میں یہی سمجھتا ہوں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اسے ان کے جسم پر لپیٹ دو۔
اخبرنا يوسف بن سعيد، قال حدثنا حجاج، عن ابن جريج، قال اخبرني ايوب بن ابي تميمة، انه سمع محمد بن سيرين، يقول كانت ام عطية امراة من الانصار قدمت تبادر ابنا لها فلم تدركه حدثتنا قالت دخل النبي صلى الله عليه وسلم علينا ونحن نغسل ابنته فقال " اغسلنها ثلاثا او خمسا او اكثر من ذلك ان رايتن بماء وسدر واجعلن في الاخرة كافورا او شييا من كافور فاذا فرغتن فاذنني " . فلما فرغنا القى الينا حقوه وقال " اشعرنها اياه " . ولم يزد على ذلك . قال لا ادري اى بناته . قال قلت ما قوله " اشعرنها اياه " . اتوزر به قال لا اراه الا ان يقول الففنها فيه
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کی موت ہو گئی تو آپ نے فرمایا: انہیں تین یا پانچ بار غسل دو، یا اس سے زیادہ اگر ضرورت سمجھو، اور انہیں بیر ( کے پتوں ) اور پانی سے غسل دو، اور کچھ کافور ملا لو، اور جب فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو ، وہ کہتی ہیں: میں نے آپ کو خبر کیا، تو آپ نے ہماری طرف اپنی لنگی پھینکی اور فرمایا: اسے ( ان کے جسم سے ) لپیٹ دو ۔
اخبرنا شعيب بن يوسف النسايي، قال حدثنا يزيد، قال حدثنا ابن عون، عن محمد، عن ام عطية، قالت توفي احدى بنات النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اغسلنها ثلاثا او خمسا او اكثر من ذلك ان رايتن ذلك واغسلنها بالسدر والماء واجعلن في اخر ذلك كافورا او شييا من كافور فاذا فرغتن فاذنني " . قالت فاذناه فالقى الينا حقوه فقال " اشعرنها اياه
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو آپ نے اپنے صحابہ میں سے ایک شخص کا ذکر کیا جو مر گیا تھا، اور اسے رات ہی میں دفنا دیا گیا تھا، اور ایک گھٹیا کفن میں اس کی تکفین کی گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرما دیا کہ کوئی آدمی رات میں دفنایا جائے سوائے اس کے کہ کوئی مجبوری ہو، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی ( کے کفن دفن کا ) ولی ہو تو اسے چاہیئے کہ اسے اچھا کفن دے ۔
اخبرنا عبد الرحمن بن خالد الرقي القطان، ويوسف بن سعيد، - واللفظ له - قال انبانا حجاج، عن ابن جريج، قال اخبرني ابو الزبير، انه سمع جابرا، يقول خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر رجلا من اصحابه مات فقبر ليلا وكفن في كفن غير طايل فزجر رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يقبر انسان ليلا الا ان يضطر الى ذلك وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا ولي احدكم اخاه فليحسن كفنه
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کپڑوں میں سے سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ پاکیزہ اور عمدہ ہوتا ہے، نیز اپنے مردوں کو ( بھی ) اسی میں کفنایا کرو ۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال انبانا يحيى بن سعيد، قال سمعت سعيد بن ابي عروبة، يحدث عن ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي المهلب، عن سمرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " البسوا من ثيابكم البياض فانها اطهر واطيب وكفنوا فيها موتاكم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنایا گیا۔
اخبرنا اسحاق، قال انبانا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت كفن النبي صلى الله عليه وسلم في ثلاثة اثواب سحولية بيض