Loading...

Loading...
کتب
۲۷۲ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنائے گئے جن میں نہ تو قمیص تھی اور نہ عمامہ ( پگڑی ) ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كفن في ثلاثة اثواب بيض سحولية ليس فيها قميص ولا عمامة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی سوتی کپڑوں میں کفنایا گیا جس میں نہ تو قمیص تھی، اور نہ عمامہ ( پگڑی ) ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دو کپڑوں اور ایک یمنی چادر کے متعلق لوگوں کی گفتگو کا ذکر کیا گیا، تو انہوں نے کہا: چادر لائی گئی تھی لیکن لوگوں نے اسے لوٹا دیا، اور آپ کو اس میں نہیں کفنایا تھا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حفص، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثلاثة اثواب بيض يمانية كرسف ليس فيها قميص ولا عمامة فذكر لعايشة قولهم في ثوبين وبرد من حبرة فقالت قد اتي بالبرد ولكنهم ردوه ولم يكفنوه فيه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی ( منافق ) مر گیا، تو اس کے بیٹے ( عبداللہ رضی اللہ عنہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ( اور ) عرض کیا: ( اللہ کے رسول! ) آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ میں اس میں انہیں کفنا دوں، اور آپ ان پر نماز ( جنازہ ) پڑھ دیجئیے، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا بھی کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص انہیں دے دی، پھر فرمایا: جب تم فارغ ہو لو تو مجھے خبر کرو میں ان کی نماز ( جنازہ ) پڑھوں گا ( اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوئے ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو کھینچا، اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین پر نماز ( جنازہ ) پڑھنے سے منع فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں دو اختیارات کے درمیان ہوں ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا: «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» تم ان کے لیے مغفرت چاہو یا نہ چاہو دونوں برابر ہے ( التوبہ: ۸۰ ) چنانچہ آپ نے اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھی، تو اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» تم ان ( منافقین ) میں سے کسی پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھو، اور نہ ہی ان کی قبر پر کھڑے ہو ( التوبہ: ۸۴ ) تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھنا چھوڑ دیا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا عبيد الله، قال حدثنا نافع، عن عبد الله بن عمر، قال لما مات عبد الله بن ابى جاء ابنه الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اعطني قميصك حتى اكفنه فيه وصل عليه واستغفر له . فاعطاه قميصه ثم قال " اذا فرغتم فاذنوني اصلي عليه " . فجذبه عمر وقال قد نهاك الله ان تصلي على المنافقين . فقال " انا بين خيرتين " . قال { استغفر لهم او لا تستغفر لهم } فصلى عليه فانزل الله تعالى { ولا تصل على احد منهم مات ابدا ولا تقم على قبره } فترك الصلاة عليهم
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کی قبر پر آئے، اور اسے اس کی قبر میں رکھا جا چکا تھا، تو آپ اس پر کھڑے ہوئے، اور اس کے نکالنے کا حکم دیا تو اسے نکالا گیا، تو آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا، اور اپنی قمیص پہنائی اور اس پر تھو تھو کیا، واللہ تعالیٰ اعلم۔
اخبرنا عبد الجبار بن العلاء بن عبد الجبار، عن سفيان، عن عمرو، قال سمعت جابرا، يقول اتى النبي صلى الله عليه وسلم قبر عبد الله بن ابى وقد وضع في حفرته فوقف عليه فامر به فاخرج له فوضعه على ركبتيه والبسه قميصه ونفث عليه من ريقه والله تعالى اعلم
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مدینے میں تھے، تو انصار نے ایک کپڑا تلاش کیا جو انہیں پہنائیں، تو عبداللہ بن ابی کی قمیص کے سوا کوئی قمیص نہیں ملی جو ان پر فٹ آتی، تو انہوں نے انہیں وہی پہنا دیا ۱؎۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن الزهري البصري، قال حدثنا سفيان، عن عمرو، سمع جابرا، يقول وكان العباس بالمدينة فطلبت الانصار ثوبا يكسونه فلم يجدوا قميصا يصلح عليه الا قميص عبد الله بن ابى فكسوه اياه
خباب رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی، ہم اللہ تعالیٰ کی رضا چاہ رہے تھے، اللہ تعالیٰ پر ہمارا اجر ثابت ہو گیا، پھر ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو مر گئے ( اور ) اس اجر میں سے ( دنیا میں ) کچھ بھی نہیں چکھا، انہیں میں سے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہیں، جو جنگ احد میں قتل کئے گئے، تو ہم نے سوائے ایک ( چھوٹی ) دھاری دار چادر کے کوئی ایسی چیز نہیں پائی جس میں انہیں کفناتے، جب ہم ان کا سر ڈھکتے تو پیر کھل جاتا، اور جب پیر ڈھکتے تو سر کھل جاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھک دیں اور ان کے پیروں پہ اذخر نامی گھاس ڈال دیں، اور ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جن کے پھل پکے اور وہ اسے چن رہے ہیں ( یہ الفاظ اسماعیل کے ہیں ) ۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن الاعمش، ح واخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا يحيى بن سعيد القطان، قال سمعت الاعمش، قال سمعت شقيقا، قال حدثنا خباب، قال هاجرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم نبتغي وجه الله تعالى فوجب اجرنا على الله فمنا من مات لم ياكل من اجره شييا منهم مصعب بن عمير قتل يوم احد فلم نجد شييا نكفنه فيه الا نمرة كنا اذا غطينا راسه خرجت رجلاه واذا غطينا بها رجليه خرجت راسه فامرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نغطي بها راسه ونجعل على رجليه اذخرا ومنا من اينعت له ثمرته فهو يهدبها . واللفظ لاسماعيل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم کو اس کے ان ہی دونوں کپڑوں میں غسل دو جن میں وہ احرام باندھے ہوئے تھا، اور اسے پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے نہلاؤ، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفناؤ، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ ہی اس کا سر ڈھکو، کیونکہ وہ قیامت کے دن احرام باندھے ہوئے اٹھے گا ۔
اخبرنا عتبة بن عبد الله، قال حدثنا يونس بن نافع، عن عمرو بن دينار، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اغسلوا المحرم في ثوبيه اللذين احرم فيهما واغسلوه بماء وسدر وكفنوه في ثوبيه ولا تمسوه بطيب ولا تخمروا راسه فانه يبعث يوم القيامة محرما
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمدہ ترین خوشبو مشک ہے ۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، وشبابة، قالا حدثنا شعبة، عن خليد بن جعفر، سمع ابا نضرة، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اطيب الطيب المسك
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بہترین خوشبوؤں میں سے مشک ہے ۔
اخبرنا علي بن الحسين الدرهمي، قال حدثنا امية بن خالد، عن المستمر بن الريان، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من خير طيبكم المسك
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک مسکین عورت بیمار ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بیماری کی خبر دی گئی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکینوں اور غریبوں کی بیمار پرسی کرتے اور ان کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ مر جائے تو مجھے خبر کرنا ، رات میں اس کا جنازہ لے جایا گیا ( تو ) لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہ جانا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو ( رات میں ) جو کچھ ہوا تھا آپ کو اس کی خبر دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ مجھے اس کی خبر کرنا؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو رات میں جگانا نا مناسب سمجھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنے صحابہ کے ساتھ ) نکلے یہاں تک کہ اس کی قبر پہ لوگوں کی صف بندی ۱؎ کی اور چار تکبیریں کہیں۔
اخبرنا قتيبة، في حديثه عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف، انه اخبره ان مسكينة مرضت فاخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم بمرضها وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعود المساكين ويسال عنهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا ماتت فاذنوني " . فاخرج بجنازتها ليلا وكرهوا ان يوقظوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما اصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم اخبر بالذي كان منها فقال " الم امركم ان توذنوني بها " . قالوا يا رسول الله كرهنا ان نوقظك ليلا . فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى صف بالناس على قبرها وكبر اربع تكبيرات
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب نیک بندہ اپنی چارپائی پہ رکھا جاتا ہے، تو وہ کہتا ہے: مجھے جلدی لے چلو، مجھے جلدی لے چلو، اور جب برا آدمی اپنی چارپائی پہ رکھا جاتا ہے، تو کہتا ہے: ہائے میری تباہی! تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن ابن ابي ذيب، عن سعيد المقبري، عن عبد الرحمن بن مهران، ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا وضع الرجل الصالح على سريره قال قدموني قدموني واذا وضع الرجل - يعني السوء - على سريره قال يا ويلي اين تذهبون بي
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جنازہ ( چارپائی پر ) رکھا جاتا ہے ( اور ) لوگ اسے اپنے کندھوں پہ اٹھاتے ہیں، تو اگر وہ نیکوکار ہوتا ہے تو کہتا ہے: مجھے جلدی لے چلو، مجھے جلدی لے چلو، اور اگر برا ہوتا ہے تو کہتا ہے: ہائے اس کی ہلاکت! تم اسے کہاں لے جا رہے ہو، اس کی آواز ہر چیز سنتی ہے سوائے انسان کے، اگر انسان اسے سن لے تو بیہوش ہو جائے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابيه، انه سمع ابا سعيد الخدري، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا وضعت الجنازة فاحتملها الرجال على اعناقهم فان كانت صالحة قالت قدموني قدموني وان كانت غير صالحة قالت يا ويلها الى اين تذهبون بها يسمع صوتها كل شىء الا الانسان ولو سمعها الانسان لصعق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنازے کو تیز لے چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے نیکی کی طرف ( جلد ) لے جاؤ گے، اور اگر اس کے علاوہ ہے تو وہ ایک شر ہے جسے تم ( جلد ) اپنی گردنوں سے اتار پھینکو گے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد، عن ابي هريرة، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " اسرعوا بالجنازة فان تك صالحة فخير تقدمونها اليه وان تك غير ذلك فشر تضعونه عن رقابكم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جنازے کو جلدی لے چلو، کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے خیر کی طرف جلد لے جاؤ گے، اور اگر بد ہے تو شر کو اپنی گردنوں سے ( جلد ) اتار پھینکو گے“۔
اخبرنا سويد، قال حدثنا عبد الله، عن يونس، عن الزهري، قال حدثني ابو امامة بن سهل، ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اسرعوا بالجنازة فان كانت صالحة قدمتموها الى الخير وان كانت غير ذلك كانت شرا تضعونه عن رقابكم
عبدالرحمٰن بن جوشن کہتے ہیں میں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں موجود تھا، زیاد نکلے تو وہ چارپائی کے آگے چل رہے تھے، عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے گھر والوں میں سے کچھ لوگ اور ان کے غلام چارپائی کو سامنے کر کے اپنی ایڑیوں کے بل چلنے لگے، وہ کہہ رہے تھے: آہستہ چلو، آہستہ چلو، اللہ تمہیں برکت دے، تو وہ لوگ رینگنے کے انداز میں چلنے لگے، یہاں تک کہ جب ہم مربد کے راستے میں تھے تو ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ہمیں ایک خچر پر ( سوار ) ملے، جب انہوں نے انہیں ( ایسا ) کرتے دیکھا، تو اپنے خچر پر ( سوار ) ان کے پاس گئے اور کوڑے سے ان کی طرف اشارہ کیا، اور کہا: قسم! اس ذات کی جس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت بخشی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے، تو لوگ ( یہ سن کر ) خوش ہوئے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال انبانا عيينة بن عبد الرحمن بن جوشن، قال حدثني ابي قال، شهدت جنازة عبد الرحمن بن سمرة وخرج زياد يمشي بين يدى السرير فجعل رجال من اهل عبد الرحمن ومواليهم يستقبلون السرير ويمشون على اعقابهم ويقولون رويدا رويدا بارك الله فيكم . فكانوا يدبون دبيبا حتى اذا كنا ببعض طريق المربد لحقنا ابو بكرة على بغلة فلما راى الذي يصنعون حمل عليهم ببغلته واهوى اليهم بالسوط وقال خلوا فوالذي اكرم وجه ابي القاسم صلى الله عليه وسلم لقد رايتنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا لنكاد نرمل بها رملا . فانبسط القوم
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ( صحابہ کرام ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے۔ یہ الفاظ ہشیم کی روایت کے ہیں۔
اخبرنا علي بن حجر، عن اسماعيل، وهشيم، عن عيينة بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي بكرة، قال لقد رايتنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا لنكاد نرمل بها رملا . واللفظ حديث هشيم
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے ( سامنے ) سے جنازہ گزرے تو کھڑے ہو جاؤ، ( اور ) جو ( جنازے ) کے ساتھ جائے وہ نہ بیٹھے یہاں تک کہ اسے رکھ دیا جائے“۔
اخبرنا يحيى بن درست، قال حدثنا ابو اسماعيل، عن يحيى، ان ابا سلمة، حدثه عن ابي سعيد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا مرت بكم جنازة فقوموا فمن تبعها فلا يقعد حتى توضع
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جنازہ دیکھے ( اور ) اس کے ساتھ جا نہ رہا ہو تو وہ کھڑا رہے یہاں تک کہ ( جنازہ ) اس سے آگے نکل جائے یا آگے نکلنے سے پہلے رکھ دیا جائے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، عن عامر بن ربيعة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا راى احدكم الجنازة فلم يكن ماشيا معها فليقم حتى تخلفه او توضع من قبل ان تخلفه
عامر بن ربیعہ عدوی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ تم سے آگے نکل جائے، یا رکھ دیا جائے“۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، عن عامر بن ربيعة العدوي، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " اذا رايتم الجنازة فقوموا حتى تخلفكم او توضع
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، ( اور ) جو اس کے پیچھے پیچھے جا رہا ہو جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے وہ نہ بیٹھے“۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل، عن هشام، ح واخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا هشام، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا رايتم الجنازة فقوموا فمن تبعها فلا يقعد حتى توضع