احادیث
#1900
سنن نسائی - Funerals
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی ( منافق ) مر گیا، تو اس کے بیٹے ( عبداللہ رضی اللہ عنہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ( اور ) عرض کیا: ( اللہ کے رسول! ) آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ میں اس میں انہیں کفنا دوں، اور آپ ان پر نماز ( جنازہ ) پڑھ دیجئیے، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا بھی کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص انہیں دے دی، پھر فرمایا: جب تم فارغ ہو لو تو مجھے خبر کرو میں ان کی نماز ( جنازہ ) پڑھوں گا ( اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوئے ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو کھینچا، اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین پر نماز ( جنازہ ) پڑھنے سے منع فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں دو اختیارات کے درمیان ہوں ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا: «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» تم ان کے لیے مغفرت چاہو یا نہ چاہو دونوں برابر ہے ( التوبہ: ۸۰ ) چنانچہ آپ نے اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھی، تو اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» تم ان ( منافقین ) میں سے کسی پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھو، اور نہ ہی ان کی قبر پر کھڑے ہو ( التوبہ: ۸۴ ) تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھنا چھوڑ دیا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا عبيد الله، قال حدثنا نافع، عن عبد الله بن عمر، قال لما مات عبد الله بن ابى جاء ابنه الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اعطني قميصك حتى اكفنه فيه وصل عليه واستغفر له . فاعطاه قميصه ثم قال " اذا فرغتم فاذنوني اصلي عليه " . فجذبه عمر وقال قد نهاك الله ان تصلي على المنافقين . فقال " انا بين خيرتين " . قال { استغفر لهم او لا تستغفر لهم } فصلى عليه فانزل الله تعالى { ولا تصل على احد منهم مات ابدا ولا تقم على قبره } فترك الصلاة عليهم
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #1900
- Book Index
- 83
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
