Loading...

Loading...
کتب
۲۷۲ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے گا اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرے گا، ( عمرو نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے ) اس پر اللہ کے رسول سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ( اگر ) اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرنا موت کو ناپسند کرنا ہے، تو ہم سب موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ اس کے مرنے کے وقت کی بات ہے، جب اسے اللہ کی رحمت اور اس کی مغفرت کی خوشخبری دی جاتی ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ سے ( جلد ) ملنا چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہتا ہے، اور جب اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی دھمکی دی جاتی ہے تو ( ڈر کی وجہ سے ) ملنا ناپسند کرتا ہے، اور وہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے ۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الاعلى، قال حدثنا سعيد، ح واخبرنا حميد بن مسعدة، عن خالد بن الحارث، قال حدثنا سعيد، عن قتادة، عن زرارة، عن سعد بن هشام، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من احب لقاء الله احب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه " . زاد عمرو في حديثه فقيل يا رسول الله كراهية لقاء الله كراهية الموت كلنا نكره الموت . قال " ذاك عند موته اذا بشر برحمة الله ومغفرته احب لقاء الله واحب الله لقاءه واذا بشر بعذاب الله كره لقاء الله وكره الله لقاءه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں آنکھوں کے بیچ بوسہ لیا، اور آپ انتقال فرما چکے تھے۔
اخبرنا احمد بن عمرو، قال انبانا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان ابا بكر، قبل بين عينى النبي صلى الله عليه وسلم وهو ميت
عبداللہ بن عباس اور عائشہ رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا، اور آپ انتقال فرما چکے تھے۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني موسى بن ابي عايشة، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، وعن عايشة، ان ابا بكر، قبل النبي صلى الله عليه وسلم وهو ميت
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ نے مجھے خبر دی ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا ہے کہ ابوبکر سُنح میں واقع اپنے مکان سے ایک گھوڑے پر آئے، اور اتر کر ( سیدھے ) مسجد میں گئے، لوگوں سے کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ( ان کے حجرے میں ) آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھاری دار چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک کھولا، پھر وہ آپ پر جھکے اور آپ کا بوسہ لیا، اور رو پڑے، پھر کہا: میرے باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم! اللہ کبھی آپ پر دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا، رہی یہ موت جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر لکھ دی تھی تو یہ ہو چکی ۲؎۔
اخبرنا سويد، قال حدثنا عبد الله، قال قال معمر ويونس قال الزهري واخبرني ابو سلمة ان عايشة اخبرته ان ابا بكر اقبل على فرس من مسكنه بالسنح حتى نزل فدخل المسجد فلم يكلم الناس حتى دخل على عايشة ورسول الله صلى الله عليه وسلم مسجى ببرد حبرة فكشف عن وجهه ثم اكب عليه فقبله فبكى ثم قال بابي انت والله لا يجمع الله عليك موتتين ابدا اما الموتة التي كتب الله عليك فقد متها
جابر بن عبداللہ بن حرام رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن میرے والد کو اس حال میں لایا گیا کہ ان کا مثلہ کیا جا چکا تھا، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا گیا، اور ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا، میں نے ان کے چہرہ سے کپڑا ہٹانا چاہا تو لوگوں نے مجھے روک دیا، ( پھر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( اٹھانے ) کا حکم دیا، انہیں اٹھایا گیا، تو جب وہ اٹھائے گئے تو آپ نے کسی رونے والے کی آواز سنی تو پوچھا: یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا: یہ عمرو کی بیٹی یا بہن ہے، آپ نے فرمایا: مت روؤ ، یا فرمایا: کیوں روتی ہو؟ جب تک انہیں اٹھایا نہیں گیا تھا فرشتے انہیں برابر سایہ کئے ہوئے تھے ۔
اخبرني محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال سمعت ابن المنكدر، يقول سمعت جابرا، يقول جيء بابي يوم احد وقد مثل به فوضع بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد سجي بثوب فجعلت اريد ان اكشف عنه فنهاني قومي فامر به النبي صلى الله عليه وسلم فرفع فلما رفع سمع صوت باكية فقال " من هذه " . فقالوا هذه بنت عمرو او اخت عمرو . قال " فلا تبكي - او فلم تبكي - ما زالت الملايكة تظله باجنحتها حتى رفع
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چھوٹی بچی کے مرنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( اپنی گود میں ) لے کر اپنے سینے سے چمٹا لیا، پھر اس پر اپنا ہاتھ رکھا، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی مر گئی، ام ایمن رضی اللہ عنہا رونے لگیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ام ایمن! تم رو رہی ہو جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس موجود ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( خود ) رو رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں رو نہیں رہا ہوں، البتہ یہ اللہ کی رحمت ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ہر حال میں اچھا ہے، اس کی دونوں پسلیوں کے بیچ سے اس کی جان نکالی جاتی ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا رہتا ہے ۔
اخبرنا هناد بن السري، قال حدثنا ابو الاحوص، عن عطاء بن السايب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال لما حضرت بنت لرسول الله صلى الله عليه وسلم صغيرة فاخذها رسول الله صلى الله عليه وسلم فضمها الى صدره ثم وضع يده عليها فقضت وهي بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم فبكت ام ايمن فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ام ايمن اتبكين ورسول الله صلى الله عليه وسلم عندك " . فقالت ما لي لا ابكي ورسول الله صلى الله عليه وسلم يبكي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لست ابكي ولكنها رحمة " . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المومن بخير على كل حال تنزع نفسه من بين جنبيه وهو يحمد الله عز وجل
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر رونے لگیں، اور کہنے لگیں: ہائے، ابا جان! آپ اپنے رب سے کس قدر قریب ہو گئے، ہائے، ابا جان! مرنے کی خبر ہم جبرائیل علیہ السلام کو دے رہے ہیں، ہائے، ابا جان! آپ کا ٹھکانا جنت الفردوس ہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن ثابت، عن انس، ان فاطمة، بكت على رسول الله صلى الله عليه وسلم حين مات فقالت يا ابتاه من ربه ما ادناه يا ابتاه الى جبريل ننعاه يا ابتاه جنة الفردوس ماواه
جابر بن عبداللہ بن حرام رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد غزوہ احد کے دن قتل کر دیئے گئے، میں ان کے چہرہ سے کپڑا ہٹانے اور رونے لگا، لوگ مجھے روک رہے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں روک رہے تھے، میری پھوپھی ( بھی ) ان پر رونے لگیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان پر مت روؤ، فرشتے ان پر برابر اپنے پروں سے سایہ کیے رہے یہاں تک کہ تم لوگوں نے اٹھایا ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن يزيد، قال حدثنا بهز بن اسد، قال حدثنا شعبة، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، ان اباه، قتل يوم احد - قال - فجعلت اكشف عن وجهه، وابكي، والناس، ينهوني ورسول الله صلى الله عليه وسلم لا ينهاني وجعلت عمتي تبكيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تبكيه ما زالت الملايكة تظله باجنحتها حتى رفعتموه
جابر بن عتیک انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عیادت ( بیمار پرسی ) کرنے آئے تو دیکھا کہ بیماری ان پر غالب آ گئی ہے، تو آپ نے انہیں زور سے پکارا ( لیکن ) انہوں نے ( کوئی ) جواب نہیں دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اناللہ وانا اليہ راجعون»پڑھا، اور فرمایا: اے ابو ربیع! ہم تم پر مغلوب ہو گئے ( یہ سن کر ) عورتیں چیخ پڑیں، اور رونے لگیں، ابن عتیک انہیں چپ کرانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو لیکن جب واجب ہو جائے تو ہرگز کوئی رونے والی نہ روئے ۔ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ( یہ ) واجب ہونا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: مر جانا ، ان کی بیٹی نے اپنے باپ کو مخاطب کر کے کہا: مجھے امید تھی کہ آپ شہید ہوں گے ( کیونکہ ) آپ نے اپنا سامان جہاد تیار کر لیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی نیت کے حساب سے انہیں اجر و ثواب دے گا، تم لوگ شہادت سے کیا سمجھتے ہو؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارا جانا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارے جانے کے علاوہ شہادت ( کی ) سات ( قسمیں ) ہیں، طاعون سے مرنے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے، عمارت سے دب کر مرنے والا شہید ہے، نمونیہ میں مرنے والا شہید ہے، جل کر مرنے والا شہید ہے، اور جو عورت جننے کے وقت یا جننے کے بعد مر جائے وہ شہید ہے ۔
اخبرنا عتبة بن عبد الله بن عتبة، قال قرات على مالك عن عبد الله بن عبد الله بن جبر بن عتيك، ان عتيك بن الحارث، وهو جد عبد الله بن عبد الله ابو امه اخبره ان جبر بن عتيك اخبره ان النبي صلى الله عليه وسلم جاء يعود عبد الله بن ثابت فوجده قد غلب عليه فصاح به فلم يجبه فاسترجع رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " قد غلبنا عليك ابا الربيع " . فصحن النساء وبكين فجعل ابن عتيك يسكتهن فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " دعهن فاذا وجب فلا تبكين باكية " . قالوا وما الوجوب يا رسول الله قال " الموت " . قالت ابنته ان كنت لارجو ان تكون شهيدا قد كنت قضيت جهازك . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فان الله عز وجل قد اوقع اجره عليه على قدر نيته وما تعدون الشهادة " . قالوا القتل في سبيل الله عز وجل . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الشهادة سبع سوى القتل في سبيل الله عز وجل المطعون شهيد والمبطون شهيد والغريق شهيد وصاحب الهدم شهيد وصاحب ذات الجنب شهيد وصاحب الحرق شهيد والمراة تموت بجمع شهيدة
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ ( رضی اللہ عنہم ) کے مرنے کی خبر آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ( اور ) آپ ( کے چہرے ) پر حزن و ملال نمایاں تھا، میں دروازے کے شگاف سے دیکھ رہی تھی ( اتنے میں ) ایک شخص آیا اور کہنے لگا: جعفر ( کے گھر ) کی عورتیں رو رہی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: جاؤ انہیں منع کرو ، چنانچہ وہ گیا ( اور ) پھر ( لوٹ کر ) آیا اور کہنے لگا: میں نے انہیں روکا ( لیکن ) وہ نہیں مانیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں منع کرو ( پھر ) وہ گیا ( اور پھر لوٹ کر آیا، اور کہنے لگا: میں نے انہیں روکا ( لیکن ) وہ نہیں مان رہی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ ان کے منہ میں مٹی ڈال دو ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس شخص کی ناک خاک آلود کرے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہے، تو اللہ کی قسم! نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشان کرنا چھوڑ رہا ہے، اور نہ تو یہی کر سکتا ہے ( کہ انہیں سختی سے روک دے ) ۱؎۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال حدثنا عبد الله بن وهب، قال قال معاوية بن صالح وحدثني يحيى بن سعيد، عن عمرة، عن عايشة، قالت لما اتى نعى زيد بن حارثة وجعفر بن ابي طالب وعبد الله بن رواحة جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم يعرف فيه الحزن وانا انظر من صير الباب فجاءه رجل فقال ان نساء جعفر يبكين . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انطلق فانههن " . فانطلق ثم جاء فقال قد نهيتهن فابين ان ينتهين . فقال " انطلق فانههن " . فانطلق ثم جاء فقال قد نهيتهن فابين ان ينتهين . قال " فانطلق فاحث في افواههن التراب " . فقالت عايشة فقلت ارغم الله انف الابعد انك والله ما تركت رسول الله صلى الله عليه وسلم وما انت بفاعل
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، عن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الميت يعذب ببكاء اهله عليه
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس ذکر کیا گیا کہ میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، تو انہوں نے کہا: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا شعبة، عن عبد الله بن صبيح، قال سمعت محمد بن سيرين، يقول ذكر عند عمران بن حصين الميت يعذب ببكاء الحى فقال عمران قاله رسول الله صلى الله عليه وسلم
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ۔
اخبرنا سليمان بن سيف، قال حدثنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، قال قال سالم سمعت عبد الله بن عمر، يقول قال عمر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يعذب الميت ببكاء اهله عليه
قیس بن عاصم رضی الله عنہ نے کہا تم میرے اوپر نوحہ مت کرنا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا۔ یہ لمبی حدیث سے مختصر ہے
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن مطرف، عن حكيم بن قيس، ان قيس بن عاصم، قال لا تنوحوا على فان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم ينح عليه . مختصر
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت عورتوں سے بیعت لی تو ان سے یہ بھی عہد لیا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی، تو عورتوں نے کہا: اللہ کے رسول! کچھ عورتوں نے زمانہ جاہلیت میں ( نوحہ کرنے میں ) ہماری مدد کی ہے، تو کیا ہم ان کی مدد کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں ( نوحہ پر ) کوئی مدد نہیں ۔
اخبرنا اسحاق، قال انبانا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن ثابت، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذ على النساء حين بايعهن ان لا ينحن فقلن يا رسول الله ان نساء اسعدننا في الجاهلية افنسعدهن فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا اسعاد في الاسلام
عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: میت کو اس کی قبر میں اس پر نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن ابن عمر، عن عمر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الميت يعذب في قبره بالنياحة عليه
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، اس پر ایک شخص نے ان سے کہا: مجھے بتائیے کہ ایک شخص خراسان میں مرے، اور اس کے گھر والے یہاں اس پر نوحہ کریں تو اس پر اس کے گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا، ( یہ بات عقل میں آنے والی نہیں ) ؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، اور تو جھوٹا ہے ۱؎۔
اخبرنا ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا سعيد بن سليمان، قال انبانا هشيم، قال انبانا منصور، - هو ابن زاذان - عن الحسن، عن عمران بن حصين، قال الميت يعذب بنياحة اهله عليه . فقال له رجل ارايت رجلا مات بخراسان وناح اهله عليه ها هنا اكان يعذب بنياحة اهله قال صدق رسول الله صلى الله عليه وسلم وكذبت انت
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے ، اسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: انہیں ( ابن عمر کو ) غلط فہمی ہوئی ہے ( اصل واقعہ یوں ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے تو کہا: اس قبر والے کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: «ولا تزر وازرة وزر أخرى» کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ( فاطر: ۱۸ ) ۔
اخبرنا محمد بن ادم، عن عبدة، عن هشام، عن ابيه، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الميت ليعذب ببكاء اهله عليه " . فذكر ذلك لعايشة فقالت وهل انما مر النبي صلى الله عليه وسلم على قبر فقال " ان صاحب القبر ليعذب وان اهله يبكون عليه " . ثم قرات { ولا تزر وازرة وزر اخرى}
عمرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا جب ان کے سامنے اس بات کا ذکر کیا گیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن کی مغفرت کرے، سنو! انہوں نے جھوٹ اور غلط نہیں کہا ہے، بلکہ وہ بھول گئے انہیں غلط فہمی ہوئی ہے ( اصل بات یہ ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودیہ عورت ( کی قبر ) کے پاس سے گزرے جس پر ( اس کے گھر والے ) رو رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے عذاب دیا جا رہا ہے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك بن انس، عن عبد الله بن ابي بكر، عن ابيه، عن عمرة، انها اخبرته انها، سمعت عايشة، وذكر، لها ان عبد الله بن عمر، يقول ان الميت ليعذب ببكاء الحى عليه . قالت عايشة يغفر الله لابي عبد الرحمن اما انه لم يكذب ولكن نسي او اخطا انما مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على يهودية يبكى عليها فقال " انهم ليبكون عليها وانها لتعذب
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب کو اس پر اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے ۔
اخبرنا عبد الجبار بن العلاء بن عبد الجبار، عن سفيان، قال قصه لنا عمرو بن دينار قال سمعت ابن ابي مليكة، يقول قال ابن عباس قالت عايشة انما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله عز وجل يزيد الكافر عذابا ببعض بكاء اهله عليه