احادیث
#1843
سنن نسائی - Funerals
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چھوٹی بچی کے مرنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( اپنی گود میں ) لے کر اپنے سینے سے چمٹا لیا، پھر اس پر اپنا ہاتھ رکھا، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی مر گئی، ام ایمن رضی اللہ عنہا رونے لگیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ام ایمن! تم رو رہی ہو جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس موجود ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( خود ) رو رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں رو نہیں رہا ہوں، البتہ یہ اللہ کی رحمت ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ہر حال میں اچھا ہے، اس کی دونوں پسلیوں کے بیچ سے اس کی جان نکالی جاتی ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا رہتا ہے ۔
اخبرنا هناد بن السري، قال حدثنا ابو الاحوص، عن عطاء بن السايب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال لما حضرت بنت لرسول الله صلى الله عليه وسلم صغيرة فاخذها رسول الله صلى الله عليه وسلم فضمها الى صدره ثم وضع يده عليها فقضت وهي بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم فبكت ام ايمن فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ام ايمن اتبكين ورسول الله صلى الله عليه وسلم عندك " . فقالت ما لي لا ابكي ورسول الله صلى الله عليه وسلم يبكي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لست ابكي ولكنها رحمة " . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المومن بخير على كل حال تنزع نفسه من بين جنبيه وهو يحمد الله عز وجل
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #1843
- Book Index
- 26
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiHasan
