Loading...

Loading...
کتب
۲۷۲ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ( بھی ) ہرگز موت کی آرزو و تمنا نہ کرے، ( کیونکہ ) یا تو وہ نیک ہو گا تو ہو سکتا ہے زیادہ نیکی کرے، یا برا ہو گا تو ہو سکتا ہے وہ برائی سے توبہ کر لے ۱؎۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، حدثنا معن، قال حدثنا ابراهيم بن سعد، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يتمنين احد منكم الموت اما محسنا فلعله ان يزداد خيرا واما مسييا فلعله ان يستعتب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں کا کوئی ( بھی ) ہرگز موت کی آرزو و تمنا نہ کرے ( کیونکہ ) اگر وہ نیک ہے تو شاید زندہ رہے ( اور ) زیادہ نیکی کرے، اور یہ اس کے لیے بہتر ہے، اور اگر گناہ گار ہے تو ہو سکتا ہے گنا ہوں سے توبہ کر لے ۔
اخبرنا عمرو بن عثمان، قال حدثنا بقية، قال حدثنا الزبيدي، قال حدثني الزهري، عن ابي عبيد، مولى عبد الرحمن بن عوف انه سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يتمنين احدكم الموت اما محسنا فلعله ان يعيش يزداد خيرا وهو خير له واما مسييا فلعله ان يستعتب
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں کا کوئی ( بھی ) ہرگز مصیبت کی وجہ سے جو اسے دنیا میں پہنچتی ہے موت کی تمنا نہ کرے ۱؎، بلکہ یہ کہے: «اللہم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» اے اللہ! اس وقت تک مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور اس وقت موت دیدے جب موت میرے لیے بہتر ہو ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا يزيد، - وهو ابن زريع - عن حميد، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يتمنين احدكم الموت لضر نزل به في الدنيا ولكن ليقل اللهم احيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني اذا كانت الوفاة خيرا لي
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! تم میں کا کوئی ( بھی ) ہرگز موت کی آرزو نہ کرے، اس مصیبت کی وجہ سے جو اسے پہنچی ہے، اگر موت کی آرزو کرنا ضروری ہو تو یہ کہے: «اللہم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» اے اللہ! اس وقت تک مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور اس وقت موت دیدے جب موت میرے لیے بہتر ہو ۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل ابن علية، عن عبد العزيز، ح وانبانا عمران بن موسى، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا عبد العزيز، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا لا يتمنى احدكم الموت لضر نزل به فان كان لا بد متمنيا الموت فليقل اللهم احيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني اذا كانت الوفاة خيرا لي
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم موت کی دعا نہ کرو، اور نہ ہی اس کی تمنا ( مگر ) جسے دعا کرنا ضروری ہو وہ کہے: «اللہم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» اے اللہ! مجھے زندہ رکھ جب تک میرے لیے زندہ رہنا بہتر ہو اور موت دیدے جب میرے لیے موت بہتر ہو ۔
اخبرنا احمد بن حفص بن عبد الله، قال حدثني ابي قال، حدثني ابراهيم بن طهمان، عن الحجاج، - وهو البصري - عن يونس، عن ثابت، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تدعوا بالموت ولا تتمنوه فمن كان داعيا لا بد فليقل اللهم احيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني اذا كانت الوفاة خيرا لي
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں میں خباب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے اپنے پیٹ میں سات داغ لگوا رکھے تھے وہ کہنے لگے: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا سے نہ روکا ہوتا تو میں ( شدت تکلیف سے ) اس کی دعا کرتا۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثني قيس، قال دخلت على خباب وقد اكتوى في بطنه سبعا وقال لولا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهانا ان ندعو بالموت دعوت به
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لذتوں کو کاٹنے والی ۱؎ کو خوب یاد کیا کرو ۲؎۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: محمد بن ابراہیم ابوبکر بن ابی شیبہ کے والد ہیں۔
اخبرنا الحسين بن حريث، قال انبانا الفضل بن موسى، عن محمد بن عمرو، ح واخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، قال حدثنا يزيد، قال انبانا محمد بن ابراهيم، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اكثروا ذكر هاذم اللذات " . قال ابو عبد الرحمن محمد بن ابراهيم والد ابي بكر بن ابي شيبة
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب تم مریض کے پاس جاؤ تو اچھی باتیں کرو، کیونکہ تم جو کچھ کہتے ہو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ۔ چنانچہ جب ابوسلمہ مر گئے، تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں کیا کہوں؟ تو آپ نے فرمایا ـ: تو کہو: «اللہم اغفر لنا وله وأعقبني منه عقبى حسنة» اے اللہ! ہماری اور ان کی مغفرت فرما، اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا ۱؎۔
اخبرنا محمد بن المثنى، عن يحيى، عن الاعمش، قال حدثني شقيق، عن ام سلمة، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا حضرتم المريض فقولوا خيرا فان الملايكة يومنون على ما تقولون " . فلما مات ابو سلمة قلت يا رسول الله كيف اقول قال " قولي اللهم اغفر لنا وله واعقبني منه عقبى حسنة " . فاعقبني الله عز وجل منه محمدا صلى الله عليه وسلم
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے قریب المرگ لوگوں کو «لا إله إلا اللہ» کی تلقین کرو ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا بشر بن المفضل، قال حدثنا عمارة بن غزية، قال حدثنا يحيى بن عمارة، قال سمعت ابا سعيد، ح وانبانا قتيبة، قال حدثنا عبد العزيز، عن عمارة بن غزية، عن يحيى بن عمارة، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لقنوا موتاكم لا اله الا الله
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے قریب المرگ لوگوں کو «لا إله إلا اللہ» کی تلقین کرو ۔
اخبرنا ابراهيم بن يعقوب، قال حدثني احمد بن اسحاق، قال حدثنا وهيب، قال حدثنا منصور ابن صفية، عن امه، صفية بنت شيبة عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لقنوا هلكاكم قول لا اله الا الله
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اس کی پیشانی پسینہ آلود ہوتی ہے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى، عن المثنى بن سعيد، عن قتادة، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " موت المومن بعرق الجبين
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا: مومن ایسی حالت میں مرتا ہے کہ اس کی پیشانی پسینہ آلود رہتی ہے ۔
اخبرنا محمد بن معمر، قال حدثنا يوسف بن يعقوب، قال حدثنا كهمس، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " المومن يموت بعرق الجبين
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو اس وقت آپ کا سر مبارک میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے درمیان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے بعد کبھی کسی کی موت کی سختی مجھے ناگوار نہیں لگتی ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا عبد الله بن يوسف، قال حدثني الليث، قال حدثني ابن الهاد، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وانه لبين حاقنتي وذاقنتي فلا اكره شدة الموت لاحد ابدا بعد ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری دیدار اس وقت کیا تھا ( جب ) آپ نے ( حجرے کا ) پردہ اٹھایا، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے ( کھڑے تھے ) ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیچھے ہٹنا چاہا تو آپ نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، اور پردہ گرا دیا ( پھر ) آپ اسی دن کے آخری ( حصہ میں ) انتقال فرما گئے، اور یہ دوشنبہ کا دن تھا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن انس، قال اخر نظرة نظرتها الى رسول الله صلى الله عليه وسلم كشف الستارة والناس صفوف خلف ابي بكر رضى الله عنه فاراد ابو بكر ان يرتد فاشار اليهم ان امكثوا والقى السجف وتوفي من اخر ذلك اليوم وذلك يوم الاثنين
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مدینے کا ایک آدمی جو وہیں پیدا ہونے والوں میں سے تھا مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( کے جنازے ) کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: کاش! ( یہ شخص ) اپنے پیدائش کی جگہ کے علاوہ کہیں اور مرا ہوتا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کیوں تو آپ نے فرمایا: آدمی جب اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کہیں اور مرتا ہے، تو اسے جنت میں اس کی جائے پیدائش سے جائے موت تک جگہ دی جاتی ہے ۱؎۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال انبانا ابن وهب، قال اخبرني حيى بن عبد الله، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن عبد الله بن عمرو، قال مات رجل بالمدينة ممن ولد بها فصلى عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال " يا ليته مات بغير مولده " . قالوا ولم ذاك يا رسول الله قال " ان الرجل اذا مات بغير مولده قيس له من مولده الى منقطع اثره في الجنة
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن کی موت آتی ہے تو اس کے پاس رحمت کے فرشتے سفید ریشمی کپڑا لے کر آتے ہیں، اور ( اس کی روح سے ) کہتے ہیں: نکل، تو اللہ سے راضی ہے، اور اللہ تجھ سے راضی ہے، اللہ کی رحمت اور رزق کی طرف اور ( اپنے ) رب کی طرف جو ناراض نہیں ہے، تو وہ پاکیزہ خوشبودار مشک کی مانند نکل پڑتی، ہے یہاں تک کہ ( فرشتے ) اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں، ( جب ) آسمان کے دروازے پر اسے لے کر آتے ہیں تو ( دربان ) کہتے ہیں: کیا خوب ہے یہ خوشبو جو زمین سے تمہارے پاس آئی ہے، ( پھر ) وہ اسے مومن کی روحوں کے پاس لے کر آتے ہیں، تو انہیں ایسی خوشی ہوتی ہے جو گمشدہ شخص کے لوٹ کر آ جانے سے بڑھ کر ہوتی ہے، وہ روحیں اس سے ان لوگوں کا حال پوچھتی ہیں جنہیں وہ دنیا میں چھوڑ گئے تھے: فلاں کیسے ہے، اور فلاں کیسے ہے؟ وہ کہتی ہیں: انہیں چھوڑو، یہ دنیا کے غم میں مبتلا تھے، تو جب وہ ( نووارد روح ) کہتی ہے: کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا؟ ( وہ تو مر گیا تھا ) تو وہ کہتی ہیں: اسے اس کے ٹھکانہ ہاویہ کی طرف لے جایا گیا ہو گا، اور جب کافر قریب المرگ ہوتا ہے تو عذاب کے فرشتے ایک ٹاٹ کا ٹکڑا لے کر آتے ہیں، ( اور ) کہتے ہیں: اللہ کے عذاب کی طرف نکل، تو اللہ سے ناراض ہے، اور اللہ تجھ سے ناراض ہے، تو وہ نکل پڑتی ہے جیسے سڑے مردار کی بدبو نکلتی ہے یہاں تک کہ اسے زمین کے دروازے پر لاتے ہیں ( پھر ) کہتے ہیں: کتنی خراب بدبو ہے یہاں تک کہ اسے کافروں کی روحوں میں لے جا کر ( چھوڑ دیتے ہیں ) ۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، عن قسامة بن زهير، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا حضر المومن اتته ملايكة الرحمة بحريرة بيضاء فيقولون اخرجي راضية مرضيا عنك الى روح الله وريحان ورب غير غضبان . فتخرج كاطيب ريح المسك حتى انه ليناوله بعضهم بعضا حتى ياتون به باب السماء فيقولون ما اطيب هذه الريح التي جاءتكم من الارض . فياتون به ارواح المومنين فلهم اشد فرحا به من احدكم بغايبه يقدم عليه فيسالونه ماذا فعل فلان ماذا فعل فلان فيقولون دعوه فانه كان في غم الدنيا فاذا قال اما اتاكم قالوا ذهب به الى امه الهاوية وان الكافر اذا احتضر اتته ملايكة العذاب بمسح فيقولون اخرجي ساخطة مسخوطا $$عليك الى عذاب الله عز وجل . فتخرج كانتن ريح جيفة حتى ياتون به باب الارض فيقولون ما انتن هذه الريح حتى ياتون به ارواح الكفار
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرے گا ۔ شریح کہتے ہیں: میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور میں نے کہا: ام المؤمنین! میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ذکر کرتے سنا ہے، اگر ایسا ہے تو ہم ہلاک ہو گئے، انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو اللہ سے ملنا چاہے اللہ ( بھی ) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرے گا لیکن ہم میں سے کوئی ( بھی ) ایسا نہیں جو موت کو ناپسند نہ کرتا ہو۔ تو انہوں نے کہا: بیشک یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں جو تم سمجھتے ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نگاہ پتھرا جائے، سینہ میں دم گھٹنے لگے، اور رونگٹے کھڑے ہو جائیں، اس وقت جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرے گا ۱؎۔
اخبرنا هناد، عن ابي زبيد، - وهو عبثر بن القاسم - عن مطرف، عن عامر، عن شريح بن هاني، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من احب لقاء الله احب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه " . قال شريح فاتيت عايشة فقلت يا ام المومنين سمعت ابا هريرة يذكر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا ان كان كذلك فقد هلكنا . قالت وما ذاك قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من احب لقاء الله احب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه " . ولكن ليس منا احد الا وهو يكره الموت قالت قد قاله رسول الله صلى الله عليه وسلم وليس بالذي تذهب اليه ولكن اذا طمح البصر وحشرج الصدر واقشعر الجلد فعند ذلك من احب لقاء الله احب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میرا بندہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے تو میں ( بھی ) اس سے ملنا چاہتا ہوں، اور جب وہ مجھ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تو میں ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرتا ہوں ۔
اخبرنا الحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، حدثني مالك، ح وانبانا قتيبة، قال حدثنا المغيرة، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قال الله تعالى اذا احب عبدي لقايي احببت لقاءه واذا كره لقايي كرهت لقاءه
عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے، اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرے گا ۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، قال سمعت انسا، يحدث عن عبادة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من احب لقاء الله احب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے ۔
اخبرنا ابو الاشعث، قال حدثنا المعتمر، قال سمعت ابي يحدث، عن قتادة، عن انس بن مالك، عن عبادة بن الصامت، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من احب لقاء الله احب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه