احادیث
#1868
سنن نسائی - Funerals
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی نے آپ کو صلی اللہ علیہ وسلم کہلا بھیجا کہ میرا بیٹا ۱؎ مرنے کو ہے آپ آ جائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلا بھیجا کہ آپ سلام کہتے ہیں، اور کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو ( کچھ ) لے، اور اسی کے لیے ہے جو ( کچھ ) دے، اور اللہ کے نزدیک ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے، تو چاہیئے کہ تم صبر کرو، اور اللہ سے اجر طلب کرو، بیٹی نے ( دوبارہ ) قسم دے کے کہلا بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور آ جائیں، چنانچہ آپ اٹھے، آپ کے ساتھ سعد بن عبادہ، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور کچھ اور لوگ تھے، ( بچہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر اس حال میں لایا گیا کہ اس کی سانس ٹوٹ رہی تھی، تو آپ کی آنکھوں ( سے ) آنسو بہ پڑے، اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھ رکھا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو رحم دل ہوتے ہیں ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن عاصم بن سليمان، عن ابي عثمان، قال حدثني اسامة بن زيد، قال ارسلت بنت النبي صلى الله عليه وسلم اليه ان ابنا لي قبض فاتنا . فارسل يقرا السلام ويقول " ان لله ما اخذ وله ما اعطى وكل شىء عند الله باجل مسمى فلتصبر ولتحتسب " . فارسلت اليه تقسم عليه لياتينها فقام ومعه سعد بن عبادة ومعاذ بن جبل وابى بن كعب وزيد بن ثابت ورجال فرفع الى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصبي ونفسه تقعقع ففاضت عيناه فقال سعد يا رسول الله ما هذا قال " هذا رحمة يجعلها الله في قلوب عباده وانما يرحم الله من عباده الرحماء
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Funerals
- Hadith Index
- #1868
- Book Index
- 51
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
