Loading...

Loading...
کتب
۳۲۴ احادیث
مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے وضو کیا، اور اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع کر رہے تھے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، قال انبانا الاوزاعي، قال حدثني المطلب بن عبد الله بن حنطب، ان عبد الله بن عمر، توضا ثلاثا ثلاثا يسند ذلك الى النبي صلى الله عليه وسلم
مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ نے میری پیٹھ پر ایک چھڑی لگائی ۱؎ اور آپ مڑے تو میں بھی آپ کے ساتھ مڑ گیا، یہاں تک کہ آپ ایک ایسی جگہ پر آئے جو ایسی ایسی تھی، اور اونٹ کو بٹھایا پھر آپ چلے، مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو آپ چلتے رہے یہاں تک کہ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے، پھر آپ ( واپس ) آئے، اور پوچھا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میرے پاس میری ایک چھاگل تھی، اسے لے کر میں آپ کے پاس آیا، اور آپ پر انڈیلا، تو آپ نے اپنے دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، چہرہ دھویا، اور دونوں بازو دھونے چلے، تو آپ ایک تنگ آستین کا شامی جبہ پہنے ہوئے ہوئے تھے ( آستین چڑھ نہ سکی ) تو اپنا ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکالا، اور اپنا چہرہ اور اپنے دونوں بازو دھوئے – مغیرہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی پیشانی کے کچھ حصے اور عمامہ کے کچھ حصے کا ذکر کیا، ابن عون کہتے ہیں: میں جس طرح چاہتا تھا اس طرح مجھے یاد نہیں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر فرمایا: اب تو اپنی ضرورت پوری کر لے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے حاجت نہیں، تو ہم آئے دیکھا کہ عبدالرحمٰن بن عوف لوگوں کی امامت کر رہے تھے، اور وہ نماز فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے، تو میں بڑھا کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خبر دے دوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرما دیا، چنانچہ ہم نے جو نماز پائی اسے پڑھ لیا، اور جو حصہ فوت ہو گیا تھا اسے ( بعد میں ) پورا کیا۔
اخبرنا محمد بن ابراهيم البصري، عن بشر بن المفضل، عن ابن عون، عن عامر الشعبي، عن عروة بن المغيرة، عن المغيرة، وعن محمد بن سيرين، عن رجل، حتى رده الى المغيرة - قال ابن عون ولا احفظ حديث ذا من حديث ذا - ان المغيرة قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فقرع ظهري بعصا كانت معه فعدل وعدلت معه حتى اتى كذا وكذا من الارض فاناخ ثم انطلق . قال فذهب حتى توارى عني ثم جاء فقال " امعك ماء " . ومعي سطيحة لي فاتيته بها فافرغت عليه فغسل يديه ووجهه وذهب ليغسل ذراعيه وعليه جبة شامية ضيقة الكمين فاخرج يده من تحت الجبة فغسل وجهه وذراعيه وذكر من ناصيته شييا وعمامته شييا - قال ابن عون لا احفظ كما اريد ثم مسح على خفيه - ثم قال " حاجتك " . قلت يا رسول الله ليست لي حاجة فجينا وقد ام الناس عبد الرحمن بن عوف وقد صلى بهم ركعة من صلاة الصبح فذهبت لاوذنه فنهاني فصلينا ما ادركنا وقضينا ما سبقنا
ابواوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ( اپنی ہتھیلیوں پر ) تین بار پانی ٹپکایا۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، عن سفيان، - وهو ابن حبيب - عن شعبة، عن النعمان بن سالم، عن ابن ابي اوس، عن جده، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم استوكف ثلاثا
حمران بن ابان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ نے وضو کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی انڈیلا، انہیں دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا، پھر کہنی تک اپنا دایاں ہاتھ دھویا، پھر اسی طرح بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پیر تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پیر دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، اور فرمایا: جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے اور دو رکعت نماز پڑھے، اور دل میں کوئی اور خیال نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۱؎۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن معمر، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن حمران بن ابان، قال رايت عثمان بن عفان - رضى الله عنه - توضا فافرغ على يديه ثلاثا فغسلهما ثم تمضمض واستنشق ثم غسل وجهه ثلاثا ثم غسل يده اليمنى الى المرفق ثلاثا ثم اليسرى مثل ذلك ثم مسح براسه ثم غسل قدمه اليمنى ثلاثا ثم اليسرى مثل ذلك ثم قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا نحو وضويي ثم قال " من توضا نحو وضويي هذا ثم صلى ركعتين لا يحدث نفسه فيهما بشىء غفر له ما تقدم من ذنبه
حمران سے روایت ہے کہ انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، اور اسے برتن سے اپنے دونوں ہاتھ پر انڈیلا، پھر انہیں تین بار دھویا، پھر اپنا داہنا ہاتھ پانی میں ڈالا ۱؎ اور کلی کی، اور ناک صاف کی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور کہنیوں تک تین بار ہاتھ دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پیروں میں سے ہر پیر کو تین تین بار دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، اور فرمایا: جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھے، دل میں کوئی اور خیال نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
اخبرنا احمد بن محمد بن المغيرة، قال حدثنا عثمان، - هو ابن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي عن - شعيب، - هو ابن ابي حمزة - عن الزهري، اخبرني عطاء بن يزيد، عن حمران، انه راى عثمان دعا بوضوء فافرغ على يديه من انايه فغسلها ثلاث مرات ثم ادخل يمينه في الوضوء فتمضمض واستنشق ثم غسل وجهه ثلاثا ويديه الى المرفقين ثلاث مرات ثم مسح براسه ثم غسل كل رجل من رجليه ثلاث مرات ثم قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا وضويي هذا ثم قال " من توضا مثل وضويي هذا ثم قام فصلى ركعتين لا يحدث فيهما نفسه بشىء غفر الله له ما تقدم من ذنبه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اپنے ناک میں پانی سڑکے ( ناک میں پانی ڈالے ) ، پھر اسے جھاڑے ۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا ابو الزناد، ح وحدثنا الحسين بن عيسى، عن معن، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا توضا احدكم فليجعل في انفه ماء ثم ليستنثر
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے متعلق بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پوری طرح وضو کرو، اور ناک میں پانی سڑکنے ( ڈالنے ) میں مبالغہ کرو، اِلّا یہ کہ تم روزے سے ہو ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا يحيى بن سليم، عن اسماعيل بن كثير، ح وانبانا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا وكيع، عن سفيان، عن ابي هاشم، عن عاصم بن لقيط بن صبرة، عن ابيه، قال قلت يا رسول الله اخبرني عن الوضوء، قال " اسبغ الوضوء وبالغ في الاستنشاق الا ان تكون صايما
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو وضو کرے تو اسے چاہیئے کہ ناک جھاڑے، اور جو استنجاء میں پتھر استعمال کرے تو اسے چاہیئے کہ طاق استعمال کرے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، ح وحدثنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا عبد الرحمن، عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابي ادريس الخولاني، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من توضا فليستنثر ومن استجمر فليوتر
سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وضو کرو تو ناک جھاڑو، اور جب ڈھیلے سے استنجاء کرو تو طاق ڈھیلا استعمال کرو ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن سلمة بن قيس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا توضات فاستنثر واذا استجمرت فاوتر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگ کر وضو کرے تو ( پانی لے کر ) تین مرتبہ ناک جھاڑے، کیونکہ شیطان اس کے پانسے میں رات گزارتا ہے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن زنبور المكي، قال حدثنا ابن ابي حازم، عن يزيد بن عبد الله، ان محمد بن ابراهيم، حدثه عن عيسى بن طلحة، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا استيقظ احدكم من منامه فتوضا فليستنثر ثلاث مرات فان الشيطان يبيت على خيشومه
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر اسے اپنے بائیں ہاتھ سے تین بار جھاڑا، پھر کہنے لگے: یہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔
اخبرنا موسى بن عبد الرحمن، قال حدثنا حسين بن علي، عن زايدة، قال حدثنا خالد بن علقمة، عن عبد خير، عن علي، انه دعا بوضوء فتمضمض واستنشق ونثر بيده اليسرى ففعل هذا ثلاثا ثم قال هذا طهور نبي الله صلى الله عليه وسلم
عبد خیر کہتے ہیں کہ ہم لوگ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آپ نماز پڑھ چکے تھے، مگر آپ نے وضو کا پانی طلب کیا، ہم لوگوں نے ( دل میں یا آپس میں ) کہا: وہ اسے کیا کریں گے؟ وہ تو نماز پڑھ چکے ہیں، ( ایسا کر کے ) وہ ہمیں صرف سکھانا چاہتے ہوں گے، چنانچہ ایک برتن جس میں پانی تھا، اور ایک طشت لایا گیا، آپ نے برتن سے اپنے ہاتھ پر پانی انڈیلا اور اسے تین مرتبہ دھویا، پھر جس ہتھیلی سے پانی لیتے تھے اسی سے تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر چہرہ تین بار دھویا، اور دایاں ہاتھ تین بار دھویا پھر بایاں ہاتھ تین بار اور اپنے سرکا ایک بار مسح کیا، پھر دایاں پیر تین بار دھویا، اور بایاں پیر تین بار دھویا، پھر کہنے لگے: جسے خواہش ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو معلوم کرے تو وہ یہی ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن خالد بن علقمة، عن عبد خير، قال اتينا علي بن ابي طالب - رضى الله عنه - وقد صلى فدعا بطهور فقلنا ما يصنع به وقد صلى ما يريد الا ليعلمنا فاتي باناء فيه ماء وطست فافرغ من الاناء على يديه فغسلها ثلاثا ثم تمضمض واستنشق ثلاثا من الكف الذي ياخذ به الماء ثم غسل وجهه ثلاثا وغسل يده اليمنى ثلاثا ويده الشمال ثلاثا ومسح براسه مرة واحدة ثم غسل رجله اليمنى ثلاثا ورجله الشمال ثلاثا ثم قال من سره ان يعلم وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم فهو هذا
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک کرسی لائی گئی تو وہ اس پر بیٹھے، پھر آپ نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا، اپنے دونوں ہاتھ پر تین بار پانی انڈیلا، پھر ایک ہی ہتھیلی سے تین دفعہ کلی کی اور ناک جھاڑی، اور اپنا چہرہ تین بار دھویا، اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر پانی لے کر اپنے سرکا مسح کیا، ( شعبہ – جو حدیث کے راوی ہیں – نے اپنی پیشانی سے اپنے سر کے آخر تک ایک بار مسح کر کے دکھایا، پھر کہا: میں نہیں جانتا کہ ان دونوں کو ( گدی سے پیشانی تک ) واپس لائے یا نہیں؟ ) اور اپنے دونوں پیروں کو تین تین بار دھویا، پھر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنے کی خواہش ہو تو یہی آپ کا وضو ہے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، - وهو ابن المبارك - عن شعبة، عن مالك بن عرفطة، عن عبد خير، عن علي، رضى الله عنه انه اتي بكرسي فقعد عليه ثم دعا بتور فيه ماء فكفا على يديه ثلاثا ثم مضمض واستنشق بكف واحد ثلاث مرات وغسل وجهه ثلاثا وغسل ذراعيه ثلاثا ثلاثا واخذ من الماء فمسح براسه - واشار شعبة مرة من ناصيته الى موخر راسه - ثم قال - لا ادري اردهما ام لا - وغسل رجليه ثلاثا ثلاثا ثم قال من سره ان ينظر الى طهور رسول الله صلى الله عليه وسلم فهذا طهوره . وقال ابو عبد الرحمن هذا خطا والصواب خالد بن علقمة ليس مالك بن عرفطة
عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے کرسی منگائی، پھر وہ اس پر بیٹھے، پھر ایک برتن میں پانی منگایا، اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر ایک ہی ہتھیلی سے تین بار کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر برتن میں اپنا ہاتھ ڈبو کر اپنے سر کا مسح کیا، پھر دونوں پیر تین تین بار دھوئے، پھر کہا: جسے خواہش ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھے تو یہی آپ کا وضو ہے۔
اخبرنا عمرو بن علي، وحميد بن مسعدة، عن يزيد، - وهو ابن زريع - قال حدثني شعبة، عن مالك بن عرفطة، عن عبد خير، قال شهدت عليا دعا بكرسي فقعد عليه ثم دعا بماء في تور فغسل يديه ثلاثا ثم مضمض واستنشق بكف واحد ثلاثا ثم غسل وجهه ثلاثا ويديه ثلاثا ثلاثا ثم غمس يده في الاناء فمسح براسه ثم غسل رجليه ثلاثا ثلاثا ثم قال من سره ان ينظر الى وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم فهذا وضووه
حسین بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے وضو کا پانی مانگا، تو میں نے اسے ( وضو کے پانی کو ) انہیں لا کر دیا، آپ نے وضو کرنا شروع کیا، تو اپنی ہتھیلیوں کو اس سے پہلے کہ انہیں اپنے وضو کے پانی میں داخل کریں تین بار دھویا، پھر تین بار کلی کی اور تین بار ( پانی لے کر ) ناک جھاڑی، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھویا، پھر بایاں ہاتھ ( بھی ) اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، پھر دونوں ٹخنوں تک اپنا دایاں پیر تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پیر ( دھویا ) ، پھر آپ اٹھ کر کھڑے ہوئے، اور کہنے لگے: مجھے ( برتن ) دو، چنانچہ میں نے وہ برتن بڑھا دیا جس میں ان کے وضو کا بچا ہوا پانی تھا، تو آپ نے وضو کا باقی ماندہ پانی کھڑے ہو کر پیا، تو مجھے تعجب ہوا، جب آپ نے میری طرف دیکھا تو بولے: تعجب نہ کرو، میں نے تمہارے نانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے کرتے دیکھا، وہ اپنے اس وضو کے اور اس سے بچے ہوئے پانی کو کھڑے ہو کر پینے کے متعلق کہہ رہے تھے۔
اخبرنا ابراهيم بن الحسن المقسمي، قال انبانا حجاج، قال قال ابن جريج حدثني شيبة، ان محمد بن علي، اخبره قال اخبرني ابي علي، ان الحسين بن علي، قال دعاني ابي علي بوضوء فقربته له فبدا فغسل كفيه ثلاث مرات قبل ان يدخلهما في وضويه ثم مضمض ثلاثا واستنثر ثلاثا ثم غسل وجهه ثلاث مرات ثم غسل يده اليمنى الى المرفق ثلاثا ثم اليسرى كذلك ثم مسح براسه مسحة واحدة ثم غسل رجله اليمنى الى الكعبين ثلاثا ثم اليسرى كذلك ثم قام قايما فقال ناولني فناولته الاناء الذي فيه فضل وضويه فشرب من فضل وضويه قايما فعجبت فلما راني قال لا تعجب فاني رايت اباك النبي صلى الله عليه وسلم يصنع مثل ما رايتني صنعت يقول لوضويه هذا وشرب فضل وضويه قايما
ابوحیہ (ابن قیس) کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنی ہتھیلیوں کو دھویا یہاں تک کہ انہیں ( خوب ) صاف کیا، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر کھڑے ہوئے، اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی لیا اور کھڑے کھڑے پی لیا، پھر کہنے لگے کہ میں نے چاہا کہ میں تم لوگوں کو دکھلاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن ابي حية، - وهو ابن قيس - قال رايت عليا - رضى الله عنه - توضا فغسل كفيه حتى انقاهما ثم تمضمض ثلاثا واستنشق ثلاثا وغسل وجهه ثلاثا وغسل ذراعيه ثلاثا ثلاثا ثم مسح براسه ثم غسل قدميه الى الكعبين ثم قام فاخذ فضل طهوره فشرب وهو قايم ثم قال احببت ان اريكم كيف طهور النبي صلى الله عليه وسلم
عمرو بن یحییٰ المازنی کے والد روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے پوچھا- وہ ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں اور ( عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں ) کہ کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے پانی منگایا، اور اسے اپنے دونوں ہاتھوں پر انڈیلا، انہیں دو دو بار دھویا، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا تو انہیں آگے لائے اور پیچھے لے گئے، اپنے سر کے اگلے حصہ سے ( مسح ) شروع کیا پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے، پھر جس جگہ سے شروع کیا تھا وہیں انہیں لوٹا لائے، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن عمرو بن يحيى المازني، عن ابيه، انه قال لعبد الله بن زيد بن عاصم - وكان من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وهو جد عمرو بن يحيى - هل تستطيع ان تريني كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا قال عبد الله بن زيد نعم . فدعا بوضوء فافرغ على يديه فغسل يديه مرتين مرتين ثم تمضمض واستنشق ثلاثا ثم غسل وجهه ثلاثا ثم غسل يديه مرتين مرتين الى المرفقين ثم مسح راسه بيديه فاقبل بهما وادبر بدا بمقدم راسه ثم ذهب بهما الى قفاه ثم ردهما حتى رجع الى المكان الذي بدا منه ثم غسل رجليه
یحییٰ سے روایت ہے کہ انہوں نے ( ان کے باپ عمارہ نے ) عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے کہا – ( وہ عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں ) کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں! چنانچہ انہوں نے پانی منگایا، اور اپنے دائیں ہاتھ پر انڈیل کر اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے، پھر تین بار کلی کی، اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا، ان کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے، اپنے سر کے اگلے حصہ سے ( مسح ) شروع کیا، پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے، پھر انہیں واپس لے آئے یہاں تک کہ اسی جگہ لوٹا لائے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔
اخبرنا عتبة بن عبد الله، عن مالك، - هو ابن انس - عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، انه قال لعبد الله بن زيد بن عاصم - وهو جد عمرو بن يحيى - هل تستطيع ان تريني، كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا قال عبد الله بن زيد نعم . فدعا بوضوء فافرغ على يده اليمنى فغسل يديه مرتين ثم مضمض واستنشق ثلاثا ثم غسل وجهه ثلاثا ثم غسل يديه مرتين مرتين الى المرفقين ثم مسح راسه بيديه فاقبل بهما وادبر بدا بمقدم راسه ثم ذهب بهما الى قفاه ثم ردهما حتى رجع الى المكان الذي بدا منه ثم غسل رجليه
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ ۔ ( جنہیں خواب میں کلمات اذان بتلائے گئے تھے ۱؎ ) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو کیا، تو اپنا چہرہ تین بار اور اپنے دونوں ہاتھ دو بار دھوئے، اور اپنے دونوں پاؤں دو بار دھوئے، اور دو بار ۲؎ اپنے سر کا مسح کیا۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن عبد الله بن زيد، - الذي اري النداء - قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا فغسل وجهه ثلاثا ويديه مرتين وغسل رجليه مرتين ومسح براسه مرتين
ابوعبداللہ سالم سبلان کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی امانت پر تعجب کرتی تھیں، اور ان سے اجرت پر کام لیتی تھیں، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے مجھے دکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے تین بار کلی کی، اور ناک جھاڑی اور تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر تین بار اپنا دایاں ہاتھ دھویا، اور تین بار بایاں، پھر اپنا ہاتھ اپنے سر کے اگلے حصہ پر رکھا، اور اپنے سر کا اس کے پچھلے حصہ تک ایک بار مسح کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں پر پھیرا، پھر دونوں رخساروں پر پھیرا، سالم کہتے ہیں: میں بطور مکاتب ( غلام ) کے ان کے پاس آتا تھا اور آپ مجھ سے پردہ نہیں کرتی تھیں، میرے سامنے بیٹھتیں اور مجھ سے گفتگو کرتی تھیں، یہاں تک کہ ایک دن میں ان کے پاس آیا، اور ان سے کہا: ام المؤمنین! میرے لیے برکت کی دعا کر دیجئیے، وہ بولیں: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ نے مجھے آزادی دے دی ہے، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت سے نوازے، اور پھر آپ نے میرے سامنے پردہ لٹکا دیا، اس دن کے بعد سے میں نے انہیں نہیں دیکھا۔
اخبرنا الحسين بن حريث، قال حدثنا الفضل بن موسى، عن جعيد بن عبد الرحمن، قال اخبرني عبد الملك بن مروان بن الحارث بن ابي ذباب، قال اخبرني ابو عبد الله، سالم سبلان قال وكانت عايشة تستعجب بامانته وتستاجره فارتني كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا فتمضمضت واستنثرت ثلاثا وغسلت وجهها ثلاثا ثم غسلت يدها اليمنى ثلاثا واليسرى ثلاثا ووضعت يدها في مقدم راسها ثم مسحت راسها مسحة واحدة الى موخره ثم امرت يديها باذنيها ثم مرت على الخدين قال سالم كنت اتيها مكاتبا ما تختفي مني فتجلس بين يدى وتتحدث معي حتى جيتها ذات يوم فقلت ادعي لي بالبركة يا ام المومنين . قالت وما ذاك قلت اعتقني الله . قالت بارك الله لك . وارخت الحجاب دوني فلم ارها بعد ذلك اليوم