Loading...

Loading...
کتب
۳۲۴ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، تو اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر ایک ہی چلو سے کلی کی، اور ناک میں پانی ڈالا ۱؎، اور اپنا چہرہ دھویا، اور اپنے دونوں ہاتھ ایک ایک بار دھوئے، اور اپنے سر اور اپنے دونوں کانوں کا ایک بار مسح کیا۔
اخبرنا الهيثم بن ايوب الطالقاني، قال حدثنا عبد العزيز بن محمد، قال حدثنا زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابن عباس، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا فغسل يديه ثم تمضمض واستنشق من غرفة واحدة وغسل وجهه وغسل يديه مرة مرة ومسح براسه واذنيه مرة . قال عبد العزيز واخبرني من سمع ابن عجلان يقول في ذلك وغسل رجليه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، تو آپ نے ایک چلو پانی لیا، اور کلی کی، اور ناک میں ڈالا، پھر دوسرا چلو لیا، اور اپنا چہرہ دھویا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا دایاں ہاتھ دھویا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر اور اپنے دونوں کانوں کے اندرونی حصہ کا شہادت کی انگلی سے، اور ان دونوں کے بیرونی حصہ کا انگوٹھے سے مسح کیا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا دایاں پاؤں دھویا، پھر ایک اور چلو لیا، اور اپنا بایاں پاؤں دھویا۔
اخبرنا مجاهد بن موسى، قال حدثنا عبد الله بن ادريس، قال حدثنا ابن عجلان، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابن عباس، قال توضا رسول الله صلى الله عليه وسلم فغرف غرفة فمضمض واستنشق ثم غرف غرفة فغسل وجهه ثم غرف غرفة فغسل يده اليمنى ثم غرف غرفة فغسل يده اليسرى ثم مسح براسه واذنيه باطنهما بالسباحتين وظاهرهما بابهاميه ثم غرف غرفة فغسل رجله اليمنى ثم غرف غرفة فغسل رجله اليسرى
عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ مومن وضو کرتے ہوئے کلی کرتا ہے تو اس کے منہ کے گناہ نکل جاتے ہیں، جب ناک جھاڑتا ہے تو اس کی ناک کے گناہ نکل جاتے ہیں، جب اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس کی دونوں آنکھ کے پپوٹوں سے نکلتے ہیں، پھر جب اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھ کے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دونوں ہاتھ کے ناخنوں کے نیچے سے نکلتے ہیں، پھر جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو گناہ اس کے سر سے نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کے دونوں کانوں سے نکل جاتے ہیں پھر جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو اس کے دونوں پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دونوں پاؤں کے ناخن کے نیچے سے نکلتے ہیں، پھر اس کا مسجد تک جانا اور اس کا نماز پڑھنا اس کے لیے نفل ہوتا ہے ۔ قتیبہ کی روایت میں «عن الصنابحي أن رسول اللہ رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال» کے بجائے «عن الصنابحي أن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال» ہے۔
اخبرنا قتيبة، وعتبة بن عبد الله، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن عبد الله الصنابحي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا توضا العبد المومن فتمضمض خرجت الخطايا من فيه فاذا استنثر خرجت الخطايا من انفه فاذا غسل وجهه خرجت الخطايا من وجهه حتى تخرج من تحت اشفار عينيه فاذا غسل يديه خرجت الخطايا من يديه حتى تخرج من تحت اظفار يديه فاذا مسح براسه خرجت الخطايا من راسه حتى تخرج من اذنيه فاذا غسل رجليه خرجت الخطايا من رجليه حتى تخرج من تحت اظفار رجليه ثم كان مشيه الى المسجد وصلاته نافلة له " . قال قتيبة عن الصنابحي ان النبي صلى الله عليه وسلم قال
بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چمڑے کے موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔
اخبرنا الحسين بن منصور، قال حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، ح وانبانا الحسين بن منصور، قال حدثنا عبد الله بن نمير، قال حدثنا الاعمش، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، عن بلال، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يمسح على الخفين والخمار
بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔
واخبرنا الحسين بن عبد الرحمن الجرجرايي، عن طلق بن غنام، قال حدثنا زايدة، وحفص بن غياث، عن الاعمش، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن البراء بن عازب، عن بلال، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح على الخفين
بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پگڑی اور چمڑے کے دونوں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔
اخبرنا هناد بن السري، عن وكيع، عن شعبة، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن بلال، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح على الخمار والخفين
مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیشانی، پگڑی اور چمڑے کے موزوں پر مسح کیا۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثني يحيى بن سعيد، قال حدثنا سليمان التيمي، قال حدثنا بكر بن عبد الله المزني، عن الحسن، عن ابن المغيرة بن شعبة، عن المغيرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا فمسح ناصيته وعمامته وعلى الخفين . قال بكر وقد سمعته من ابن المغيرة بن شعبة عن ابيه
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کسی سفر میں ) لشکر سے پیچھے ہو گئے، تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہو گیا، تو جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو پوچھا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ تو میں لوٹے میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا، تو آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں دھوئیں اور اپنا چہرہ دھویا، پھر آپ اپنے دونوں بازؤوں کو کھولنے لگے تو جبہ کی آستین تنگ ہو گئی، تو آپ نے ( ہاتھ کو اندر سے نکالنے کے بعد ) اسے ( آستین کو ) اپنے دونوں کندھوں پر ڈال لیا، پھر اپنے دونوں بازو دھوئے، اور اپنی پیشانی، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔
اخبرنا عمرو بن علي، وحميد بن مسعدة، عن يزيد، - وهو ابن زريع - قال حدثنا حميد، قال حدثنا بكر بن عبد الله المزني، عن حمزة بن المغيرة بن شعبة، عن ابيه، قال تخلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فتخلفت معه فلما قضى حاجته قال " امعك ماء " . فاتيته بمطهرة فغسل يديه وغسل وجهه ثم ذهب يحسر عن ذراعيه فضاق كم الجبة فالقاه على منكبيه فغسل ذراعيه ومسح بناصيته وعلى العمامة وعلى خفيه
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دو باتیں ایسی ہیں کہ میں ان کے متعلق کسی سے نہیں پوچھتا، اس کے بعد کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے، ( پہلی چیز یہ ہے کہ ) ایک سفر میں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو آپ قضائے حاجت کے لیے جنگل کی طرف نکلے، پھر واپس آئے تو آپ نے وضو کیا، اور اپنی پیشانی اور پگڑی کے دونوں جانب کا مسح کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، ( دوسری چیز ) حاکم کا اپنی رعایا میں سے کسی آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک سفر میں تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکے رہ گئے، چنانچہ لوگوں نے نماز کھڑی کر دی اور ابن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھا دیا، انہوں نے نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور ابن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے جو نماز باقی رہ گئی تھی پڑھی، جب ابن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور جس قدر نماز فوت ہو گئی تھی اسے پوری کی۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا هشيم، قال اخبرنا يونس بن عبيد، عن ابن سيرين، قال اخبرني عمرو بن وهب الثقفي، قال سمعت المغيرة بن شعبة، قال خصلتان لا اسال عنهما احدا بعد ما شهدت من رسول الله صلى الله عليه وسلم - قال - كنا معه في سفر فبرز لحاجته ثم جاء فتوضا ومسح بناصيته وجانبى عمامته ومسح على خفيه قال وصلاة الامام خلف الرجل من رعيته فشهدت من رسول الله صلى الله عليه وسلم انه كان في سفر فحضرت الصلاة فاحتبس عليهم النبي صلى الله عليه وسلم فاقاموا الصلاة وقدموا ابن عوف فصلى بهم فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى خلف ابن عوف ما بقي من الصلاة فلما سلم ابن عوف قام النبي صلى الله عليه وسلم فقضى ما سبق به
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( وضو میں ) ایڑی دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے جہنم کی تباہی ہے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا يزيد بن زريع، عن شعبة، ح وانبانا مومل بن هشام، قال حدثنا اسماعيل، عن شعبة، عن محمد بن زياد، عن ابي هريرة، قال قال ابو القاسم صلى الله عليه وسلم " ويل للعقب من النار
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے دیکھا، تو دیکھا کہ ان کی ایڑیاں ( خشک ہونے کی وجہ سے ) چمک رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو میں ایڑیوں کے دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے جہنم کی تباہی ہے، وضو کامل طریقہ سے کرو ۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، ح وانبانا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، - واللفظ له - عن منصور، عن هلال بن يساف، عن ابي يحيى، عن عبد الله بن عمرو، قال راى رسول الله صلى الله عليه وسلم قوما يتوضيون فراى اعقابهم تلوح فقال " ويل للاعقاب من النار اسبغوا الوضوء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ذکر کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وضو کرنے میں، جوتا پہننے میں، اور کنگھی کرنے میں طاقت بھر داہنی جانب کو پسند کرتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: پھر میں نے اشعث سے مقام واسط میں سنا وہ کہہ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام امور کو داہنے سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے، پھر میں نے کوفہ میں انہیں کہتے ہوئے سنا کہ آپ حتیٰ المقدور داہنے سے شروع کرنے کو پسند کرتے تھے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني الاشعث، قال سمعت ابي يحدث، عن مسروق، عن عايشة، - رضى الله عنها - وذكرت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يحب التيامن ما استطاع في طهوره ونعله وترجله . قال شعبة ثم سمعت الاشعث بواسط يقول يحب التيامن فذكر شانه كله ثم سمعته بالكوفة يقول يحب التيامن ما استطاع
عمارہ کہتے ہیں: مجھ سے قیسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ کے پاس پانی لایا گیا تو آپ نے اسے برتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا ۱؎ اور انہیں ایک بار دھویا، پھر اپنے چہرے اور دونوں بازؤوں کو ایک ایک بار دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے دونوں پیروں کو دھویا۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني ابو جعفر المدني، قال سمعت ابن عثمان بن حنيف، - يعني عمارة - قال حدثني القيسي، انه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فاتي بماء فقال على يديه من الاناء فغسلهما مرة وغسل وجهه وذراعيه مرة مرة وغسل رجليه بيمينه كلتيهما
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم وضو کرو تو کامل وضو کرو، اور انگلیوں کے درمیان خلال کرو ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثني يحيى بن سليم، عن اسماعيل بن كثير، وكان، يكنى ابا هاشم ح وانبانا محمد بن رافع، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا سفيان، عن ابي هاشم، عن عاصم بن لقيط، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا توضات فاسبغ الوضوء وخلل بين الاصابع
ابوحیہ وادعی کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پہنچوں کو تین بار دھویا، تین بار کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، تین بار اپنا چہرہ اور تین تین بار اپنے دونوں بازو دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور تین تین بار اپنے دونوں پاؤں دھوئے، پھر کہا: یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔
اخبرنا محمد بن ادم، عن ابن ابي زايدة، قال حدثني ابي وغيره، عن ابي اسحاق، عن ابي حية الوادعي، قال رايت عليا توضا فغسل كفيه ثلاثا وتمضمض واستنشق ثلاثا وغسل وجهه ثلاثا وذراعيه ثلاثا ثلاثا ومسح براسه وغسل رجليه ثلاثا ثلاثا قال هذا وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم
حمران مولی عثمان سے روایت ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی مانگا، اور وضو کیا، تو انہوں نے اپنے دونوں ہتھیلی تین بار دھو لی، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا، پھر اسی طرح اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں ٹخنے تک تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے اسی وضو کی طرح وضو کیا، پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھے، اور اپنے دل میں دوسرے خیالات نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۱؎۔
اخبرنا احمد بن عمرو بن السرح، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، ان عطاء بن يزيد الليثي، اخبره ان حمران مولى عثمان اخبره ان عثمان دعا بوضوء فتوضا فغسل كفيه ثلاث مرات ثم مضمض واستنشق ثم غسل وجهه ثلاث مرات ثم غسل يده اليمنى الى المرفق ثلاث مرات ثم غسل يده اليسرى مثل ذلك ثم مسح براسه ثم غسل رجله اليمنى الى الكعبين ثلاث مرات ثم غسل رجله اليسرى مثل ذلك ثم قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا نحو وضويي هذا ثم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من توضا نحو وضويي هذا ثم قام فركع ركعتين لا يحدث فيهما نفسه غفر له ما تقدم من ذنبه
عبید بن جریج کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ چمڑے کی ان سبتی جوتوں کو پہنتے ہیں، اور اسی میں وضو کرتے ہیں؟ ۱؎ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں پہنتے اور ان میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، سبتی جوتوں سے مراد بالوں کے بغیر نری کے چمڑے کی جوتیاں ہیں۔
اخبرنا محمد بن العلاء، قال حدثنا ابن ادريس، عن عبيد الله، ومالك، وابن، جريج عن المقبري، عن عبيد بن جريج، قال قلت لابن عمر رايتك تلبس هذه النعال السبتية وتتوضا فيها . قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبسها ويتوضا فيها
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، تو ان سے کہا گیا: کیا آپ مسح کرتے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسح کرتے دیکھا ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حفص، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن همام، عن جرير بن عبد الله، انه توضا ومسح على خفيه فقيل له اتمسح فقال قد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح . وكان اصحاب عبد الله يعجبهم قول جرير وكان اسلام جرير قبل موت النبي صلى الله عليه وسلم بيسير
عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا۔
اخبرنا العباس بن عبد العظيم، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا حرب بن شداد، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن جعفر بن عمرو بن امية الضمري، عن ابيه، انه راى رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا ومسح على الخفين
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بلال رضی اللہ عنہ اسواف ۱؎ میں داخل ہوئے، تو آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر نکلے، اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، چنانچہ اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر نماز ادا کی۔
اخبرنا عبد الرحمن بن ابراهيم، دحيم وسليمان بن داود - واللفظ له - عن ابن نافع، عن داود بن قيس، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن اسامة بن زيد، قال دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم وبلال الاسواق فذهب لحاجته ثم خرج قال اسامة فسالت بلالا ما صنع فقال بلال ذهب النبي صلى الله عليه وسلم لحاجته ثم توضا فغسل وجهه ويديه ومسح براسه ومسح على الخفين ثم صلى