Loading...

Loading...
کتب
۳۲۴ احادیث
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے دونوں موزوں پر مسح کیا۔
اخبرنا سليمان بن داود، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن ابي النضر، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن عمر، عن سعد بن ابي وقاص، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه مسح على الخفين
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موزوں پر مسح کے متعلق روایت کی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا اسماعيل، - وهو ابن جعفر - عن موسى بن عقبة، عن ابي النضر، عن ابي سلمة، عن سعد بن ابي وقاص، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسح على الخفين انه لا باس به
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے، جب آپ لوٹے تو میں ایک لوٹے میں پانی لے کر آپ سے ملا، اور میں نے ( اسے ) آپ پر ڈالا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر آپ اپنے دونوں بازو دھونے چلے تو جبہ تنگ پڑ گیا، تو آپ نے انہیں جبے کے نیچے سے نکالا اور انہیں دھویا، پھر اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی، ( پھر ہمیں نماز پڑھائی کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا ) ۔
اخبرنا علي بن خشرم، قال حدثنا عيسى، عن الاعمش، عن مسلم، عن مسروق، عن المغيرة بن شعبة، قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم لحاجته فلما رجع تلقيته باداوة فصببت عليه فغسل يديه ثم غسل وجهه ثم ذهب ليغسل ذراعيه فضاقت به الجبة فاخرجهما من اسفل الجبة فغسلهما ومسح على خفيه ثم صلى بنا
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے، مغیرہ ایک برتن لے کر جس میں پانی تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے گئے، اور آپ پر پانی ڈالا، یہاں تک ۱؎ کہ آپ اپنی حاجت سے فارغ ہوئے، پھر وضو کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا ۲؎۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا الليث بن سعد، عن يحيى، عن سعد بن ابراهيم، عن نافع بن جبير، عن عروة بن المغيرة، عن ابيه المغيرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه خرج لحاجته فاتبعه المغيرة باداوة فيها ماء فصب عليه حتى فرغ من حاجته فتوضا ومسح على الخفين
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو آپ نے فرمایا: مغیرہ! تم پیچھے ہو جاؤ اور لوگو! تم چلو ، چنانچہ میں پیچھے ہو گیا، میرے پاس پانی کا ایک برتن تھا، لوگ آگے نکل گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب واپس آئے تو میں آپ پر پانی ڈالنے لگا، آپ تنگ آستین کا ایک رومی جبہ پہنے ہوئے تھے، آپ نے اس سے اپنا ہاتھ نکالنا چاہا مگر جبہ تنگ ہو گیا، تو آپ نے جبہ کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکال لیا، پھر اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاتابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت سفر ہم کو تین دن اور تین راتیں اپنے موزے نہ اتارنے کی اجازت دی تھی۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن عاصم، عن زر، عن صفوان بن عسال، قال رخص لنا النبي صلى الله عليه وسلم اذا كنا مسافرين ان لا ننزع خفافنا ثلاثة ايام ولياليهن
زر کہتے ہیں کہ میں نے صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: جب ہم مسافر ہوتے تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے کہ ہم اپنے موزوں پر مسح کریں، اور اسے تین دن تک پیشاب، پاخانہ اور نیند کی وجہ سے نہ اتاریں سوائے جنابت کے۔
اخبرنا احمد بن سليمان الرهاوي، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا سفيان الثوري، ومالك بن مغول، وزهير، وابو بكر بن عياش وسفيان بن عيينة عن عاصم، عن زر، قال سالت صفوان بن عسال عن المسح، على الخفين فقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرنا اذا كنا مسافرين ان نمسح على خفافنا ولا ننزعها ثلاثة ايام من غايط وبول ونوم الا من جنابة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات کی تحدید فرمائی ہے ۱؎یعنی ( موزوں پر ) مسح کے سلسلے میں۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال انبانا الثوري، عن عمرو بن قيس الملايي، عن الحكم بن عتيبة، عن القاسم بن مخيمرة، عن شريح بن هاني، عن علي، - رضى الله عنه - قال جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم للمسافر ثلاثة ايام ولياليهن ويوما وليلة للمقيم يعني في المسح
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھو، وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، چنانچہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق دریافت کیا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن ایک رات، اور مسافر تین دن اور تین راتیں مسح کرے ۱؎۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي معاوية، عن الاعمش، عن الحكم، عن القاسم بن مخيمرة، عن شريح بن هاني، قال سالت عايشة - رضى الله عنها - عن المسح على الخفين فقالت ايت عليا فانه اعلم بذلك مني . فاتيت عليا فسالته عن المسح فقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرنا ان يمسح المقيم يوما وليلة والمسافر ثلاثا
عبدالملک بن میسرہ کہتے ہیں کہ میں نے نزال بن سبرہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے یعنی ان کے مقدمات نپٹانے کے لیے بیٹھے، جب عصر کا وقت ہوا تو پانی کا ایک برتن لایا گیا، آپ نے اس سے ایک ہتھیلی میں پانی لیا، پھر اسے اپنے چہرہ، اپنے دونوں بازو، سر اور دونوں پیروں پر ملا ۱؎، پھر بچا ہوا پانی لیا اور کھڑے ہو کر پیا، اور کہنے لگے کہ کچھ لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور یہ ان لوگوں کا وضو ہے جن کا وضو نہیں ٹوٹا ہے۔
اخبرنا عمرو بن يزيد، قال حدثنا بهز بن اسد، قال حدثنا شعبة، عن عبد الملك بن ميسرة، قال سمعت النزال بن سبرة، قال رايت عليا - رضى الله عنه - صلى الظهر ثم قعد لحوايج الناس فلما حضرت العصر اتي بتور من ماء فاخذ منه كفا فمسح به وجهه وذراعيه وراسه ورجليه ثم اخذ فضله فشرب قايما وقال ان ناسا يكرهون هذا وقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعله وهذا وضوء من لم يحدث
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوٹا سا برتن لایا گیا، تو آپ نے ( اس سے ) وضو کیا، عمرو بن عامر کہتے ہیں: میں نے پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں ۱؎! اس پر ( عمرو بن عامر ) نے پوچھا: اور آپ لوگ؟ کہا: ہم لوگ جب تک وضو نہیں توڑتے نماز پڑھتے رہتے تھے، نیز کہا: ہم لوگ کئی نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن عمرو بن عامر، عن انس، انه ذكر ان النبي صلى الله عليه وسلم اتي باناء صغير فتوضا . قلت اكان النبي صلى الله عليه وسلم يتوضا لكل صلاة قال نعم . قال فانتم قال كنا نصلي الصلوات ما لم نحدث قال وقد كنا نصلي الصلوات بوضوء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کی جگہ سے نکلے تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، تو لوگوں نے پوچھا: کیا ہم لوگ وضو کا پانی نہ لائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: مجھے وضو کرنے کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں ۔
اخبرنا زياد بن ايوب، قال حدثنا ابن علية، قال حدثنا ايوب، عن ابن ابي مليكة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج من الخلاء فقرب اليه طعام فقالوا الا ناتيك بوضوء فقال " انما امرت بالوضوء اذا قمت الى الصلاة
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، تو جب فتح مکہ کا دن آیا تو آپ نے کئی نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: آپ نے ایسا کام کیا ہے جو آپ نہیں کرتے تھے ۱؎؟ فرمایا: عمر! میں نے اسے عمداً ( جان بوجھ کر ) کیا ہے ۲؎۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثنا علقمة بن مرثد، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا لكل صلاة فلما كان يوم الفتح صلى الصلوات بوضوء واحد فقال له عمر فعلت شييا لم تكن تفعله . قال " عمدا فعلته يا عمر
سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو ایک چلو پانی لیتے اور اس طرح کرتے، اور شعبہ نے کیفیت بتائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی شرمگاہ پر چھڑکتے، ( خالد بن حارث کہتے ہیں ) میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا تو انہیں یہ بات پسند آئی۔ ابن السنی کہتے ہیں کہ حکم سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد بن الحارث، عن شعبة، عن منصور، عن مجاهد، عن الحكم، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا توضا اخذ حفنة من ماء فقال بها هكذا - ووصف شعبة - نضح به فرجه فذكرته لابراهيم فاعجبه قال الشيخ ابن السني قال ابو عبد الرحمن الحكم هو ابن سفيان الثقفي رضى الله عنه
حکم بن سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پر پانی کا چھینٹا مارا۔ احمد کی روایت میں «و نضح فرجه» کی جگہ «فنضح فرجه» ہے۔
اخبرنا العباس بن محمد الدوري، قال حدثنا الاحوص بن جواب، حدثنا عمار بن رزيق، ��ن منصور، ح وانبانا احمد بن حرب، قال حدثنا قاسم، - وهو ابن يزيد الجرمي - قال حدثنا سفيان، قال حدثنا منصور، عن مجاهد، عن الحكم بن سفيان، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا ونضح فرجه . قال احمد فنضح فرجه
ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا ( تو اپنے اعضاء ) تین تین بار ( دھوئے ) پھر وہ کھڑے ہوئے، اور وضو کا بچا ہوا پانی پیا، اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بھی ) اسی طرح کیا ہے جیسے میں نے کیا۔
اخبرنا ابو داود، سليمان بن سيف قال حدثنا ابو عتاب، قال حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن ابي حية، قال رايت عليا - رضى الله عنه - توضا ثلاثا ثلاثا ثم قام فشرب فضل وضويه وقال صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم كما صنعت
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بطحاء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کے وضو کا پانی ( جو برتن میں بچا تھا ) نکالا، تو لوگ اسے لینے کے لیے جھپٹے، میں نے بھی اس میں سے کچھ لیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لکڑی نصب کی، تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ کے سامنے سے گدھے، کتے اور عورتیں گزر رہی تھیں۔
اخبرنا محمد بن منصور، عن سفيان، قال حدثنا مالك بن مغول، عن عون بن ابي جحيفة، عن ابيه، قال شهدت النبي صلى الله عليه وسلم بالبطحاء واخرج بلال فضل وضويه فابتدره الناس فنلت منه شييا وركزت له العنزة فصلى بالناس والحمر والكلاب والمراة يمرون بين يديه
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ میری عیادت کے لیے آئے، دونوں نے مجھے بیہوش پایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر آپ نے اپنے وضو کا پانی میرے اوپر ڈالا ۱؎۔
اخبرنا محمد بن منصور، عن سفيان، قال سمعت ابن المنكدر، يقول سمعت جابرا، يقول مرضت فاتاني رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر يعوداني فوجداني قد اغمي على فتوضا رسول الله صلى الله عليه وسلم فصب على وضوءه
ابوالملیح کے والد (اسامہ بن عمیر) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بغیر وضو کے کوئی نماز قبول نہیں کرتا، اور نہ خیانت کے مال کا صدقہ قبول کرتا ہے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن ابي المليح، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يقبل الله صلاة بغير طهور ولا صدقة من غلول
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے بارے میں پوچھ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین تین بار اعضاء وضو دھو کر کے دکھائے، پھر فرمایا: اسی طرح وضو کرنا ہے، جس نے اس پر زیادتی کی اس نے برا کیا، وہ حد سے آگے بڑھا اور اس نے ظلم کیا ۱؎۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا يعلى، قال حدثنا سفيان، عن موسى بن ابي عايشة، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال جاء اعرابي الى النبي صلى الله عليه وسلم يساله عن الوضوء فاراه الوضوء ثلاثا ثلاثا ثم قال " هكذا الوضوء فمن زاد على هذا فقد اساء وتعدى وظلم