Loading...

Loading...
کتب
۳۲۴ احادیث
عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ ہم لوگ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھے تھے، تو انہوں نے کہا: قسم ہے اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے لوگوں کی بہ نسبت ہمیں ( یعنی بنی ہاشم کو ) کسی چیز کے ساتھ خاص نہیں کیا سوائے تین چیزوں کے ۱؎ ( پہلی یہ کہ ) آپ نے حکم دیا کہ ہم کامل وضو کریں، ( دوسری یہ کہ ) ہم صدقہ نہ کھائیں، اور ( تیسری یہ کہ ) ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر نہ چڑھائیں۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال حدثنا حماد، قال حدثنا ابو جهضم، قال حدثني عبد الله بن عبيد الله بن عباس، قال كنا جلوسا الى عبد الله بن عباس فقال والله ما خصنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بشىء دون الناس الا بثلاثة اشياء فانه امرنا ان نسبغ الوضوء ولا ناكل الصدقة ولا ننزي الحمر على الخيل
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامل وضو کرو ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن ابي يحيى، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اسبغوا الوضوء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم لوگوں کو ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹاتا اور درجات بلند کرتا ہے، وہ ہے: ناگواری کے باوجود کامل وضو کرنا، زیادہ قدم چل کر مسجد جانا، اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا، یہی «رباط» ہے یہی «رباط» ہے یہی «رباط» ہے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الا اخبركم بما يمحو الله به الخطايا ويرفع به الدرجات اسباغ الوضوء على المكاره وكثرة الخطا الى المساجد وانتظار الصلاة بعد الصلاة فذلكم الرباط فذلكم الرباط فذلكم الرباط
عاصم بن سفیان ثقفی سے روایت ہے کہ وہ لوگ غزوہ سلاسل کے لیے نکلے، لیکن یہ غزوہ ان سے فوت ہو گیا، تو وہ سرحد ہی پہ جمے رہے، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ آئے، ان کے پاس ابوایوب اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم موجود تھے، تو عاصم کہنے لگے: ابوایوب! اس سال ہم لوگ غزوہ میں شریک نہیں ہو سکے ہیں، اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ جو چار مسجدوں ۲؎ میں نماز پڑھ لے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے؟، تو انہوں نے کہا: بھتیجے! میں تمہیں اس سے آسان چیز بتاتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: جو وضو کرے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے اور نماز پڑھے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے، تو اس کے وہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے جنہیں اس نے اس سے پہلے کیا ہو ، عقبہ! ایسے ہی ہے نا؟ انہوں نے کہا: ہاں ( ایسے ہی ہے ) ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن سفيان بن عبد الرحمن، عن عاصم بن سفيان الثقفي، انهم غزوا غزوة السلاسل ففاتهم الغزو فرابطوا ثم رجعوا الى معاوية وعنده ابو ايوب وعقبة بن عامر فقال عاصم يا ابا ايوب فاتنا الغزو العام وقد اخبرنا انه من صلى في المساجد الاربعة غفر له ذنبه . فقال يا ابن اخي ادلك على ايسر من ذلك اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من توضا كما امر وصلى كما امر غفر له ما قدم من عمل " . اكذلك يا عقبة قال نعم
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جس نے اللہ عزوجل کے حکم کے موافق وضو کو پورا کیا، پانچوں وقت کی نمازیں اس کے ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوں گی جو ان کے درمیان سرزد ہوئے ہوں گے ۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، عن شعبة، عن جامع بن شداد، قال سمعت حمران بن ابان، اخبر ابا بردة، في المسجد انه سمع عثمان، يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من اتم الوضوء كما امره الله عز وجل فالصلوات الخمس كفارات لما بينهن
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز پڑھے، تو اس کے اس نماز سے لے کر دوسری نماز پڑھنے تک کے دوران ہونے والے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن حمران، مولى عثمان ان عثمان، - رضى الله عنه - قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من امري يتوضا فيحسن وضوءه ثم يصلي الصلاة الا غفر له ما بينه وبين الصلاة الاخرى حتى يصليها
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وضو کا ثواب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کا ثواب یہ ہے کہ: جب تم وضو کرتے ہو، اور اپنی دونوں ہتھیلی دھو کر انہیں صاف کرتے ہو تو تمہارے ناخن اور انگلیوں کے پوروں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب تم کلی کرتے ہو، اور اپنے نتھنوں میں پانی ڈالتے ہو، اور اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوتے ہو، اور سر کا مسح کرتے ہو، اور ٹخنے تک پاؤں دھوتے ہو تو تمہارے اکثر گناہ دھل جاتے ہیں، پھر اگر تم اپنا چہرہ اللہ عزوجل کے لیے ( زمین ) پر رکھتے ہو تو اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جاتے ہو جیسے اس دن تھے جس دن تمہاری ماں نے تمہیں جنا تھا ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا ادم بن ابي اياس، قال حدثنا الليث، - هو ابن سعد - قال حدثنا معاوية بن صالح، قال اخبرني ابو يحيى، سليم بن عامر وضمرة بن حبيب وابو طلحة نعيم بن زياد قالوا سمعنا ابا امامة الباهلي، يقول سمعت عمرو بن عبسة، يقول قلت يا رسول الله كيف الوضوء قال " اما الوضوء فانك اذا توضات فغسلت كفيك فانقيتهما خرجت خطاياك من بين اظفارك واناملك فاذا مضمضت واستنشقت منخريك وغسلت وجهك ويديك الى المرفقين ومسحت راسك وغسلت رجليك الى الكعبين اغتسلت من عامة خطاياك فان انت وضعت وجهك لله عز وجل خرجت من خطاياك كيوم ولدتك امك " . قال ابو امامة فقلت يا عمرو بن عبسة انظر ما تقول اكل هذا يعطى في مجلس واحد فقال اما والله لقد كبرت سني ودنا اجلي وما بي من فقر فاكذب على رسول الله صلى الله عليه وسلم ولقد سمعته اذناى ووعاه قلبي من رسول الله صلى الله عليه وسلم
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کیا، اور اچھی طرح وضو کیا، پھر «أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں کہا تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے جس سے چاہے وہ جنت میں داخل ہو ۔
اخبرنا محمد بن علي بن حرب المروزي، قال حدثنا زيد بن الحباب، قال حدثنا معاوية بن صالح، عن ربيعة بن يزيد، عن ابي ادريس الخولاني، وابي، عثمان عن عقبة بن عامر الجهني، عن عمر بن الخطاب، - رضى الله عنه - قال قال رسول الله " من توضا فاحسن الوضوء ثم قال اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله فتحت له ثمانية ابواب الجنة يدخل من ايها شاء
ابوحازم کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھا، اور وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے، وہ اپنے دونوں ہاتھ دھو رہے تھے یہاں تک کہ وہ اپنے دونوں بغلوں تک پہنچ جاتے تھے، تو میں نے کہا: ابوہریرہ! یہ کون سا وضو ہے؟ انہوں نے مجھ سے کہا: اے بنی فروخ! تم لوگ یہاں ہو! ۱؎ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم لوگ یہاں ہو تو میں یہ وضو نہیں کرتا ۲؎، میں نے اپنے خلیل ( گہرے دوست ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ جنت میں مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو پہنچے گا ۳؎۔
اخبرنا قتيبة، عن خلف، - وهو ابن خليفة - عن ابي مالك الاشجعي، عن ابي حازم، قال كنت خلف ابي هريرة وهو يتوضا للصلاة وكان يغسل يديه حتى يبلغ ابطيه فقلت يا ابا هريرة ما هذا الوضوء فقال لي يا بني فروخ انتم ها هنا لو علمت انكم ها هنا ما توضات هذا الوضوء سمعت خليلي صلى الله عليه وسلم يقول " تبلغ حلية المومن حيث يبلغ الوضوء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون» مومن قوم کی بستی والو! تم پر سلامتی ہو، اللہ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے والے ہیں میری خواہش ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم لوگ آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے صحابہ ( ساتھی ) ہو، میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی ( دنیا میں ) نہیں آئے، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو جو بعد میں آئیں گے کیسے پہچانیں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر کسی آدمی کا سفید چہرے اور پاؤں والا گھوڑا سیاہ گھوڑوں کے درمیان ہو تو کیا وہ اپنا گھوڑا نہیں پہچان لے گا؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ قیامت کے دن ( میدان حشر میں ) اس حال میں آئیں گے کہ وضو کی وجہ سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج الى المقبرة فقال " السلام عليكم دار قوم مومنين وانا ان شاء الله بكم لاحقون وددت اني قد رايت اخواننا " . قالوا يا رسول الله السنا اخوانك قال " بل انتم اصحابي واخواني الذين لم ياتوا بعد وانا فرطهم على الحوض " . قالوا يا رسول الله كيف تعرف من ياتي بعدك من امتك قال " ارايت لو كان لرجل خيل غر محجلة في خيل بهم دهم الا يعرف خيله " . قالوا بلى . قال " فانهم ياتون يوم القيامة غرا محجلين من الوضوء وانا فرطهم على الحوض
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اچھی طرح وضو کرے، پھر دل اور چہرہ سے متوجہ ہو کر دو رکعت نماز ادا کرے، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی ۱؎۔
اخبرنا موسى بن عبد الرحمن المسروقي، قال حدثنا زيد بن الحباب، قال حدثنا معاوية بن صالح، قال حدثنا ربيعة بن يزيد الدمشقي، عن ابي ادريس الخولاني، وابي، عثمان عن جبير بن نفير الحضرمي، عن عقبة بن عامر الجهني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من توضا فاحسن الوضوء ثم صلى ركعتين يقبل عليهما بقلبه ووجهه وجبت له الجنة
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی ۱؎ آتی تھی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ) میرے عقد نکاح میں تھیں، جس کی وجہ سے میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں شرم محسوس کی، تو میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے ایک آدمی سے کہا: تم پوچھو، تو اس نے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے ۱؎۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي بكر بن عياش، عن ابي حصين، عن ابي عبد الرحمن، قال قال علي كنت رجلا مذاء وكانت ابنة النبي صلى الله عليه وسلم تحتي فاستحييت ان اساله فقلت لرجل جالس الى جنبي سله . فساله فقال " فيه الوضوء
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مقداد سے کہا: جب آدمی اپنی بیوی کے پاس جائے، اور مذی نکل آئے، اور جماع نہ کرے تو ( اس پر کیا ہے؟ ) تم اس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھنے سے شرما رہا ہوں، کیونکہ آپ کی صاحبزادی میرے عقد نکاح میں ہیں، چنانچہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی شرمگاہ دھو لیں، اور نماز کی طرح وضو کر لیں ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال اخبرنا جرير، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن علي، - رضى الله عنه - قال قلت للمقداد اذا بنى الرجل باهله فامذى ولم يجامع فسل النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك فاني استحي ان اساله عن ذلك وابنته تحتي . فساله فقال " يغسل مذاكيره ويتوضا وضوءه للصلاة
عائش بن انس سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو میں نے آپ کی صاحبزادی جو میرے عقد نکاح میں تھیں کی وجہ سے عمار بن یاسر کو حکم دیا کہ وہ ( اس بارے میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں، ( چنانچہ انہوں نے پوچھا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو کافی ہے ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا سفيان، عن عمرو، عن عطاء، عن عايش بن انس، ان عليا، قال كنت رجلا مذاء فامرت عمار بن ياسر يسال رسول الله صلى الله عليه وسلم من اجل ابنته عندي فقال " يكفي من ذلك الوضوء
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے بارے میں سوال کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی شرمگاہ دھو لیں، اور وضو کر لیں ۔
اخبرنا عثمان بن عبد الله، قال انبانا امية، قال حدثنا يزيد بن زريع، ان روح بن القاسم، حدثه عن ابن ابي نجيح، عن عطاء، عن اياس بن خليفة، عن رافع بن خديج، ان عليا، امر عمارا ان يسال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المذى فقال " يغسل مذاكيره ويتوضا
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کریں جو اپنی بیوی سے قریب ہو اور اس سے مذی نکل آئے، تو اس پر کیا واجب ہے؟ ( وضو یا غسل ) کیونکہ میرے عقد نکاح میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ) ہیں، اس لیے میں ( خود ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے شرما رہا ہوں، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایسا پائے تو اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرے ۔
اخبرنا عتبة بن عبد الله المروزي، عن مالك، - وهو ابن انس - عن ابي النضر، عن سليمان بن يسار، عن المقداد بن الاسود، ان عليا، امره ان يسال، رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الرجل اذا دنا من اهله فخرج منه المذى ماذا عليه فان عندي ابنته وانا استحي ان اساله فسالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فقال " اذا وجد احدكم ذلك فلينضح فرجه ويتوضا وضوءه للصلاة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے مذی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود پوچھنے میں شرم محسوس کی، تو مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو واجب ہوتا ہے ۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، عن شعبة، قال اخبرني سليمان، قال سمعت منذرا، عن محمد بن علي، عن علي، قال استحييت ان اسال النبي، صلى الله عليه وسلم عن المذى من اجل فاطمة فامرت المقداد بن الاسود فساله فقال " فيه الوضوء
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں کہ میں ایک آدمی کے پاس آیا جسے صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، میں ان کے دروازہ پر بیٹھ گیا، تو وہ نکلے، تو انہوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ میں نے کہا: علم حاصل کرنے آیا ہوں، انہوں نے کہا: طالب علم کے لیے فرشتے اس چیز سے خوش ہو کر جسے وہ حاصل کر رہا ہو اپنے بازو بچھا دیتے ہیں، پھر پوچھا: کس چیز کے متعلق پوچھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: دونوں موزوں کے متعلق کہا: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے کہ ہم انہیں تین دن تک نہ اتاریں، الاّ یہ کہ جنابت لاحق ہو جائے، لیکن پاخانہ، پیشاب اور نیند ( تو ان کی وجہ سے نہ اتاریں ) ۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، حدثنا شعبة، عن عاصم، انه سمع زر بن حبيش، يحدث قال اتيت رجلا يدعى صفوان بن عسال فقعدت على بابه فخرج فقال ما شانك قلت اطلب العلم . قال ان الملايكة تضع اجنحتها لطالب العلم رضا بما يطلب . فقال عن اى شىء تسال قلت عن الخفين . قال كنا اذا كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر امرنا ان لا ننزعه ثلاثا الا من جنابة ولكن من غايط وبول ونوم
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو آپ حکم دیتے کہ ہم ( موزوں کو ) تین دن تک نہ اتاریں، إلاّ یہ کہ جنابت لاحق ہو جائے، ۱؎ لیکن پاخانہ، پیشاب اور نیند ( تو ان کی وجہ سے نہ اتاریں ) ۔
اخبرنا عمرو بن علي، واسماعيل بن مسعود، قالا حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا شعبة، عن عاصم، عن زر، قال قال صفوان بن عسال كنا اذا كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر امرنا ان لا ننزعه ثلاثا الا من جنابة ولكن من غايط وبول ونوم
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی گئی کہ آدمی ( بسا اوقات ) نماز میں محسوس کرتا ہے کہ ہوا خارج ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک بو نہ پا لے، یا آواز نہ سن لے نماز نہ چھوڑے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن سفيان، عن الزهري، ح واخبرني محمد بن منصور، عن سفيان، قال حدثنا الزهري، قال اخبرني سعيد، - يعني ابن المسيب - وعباد بن تميم عن عمه، - وهو عبد الله بن زيد - قال شكي الى النبي صلى الله عليه وسلم الرجل يجد الشىء في الصلاة قال " لا ينصرف حتى يجد ريحا او يسمع صوتا