Loading...

Loading...
کتب
۳۲۴ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک کہ اس پر تین مرتبہ پانی نہ ڈال لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات میں اس کا ہاتھ کہاں کہاں رہا ہے ۱؎۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، وحميد بن مسعدة، قالا حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا استيقظ احدكم من منامه فلا يدخل يده في الاناء حتى يفرغ عليها ثلاث مرات فانه لا يدري اين باتت يده
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کو اونگھ آئے اور وہ نماز میں ہو تو وہ جلدی سے نماز ختم کر لے، ایسا نہ ہو کہ وہ ( اونگھ میں ) اپنے حق میں بدعا کر رہا ہو اور جان ہی نہ سکے ۱؎۔
اخبرنا بشر بن هلال، قال حدثنا عبد الوارث، عن ايوب، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا نعس الرجل وهو في الصلاة فلينصرف لعله يدعو على نفسه وهو لا يدري
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا، پھر ہم نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو لازم آتا ہے، تو مروان نے کہا: ذکر ( عضو تناسل ) کے چھونے سے وضو ہے، اس پر عروہ نے کہا: مجھے معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا کہ جب کوئی اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے تو وضو کرے ۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، حدثنا معن، انبانا مالك، ح والحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال انبانا مالك، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، انه سمع عروة بن الزبير، يقول دخلت على مروان بن الحكم فذكرنا ما يكون منه الوضوء فقال مروان من مس الذكر الوضوء . فقال عروة ما علمت ذلك . فقال مروان اخبرتني بسرة بنت صفوان انها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا مس احدكم ذكره فليتوضا
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مروان نے اپنی مدینہ کی امارت کے دوران ذکر کیا کہ عضو تناسل کے چھونے سے وضو کیا جائے گا، جب اس تک آدمی اپنا ہاتھ لے جائے، تو میں نے اس کا انکار کیا اور کہا: جو عضو تناسل چھوئے اس پر وضو نہیں ہے، تو مروان نے کہا: مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے ان چیزوں کا ذکر کیا جن سے وضو کیا جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور عضو تناسل چھونے سے ( بھی ) وضو کیا جائے گا ، عروہ کہتے ہیں: میں مروان سے برابر جھگڑتا رہا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے ایک دربان کو بلایا اور اسے بسرہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، چنانچہ اس نے مروان سے بیان کی ہوئی حدیث کے بارے میں بسرہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا، تو بسرہ نے اسی طرح کی بات کہلا بھیجی جو مروان نے ان کے واسطے سے مجھ سے بیان کی تھی۔
اخبرنا احمد بن محمد بن المغيرة، قال حدثنا عثمان بن سعيد، عن شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عبد الله بن ابي بكر بن عمرو بن حزم، انه سمع عروة بن الزبير، يقول ذكر مروان في امارته على المدينة انه يتوضا من مس الذكر اذا افضى اليه الرجل بيده فانكرت ذلك وقلت لا وضوء على من مسه . فقال مروان اخبرتني بسرة بنت صفوان انها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر ما يتوضا منه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ويتوضا من مس الذكر " . قال عروة فلم ازل اماري مروان حتى دعا رجلا من حرسه فارسله الى بسرة فسالها عما حدثت مروان فارسلت اليه بسرة بمثل الذي حدثني عنها مروان
طلق بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک وفد کی شکل میں نکلے یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور ہم نے آپ سے بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز ادا کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ایک شخص جو دیہاتی لگ رہا تھا آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس آدمی کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو نماز میں اپنا عضو تناسل چھو لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا یا حصہ ہی تو ہے ۱؎۔
اخبرنا هناد، عن ملازم، قال حدثنا عبد الله بن بدر، عن قيس بن طلق بن علي، عن ابيه، قال خرجنا وفدا حتى قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فبايعناه وصلينا معه فلما قضى الصلاة جاء رجل كانه بدوي فقال يا رسول الله ما ترى في رجل مس ذكره في الصلاة قال " وهل هو الا مضغة منك او بضعة منك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے جنازے کی طرح چوڑان میں لیٹی رہتی تھی، یہاں تک کہ جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو مجھے اپنے پاؤں سے کچوکے لگاتے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن شعيب، عن الليث، قال انبانا ابن الهاد، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن القاسم، عن عايشة، قالت ان كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليصلي واني لمعترضة بين يديه اعتراض الجنازة حتى اذا اراد ان يوتر مسني برجله
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تم لوگوں نے دیکھا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوتی اور آپ نماز پڑھتے ہوتے، جب آپ سجدہ کا ارادہ کرتے تو میرے پاؤں کو کچوکے لگاتے، تو میں اسے سمیٹ لیتی، پھر آپ سجدہ کرتے۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال سمعت القاسم بن محمد، يحدث عن عايشة، قالت لقد رايتموني معترضة بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي فاذا اراد ان يسجد غمز رجلي فضممتها الى ثم يسجد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوتی تھی اور میرے دونوں پاؤں آپ کے قبلہ کی طرف ہوتے، جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے کچوکے لگاتے تو میں اپنے دونوں پاؤں سمیٹ لیتی، پھر جب آپ کھڑے ہو جاتے تو میں انہیں پھیلا لیتی، ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابي النضر، عن ابي سلمة، عن عايشة، قالت كنت انام بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجلاى في قبلته فاذا سجد غمزني فقبضت رجلى فاذا قام بسطتهما والبيوت يوميذ ليس فيها مصابيح
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا، تو اپنے ہاتھ سے آپ کو ٹٹولنے لگی، تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں پر پڑا، آپ کے دونوں قدم کھڑے تھے اور آپ سجدے میں تھے، کہہ رہے تھے: «أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» اے اللہ! پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، اور تیری عافیت کی تیرے عذاب سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں تجھ سے، میں تیری شمار کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف کی ہے ۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك، ونصير بن الفرج، - واللفظ له - قالا حدثنا ابو اسامة، عن عبيد الله بن عمر، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت فقدت النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فجعلت اطلبه بيدي فوقعت يدي على قدميه وهما منصوبتان وهو ساجد يقول " اعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك واعوذ بك منك لا احصي ثناء عليك انت كما اثنيت على نفسك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بعض ازواج مطہرات کا بوسہ لیتے تھے، پھر نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس باب میں اس سے اچھی کوئی حدیث نہیں ہے اگرچہ یہ مرسل ہے، اور اس حدیث کو اعمش نے حبیب بن ابی ثابت سے، انہوں نے عروہ سے، اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، یحییٰ القطان کہتے ہیں: حبیب کی یہ روایت جسے انہوں نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے اور حبیب کی «تصلى وإن قطر الدم على الحصير» مستحاضہ نماز پڑھے گرچہ چٹائی پر خون ٹپکے والی روایت جسے انہوں نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے دونوں کچھ نہیں ہیں ۲؎، ( یعنی دونوں ضعیف اور ناقابل اعتماد ہیں ) ۔
اخبرنا محمد بن المثنى، عن يحيى بن سعيد، عن سفيان، قال اخبرني ابو روق، عن ابراهيم التيمي، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقبل بعض ازواجه ثم يصلي ولا يتوضا . قال ابو عبد الرحمن ليس في هذا الباب حديث احسن من هذا الحديث وان كان مرسلا وقد روى هذا الحديث الاعمش عن حبيب بن ابي ثابت عن عروة عن عايشة . قال يحيى القطان حديث حبيب عن عروة عن عايشة هذا وحديث حبيب عن عروة عن عايشة تصلي وان قطر الدم على الحصير لا شىء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا اسماعيل، وعبد الرزاق، قالا حدثنا معمر، عن الزهري، عن عمر بن عبد العزيز، عن ابراهيم بن عبد الله بن قارظ، عن ابي هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " توضيوا مما مست النار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو ۔
اخبرنا هشام بن عبد الملك، قال حدثنا محمد، - يعني ابن حرب - قال حدثني الزبيدي، عن الزهري، ان عمر بن عبد العزيز، اخبره ان عبد الله بن قارظ اخبره ان ابا هريرة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " توضيوا مما مست النار
عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کی چھت پر وضو کرتے دیکھا، تو انہوں نے کہا: میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھائے ہیں، اسی وجہ سے میں نے وضو کیا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کا حکم دیتے سنا ہے۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال حدثنا اسحاق بن بكر، - وهو ابن مضر - قال حدثني ابي، عن جعفر بن ربيعة، عن بكر بن سوادة، عن محمد بن مسلم، عن عمر بن عبد العزيز، عن عبد الله بن ابراهيم بن قارظ، قال رايت ابا هريرة يتوضا على ظهر المسجد فقال اكلت اثوار اقط فتوضات منها اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يامر بالوضوء مما مست النار
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کیا میں اس کھانے سے وضو کروں جسے میں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں حلال پاتا ہوں، محض اس لیے کہ وہ آگ سے پکا ہوا ہے؟ تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کچھ کنکریاں جمع کیں اور کہا: ان کنکریوں کی تعداد کے برابر گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ سے پکی چیزوں سے وضو کرو ۔
اخبرنا ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، قال حدثنا ابي، عن حسين المعلم، قال حدثني يحيى بن ابي كثير، عن عبد الرحمن بن عمرو الاوزاعي، انه سمع المطلب بن عبد الله بن حنطب، يقول قال ابن عباس اتوضا من طعام اجده في كتاب الله حلالا لان النار مسته فجمع ابو هريرة حصى فقال اشهد عدد هذا الحصى ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " توضيوا مما مست النار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو ۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن عمرو بن دينار، عن يحيى بن جعدة، عن عبد الله بن عمرو، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " توضيوا مما مست النار
ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ سے پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو ۔
اخبرنا عمرو بن علي، ومحمد بن بشار، قالا انبانا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن عمرو بن دينار، عن يحيى بن جعدة، عن عبد الله بن عمرو، - قال محمد القاري - عن ابي ايوب، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " توضيوا مما غيرت النار
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو ۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، وهارون بن عبد الله، قالا حدثنا حرمي، - وهو ابن عمارة بن ابي حفصة - قال حدثنا شعبة، عن عمرو بن دينار، قال سمعت يحيى بن جعدة، يحدث عن عبد الله بن عمرو القاري، عن ابي طلحة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " توضيوا مما غيرت النار
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو ۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا حرمي بن عمارة، قال حدثنا شعبة، عن ابي بكر بن حفص، عن ابن شهاب، عن ابن ابي طلحة، عن ابي طلحة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " توضيوا مما انضجت النار
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو ۔
اخبرنا هشام بن عبد الملك، قال حدثنا محمد، قال حدثنا الزبيدي، قال اخبرني الزهري، ان عبد الملك بن ابي بكر، اخبره ان خارجة بن زيد بن ثابت اخبره ان زيد بن ثابت قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " توضيوا مما مست النار
ابوسفیان بن سعید بن اخنس بن شریق نے خبر دی ہے کہ وہ اپنی خالہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، تو انہوں نے مجھے ستو پلایا، پھر کہا: بھانجے! وضو کر لو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو ۔
اخبرنا هشام بن عبد الملك، قال حدثنا ابن حرب، قال حدثنا الزبيدي، عن الزهري، ان ابا سلمة بن عبد الرحمن، اخبره عن ابي سفيان بن سعيد بن الاخنس بن شريق، انه اخبره انه، دخل على ام حبيبة زوج النبي صلى الله عليه وسلم وهي خالته فسقته سويقا ثم قالت له توضا يا ابن اختي فان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " توضيوا مما مست النار