Loading...

Loading...
کتب
۳۲۴ احادیث
ابوسفیان بن سعید بن اخنس سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا ( جب انہوں نے ستو پیا ) بھانجے! وضو کر لو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: آگ کی پکی چیز ( کھانے ) سے وضو کرو ۔
اخبرنا الربيع بن سليمان بن داود، قال حدثنا اسحاق بن بكر بن مضر، قال حدثني بكر بن مضر، عن جعفر بن ربيعة، عن بكر بن سوادة، عن محمد بن مسلم بن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي سفيان بن سعيد بن الاخنس، ان ام حبيبة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت له وشرب سويقا يا ابن اختي توضا فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " توضيوا مما مست النار
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بکری کی ) دست کھائی، پھر آپ کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آئے، تو آپ نماز کے لیے نکلے اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن علي بن الحسين، عن زينب بنت ام سلمة، عن ام سلمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اكل كتفا فجاءه بلال فخرج الى الصلاة ولم يمس ماء
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احتلام سے نہیں ( بلکہ جماع سے ) صبح کرتے، پھر روزہ رکھتے، ( محمد بن یوسف کہتے ہیں: ) اور ہم سے سلیمان بن یسار نے اس حدیث کے ساتھ ( یہ بھی ) بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنا ہوا پہلو ( گوشت کا ٹکڑا ) پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا ابن جريج، عن محمد بن يوسف، عن سليمان بن يسار، قال دخلت على ام سلمة فحدثتني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصبح جنبا من غير احتلام ثم يصوم . وحدثنا مع هذا الحديث انها حدثته انها قربت الى النبي صلى الله عليه وسلم جنبا مشويا فاكل منه ثم قام الى الصلاة ولم يتوضا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ نے روٹی اور گوشت تناول فرمایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا ابن جريج، قال حدثني محمد بن يوسف، عن ابن يسار، عن ابن عباس، قال شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم اكل خبزا ولحما ثم قام الى الصلاة ولم يتوضا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں باتوں ( آگ کی پکی ہوئی چیز کھا کر وضو کرنے اور وضو نہ کرنے ) میں آخری بات آگ پر پکی ہوئی چیز کھا کر وضو نہ کرنا ہے۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا علي بن عياش، قال حدثنا شعيب، عن محمد بن المنكدر، قال سمعت جابر بن عبد الله، قال كان اخر الامرين من رسول الله صلى الله عليه وسلم ترك الوضوء مما مست النار
سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب لوگ مقام صہبا ( جو خیبر سے قریب ہے ) میں پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر ادا کی، پھر توشوں کو طلب کیا، تو صرف ستو لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، تو اسے گھولا گیا، آپ نے کھایا اور ہم نے بھی کھایا، پھر آپ مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے کلی کی اور ہم نے ( بھی ) کلی کی، پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن يحيى بن سعيد، عن بشير بن يسار، مولى بني حارثة ان سويد بن النعمان، اخبره انه، خرج مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام خيبر حتى اذا كانوا بالصهباء وهي من ادنى خيبر صلى العصر ثم دعا بالازواد فلم يوت الا بالسويق فامر به فثري فاكل واكلنا ثم قام الى المغرب فتمضمض وتمضمضنا ثم صلى ولم يتوضا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، پھر پانی مانگا اور کلی کی، پھر فرمایا: اس میں چکنائی ہوتی ہے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم شرب لبنا ثم دعا بماء فتمضمض ثم قال " ان له دسما
قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اسلام لائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کرنے کا حکم دیا ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا سفيان، عن الاغر، - وهو ابن الصباح - عن خليفة بن حصين، عن قيس بن عاصم، انه اسلم فامره النبي صلى الله عليه وسلم ان يغتسل بماء وسدر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ثمامہ بن اثال حنفی ۱؎ مسجد نبوی کے قریب پانی کے پاس آئے، اور غسل کیا، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے کوئی اس کا شریک نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، اے محمد! اللہ کی قسم میرے نزدیک روئے زمین پر کوئی چہرہ آپ کے چہرہ سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا، اور اب آپ کا چہرہ میرے لیے تمام چہروں سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہو گیا ہے، اور آپ کے گھوڑ سواروں نے مجھے گرفتار کر لیا ہے، اور حال یہ ہے کہ میں عمرہ کرنا چاہتا ہوں تو اب آپ کا کیا خیال ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بشارت دی، اور حکم دیا کہ وہ عمرہ کر لیں، ( یہ حدیث یہاں مختصراً مذکور ہے ) ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن سعيد بن ابي سعيد، انه سمع ابا هريرة، يقول ان ثمامة بن اثال الحنفي انطلق الى نجل قريب من المسجد فاغتسل ثم دخل المسجد فقال اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له وان محمدا عبده ورسوله يا محمد والله ما كان على الارض وجه ابغض الى من وجهك فقد اصبح وجهك احب الوجوه كلها الى وان خيلك اخذتني وانا اريد العمرة فماذا ترى فبشره رسول الله صلى الله عليه وسلم وامره ان يعتمر . مختصر
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ابوطالب مر گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ انہیں گاڑ دو تو انہوں نے کہا: وہ شرک کی حالت میں مرے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ انہیں گاڑ دو ، چنانچہ جب میں انہیں گاڑ کر آپ کے پاس واپس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: غسل کر لو ۔
اخبرنا محمد بن المثنى، عن محمد، قال حدثني شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت ناجية بن كعب، عن علي، رضى الله عنه انه اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان ابا طالب مات . فقال " اذهب فواره " . قال انه مات مشركا . قال " اذهب فواره " . فلما واريته رجعت اليه فقال لي " اغتسل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مرد، اس ( عورت ) کے چاروں شاخوں کے درمیان بیٹھے، پھر کوشش کرے تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، قال سمعت الحسن، يحدث عن ابي رافع، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا جلس بين شعبها الاربع ثم اجتهد فقد وجب الغسل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مرد عورت کی چاروں شاخوں کے بیچ بیٹھے، پھر کوشش کرے، تو غسل واجب ہو گیا ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: اشعث کا ابن سیرین کے طریق سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنا غلط ہے، صحیح یہ ہے کہ اشعث نے اسے بواسطہ حسن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، نیز یہ حدیث بواسطہ شعبہ نضر بن شمیل وغیرہ سے بھی مروی ہے جیسا کہ اسے خالد نے روایت کی ہے، یعنی: بطریق «قتادة عن الحسن، عن أبي رافع، عن أبي هريرة»۔
اخبرنا ابراهيم بن يعقوب بن اسحاق الجوزجاني، قال حدثني عبد الله بن يوسف، قال حدثنا عيسى بن يونس، قال حدثنا اشعث بن عبد الملك، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا قعد بين شعبها الاربع ثم اجتهد فقد وجب الغسل " . قال ابو عبد الرحمن هذا خطا والصواب اشعث عن الحسن عن ابي هريرة . وقد روى الحديث عن شعبة النضر بن شميل وغيره كما رواه خالد
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا شخص تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب مذی دیکھو تو اپنا ذکر دھو لو، اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر لو، اور جب پانی ( منی ) کودتا ہوا نکلے تو غسل کرو ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، وعلي بن حجر، - واللفظ لقتيبة - قال حدثنا عبيدة بن حميد، عن الركين بن الربيع، عن حصين بن قبيصة، عن علي، - رضى الله عنه - قال كنت رجلا مذاء فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا رايت المذى فاغسل ذكرك وتوضا وضوءك للصلاة واذا فضخت الماء فاغتسل
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو میں نے ۱؎، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مذی دیکھو تو وضو کر لو، اور اپنا ذکر دھو لو، اور جب پانی ( منی ) کو کودتے دیکھو، تو غسل کرو ۲؎۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال انبانا عبد الرحمن، عن زايدة، ح واخبرنا اسحاق بن ابراهيم، - واللفظ له - انبانا ابو الوليد، حدثنا زايدة، عن الركين بن الربيع بن عميلة الفزاري، عن حصين بن قبيصة، عن علي، - رضى الله عنه - قال كنت رجلا مذاء فسالت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اذا رايت المذى فتوضا واغسل ذكرك واذا رايت فضخ الماء فاغتسل
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق دریافت کیا جو اپنے خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ انزال کرے تو غسل کرے ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا عبدة، قال حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس، ان ام سليم، سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المراة ترى في منامها ما يرى الرجل قال " اذا انزلت الماء فلتغتسل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی، اور عائشہ رضی اللہ عنہا ( بھی وہاں ) بیٹھی ہوئی تھیں، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ حق بات ( بیان کرنے ) سے نہیں شرماتا ہے، آپ مجھے اس عورت کے متعلق بتائیے جو خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے، کیا وہ اس کی وجہ سے غسل کرے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ہاں! ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو میں نے ان سے ( ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ) کہا: افسوس ہے تم پر! کیا عورت بھی اس طرح خواب دیکھتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، پھر بچہ کیسے ( ماں کے ) مشابہ ہو جاتا ہے؟ ۱؎۔
اخبرنا كثير بن عبيد، عن محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن الزهري، عن عروة، ان عايشة، اخبرته ان ام سليم كلمت رسول الله صلى الله عليه وسلم وعايشة جالسة فقالت له يا رسول الله ان الله لا يستحيي من الحق ارايت المراة ترى في النوم ما يرى الرجل افتغتسل من ذلك فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم " . قالت عايشة فقلت لها اف لك اوترى المراة ذلك فالتفت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " تربت يمينك فمن اين يكون الشبه
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ حق بات ( بیان کرنے ) سے نہیں شرماتا ہے ( اسی لیے میں ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتی ہوں ) ، عورت کو احتلام ہو جائے تو کیا اس پر غسل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب منی دیکھ لے ، ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا ( یہ سن کر ) ہنس پڑیں، اور کہنے لگیں: کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر لڑکا کس چیز کی وجہ سے اس کے مشابہ ( ہم شکل ) ہوتا ہے؟ ۔
اخبرنا شعيب بن يوسف، قال حدثنا يحيى، عن هشام، قال اخبرني ابي، عن زينب بنت ام سلمة، عن ام سلمة، ان امراة، قالت يا رسول الله ان الله لا يستحيي من الحق هل على المراة غسل اذا هي احتلمت قال " نعم اذا رات الماء " . فضحكت ام سلمة فقالت اتحتلم المراة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ففيم يشبهها الولد
خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق پوچھا جسے خواب میں احتلام ہو جائے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ منی دیکھے تو غسل کرے ۔
اخبرنا يوسف بن سعيد، قال حدثنا حجاج، عن شعبة، قال سمعت عطاء الخراساني، عن سعيد بن المسيب، عن خولة بنت حكيم، قالت سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المراة تحتلم في منامها فقال " اذا رات الماء فلتغتسل
ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پانی سے ہے ۱؎ یعنی خواب میں منی خارج ہونے پر ہی غسل واجب ہوتا ہے۔
اخبرنا عبد الجبار بن العلاء، عن سفيان، عن عمرو، عن عبد الرحمن بن السايب، عن عبد الرحمن بن سعاد، عن ابي ايوب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الماء من الماء
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرد کی منی گاڑھی اور سفید ہوتی ہے، اور عورت کی منی پتلی زرد ہوتی ہے، تو دونوں میں جس کی منی سبقت کر جائے ۱؎ بچہ اسی کی ہم شکل ہوتا ہے ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبدة، قال حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ماء الرجل غليظ ابيض وماء المراة رقيق اصفر فايهما سبق كان الشبه