Loading...

Loading...
کتب
۳۲۴ احادیث
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو قریش کے قبیلہ بنو اسد کی خاتون ہیں کہتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا کہ انہیں استحاضہ کا خون آتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے، جب حیض کا خون آئے تو نماز ترک کر دو، اور جب ختم ہو جائے تو خون دھو لو پھر ( غسل کر کے ) نماز پڑھ لو ۔
اخبرنا عمران بن يزيد، قال حدثنا اسماعيل بن عبد الله العدوي، قال حدثنا الاوزاعي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثني هشام بن عروة، عن عروة، عن فاطمة بنت قيس، من بني اسد قريش انها اتت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت انها تستحاض فزعمت انه قال لها " انما ذلك عرق فاذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة واذا ادبرت فاغسلي عنك الدم ثم صلي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب حیض کا خون آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب بند ہو جائے تو غسل کر لو ۔
اخبرنا هشام بن عمار، قال حدثنا سهل بن هاشم، قال حدثنا الاوزاعي، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اقبلت الحيضة فاتركي الصلاة واذا ادبرت فاغتسلي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، بلکہ یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے، لہٰذا غسل کر کے نماز پڑھ لو ۔
اخبرنا عمران بن يزيد، قال حدثنا اسماعيل بن عبد الله، قال حدثنا الاوزاعي، قال حدثنا الزهري، عن عروة، وعمرة، عن عايشة، قالت استحيضت ام حبيبة بنت جحش سبع سنين فاشتكت ذلك الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان هذه ليست بالحيضة ولكن هذا عرق فاغتسلي ثم صلي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف کی بیوی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا – بنت جحش جو ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں – کو استحاضہ کا خون آیا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے بلکہ یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے، تو جب حیض بند ہو جائے تو غسل کرو، اور نماز پڑھو، اور جب وہ آ جائے تو اس کی وجہ سے نماز ترک کر دو ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتیں ۱؎ اور نماز پڑھتی تھیں، اور کبھی کبھی اپنی بہن زینب رضی اللہ عنہا کے کمرے میں ایک ٹب میں غسل کرتیں، اور ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتیں، یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی کے اوپر آ جاتی، پھر وہ نکلتیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتیں، اور یہ ( خون ) انہیں نماز سے نہیں روکتا۔
اخبرنا الربيع بن سليمان بن داود، قال حدثنا عبد الله بن يوسف، قال حدثنا الهيثم بن حميد، قال اخبرني النعمان، والاوزاعي، وابو معيد - وهو حفص بن غيلان - عن الزهري، قال اخبرني عروة بن الزبير، وعمرة بنت عبد الرحمن، عن عايشة، قالت استحيضت ام حبيبة بنت جحش امراة عبد الرحمن بن عوف وهي اخت زينب بنت جحش فاستفتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان هذه ليست بالحيضة ولكن هذا عرق فاذا ادبرت الحيضة فاغتسلي وصلي واذا اقبلت فاتركي لها الصلاة " . قالت عايشة فكانت تغتسل لكل صلاة وتصلي وكانت تغتسل احيانا في مركن في حجرة اختها زينب وهي عند رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى ان حمرة الدم لتعلو الماء وتخرج فتصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فما يمنعها ذلك من الصلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سالی ام حبیبہ کو، جو عبدالرحمٰن بن عوف کے عقد میں تھیں، سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، اس سلسلے میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض کا خون نہیں ہے، بلکہ یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے، لہٰذا تم غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرو ۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن ابن شهاب، عن عروة، وعمرة، عن عايشة، ان ام حبيبة، - ختنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وتحت عبد الرحمن بن عوف - استحيضت سبع سنين استفتت رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان هذه ليست بالحيضة ولكن هذا عرق فاغتسلي وصلي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے ( اس حالت میں کیا کروں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے، تم غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرو، چنانچہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، قالت استفتت ام حبيبة بنت جحش رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله اني استحاض . فقال " انما ذلك عرق فاغتسلي وصلي " . فكانت تغتسل لكل صلاة
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن جعفر بن ربيعة، عن عراك بن مالك، عن عروة، عن عايشة، ان ام حبيبة، سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الدم - قالت عايشة رضى الله عنها رايت مركنها ملان دما - فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " امكثي قدر ما كانت تحبسك حيضتك ثم اغتسلي " . اخبرنا قتيبة، مرة اخرى ولم يذكر جعفرا
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت کو کثرت سے خون آتا تھا، تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتوی پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مہینہ کے ان دنوں اور راتوں کو شمار کر لے جس میں اس بیماری سے جو اسے لاحق ہوئی ہے پہلے حیض آیا کرتا تھا، پھر ہر مہینہ اسی کے برابر نماز چھوڑ دے، اور جب یہ دن گزر جائیں تو غسل کرے، پھر لنگوٹ باندھے، پھر نماز پڑھے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن نافع، عن سليمان بن يسار، عن ام سلمة، تعني ان امراة، كانت تهراق الدم على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستفتت لها ام سلمة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " لتنظر عدد الليالي والايام التي كانت تحيض من الشهر قبل ان يصيبها الذي اصابها فلتترك الصلاة قدر ذلك من الشهر فاذا خلفت ذلك فلتغتسل ثم لتستثفر ثم لتصلي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو جو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں استحاضہ ہو گیا ( جس سے ) وہ پاک ہی نہیں رہ پاتی تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا معاملہ ذکر کیا گیا، تو آپ صلی تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائی ( تحفة الأشراف: ۱۷۹۵۴ ) ، مسند احمد ۶/ ۱۲۸، مسند احمد ۶/ ۱۲۹، ویأتي عند المؤلف في الحیض ۴ رقم: ۳۵۶ ( صحیح ) اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض کا خون نہیں ہے، بلکہ وہ رحم میں ( شیطان کی طرف سے ) ایک ایڑ ہے ۱؎ تو وہ اپنے حیض کی مقدار کو جس میں اسے حیض آتا تھا یاد رکھے، پھر اسی کے بقدر نماز چھوڑ دے، پھر اس کے بعد جو دیکھے تو ہر نماز کے وقت غسل کرے ۔
اخبرنا الربيع بن سليمان بن داود بن ابراهيم، قال حدثنا اسحاق بن بكر، قال حدثني ابي، عن يزيد بن عبد الله، عن ابي بكر بن محمد، عن عمرة، عن عايشة، ان ام حبيبة بنت جحش التي، كانت تحت عبد الرحمن بن عوف وانها استحيضت لا تطهر فذكر شانها لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " انها ليست بالحيضة ولكنها ركضة من الرحم فلتنظر قدر قريها التي كانت تحيض لها فلتترك الصلاة ثم تنظر ما بعد ذلك فلتغتسل عند كل صلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو سات سال تک استحاضہ کا خون آتا رہا، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض کا خون نہیں ہے، یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے حیض کے ( دنوں کے ) برابر نماز ترک کر دیں، پھر غسل کریں، اور نماز پڑھیں، تو وہ ہر نماز کے وقت غسل کرتی تھیں۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عمرة، عن عايشة، ان ام حبيبة بنت جحش، كانت تستحاض سبع سنين فسالت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ليست بالحيضة انما هو عرق " . فامرها ان تترك الصلاة قدر اقرايها وحيضتها وتغتسل وتصلي فكانت تغتسل عند كل صلاة
فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور آپ سے خون آنے کی شکایت کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے، تو دیکھتی رہو جب حیض ( کا دن ) آ جائے تو نماز چھوڑ دو، پھر جب تمہارے حیض ( کے دن ) گزر جائیں، اور تم پاک ہو جاؤ، تو پھر دونوں حیض کے درمیان نماز پڑھو ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: یہ حدیث ہشام بن عروہ نے عروہ سے روایت کی ہے ۲؎ انہوں نے اس چیز کا ذکر نہیں کیا جس کا ذکر منذر نے کیا ہے ۳؎۔
اخبرنا عيسى بن حماد، قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن بكير بن عبد الله، عن المنذر بن المغيرة، عن عروة، ان فاطمة بنت ابي حبيش، حدثت انها، اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فشكت اليه الدم فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما ذلك عرق فانظري اذا اتاك قروك فلا تصلي فاذا مر قروك فتطهري ثم صلي ما بين القرء الى القرء " هذا الدليل على ان الاقراء حيض . قال ابو عبد الرحمن وقد روى هذا الحديث هشام بن عروة عن عروة ولم يذكر فيه ما ذكر المنذر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کا خون آتا رہتا ہے، تو میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ تو رگ ( کا خون ) ہے حیض کا خون نہیں، تو جب حیض کا خون آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب بند ہو جائے تو اپنے ( جسم اور کپڑے سے ) خون دھو لو، اور ( غسل کر کے ) نماز پڑھو ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال اخبرنا عبدة، ووكيع، وابو معاوية قالوا حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت جاءت فاطمة بنت ابي حبيش الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت اني امراة استحاض فلا اطهر افادع الصلاة قال " لا انما ذلك عرق وليس بالحيضة فاذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة واذا ادبرت فاغسلي عنك الدم وصلي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک مستحاضہ عورت سے کہا گیا کہ یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے جو رکتا نہیں، چنانچہ اسے حکم دیا گیا کہ وہ ظہر دیر سے پڑھے اور عصر جلدی پڑھ لے، اور دونوں نمازوں کے لیے ایک غسل کرے، اور مغرب دیر سے پڑھے اور عشاء جلدی پڑھے، اور دونوں کے لیے ایک غسل کرے، اور فجر کے لیے ایک غسل کرے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، رضى الله عنها ان امراة، مستحاضة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم قيل لها انه عرق عاند فامرت ان توخر الظهر وتعجل العصر وتغتسل لهما غسلا واحدا وتوخر المغرب وتعجل العشاء وتغتسل لهما غسلا واحدا وتغتسل لصلاة الصبح غسلا واحدا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا والی حدیث میں روایت ہے کہ جس وقت انہیں ذوالحلیفہ میں نفاس آیا ۱؎، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اسے حکم دو کہ وہ غسل کر لے، اور احرام باندھ لے ۔
اخبرنا محمد بن قدامة، قال حدثنا جرير، عن يحيى بن سعيد، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، في حديث اسماء بنت عميس حين نفست بذي الحليفة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لابي بكر " مرها ان تغتسل وتهل
فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں استحاضہ آتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب حیض کا خون ہو تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ وہ سیاہ خون ہوتا ہے، پہچان لیا جاتا ہے، اور جب دوسرا ہو تو وضو کر لو، کیونکہ وہ ایک رگ ( کا خون ) ہے ۔
اخبرنا محمد بن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن محمد، - وهو ابن عمرو بن علقمة بن وقاص - عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن فاطمة بنت ابي حبيش، انها كانت تستحاض فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كان دم الحيض - فانه دم اسود يعرف - فامسكي عن الصلاة فاذا كان الاخر فتوضيي فانما هو عرق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ آتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: حیض کا خون سیاہ ہوتا ہے اور پہچان لیا جاتا ہے، تو جب یہ خون ہو تو نماز سے رک جاؤ، اور جب دوسرا ہو تو وضو کر کے نماز پڑھو ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں کہ اس حدیث کو کئی راویوں نے روایت کیا ہے، لیکن جو چیز ابن ابوعدی نے ذکر کی ہے اس کو کسی نے ذکر نہیں کیا، واللہ تعالیٰ اعلم، ( یعنی «دم الحیض دم أسود» کا ذکر کسی اور نے اس سند سے نہیں کیا ہے ) ۔
قال اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا ابن ابي عدي، هذا من كتابه اخبرنا محمد بن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، من حفظه قال حدثنا محمد بن عمرو، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان فاطمة بنت ابي حبيش، كانت تستحاض فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان دم الحيض دم اسود يعرف فاذا كان ذلك فامسكي عن الصلاة واذا كان الاخر فتوضيي وصلي " . قال ابو عبد الرحمن قد روى هذا الحديث غير واحد لم يذكر احد منهم ما ذكره ابن ابي عدي والله تعالى اعلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آیا، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز چھوڑ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے، حیض نہیں ہے، جب حیض کا خون آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو خون کا دھبہ دھو لو، اور وضو کر لو، کیونکہ یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے حیض کا خون نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: غسل؟ ( یعنی کیا غسل نہ کرے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کسی کو شک نہیں ہے ( یعنی حیض سے پاک ہونے کے بعد تو غسل کرنا ضروری ہے ہی ) ۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال حدثنا حماد، - وهو ابن زيد - عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت استحيضت فاطمة بنت ابي حبيش فسالت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله اني استحاض فلا اطهر افادع الصلاة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما ذلك عرق وليست بالحيضة فاذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة واذا ادبرت فاغسلي عنك اثر الدم وتوضيي فانما ذلك عرق وليست بالحيضة " . قيل له فالغسل قال " ذلك لا يشك فيه احد " . قال ابو عبد الرحمن لا اعلم احدا ذكر في هذا الحديث " وتوضيي " . غير حماد بن زيد وقد روى غير واحد عن هشام ولم يذكر فيه " وتوضيي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابوحبیش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے، حیض کا خون نہیں ہے، جب حیض کا خون آئے تو نماز چھوڑ دو، پھر جب اس کے بقدر ایام گزر جائیں تو خون دھو لو، اور ( غسل کر کے ) نماز پڑھو ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت قالت فاطمة بنت ابي حبيش يا رسول الله لا اطهر افادع الصلاة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما ذلك عرق وليست بالحيضة فاذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة فاذا ذهب قدرها فاغسلي عنك الدم وصلي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنت ابوحبیش ( فاطمہ بنت ابوحبیش ) رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، کیا نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ تو ایک رگ ( کا خون ) ہے ۔
اخبرنا ابو الاشعث، قال حدثنا خالد بن الحارث، قال سمعت هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان بنت ابي حبيش، قالت يا رسول الله اني لا اطهر افاترك الصلاة قال " لا انما هو عرق " . قال خالد فيما قرات عليه " وليست بالحيضة فاذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة واذا ادبرت فاغسلي عنك الدم وصلي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں جنبی ہونے کی حالت میں غسل نہ کرے ۔
اخبرنا سليمان بن داود، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن بكير، ان ابا السايب، اخبره انه، سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يغتسل احدكم في الماء الدايم وهو جنب