Loading...

Loading...
کتب
۳۲۴ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے، پھر یہ کہ اسی سے غسل بھی کرے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد المقري، عن سفيان، عن ابي الزناد، عن موسى بن ابي عثمان، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يبولن احدكم في الماء الراكد ثم يغتسل منه
غضیف بن حارث سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے کس حصہ میں غسل کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کیا، اور کبھی آخری حصہ میں کیا، میں نے کہا: شکر ہے اس اللہ تعالیٰ کا جس نے معاملہ میں وسعت اور گنجائش رکھی ہے۔
اخبرنا عمرو بن هشام، قال حدثنا مخلد، عن سفيان، عن ابي العلاء، عن عبادة بن نسى، عن غضيف بن الحارث، انه سال عايشة - رضى الله عنها - اى الليل كان يغتسل رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت ربما اغتسل اول الليل وربما اغتسل اخره . قلت الحمد لله الذي جعل في الامر سعة
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے تھے یا آخری حصہ میں؟ تو انہوں نے کہا: دونوں وقتوں میں کرتے تھے، کبھی رات کے شروع میں غسل کرتے اور کبھی رات کے آخر میں، میں نے کہا: شکر ہے اس اللہ رب العزت کا جس نے اس معاملے میں گنجائش رکھی ہے۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال حدثنا حماد، عن برد، عن عبادة بن نسى، عن غضيف بن الحارث، قال دخلت على عايشة رضى الله عنها فسالتها قلت اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغتسل من اول الليل او من اخره قالت كل ذلك ربما اغتسل من اوله وربما اغتسل من اخره . قلت الحمد لله الذي جعل في الامر سعة
ابو سمح (ایاد) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، تو جب آپ غسل کا ارادہ کرتے تو فرماتے: میری طرف اپنی گدی کر لو تو میں اپنی گدی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر کے آپ کو آڑ کر لیتا تھا۔
اخبرنا مجاهد بن موسى، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثني يحيى بن الوليد، قال حدثني محل بن خليفة، قال حدثني ابو السمح، قال كنت اخدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان اذا اراد ان يغتسل قال " ولني قفاك " . فاوليه قفاى فاستره به
ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں غسل کرتے ہوئے ملے، فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے سے آڑ کیے ہوئے تھیں، ( ام ہانی کہتی ہیں ) میں نے سلام کیا ۱؎، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا: ام ہانی ہوں، تو جب آپ غسل سے فارغ ہوئے، تو کھڑے ہوئے اور ایک ہی کپڑے میں جسے آپ لپیٹے ہوئے تھے آٹھ رکعتیں پڑھیں۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، عن عبد الرحمن، عن مالك، عن سالم، عن ابي مرة، مولى عقيل بن ابي طالب عن ام هاني، رضى الله عنها انها ذهبت الى النبي صلى الله عليه وسلم يوم الفتح فوجدته يغتسل وفاطمة تستره بثوب فسلمت فقال " من هذا " . قلت ام هاني . فلما فرغ من غسله قام فصلى ثماني ركعات في ثوب ملتحفا به
موسیٰ جہنی کہتے ہیں کہ مجاہد کے پاس ایک برتن لایا گیا، میں نے اس میں آٹھ رطل پانی کی سمائی کا اندازہ کیا، تو مجاہد نے کہا: مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی قدر پانی سے غسل فرماتے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبيد، قال حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، عن موسى الجهني، قال اتي مجاهد بقدح حزرته ثمانية ارطال فقال حدثتني عايشة رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يغتسل بمثل هذا
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور ان کے رضائی بھائی بھی آئے، تو انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے متعلق پوچھا؟، تو آپ رضی اللہ عنہا نے ایک برتن منگایا جس میں ایک صاع کے بقدر پانی تھا، پھر ایک پردہ ڈال کر غسل کیا، اور اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالا۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن ابي بكر بن حفص، سمعت ابا سلمة، يقول دخلت على عايشة - رضى الله عنها - واخوها من الرضاعة فسالها عن غسل النبي صلى الله عليه وسلم فدعت باناء فيه ماء قدر صاع وسترت سترا فاغتسلت فافرغت على راسها ثلاثا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قدح ( ٹب ) سے غسل کرتے تھے، اور اس کا ۱؎ نام فرق ہے، اور میں اور آپ دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، انها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغتسل في القدح وهو الفرق وكنت اغتسل انا وهو في اناء واحد
عبداللہ بن جبر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک «مکوک» سے وضو کرتے اور پانچ«مکاکی» سے غسل کرتے تھے ۱؎۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، قال حدثنا شعبة، عن عبد الله بن جبر، قال سمعت انس بن مالك، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا بمكوك ويغتسل بخمسة مكاكي
ابو جعفر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کے پاس غسل کے سلسلہ میں جھگڑ پڑے، جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: غسل جنابت میں ایک صاع پانی کافی ہے، اس پر ہم نے کہا: ایک صاع اور دو صاع کافی نہیں ہو گا، تو جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات گرامی کو کافی ہوتا تھا ۱؎ جو تم سے زیادہ اچھے، اور زیادہ بالوں والے تھے۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن ابي جعفر، قال تمارينا في الغسل عند جابر بن عبد الله فقال جابر يكفي من الغسل من الجنابة صاع من ماء . قلنا ما يكفي صاع ولا صاعان . قال جابر قد كان يكفي من كان خيرا منكم واكثر شعرا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( دونوں ) ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، اور وہ فرق کے بقدر ہوتا تھا ۱؎۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، عن معمر، عن الزهري، ح وانبانا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، وابن، جريج عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها قالت كنت اغتسل انا ورسول الله صلى الله عليه وسلم من اناء واحد وهو قدر الفرق
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میں ( دونوں ) ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، ہم دونوں اس سے لپ سے ایک ساتھ پانی لیتے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن هشام بن عروة، ح وانبانا قتيبة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يغتسل وانا من اناء واحد نغترف منه جميعا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرتے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، قال حدثني عبد الرحمن بن القاسم، قال سمعت القاسم، يحدث عن عايشة، قالت كنت اغتسل انا ورسول الله، صلى الله عليه وسلم من اناء واحد من الجنابة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( پانی کے ) برتن کے سلسلہ میں جھگڑ رہی ہوں ( میں اپنی طرف برتن کھینچ رہی ہوں اور آپ اپنی طرف کھینچ رہے ہیں ) میں اور آپ ( ہم دونوں ) اسی سے غسل کرتے تھے۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبيدة بن حميد، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت لقد رايتني انازع رسول الله صلى الله عليه وسلم الاناء اغتسل انا وهو منه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( دونوں ) ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا سفيان، قال حدثني منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كنت اغتسل انا ورسول الله صلى الله عليه وسلم من اناء واحد
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میری خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔
اخبرنا يحيى بن موسى، عن سفيان، عن عمرو، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، قال اخبرتني خالتي، ميمونة انها كانت تغتسل ورسول الله صلى الله عليه وسلم من اناء واحد
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ ناعم نے بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا کہ کیا بیوی شوہر کے ساتھ غسل کر سکتی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، جب سلیقہ مند ہو، میں نے اپنے آپ کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ہم ایک لگن سے غسل کرتے تھے، ہم اپنے ہاتھوں پر پانی بہاتے یہاں تک کہ انہیں صاف کر لیتے، پھر اپنے بدن پر پانی بہاتے۔ اعرج ( «كيّسة» کی تفسیر کرتے ہوئے ) کہتے ہیں کہ سلیقہ مند وہ ہے جو نہ تو شوہر کے ساتھ غسل کرتے وقت شرمگاہ کا خیال ذہن میں لائے، اور نہ بیوقوفی ( پھوہڑپن ) کا مظاہرہ کرے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، عن سعيد بن يزيد، قال سمعت عبد الرحمن بن هرمز الاعرج، يقول حدثني ناعم، مولى ام سلمة رضى الله عنها ان ام سلمة سيلت اتغتسل المراة مع الرجل قالت نعم اذا كانت كيسة رايتني ورسول الله صلى الله عليه وسلم نغتسل من مركن واحد نفيض على ايدينا حتى ننقيهما ثم نفيض عليها الماء . قال الاعرج لا تذكر فرجا ولا تباله
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں ایک ایسے آدمی سے ملا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح چار سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا تھا، اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ہم میں سے کوئی ہر روز کنگھی کرے، یا اپنے غسل خانہ میں پیشاب کرے ۱؎، یا شوہر بیوی کے بچے ہوئے پانی سے یا بیوی شوہر کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے ۲؎، دونوں کو چاہیئے کہ ایک ساتھ لپ سے پانی لیں۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن داود الاودي، عن حميد بن عبد الرحمن، قال لقيت رجلا صحب النبي صلى الله عليه وسلم كما صحبه ابو هريرة - رضى الله عنه - اربع سنين قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يمتشط احدنا كل يوم او يبول في مغتسله او يغتسل الرجل بفضل المراة والمراة بفضل الرجل وليغترفا جميعا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، ( کبھی ) آپ مجھ سے سبقت کر جاتے، اور کبھی میں آپ سے سبقت کر جاتی، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: میرے لیے چھوڑ دو ، اور میں کہتی: میرے لیے چھوڑ دیجئیے۔
اخبرنا محمد بن بشار، عن محمد، قال حدثنا شعبة، عن عاصم، ح واخبرنا سويد بن نصر، انبانا عبد الله، عن عاصم، عن معاذة، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كنت اغتسل انا ورسول الله صلى الله عليه وسلم من اناء واحد يبادرني وابادره حتى يقول " دعي لي " . واقول انا دع لي . قال سويد يبادرني وابادره فاقول دع لي دع لي
ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا دونوں نے ایک ہی برتن سے غسل کیا، ایک ٹب سے جس میں گندھے ہوئے آٹے کا اثر تھا۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا ابراهيم بن نافع، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن ام هاني، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اغتسل هو وميمونة من اناء واحد في قصعة فيها اثر العجين