Loading...

Loading...
کتب
۳۲۴ احادیث
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ اپنے سر کی چوٹی مضبوط باندھتی ہوں، تو کیا اسے غسل جنابت کے وقت کھولوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس یہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین لپ پانی ڈال لو، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہا لو ۔
اخبرنا سليمان بن منصور، عن سفيان، عن ايوب بن موسى، عن سعيد بن ابي سعيد، عن عبد الله بن رافع، عن ام سلمة، - رضى الله عنها - زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت قلت يا رسول الله اني امراة اشد ضفر راسي افانقضها عند غسلها من الجنابة قال " انما يكفيك ان تحثي على راسك ثلاث حثيات من ماء ثم تفيضين على جسدك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے سال نکلے تو میں نے عمرہ کا احرام باندھا، پھر میں مکہ پہنچی تو حائضہ ہو گئی، تو میں نہ خانہ کعبہ کا طواف کر سکی، نہ صفا و مروہ کے بیچ سعی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا سر کھول لو، کنگھی کر لو، حج کا احرام باندھ لو، اور عمرہ چھوڑ دو ، چنانچہ میں نے ( ایسا ہی ) کیا، تو جب ہم نے حج پورا کر لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا ( وہاں سے میں عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ آئی اور ) میں نے عمرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تیرے اس عمرہ کی جگہ ہے ( جو حیض کی وجہ سے تجھ سے چھوٹ گیا تھا ) ۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی رحمہ اللہ ) کہتے ہیں: ہشام بن عروہ کے واسطے سے مالک کی یہ حدیث غریب ہے، مالک سے یہ حدیث صرف اشہب نے ہی روایت کی ہے۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال حدثنا اشهب، عن مالك، ان ابن شهاب، وهشام بن عروة، حدثاه عن عروة، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام حجة الوداع فاهللت بالعمرة فقدمت مكة وانا حايض فلم اطف بالبيت ولا بين الصفا والمروة فشكوت ذلك الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " انقضي راسك وامتشطي واهلي بالحج ودعي العمرة " . ففعلت فلما قضينا الحج ارسلني مع عبد الرحمن بن ابي بكر الى التنعيم فاعتمرت فقال " هذه مكان عمرتك " . قال ابو عبد الرحمن هذا حديث غريب من حديث مالك عن هشام بن عروة لم يروه احد الا اشهب
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو آپ کے لیے پانی کا برتن رکھا جاتا، آپ برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالتے، یہاں تک کہ جب اپنے ہاتھ دھو لیتے تو اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کرتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے پانی ڈالتے اور بائیں سے اپنی شرمگاہ دھوتے، یہاں تک کہ جب فارغ ہو جاتے تو داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور دونوں ہاتھ دھوتے، پھر تین بار کلی کرتے، اور ناک میں پانی ڈالتے، پھر اپنے لپ بھربھر کر تین بار اپنے سر پر پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر ( پانی ) بہاتے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا حسين، عن زايدة، قال حدثنا عطاء بن السايب، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، قال حدثتني عايشة، رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اغتسل من الجنابة وضع له الاناء فيصب على يديه قبل ان يدخلهما الاناء حتى اذا غسل يديه ادخل يده اليمنى في الاناء ثم صب باليمنى وغسل فرجه باليسرى حتى اذا فرغ صب باليمنى على اليسرى فغسلهما ثم تمضمض واستنشق ثلاثا ثم يصب على راسه ملء كفيه ثلاث مرات ثم يفيض على جسده
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری مدنی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی ڈالتے، پھر اپنی شرمگاہ دھوتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا يزيد، قال حدثنا شعبة، عن عطاء بن السايب، عن ابي سلمة، قال سالت عايشة - رضى الله عنها - عن غسل رسول الله صلى الله عليه وسلم من الجنابة فقالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفرغ على يديه ثلاثا ثم يغسل فرجه ثم يغسل يديه ثم يمضمض ويستنشق ثم يفرغ على راسه ثلاثا ثم يفيض على ساير جسده
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( پانی کا ) برتن لایا جاتا تو آپ اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالتے، اور انہیں دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی دونوں رانوں کی نجاست دھوتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، کلی کرتے، پھر ناک میں پانی ڈالتے، اور اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے، پھر اپنے باقی جسم پر پانی بہاتے۔
اخبرنا محمود بن غيلان، انبانا النضر، قال انبانا شعبة، قال انبانا عطاء بن السايب، قال سمعت ابا سلمة، انه دخل على عايشة - رضى الله عنها - فسالها عن غسل رسول الله صلى الله عليه وسلم من الجنابة فقالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يوتى بالاناء فيصب على يديه ثلاثا فيغسلهما ثم يصب بيمينه على شماله فيغسل ما على فخذيه ثم يغسل يديه ويتمضمض ويستنشق ويصب على راسه ثلاثا ثم يفيض على ساير جسده
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کا طریقہ بیان کیا، کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرمگاہ اور اس پر لگی ہوئی نجاست دھوتے، عمر بن عبید کہتے ہیں: میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے ( عطا بن سائب ) کہا: آپ اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر تین بار پانی ڈالتے، پھر تین بار کلی کرتے، تین بار ناک میں پانی ڈالتے، اور تین بار اپنا چہرہ دھوتے، پھر تین بار اپنے سر پر پانی بہاتے، پھر اپنے اوپر پانی ڈالتے ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا عمر بن عبيد، عن عطاء بن السايب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، قال وصفت عايشة غسل النبي صلى الله عليه وسلم من الجنابة قالت كان يغسل يديه ثلاثا ثم يفيض بيده اليمنى على اليسرى فيغسل فرجه وما اصابه - قال عمر ولا اعلمه الا قال يفيض بيده اليمنى على اليسرى ثلاث مرات - ثم يتمضمض ثلاثا ويستنشق ثلاثا ويغسل وجهه ثلاثا ثم يفيض على راسه ثلاثا ثم يصب عليه الماء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے، تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر وضو کرتے، جیسے آپ نماز کے لیے وضو کرتے تھے، پھر اپنی انگلیاں پانی میں ڈال کر ان سے اپنے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے، پھر اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اغتسل من الجنابة بدا فغسل يديه ثم توضا كما يتوضا للصلاة ثم يدخل اصابعه الماء فيخلل بها اصول شعره ثم يصب على راسه ثلاث غرف ثم يفيض الماء على جسده كله
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق مجھ سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، وضو کرتے اور اپنے سر کا خلال کرتے یہاں تک کہ ( پانی ) آپ کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جاتا، پھر اپنے پورے جسم پر پانی ڈالتے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال انبانا يحيى، قال انبانا هشام بن عروة، قال حدثني ابي قال، حدثتني عايشة، - رضى الله عنها - عن غسل النبي، صلى الله عليه وسلم من الجنابة انه كان يغسل يديه ويتوضا ويخلل راسه حتى يصل الى شعره ثم يفرغ على ساير جسده
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو پانی پلاتے تھے یعنی سر کا خلال کرتے تھے، پھر اس پر تین لپ پانی ڈالتے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، قال حدثنا سفيان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يشرب راسه ثم يحثي عليه ثلاثا
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غسل کے سلسلے میں جھگڑ پڑے، قوم کا ایک شخص کہنے لگا: میں اس اس طرح غسل کرتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا میں تو میں اپنے سر پر تین لپ پانی بہاتا ہوں ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن سليمان بن صرد، عن جبير بن مطعم، قال تماروا في الغسل عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال بعض القوم اني لاغسل كذا وكذا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما انا فافيض على راسي ثلاث اكف
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے غسل کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بتایا کہ وہ کیسے غسل کرے، پھر فرمایا: ( غسل کے بعد ) مشک لگا ہوا ( روئی کا ) ایک پھاہا لے کر اس سے طہارت حاصل کرو ، ( عورت بولی ) اس سے کیسے طہارت حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح پردہ کر لیا ( یعنی شرم سے اپنے منہ پر ہاتھ کی آڑ کر لی ) پھر فرمایا: سبحان اللہ! اس سے پاکی حاصل کرو ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو میں نے عورت کو پکڑ کر کھینچ لیا، اور ( چپکے سے اس کے کان میں ) کہا: اسے خون کے نشان پر پھیرو ۱؎۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن منصور، - وهو ابن صفية - عن امه، عن عايشة، رضى الله عنها ان امراة، سالت النبي صلى الله عليه وسلم عن غسلها من المحيض فاخبرها كيف تغتسل ثم قال " خذي فرصة من مسك فتطهري بها " . قالت وكيف اتطهر بها فاستتر كذا ثم قال " سبحان الله تطهري بها " . قالت عايشة رضى الله عنها فجذبت المراة وقلت تتبعين بها اثر الدم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے ۱؎۔
اخبرنا احمد بن عثمان بن حكيم، قال حدثنا ابي، انبانا الحسن، - وهو ابن صالح - عن ابي اسحاق، ح وحدثنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا شريك، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يتوضا بعد الغسل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میری خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل جنابت کا پانی لا کر رکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین بار اپنے دونوں پہونچے دھوئے، پھر اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کیا تو اس سے اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالا، پھر اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر مارا اور اسے زور سے ملا، پھر اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، پھر اپنے سر پر تین لپ بھربھر کر ڈالا، پھر اپنے پورے جسم کو دھویا، پھر آپ اپنی جگہ سے الگ ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے، ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر میں تولیہ لے کر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا عيسى، عن الاعمش، عن سالم، عن كريب، عن ابن عباس، قال حدثتني خالتي، ميمونة قالت ادنيت لرسول الله صلى الله عليه وسلم غسله من الجنابة فغسل كفيه مرتين او ثلاثا ثم ادخل بيمينه في الاناء فافرغ بها على فرجه ثم غسله بشماله ثم ضرب بشماله الارض فدلكها دلكا شديدا ثم توضا وضوءه للصلاة ثم افرغ على راسه ثلاث حثيات ملء كفه ثم غسل ساير جسده ثم تنحى عن مقامه فغسل رجليه قالت ثم اتيته بالمنديل فرده
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا، تو آپ کے لیے تولیہ لایا گیا تو آپ نے اسے نہیں چھوا ۱؎ اور پانی کو ہاتھ سے پونچھ کر اس طرح جھاڑنے لگے ۲؎۔
اخبرنا محمد بن يحيى بن ايوب بن ابراهيم، قال حدثنا عبد الله بن ادريس، عن الاعمش، عن سالم، عن كريب، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم اغتسل فاتي بمنديل فلم يمسه وجعل يقول بالماء هكذا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( اور عمرو کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) جب کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے تو وضو کرتے، اور عمرو نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے ۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، عن سفيان بن حبيب، عن شعبة، ح وحدثنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، وعبد الرحمن، عن شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم - وقال عمرو كان رسول الله صلى الله عليه وسلم - اذا اراد ان ياكل او ينام وهو جنب توضا - زاد عمرو في حديثه - وضوءه للصلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کرتے، اور جب کھانے کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دھو لیتے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبيد بن محمد، قال حدثنا عبد الله بن المبارك، عن يونس، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن عايشة، رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اراد ان ينام وهو جنب توضا واذا اراد ان ياكل غسل يديه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے اور آپ جنبی ہوتے تو وضو کرتے، اور جب کھانے یا پینے کا ارادہ کرتے، تو اپنے دونوں ہاتھ دھوتے پھر کھاتے یا پیتے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن يونس، عن الزهري، عن ابي سلمة، ان عايشة، - رضى الله عنها - قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اراد ان ينام وهو جنب توضا واذا اراد ان ياكل او يشرب - قالت - غسل يديه ثم ياكل او يشرب
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے تو اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے تھے۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اراد ان ينام وهو جنب توضا وضوءه للصلاة قبل ان ينام
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم میں سے کوئی بحالت جنابت سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ وضو کر لے ( تو سو سکتا ہے ) ۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال اخبرني نافع، عن عبد الله بن عمر، ان عمر، قال يا رسول الله اينام احدنا وهو جنب قال " اذا توضا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ وہ رات میں جنبی ہو جاتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کر لو اور اپنا عضو مخصوص دھو لو، پھر سو جاؤ ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال ذكر عمر لرسول الله صلى الله عليه وسلم انه تصيبه الجنابة من الليل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " توضا واغسل ذكرك ثم نم