Loading...

Loading...
کتب
۳۲۴ احادیث
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر، کتا یا جنبی ہو ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا هشام بن عبد الملك، قال انبانا شعبة، ح وانبانا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى، عن شعبة، - واللفظ له - عن علي بن مدرك، عن ابي زرعة، عن عبد الله بن نجى، عن ابيه، عن علي، - رضى الله عنه - عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تدخل الملايكة بيتا فيه صورة ولا كلب ولا جنب
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی دوبارہ جماع کرنا چاہے تو وضو کرے ۔
اخبرنا الحسين بن حريث، قال حدثنا سفيان، عن عاصم، عن ابي المتوكل، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اراد احدكم ان يعود توضا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ایک ہی غسل سے اپنی بیویوں کے پاس گئے ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، ويعقوب بن ابراهيم، - واللفظ لاسحاق - قالا حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن حميد الطويل، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم طاف على نسايه في ليلة بغسل واحد
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ( سبھی ) بیویوں کے پاس ایک ہی غسل میں جاتے ( جماع کرتے ) تھے۔
اخبرنا محمد بن عبيد، قال حدثنا عبد الله بن المبارك، قال انبانا معمر، عن قتادة، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يطوف على نسايه في غسل واحد
عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور دو آدمی علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے باہر تشریف لاتے تو قرآن مجید پڑھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ گوشت کھاتے اور آپ کو قرآن مجید پڑھنے سے جنابت کے سوا کوئی چیز مانع نہ ہوتی تھی۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا اسماعيل بن ابراهيم، عن شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة، قال اتيت عليا انا ورجلان، فقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج من الخلاء فيقرا القران وياكل معنا اللحم ولم يكن يحجبه عن القران شىء ليس الجنابة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال میں قرآن پڑھتے تھے سوائے جنابت کے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن احمد ابو يوسف الصيدلاني الرقي، قال حدثنا عيسى بن يونس، قال حدثنا الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن سلمة، عن علي، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا القران على كل حال ليس الجنابة
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے اصحاب میں سے کسی آدمی سے ملتے تو اس ( کے جسم ) پر ہاتھ پھیرتے، اور اس کے لیے دعا کرتے تھے، ایک دن صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر میں کترا گیا، پھر آپ کے پاس اس وقت آیا جب دن چڑھ آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں دیکھا تو تم مجھ سے کترا گئے؟ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ مجھ پر ہاتھ نہ پھیریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان ناپاک نہیں ہوتا ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن الشيباني، عن ابي بردة، عن حذيفة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا لقي الرجل من اصحابه ماسحه ودعا له - قال - فرايته يوما بكرة فحدت عنه ثم اتيته حين ارتفع النهار فقال " اني رايتك فحدت عني " . فقلت اني كنت جنبا فخشيت ان تمسني . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان المسلم لا ينجس
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے، اور وہ ( حذیفہ ) جنبی تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف بڑھے تو میں نے عرض کیا میں جنبی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان نجس نہیں ہوتا ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال اخبرنا يحيى، قال حدثنا مسعر، قال حدثني واصل، عن ابي وايل، عن حذيفة، ان النبي صلى الله ع��يه وسلم لقيه وهو جنب . فاهوى الى فقلت اني جنب فقال " ان المسلم لا ينجس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ میں ان سے ملے، اور وہ اس وقت جنبی تھے، تو وہ چپکے سے نکل گئے، اور ( جا کر ) غسل کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہیں پایا، تو جب وہ آئے، تو آپ نے پوچھا ابوہریرہ! تم کہاں تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! آپ اس حالت میں ملے تھے کہ میں جنبی تھا، تو میں نے ناپسند کیا کہ بغیر غسل کئے آپ کے ساتھ بیٹھوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! ۱؎ مومن ناپاک نہیں ہوتا ۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، قال حدثنا بشر، - وهو ابن المفضل - قال حدثنا حميد، عن بكر، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم لقيه في طريق من طرق المدينة وهو جنب فانسل عنه فاغتسل ففقده النبي صلى الله عليه وسلم فلما جاء قال " اين كنت يا ابا هريرة " . قال يا رسول الله انك لقيتني وانا جنب فكرهت ان اجالسك حتى اغتسل . فقال " سبحان الله ان المومن لا ينجس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے تھے کہ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! مجھے کپڑا دے دو ، کہا: میں نماز نہیں پڑھتی ہوں ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑا دیا ۲؎۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن يزيد بن كيسان، قال حدثني ابو حازم، قال قال ابو هريرة بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد اذ قال " يا عايشة ناوليني الثوب " . فقالت اني لا اصلي . قال " انه ليس في يدك " . فناولته
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی دے دو ، انہوں نے کہا: میں حائضہ ہوں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن عبيدة، عن الاعمش، ح واخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ثابت بن عبيد، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ناوليني الخمرة من المسجد " . قالت اني حايض . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليست حيضتك في يدك
ابومعاویہ کی سند سے اعمش سے، پھر اسی کے مثل باقی سند سے حدیث مروی ہے۔ ابومعاویہ کی سند سے اعمش سے، پھر اسی کے مثل باقی سند سے حدیث مروی ہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، بهذا الاسناد مثله
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ایک کی آغوش میں سر رکھ کر قرآن کی تلاوت فرماتے جب کہ وہ حائضہ ہوتی تھی، اور ہم میں سے کوئی بوریا لے کر مسجد جاتی، اور باہر کھڑی ہو کر ہاتھ بڑھا کر اسے ( مسجد میں ) بچھا دیتی اور وہ حائضہ ہوتی۔
اخبرنا محمد بن منصور، عن سفيان، عن منبوذ، عن امه، ان ميمونة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يضع راسه في حجر احدانا فيتلو القران وهي حايض وتقوم احدانا بالخمرة الى المسجد فتبسطها وهي حايض
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر ہم ( بیویوں ) میں سے کسی کی گود میں ہوتا جب کہ وہ حائضہ ہوتی اور آپ قرآن کی تلاوت کرتے ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، وعلي بن حجر، - واللفظ له - انبانا سفيان، عن منصور، عن امه، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كان راس رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجر احدانا وهي حايض وهو يتلو القران
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں میری طرف اپنا سر بڑھاتے، تو میں اسے دھوتی اور میں حائضہ ہوتی۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا سفيان، قال حدثني منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يومي الى راسه وهو معتكف فاغسله وانا حايض
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں اپنا سر مسجد سے میری طرف نکالتے، تو میں اسے دھوتی تھی اور میں حائضہ ہوتی تھی۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، وذكر، اخر عن ابي الاسود، عن عروة، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج الى راسه من المسجد وهو مجاور فاغسله وانا حايض
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھی کرتی اور میں حائضہ ہوتی تھی۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كنت ارجل راس رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا حايض
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مثل مروی ہے۔ اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مثل مروی ہے۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، ح وانبانا علي بن شعيب، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، - رضى الله عنها - مثل ذلك
شریح ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا حائضہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ کھا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بلاتے تو میں آپ کے ساتھ کھاتی اور میں حائضہ ہوتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہڈی لیتے پھر اس کے سلسلہ میں آپ مجھے قسم دلاتے، تو میں اس میں سے دانت سے نوچتی پھر میں اسے رکھ دیتی، تو آپ لے لیتے اور اس میں سے نوچتے، اور آپ اپنا منہ ہڈی پر اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا، آپ پانی مانگتے، اور پینے سے پہلے مجھے اس سے پینے کی قسم دلاتے، چنانچہ میں لے کر پیتی، پھر اسے رکھ دیتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے لیتے اور پیتے، اور اپنا منہ پیالے میں اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا يزيد، - وهو ابن المقدام بن شريح بن هاني - عن ابيه، عن شريح، عن عايشة، رضى الله عنها سالتها هل تاكل المراة مع زوجها وهي طامث قالت نعم كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعوني فاكل معه وانا عارك وكان ياخذ العرق فيقسم على فيه فاعترق منه ثم اضعه فياخذه فيعترق منه ويضع فمه حيث وضعت فمي من العرق ويدعو بالشراب فيقسم على فيه قبل ان يشرب منه فاخذه فاشرب منه ثم اضعه فياخذه فيشرب منه ويضع فمه حيث وضعت فمي من القدح
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ ( برتن میں ) اسی جگہ رکھتے جہاں سے میں ( منہ لگا کر ) پیتی تھی، آپ میرا بچا ہوا جوٹھا پیتے، اور میں حائضہ ہوتی۔
اخبرنا ايوب بن محمد الوزان، قال حدثنا عبد الله بن جعفر، قال حدثنا عبيد الله بن عمرو، عن الاعمش، عن المقدام بن شريح، عن ابيه، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يضع فاه على الموضع الذي اشرب منه فيشرب من فضل سوري وانا حايض