Loading...

Loading...
کتب
۳۲۴ احادیث
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پانی کا برتن دیتے، میں اس میں سے پیتی، اور میں حائضہ ہوتی تھی، پھر میں آپ کو دیتی، آپ میرے منہ رکھنے کی جگہ تلاش کرتے، اور اپنا منہ اسی جگہ رکھتے۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن مسعر، عن المقدام بن شريح، عن ابيه، قال سمعت عايشة، - رضى الله عنها - تقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يناولني الاناء فاشرب منه وانا حايض ثم اعطيه فيتحرى موضع فمي فيضعه على فيه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں ( پانی ) پیتی اور میں حائضہ ہوتی، اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی، تو آپ اپنا منہ میرے منہ رکھنے کی جگہ پر رکھ کر پیتے، اور میں ہڈی سے گوشت ( نوچ کر ) کھاتی، اور حائضہ ہوتی، اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی تو آپ اپنا منہ میرے منہ رکھنے کی جگہ پر رکھتے۔
اخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا وكيع، قال حدثنا مسعر، وسفيان، عن المقدام بن شريح، عن ابيه، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كنت اشرب وانا حايض واناوله النبي صلى الله عليه وسلم فيضع فاه على موضع في فيشرب واتعرق العرق وانا حايض واناوله النبي صلى الله عليه وسلم فيضع فاه على موضع في
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹی تھی کہ اسی دوران مجھے حیض آ گیا، تو میں آہستہ سے کھسک آئی اور جا کر میں نے اپنے حیض کا کپڑا لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھنے لگے: کیا تم کو حیض آ گیا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، تو ( جا کر ) میں آپ کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا هشام، ح وانبانا عبيد الله بن سعيد، واسحاق بن ابراهيم، قالا حدثنا معاذ بن هشام، - واللفظ له - قال حدثني ابي، عن يحيى، قال حدثنا ابو سلمة، ان زينب بنت ابي سلمة، حدثته ان ام سلمة حدثتها قالت، بينما انا مضطجعة، مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخميلة اذ حضت فانسللت فاخذت ثياب حيضتي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انفست " . قلت نعم فدعاني فاضطجعت معه في الخميلة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی چادر میں رات گزارتے، اور میں حائضہ ہوتی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے ( خون ) میں سے کچھ لگ جاتا تو صرف اسی جگہ کو دھوتے، اس سے تجاوز نہ کرتے، اور اسی کپڑے میں نماز ادا کرتے، پھر واپس آ کر لیٹ جاتے، پھر دوبارہ اگر آپ کو میرے ( خون ) میں سے کچھ لگ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اسی طرح کرتے، اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن جابر بن صبح، قال سمعت خلاسا، يحدث عن عايشة، قالت كنت انا ورسول الله، صلى الله عليه وسلم نبيت في الشعار الواحد وانا طامث او حايض فان اصابه مني شىء غسل مكانه ولم يعده وصلى فيه ثم يعود فان اصابه مني شىء فعل مثل ذلك ولم يعده وصلى فيه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ایک کو جب وہ حائضہ ہوتی حکم دیتے کہ وہ تہبند باندھ لے، پھر آپ اس کے ساتھ لیٹ جاتے تھے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن شرحبيل، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامر احدانا اذا كانت حايضا ان تشد ازارها ثم يباشرها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم میں سے جب کوئی حائضہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حکم دیتے کہ تہبند باندھ لے، پھر آپ اس کے ساتھ لیٹ جاتے تھے ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت كانت احدانا اذا حاضت امرها رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تتزر ثم يباشرها
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے کسی کے ساتھ لیٹ جایا کرتے تھے اور وہ حائضہ ہوتی جب اس پر تہبند ہوتا، جو آدھی ران اور گھٹنے تک پہنچتا، لیث کی روایت میں ہے: وہ اسے اپنی کمر پر باندھے ہوتی ۱؎۔
اخبرنا الحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن وهب، عن يونس، والليث، عن ابن شهاب، عن حبيب، مولى عروة عن بدية، - وكان الليث يقول ندبة - مولاة ميمونة عن ميمونة قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يباشر المراة من نسايه وهي حايض اذا كان عليها ازار يبلغ انصاف الفخذين والركبتين . في حديث الليث محتجزة به
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتیں جب حائضہ ہوتیں تو وہ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے اور نہ انہیں گھروں میں اپنے ساتھ رکھتے، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا، تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى» ( البقرہ: ۲۲۲ ) لوگ آپ سے حیض کے متعلق دریافت کرتے ہیں، آپ فرما دیجئیے: وہ گندگی ہے نازل فرمائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں، پئیں اور انہیں اپنے ساتھ گھروں میں رکھیں، اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ سب کچھ کریں۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن انس، قال كانت اليهود اذا حاضت المراة منهم لم يواكلوهن ولم يشاربوهن ولم يجامعوهن في البيوت فسالوا نبي الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فانزل الله عز وجل { ويسالونك عن المحيض قل هو اذى } الاية فامرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يواكلوهن ويشاربوهن ويجامعوهن في البيوت وان يصنعوا بهن كل شىء ما خلا الجماع
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو اپنی بیوی سے جماع کرے، اور وہ حائضہ ہو کہ وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، عن شعبة، عن الحكم، عن عبد الحميد، عن مقسم، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم في الرجل ياتي امراته وهي حايض يتصدق بدينار او بنصف دينار
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمیں صرف حج کرنا تھا، جب مقام سرف آیا تو میں حائضہ ہو گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، اور اس وقت میں رو رہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا بات ہے؟ حائضہ ہو گئی ہو؟ میں نے عرض کیا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسی چیز ہے جسے اللہ عزوجل نے آدم زادیوں کے لیے مقدر کر دیا ہے، تو وہ سارے کام کرو جو حاجی کرتا ہے سوائے اس کے کہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا ، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا سفيان، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لا نرى الا الحج فلما كان بسرف حضت فدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا ابكي فقال " ما لك انفست " . فقلت نعم . قال " هذا امر كتبه الله عز وجل على بنات ادم فاقضي ما يقضي الحاج غير ان لا تطوفي بالبيت " . وضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نسايه بالبقر
محمد کہتے ہیں کہ ہم لوگ جابر بن عبداللہ کے پاس آئے، اور ہم نے ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج ( حجۃ الوداع ) کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پچیس ذی قعدہ کو نکلے ہم لوگ بھی آپ کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس نے محمد بن ابوبکر کو جنا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آدمی بھیج کر دریافت کیا کہ اب میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غسل کر لو اور لنگوٹ کس لو، پھر لبیک پکارو ۔
اخبرنا عمرو بن علي، ومحمد بن المثنى، ويعقوب بن ابراهيم، - واللفظ له - قالوا حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا جعفر بن محمد، قال حدثني ابي قال، اتينا جابر بن عبد الله فسالناه عن حجة النبي، صلى الله عليه وسلم فحدثنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج لخمس بقين من ذي القعدة وخرجنا معه حتى اذا اتى ذا الحليفة ولدت اسماء بنت عميس محمد بن ابي بكر فارسلت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف اصنع قال " اغتسلي واستثفري ثم اهلي
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کا خون کپڑے میں لگ جانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لکڑی سے کھرچ دو، اور پانی اور بیر کے پتے سے دھو لو ۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، قال حدثني ابو المقدام، ثابت الحداد عن عدي بن دينار، قال سمعت ام قيس بنت محصن، انها سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن دم الحيض يصيب الثوب قال " حكيه بضلع واغسليه بماء وسدر
فاطمہ بنت منذر اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہم سے روایت کرتی ہیں ۔ ( وہ ان کی گود میں پلی تھیں ) کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے میں حیض کا خون لگ جانے کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کھرچ دو، پھر پانی ڈال کر انگلیوں سے رگڑو، پھر اسے دھو لو، اور اس میں نماز پڑھ لو ۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، عن حماد بن زيد، عن هشام بن عروة، عن فاطمة بنت المنذر، عن اسماء بنت ابي بكر، وكانت، تكون في حجرها ان امراة استفتت النبي صلى الله عليه وسلم عن دم الحيض يصيب الثوب فقال " حتيه ثم اقرصيه بالماء ثم انضحيه وصلي فيه
معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ( اپنی بہن ) ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے جس میں جماع کرتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں! جب آپ اس میں کوئی گندگی نہ دیکھتے۔
اخبرنا عيسى بن حماد، قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن سويد بن قيس، عن معاوية بن حديج، عن معاوية بن ابي سفيان، انه سال ام حبيبة زوج النبي صلى الله عليه وسلم هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في الثوب الذي كان يجامع فيه قالت نعم اذا لم ير فيه اذى
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت کا اثر دھوتی تھی ۱؎، پھر آپ نماز کے لیے نکلتے، اور پانی کے دھبے آپ کے کپڑے پر باقی ہوتے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن عمرو بن ميمون الجزري، عن سليمان بن يسار، عن عايشة، قالت كنت اغسل الجنابة من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيخرج الى الصلاة وان بقع الماء لفي ثوبه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت مل کر صاف کر دیتی ۱؎، دوسری مرتبہ کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی مل کر صاف کر دیتی تھی ۲؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن ابي هاشم، عن ابي مجلز، عن الحارث بن نوفل، عن عايشة، قالت كنت افرك الجنابة - وقالت مرة اخرى المني - من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہمام بن حارث سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کرتی تھی کہ اسے ( یعنی منی کو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے مل دوں۔
اخبرنا عمرو بن يزيد، قال حدثنا بهز، قال حدثنا شعبة، قال الحكم اخبرني عن ابراهيم، عن همام بن الحارث، ان عايشة، قالت لقد رايتني وما ازيد على ان افركه من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے اسے ( یعنی منی کو ) مل دیتی تھی۔
اخبرنا الحسين بن حريث، انبانا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن همام، عن عايشة، قالت كنت افركه من ثوب النبي صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں اسے ( یعنی منی کو ) دیکھتی تو اسے رگڑ دیتی تھی۔
اخبرنا شعيب بن يوسف، عن يحيى بن سعيد، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن همام، عن عايشة، قالت كنت اراه في ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم فاحكه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے جنابت ( منی کے اثر کو ) مل رہی ہوں۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد بن زيد، عن هشام بن حسان، عن ابي معشر، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت لقد رايتني افرك الجنابة من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم