Loading...

Loading...
کتب
۳۲۴ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اسے ( یعنی منی کو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے میں پاتی تو اسے رگڑ کر اس سے صاف کر دیتی۔
اخبرنا محمد بن كامل المروزي، قال حدثنا هشيم، عن مغيرة، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت لقد رايتني اجده في ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم فاحته عنه
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک چھوٹے بیٹے کو جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، تو اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا، اور اس سے کپڑے پر چھینٹا مار، اور اسے دھویا نہیں۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ام قيس بنت محصن، انها اتت بابن لها صغير لم ياكل الطعام الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاجلسه رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجره فبال على ثوبه فدعا بماء فنضحه ولم يغسله
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ( دودھ پینے والا ) بچہ لایا گیا، تو اس نے آپ کے اوپر پیشاب کر دیا، تو آپ نے پانی منگایا، اور اسے اس پر بہا دیا۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بصبي فبال عليه فدعا بماء فاتبعه اياه
ابو سمح رضی اللہ عنہ (خادم النبی) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچی کا پیشاب دھویا جائے گا، اور بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا ۱؎۔
اخبرنا مجاهد بن موسى، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا يحيى بن الوليد، قال حدثني محل بن خليفة، قال حدثني ابو السمح، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " يغسل من بول الجارية ويرش من بول الغلام
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور اپنے اسلام لانے کی بات کی، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہم لوگ مویشی والے ہیں ( جن کا گزارہ دودھ پر ہوتا ہے ) ہم کھیتی باڑی والے نہیں ہیں، مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہیں آئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں کچھ اونٹ اور ایک چرواہا دے دیا جائے، اور ان سے کہا کہ وہ جا کر مدینہ سے باہر رہیں، اور ان جانوروں کے دودھ اور پیشاب پئیں۱؎ چنانچہ وہ باہر جا کر حرّہ کے ایک گوشے میں رہنے لگے جب اچھے اور صحت یاب ہو گئے، تو اپنے اسلام لے آنے کے بعد کافر ہو گئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا، اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے تعاقب کرنے والوں کو ان کے پیچھے بھیجا ( چنانچہ وہ پکڑ لیے گئے اور ) آپ کے پاس لائے گئے، تو لوگوں نے ان کی آنکھوں میں آگ کی سلائی پھیر دی ۲؎، اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے، پھر اسی حال میں انہیں ( مقام ) حرہ میں چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ وہ سب مر گئے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا سعيد، قال حدثنا قتادة، ان انس بن مالك، حدثهم ان اناسا او رجالا من عكل قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فتكلموا بالاسلام فقالوا يا رسول الله انا اهل ضرع ولم نكن اهل ريف . واستوخموا المدينة فامر لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم بذود وراع وامرهم ان يخرجوا فيها فيشربوا من البانها وابوالها فلما صحوا وكانوا بناحية الحرة كفروا بعد اسلامهم وقتلوا راعي النبي صلى الله عليه وسلم واستاقوا الذود فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم فبعث الطلب في اثارهم فاتي بهم فسمروا اعينهم وقطعوا ايديهم وارجلهم ثم تركوا في الحرة على حالهم حتى ماتوا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ عرینہ کے کچھ اعرابی ( دیہاتی ) آئے، اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا، لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہیں آئی، یہاں تک کہ ان کے رنگ زرد ہو گئے، اور پیٹ پھول گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی اونٹنیوں کے پاس بھیج دیا ۱؎ اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے دودھ اور پیشاب پئیں، یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہو گئے، تو ان لوگوں نے آپ کے چرواہے کو قتل کر ڈالا، اور اونٹوں کو ہانک لے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ان کے تعاقب میں بھیجا، چنانچہ انہیں پکڑ کر آپ کی خدمت میں لایا گیا، تو آپ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے، اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر دی۔
اخبرنا محمد بن وهب، حدثنا محمد بن سلمة، عن ابي عبد الرحيم، قال حدثني زيد بن ابي انيسة، عن طلحة بن مصرف، عن يحيى بن سعيد، عن انس بن مالك، قال قدم اعراب من عرينة الى النبي صلى الله عليه وسلم فاسلموا فاجتووا المدينة حتى اصفرت الوانهم وعظمت بطونهم فبعث بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم الى لقاح له وامرهم ان يشربوا من البانها وابوالها حتى صحوا فقتلوا راعيها واستاقوا الابل فبعث نبي الله صلى الله عليه وسلم في طلبهم فاتي بهم فقطع ايديهم وارجلهم وسمر اعينهم . قال امير المومنين عبد الملك لانس وهو يحدثه هذا الحديث بكفر ام بذنب قال بكفر . قال ابو عبد الرحمن لا نعلم احدا قال عن يحيى عن انس في هذا الحديث غير طلحة والصواب عندي والله تعالى اعلم يحيى عن سعيد بن المسيب مرسل
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیت المال میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے، اور قریش کے کچھ شرفاء بیٹھے ہوئے تھے، اور انہوں نے ایک اونٹ ذبح کر رکھا تھا، تو ان میں سے ایک شخص نے کہا ۱؎: تم میں سے کون ہے جو یہ خون آلود اوجھڑی لے کر جائے، پھر کچھ صبر کرے حتیٰ کہ جب آپ اپنا چہرہ زمین پر رکھ دیں، تو وہ اسے ان کی پشت پر رکھ دے، تو ان میں کا سب سے بدبخت ( انسان ) کھڑا ہوا ۲؎، اور اس نے اوجھڑی لی، اور آپ کے پاس لے جا کر انتظار کرتا رہا، جب آپ سجدہ میں چلے گئے تو اس نے اسے آپ کی پشت پر ڈال دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمسن بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر ملی، تو وہ دوڑتی ہوئی آئیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت سے اسے ہٹایا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے تین مرتبہ کہا: «اللہم عليك بقريش» اے اللہ! قریش کو ہلاک کر دے ، «اللہم عليك بقريش»، «اللہم عليك بأبي جهل بن هشام وشيبة بن ربيعة وعتبة بن ربيعة وعقبة بن أبي معيط» اے اللہ! ابوجہل بن ہشام، شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط سے تو نپٹ لے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے سات ۳؎ لوگوں کا گن کر نام لیا، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل کیا، میں نے انہیں بدر کے دن ایک اوندھے کنویں میں مرا ہوا دیکھا۔
اخبرنا احمد بن عثمان بن حكيم، قال حدثنا خالد، - يعني ابن مخلد - قال حدثنا علي، - وهو ابن صالح - عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، قال حدثنا عبد الله، في بيت المال قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي عند البيت وملا من قريش جلوس وقد نحروا جزورا فقال بعضهم ايكم ياخذ هذا الفرث بدمه ثم يمهله حتى يضع وجهه ساجدا فيضعه - يعني - على ظهره قال عبد الله فانبعث اشقاها فاخذ الفرث فذهب به ثم امهله فلما خر ساجدا وضعه على ظهره فاخبرت فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي جارية فجاءت تسعى فاخذته من ظهره فلما فرغ من صلاته قال " اللهم عليك بقريش " . ثلاث مرات " اللهم عليك بابي جهل بن هشام وشيبة بن ربيعة وعتبة بن ربيعة وعقبة بن ابي معيط " . حتى عد سبعة من قريش . قال عبد الله فوالذي انزل عليه الكتاب لقد رايتهم صرعى يوم بدر في قليب واحد
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کا کنارہ پکڑا، اس میں تھوکا، اور اسے مل دیا ۱؎۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل، عن حميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم اخذ طرف ردايه فبصق فيه فرد بعضه على بعض
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے یا اپنے دائیں طرف نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں طرف تھوکے، یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک لے نہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے میں اس طرح تھوکا ہے اور اسے مل دیا۔
اخبرنا محمد بن بشار، عن محمد، قال حدثنا شعبة، قال سمعت القاسم بن مهران، يحدث عن ابي رافع، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا صلى احدكم فلا يبزق بين يديه ولا عن يمينه ولكن عن يساره او تحت قدمه والا " . فبزق النبي صلى الله عليه وسلم هكذا في ثوبه ودلكه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، یہاں تک کہ جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش میں پہنچے، تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تلاش کرنے کے لیے ٹھہر گئے، آپ کے ساتھ لوگ بھی ٹھہر گئے، نہ وہاں پانی تھا اور نہ ہی لوگوں کے پاس پانی تھا، تو لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے کہنے لگے کہ عائشہ نے جو کیا ہے کیا آپ اسے دیکھ نہیں رہے ہیں؟ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو ایک ایسی جگہ ٹھہرا دیا جہاں پانی نہیں ہے، اور نہ ان کے پاس ہی پانی ہے، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر سر رکھ کر سوئے ہوئے تھے، تو وہ کہنے لگے: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو ایسی جگہ روک دیا جہاں پانی نہیں ہے، نہ ہی ان کے پاس پانی ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میری سرزنش کی، اور اللہ تعالیٰ نے ان سے جو کہلوانا چاہا انہوں نے کہا، اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے، میں صرف اس وجہ سے نہیں ہلی کہ میری ران پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے یہاں تک کہ بغیر پانی کے صبح ہو گئی، پھر اللہ عزوجل نے تیمم کی آیت نازل فرمائی، اس پر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے آل ابوبکر! یہ آپ کی پہلی ہی برکت نہیں، پھر ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا، تو ہمیں ہار اسی کے نیچے ملا۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض اسفاره حتى اذا كنا بالبيداء او ذات الجيش انقطع عقد لي فاقام رسول الله صلى الله عليه وسلم على التماسه واقام الناس معه وليسوا على ماء وليس معهم ماء فاتى الناس ابا بكر - رضى الله عنه - فقالوا الا ترى ما صنعت عايشة اقامت برسول الله صلى الله عليه وسلم وبالناس وليسوا على ماء وليس معهم ماء . فجاء ابو بكر - رضى الله عنه - ورسول الله صلى الله عليه وسلم واضع راسه على فخذي قد نام فقال حبست رسول الله صلى الله عليه وسلم والناس وليسوا على ماء وليس معهم ماء . قالت عايشة فعاتبني ابو بكر وقال ما شاء الله ان يقول وجعل يطعن بيده في خاصرتي فما منعني من التحرك الا مكان رسول الله صلى الله عليه وسلم على فخذي فنام رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اصبح على غير ماء فانزل الله عز وجل اية التيمم . فقال اسيد بن حضير ما هي باول بركتكم يا ال ابي بكر . قالت فبعثنا البعير الذي كنت عليه فوجدنا العقد تحته
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ عبداللہ بن یسار دونوں آئے یہاں تک کہ ابوجہیم بن حارث بن صمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بئر جمل کی طرف سے آئے، تو آپ سے ایک آدمی ملا، اور اس نے آپ کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ دیوار کے پاس آئے، اور آپ نے اپنے چہرہ اور دونوں ہاتھ پر مسح کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال حدثنا شعيب بن الليث، عن ابيه، عن جعفر بن ربيعة، عن عبد الرحمن بن هرمز، عن عمير، مولى ابن عباس انه سمعه يقول اقبلت انا وعبد الله بن يسار، مولى ميمونة حتى دخلنا على ابي جهيم بن الحارث بن الصمة الانصاري فقال ابو جهيم اقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم من نحو بير الجمل ولقيه رجل فسلم عليه فلم يرد رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اقبل على الجدار فمسح بوجهه ويديه ثم رد عليه السلام
عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت ہے کہ ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہا کہ میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا، ( کیا کروں؟ ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ( غسل کئے بغیر ) نماز نہ پڑھو، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ میں اور آپ دونوں ایک سریہ ( فوجی مہم ) میں تھے، تو ہم جنبی ہو گئے، اور ہمیں پانی نہیں ملا، تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی، اور رہا میں تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ کر نماز پڑھ لی، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے ہم نے اس کا ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری، پھر ان دونوں سے اپنے چہرہ اور دونوں ہتھیلیوں پر مسح کیا – سلمہ کو شک ہے، وہ یہ نہیں جان سکے کہ اس میں مسح کا ذکر دونوں کہنیوں تک ہے یا دونوں ہتھیلیوں تک – ( عمار رضی اللہ عنہ کی بات سن کر ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو تم کہہ رہے ہو ہم تمہیں کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں ۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن سلمة، عن ذر، عن ابن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، ان رجلا، اتى عمر فقال اني اجنبت فلم اجد الماء . قال عمر لا تصل . فقال عمار بن ياسر يا امير المومنين اما تذكر اذ انا وانت في سرية فاجنبنا فلم نجد الماء فاما انت فلم تصل واما انا فتمعكت في التراب فصليت فاتينا النبي صلى الله عليه وسلم فذكرنا ذلك له فقال " انما كان يكفيك " . فضرب النبي صلى الله عليه وسلم يديه الى الارض ثم نفخ فيهما ثم مسح بهما وجهه وكفيه - وسلمة شك لا يدري فيه المرفقين او الى الكفين - فقال عمر نوليك ما توليت
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اونٹ چرا رہا تھا کہ میں جنبی ہو گیا، اور مجھے پانی نہیں ملا، تو میں نے جانور کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس تیمم ہی کافی تھا ۔
اخبرنا محمد بن عبيد بن محمد، قال حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن ناجية بن خفاف، عن عمار بن ياسر، قال اجنبت وانا في الابل، فلم اجد ماء فتمعكت في التراب تمعك الدابة فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرته بذلك فقال " انما كان يجزيك من ذلك التيمم
عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پچھلے پہر اولات الجیش میں اترے، آپ کے ساتھ آپ کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، تو ان کا ظفار کے مونگوں والا ہار ٹوٹ کر گر گیا، تو ان کے اس ہار کی تلاش میں لوگ روک لیے گئے یہاں تک کہ فجر روشن ہو گئی، اور لوگوں کے پاس پانی بالکل نہیں تھا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر ناراض ہوئے، اور کہنے لگے: تم نے لوگوں کو روک رکھا ہے اور حال یہ ہے کہ ان کے پاس پانی بالکل نہیں ہے، تو اللہ عزوجل نے مٹی سے تیمم کرنے کی رخصت نازل فرمائی، عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، اور ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر انہیں بغیر جھاڑے اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مونڈھوں تک اور اپنے ہاتھوں کے نیچے ( کے حصہ پر ) بغل تک مل لیا ۱؎۔
اخبرنا محمد بن يحيى بن عبد الله، قال حدثنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، قال حدثني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، عن عمار، قال عرس رسول الله صلى الله عليه وسلم باولات الجيش ومعه عايشة زوجته فانقطع عقدها من جزع ظفار فحبس الناس ابتغاء عقدها ذلك حتى اضاء الفجر وليس مع الناس ماء فتغيظ عليها ابو بكر فقال حبست الناس وليس معهم ماء فانزل الله عز وجل رخصة التيمم بالصعيد قال فقام المسلمون مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فضربوا بايديهم الارض ثم رفعوا ايديهم ولم ينفضوا من التراب شييا فمسحوا بها وجوههم وايديهم الى المناكب ومن بطون ايديهم الى الاباط
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مٹی سے تیمم کیا، تو ہم نے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مونڈھوں تک مسح کیا۔
اخبرنا العباس بن عبد العظيم العنبري، قال حدثنا عبد الله بن محمد بن اسماء، قال حدثنا جويرية، عن مالك، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، انه اخبره عن ابيه، عن عمار بن ياسر، قال تيممنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالتراب فمسحنا بوجوهنا وايدينا الى المناكب
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: امیر المؤمنین! بسا اوقات ہمیں ایک ایک دو دو مہینہ بغیر پانی کے رہنا پڑ جاتا ہے، ( تو ہم کیا کریں؟ ) تو آپ نے کہا: رہا میں تو میں جب تک پانی نہ پا لوں نماز نہیں پڑھ سکتا، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد ہے؟ جب آپ اور ہم فلاں اور فلاں جگہ اونٹ چرا رہے تھے، تو آپ کو معلوم ہے کہ ہم جنبی ہو گئے تھے، کہنے لگے: ہاں، تو رہا میں تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ( اور ہم نے اسے آپ سے بیان کیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنس کر فرمایا: تمہارے لیے مٹی سے اس طرح کر لینا کافی تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری ۱؎، پھر اپنے چہرہ کا اور اپنے دونوں بازووں کے کچھ حصہ کا مسح کیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمار! اللہ سے ڈرو، تو انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو میں اسے نہ بیان کروں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ جو تم کہہ رہے ہو ہم تم کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن سلمة، عن ابي مالك، وعن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابزى، عن عبد الرحمن بن ابزى، قال كنا عند عمر فاتاه رجل فقال يا امير المومنين ربما نمكث الشهر والشهرين ولا نجد الماء . فقال عمر اما انا فاذا لم اجد الماء لم اكن لاصلي حتى اجد الماء . فقال عمار بن ياسر اتذكر يا امير المومنين حيث كنت بمكان كذا وكذا ونحن نرعى الابل فتعلم انا اجنبنا قال نعم اما انا فتمرغت في التراب فاتينا النبي صلى الله عليه وسلم فضحك فقال " ان كان الصعيد لكافيك " . وضرب بكفيه الى الارض ثم نفخ فيهما ثم مسح وجهه وبعض ذراعيه . فقال اتق الله يا عمار . فقال يا امير المومنين ان شيت لم اذكره . قال لا ولكن نوليك من ذلك ما توليت
عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے تیمم کے متعلق سوال کیا، تو وہ نہیں جان سکے کہ کیا جواب دیں، عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کو یاد ہے؟ جب ہم ایک سریہ ( فوجی مہم ) میں تھے، اور میں جنبی ہو گیا تھا، تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے اس طرح کر لینا ہی کافی تھا ، شعبہ نے ( تیمم کا طریقہ بتانے کے لیے ) اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پر مارے، پھر ان میں پھونک ماری، اور ان دونوں سے اپنے چہرہ اور اپنے دونوں ہتھیلیوں پر ایک بار مسح کیا ۔
اخبرنا عمرو بن يزيد، قال حدثنا بهز، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا الحكم، عن ذر، عن ابن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، ان رجلا، سال عمر بن الخطاب عن التيمم، فلم يدر ما يقول فقال عمار اتذكر حيث كنا في سرية فاجنبت فتمعكت في التراب فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " انما يكفيك هكذا " . وضرب شعبة بيديه على ركبتيه ونفخ في يديه ومسح بهما وجهه وكفيه مرة واحدة
حکم بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ایک آدمی جنبی ہو گیا، تو وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا ( تو میں کیا کروں؟ ) انہوں نے کہا: ( جب تک پانی نہ ملے ) نماز نہ پڑھو، اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب ہم لوگ ایک سریہ ( فوجی مہم ) میں تھے، تو ہم جنبی ہو گئے تھے، تو رہے آپ، تو آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی، اور رہا میں، تو میں نے زمین پر لوٹ پوٹ لیا، پھر نماز پڑھ لی، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا ، شعبہ نے اپنی ہتھیلی ( گھٹنوں پر ) ایک مرتبہ ماری، اور اس میں پھونک ماری، پھر ایک کو دوسرے سے رگڑا، پھر ان دونوں سے اپنے چہرے کا مسح کیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں ایسی چیز ( سن رہا ہوں ) جو مجھے معلوم نہیں، تو عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں اسے بیان نہ کروں؟ سلمہ نے اس سند میں ابو مالک سے کچھ اور بھی چیزوں کا ذکر کیا ہے، اور سلمہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ اس سلسلہ میں جو کچھ تم کہہ رہے ہو ہم تم کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، انبانا خالد، انبانا شعبة، عن الحكم، سمعت ذرا، يحدث عن ابن ابزى، عن ابيه، قال وقد سمعه الحكم، من ابن عبد الرحمن قال اجنب رجل فاتى عمر - رضى الله عنه - فقال اني اجنبت فلم اجد ماء . قال لا تصل . قال له عمار اما تذكر انا كنا في سرية فاجنبنا فلم نجد ماء فاما انت فلم تصل واما انا فاني تمعكت فصليت ثم اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال " انما كان يكفيك " . وضرب شعبة بكفيه ضربة ونفخ فيهما ثم دلك احداهما بالاخرى ثم مسح بهما وجهه . فقال عمر شييا لا ادري ما هو . فقال ان شيت لا حدثته . وذكر شييا في هذا الاسناد عن ابي مالك وزاد سلمة قال بل نوليك من ذلك ما توليت
عبدالرحمٰن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: میں جنبی ہو گیا ہوں، اور مجھے پانی نہیں ملا ( کیا کروں؟ ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ( جب تک پانی نہ ملے ) تم نماز نہ پڑھو، اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں؟ جب میں اور آپ دونوں ایک سریہ میں تھے، تو ہم جنبی ہو گئے، اور ہمیں پانی نہیں ملا، تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی، لیکن میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں نے نماز پڑھ لی، تو جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنے دونوں ہاتھ مارے، پھر ان میں پھونک ماری، پھر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کا مسح کیا۔ سلمہ نے شک کیا اور کہا: مجھے نہیں معلوم کہ ( میرے شیخ ذر نے دونوں کہنیوں تک مسح کا ذکر کیا یا دونوں ہتھیلیوں تک ) ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس سلسلہ میں جو تم کہہ رہے ہو اس کی ذمہ داری ہم تمہارے ہی سر ڈالتے ہیں شعبہ کہتے ہیں: سلمہ دونوں ہتھیلیوں، چہرے اور دونوں بازؤوں کا ذکر کر رہے تھے، تو منصور نے ان سے کہا: یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ کے سوا کسی اور نے بازؤوں کا ذکر نہیں کیا ہے، تو سلمہ شک میں پڑ گئے اور کہنے لگے مجھے نہیں معلوم کہ ( ذر نے ) بازؤوں کا ذکر کیا یا نہیں؟۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن تميم، قال حدثنا حجاج، قال حدثنا شعبة، عن الحكم، وسلمة، عن ذر، عن ابن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، ان رجلا، جاء الى عمر - رضى الله عنه - فقال اني اجنبت فلم اجد الماء . فقال عمر لا تصل . فقال عمار اما تذكر يا امير المومنين اذ انا وانت في سرية فاجنبنا فلم نجد ماء فاما انت فلم تصل واما انا فتمعكت في التراب ثم صليت فلما اتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكرت ذلك له فقال " انما يكفيك " . وضرب النبي صلى الله عليه وسلم بيديه الى الارض ثم نفخ فيهما فمسح بهما وجهه وكفيه - شك سلمة وقال لا ادري فيه الى المرفقين او الى الكفين - قال عمر نوليك من ذلك ما توليت قال شعبة كان يقول الكفين والوجه والذراعين . فقال له منصور ما تقول فانه لا يذكر الذراعين احد غيرك . فشك سلمة فقال لا ادري ذكر الذراعين ام لا
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، تو ابوموسیٰ نے کہا: ۱؎ آپ نے عمار رضی اللہ عنہ کی بات جو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہی نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ضرورت سے بھیجا، تو میں جنبی ہو گیا، اور مجھے پانی نہیں ملا، تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس اس طرح کر لینا ہی کافی تھا ، اور آپ نے اپنا دونوں ہاتھ زمین پر ایک بار مارا، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کا مسح کیا، پھر انہیں جھاڑا، پھر آپ نے اپنی بائیں ( ہتھیلی ) سے اپنی داہنی ( ہتھیلی ) پر اور داہنی ہتھیلی سے اپنی بائیں ( ہتھیلی ) پر مارا، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں اور اپنے چہرے کا مسح کیا، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ عمار رضی اللہ عنہ کی بات سے مطمئن نہیں ہوئے؟۔
اخبرنا محمد بن العلاء، قال حدثنا ابو معاوية، قال حدثنا الاعمش، عن شقيق، قال كنت جالسا مع عبد الله وابي موسى فقال ابو موسى اولم تسمع قول عمار لعمر بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم في حاجة فاجنبت فلم اجد الماء فتمرغت بالصعيد ثم اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال " انما كان يكفيك ان تقول هكذا " . وضرب بيديه على الارض ضربة فمسح كفيه ثم نفضهما ثم ضرب بشماله على يمينه وبيمينه على شماله على كفيه ووجهه فقال عبد الله اولم تر عمر لم يقنع بقول عمار