Loading...

Loading...
کتب
۳۲۴ احادیث
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو الگ تھلگ بیٹھا دیکھا، اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں ادا کی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں! کس چیز نے تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے اور پانی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( پانی نہ ملنے پر ) مٹی کو لازم پکڑو کیونکہ یہ تمہارے لیے کافی ہے ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، عن عوف، عن ابي رجاء، قال سمعت عمران بن حصين، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا معتزلا لم يصل مع القوم فقال " يا فلان ما منعك ان تصلي مع القوم " . فقال يا رسول الله اصابتني جنابة ولا ماء . قال " عليك بالصعيد فانه يكفيك
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے، اگرچہ وہ دس سال تک پانی نہ پائے ۔
اخبرنا عمرو بن هشام، قال حدثنا مخلد، عن سفيان، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن عمرو بن بجدان، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الصعيد الطيب وضوء المسلم وان لم يجد الماء عشر سنين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور کچھ اور لوگوں کو بھیجا، یہ لوگ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار ڈھونڈ رہے تھے جسے وہ اس جگہ بھول گئیں تھیں جہاں وہ ( آرام کرنے کے لیے ) اتری تھیں، ( اسی اثناء میں ) نماز کا وقت ہو گیا، اور یہ لوگ نہ تو باوضو تھے اور نہ ہی انہیں ( کہیں ) پانی ملا، تو انہوں نے بلا وضو نماز پڑھ لی، پھر ان لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو اللہ عزوجل نے تیمم کی آیت نازل فرمائی، تو اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے ( ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا ) اللہ آپ کو اچھا بدلہ دے، اللہ کی قسم! جب بھی آپ کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش آیا جسے آپ ناگوار سمجھتی رہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اس میں آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے بہتری رکھ دی۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا ابو معاوية، قال حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم اسيد بن حضير وناسا يطلبون قلادة كانت لعايشة نسيتها في منزل نزلته فحضرت الصلاة وليسوا على وضوء ولم يجدوا ماء فصلوا بغير وضوء فذكروا ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فانزل الله عز وجل اية التيمم قال اسيد بن حضير جزاك الله خيرا فوالله ما نزل بك امر تكرهينه الا جعل الله لك وللمسلمين فيه خيرا
طارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جنبی ہو گیا، اس نے نماز نہیں پڑھی، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا، پھر ایک دوسرا آدمی بھی جنبی ہو گیا، تو اس نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، اور آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی ایسا ہی فرمایا جیسا کہ دوسرے سے فرمایا تھا، یعنی تم نے بھی ٹھیک کیا ۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، قال حدثنا امية بن خالد، قال انبانا شعبة، ان مخارقا، اخبرهم عن طارق، ان رجلا، اجنب فلم يصل فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال " اصبت " . فاجنب رجل اخر فتيمم وصلى فاتاه فقال نحو ما قال للاخر يعني " اصبت