احادیث
#312
سنن نسائی - Purification
عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت ہے کہ ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہا کہ میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا، ( کیا کروں؟ ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ( غسل کئے بغیر ) نماز نہ پڑھو، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ میں اور آپ دونوں ایک سریہ ( فوجی مہم ) میں تھے، تو ہم جنبی ہو گئے، اور ہمیں پانی نہیں ملا، تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی، اور رہا میں تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ کر نماز پڑھ لی، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے ہم نے اس کا ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری، پھر ان دونوں سے اپنے چہرہ اور دونوں ہتھیلیوں پر مسح کیا – سلمہ کو شک ہے، وہ یہ نہیں جان سکے کہ اس میں مسح کا ذکر دونوں کہنیوں تک ہے یا دونوں ہتھیلیوں تک – ( عمار رضی اللہ عنہ کی بات سن کر ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو تم کہہ رہے ہو ہم تمہیں کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں ۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن سلمة، عن ذر، عن ابن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، ان رجلا، اتى عمر فقال اني اجنبت فلم اجد الماء . قال عمر لا تصل . فقال عمار بن ياسر يا امير المومنين اما تذكر اذ انا وانت في سرية فاجنبنا فلم نجد الماء فاما انت فلم تصل واما انا فتمعكت في التراب فصليت فاتينا النبي صلى الله عليه وسلم فذكرنا ذلك له فقال " انما كان يكفيك " . فضرب النبي صلى الله عليه وسلم يديه الى الارض ثم نفخ فيهما ثم مسح بهما وجهه وكفيه - وسلمة شك لا يدري فيه المرفقين او الى الكفين - فقال عمر نوليك ما توليت
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Purification
- Hadith Index
- #312
- Book Index
- 313
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
