Loading...

Loading...
کتب
۳۲۴ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللہم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس» اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے، اور میرے دل کو گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا ہے ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الابيض من الدنس
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جنازے پر نماز پڑھتے ہوئے سنا، تو میں نے آپ کی دعا میں سے سنا آپ فرما رہے تھے: «اللہم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وأكرم نزله وأوسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس » اے اللہ! اسے بخش دے، اس پر رحم کر، اسے عافیت سے رکھ، اس سے درگزر فرما، اس کی بہترین مہمان نوازی فرما، اس کی جگہ ( قبر ) کشادہ کر دے، اس ( کے گناہوں ) کو پانی، برف اور اولوں سے دھو دے، اور اس کو گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے ۔
اخبرني هارون بن عبد الله، قال حدثنا معن، قال حدثنا معاوية بن صالح، عن حبيب بن عبيد، عن جبير بن نفير، قال شهدت عوف بن مالك يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي على ميت فسمعت من دعايه وهو يقول " اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه واكرم نزله واوسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا كما ينقى الثوب الابيض من الدنس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کتا تم میں سے کسی کے برتن سے پی لے، تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا شرب الكلب في اناء احدكم فليغسله سبع مرات
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے ۔
اخبرني ابراهيم بن الحسن، قال حدثنا حجاج، قال قال ابن جريج اخبرني زياد بن سعد، ان ثابتا، مولى عبد الرحمن بن زيد اخبره انه، سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا ولغ الكلب في اناء احدكم فليغسله سبع مرات
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔
اخبرني ابراهيم بن الحسن، قال حدثنا حجاج، قال قال ابن جريج اخبرني زياد بن سعد، انه اخبره هلال بن اسامة، انه سمع ابا سلمة، يخبر عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال دے، تو وہ ( جو کچھ اس برتن میں ہو ) اسے بہا دے، پھر سات مرتبہ اسے دھوئے ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ کسی شخص نے علی بن مسہر کی ان کے قول «فلیرقہ» پر متابعت کی ہو۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا علي بن مسهر، عن الاعمش، عن ابي رزين، وابي، صالح عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا ولغ الكلب في اناء احدكم فليرقه ثم ليغسله سبع مرات " . قال ابو عبد الرحمن لا اعلم احدا تابع علي بن مسهر على قوله فليرقه
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا ۱؎ اور شکاری کتوں کی اور بکریوں کے ریوڑ کی نگہبانی کرنے والے کتوں کی اجازت دی، اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے، تو اسے سات مرتبہ دھوؤ، اور آٹھویں دفعہ اسے مٹی سے مانجھو ۲؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، قال حدثنا خالد، حدثنا شعبة، عن ابي التياح، قال سمعت مطرفا، عن عبد الله بن المغفل، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بقتل الكلاب ورخص في كلب الصيد والغنم وقال " اذا ولغ الكلب في الاناء فاغسلوه سبع مرات وعفروه الثامنة بالتراب
کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، پھر ( کبشہ نے ) ایک ایسی بات کہی جس کا مفہوم یہ ہے کہ میں نے ان کے لیے وضو کا پانی لا کر ایک برتن میں ڈالا، اتنے میں ایک بلی آئی اور اس سے پینے لگی، تو انہوں نے برتن ٹیڑھا کر دیا یہاں تک کہ اس بلی نے پانی پی لیا، کبشہ کہتی ہیں: تو انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں انہیں ( حیرت سے ) دیکھ رہی ہوں، تو کہنے لگے: بھتیجی! کیا تم تعجب کر رہی ہو؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو تمہارے پاس بکثرت آنے جانے والوں اور آنے جانے والیوں میں سے ہے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن حميدة بنت عبيد بن رفاعة، عن كبشة بنت كعب بن مالك، ان ابا قتادة، دخل عليها ثم ذكرت كلمة معناها فسكبت له وضوءا فجاءت هرة فشربت منه فاصغى لها الاناء حتى شربت - قالت كبشة - فراني انظر اليه فقال اتعجبين يا ابنة اخي فقلت نعم . قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انها ليست بنجس انما هي من الطوافين عليكم والطوافات
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی آیا اور اس نے کہا: اللہ اور اس کے رسول تم لوگوں کو گدھوں کے گوشت سے منع فرماتے ہیں، کیونکہ وہ ناپاک ہیں ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن يزيد، قال حدثنا سفيان، عن ايوب، عن محمد، عن انس، قال اتانا منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ان الله ورسوله ينهاكم عن لحوم الحمر فانها رجس
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں ہڈی نوچتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اسی جگہ رکھتے جہاں میں رکھتی حالانکہ میں حائضہ ہوتی، اور میں برتن سے پانی پیتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اسی جگہ رکھتے جہاں میں رکھتی، حالانکہ میں حائضہ ہوتی۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن المقدام بن شريح، عن ابيه، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كنت اتعرق العرق فيضع رسول الله صلى الله عليه وسلم فاه حيث وضعت وانا حايض وكنت اشرب من الاناء فيضع فاه حيث وضعت وانا حايض
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرد اور عورتیں ایک ساتھ ( یعنی ایک ہی برتن سے ) وضو کرتے تھے ۱؎۔
اخبرني هارون بن عبد الله، قال حدثنا معن، قال حدثنا مالك، ح والحارث بن مسكين قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان الرجال والنساء يتوضيون في زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم جميعا
عروہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھیں۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، انها اخبرته انها، كانت تغتسل مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في الاناء الواحد
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مکوک پانی سے وضو اور پانچ مکوک سے غسل فرماتے تھے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا شعبة، قال حدثني عبد الله بن عبد الله بن جبر، قال سمعت انس بن مالك، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضا بمكوك ويغتسل بخمسة مكاكي
ام عمارہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا ارادہ کیا تو آپ کی خدمت میں ایک برتن میں دو تہائی مد کے بقدر پانی لایا گیا، ( شعبہ کہتے ہیں: مجھے اتنا اور یاد ہے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا، اور انہیں ملنے اور اپنے دونوں کانوں کے داخلی حصے کا مسح کرنے لگے، اور مجھے یہ نہیں یاد کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اوپری ( ظاہری ) حصے کا مسح کیا۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، ثم ذكر كلمة معناها حدثنا شعبة، عن حبيب، قال سمعت عباد بن تميم، يحدث عن جدتي، وهي ام عمارة بنت كعب ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا فاتي بماء في اناء قدر ثلثى المد . قال شعبة فاحفظ انه غسل ذراعيه وجعل يدلكهما ويمسح اذنيه باطنهما ولا احفظ انه مسح ظاهرهما
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، آدمی کے لیے وہی چیز ہے جس کی اس نے نیت کی، تو جس نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو گی، اور جس نے دنیا کے حصول یا کسی عورت سے شادی کرنے کی غرض سے ہجرت کی تو اس کی ہجرت اسی چیز کے واسطے ہو گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۱؎۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، عن حماد، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، حدثني مالك، ح واخبرنا سليمان بن منصور، قال انبانا عبد الله بن المبارك، - واللفظ له - عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن ابراهيم، عن علقمة بن وقاص، عن عمر بن الخطاب، - رضى الله عنه - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما الاعمال بالنية وانما لامري ما نوى فمن كانت هجرته الى الله والى رسوله فهجرته الى الله والى رسوله ومن كانت هجرته الى دنيا يصيبها او امراة ينكحها فهجرته الى ما هاجر اليه
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں دیکھا کہ عصر کا وقت قریب ہو گیا تھا، تو لوگوں نے وضو کے لیے پانی تلاش کیا مگر وہ پانی نہیں پا سکے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تھوڑا سا وضو کا پانی لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا، اور لوگوں کو وضو کرنے کا حکم دیا، تو میں نے دیکھا کہ پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے نیچے سے ابل رہا ہے، حتیٰ کہ ان کے آخری آدمی نے بھی وضو کر لیا ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم وحانت صلاة العصر فالتمس الناس الوضوء فلم يجدوه فاتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بوضوء فوضع يده في ذلك الاناء وامر الناس ان يتوضيوا فرايت الماء ينبع من تحت اصابعه حتى توضيوا من عند اخرهم
عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں کو پانی نہ ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک طشت لایا گیا، آپ نے اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا، تو میں نے دیکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے ابل رہا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: پاک کرنے والے پانی اور اللہ کی برکت پر آؤ ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال انبانا سفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم فلم يجدوا ماء فاتي بتور فادخل يده فلقد رايت الماء يتفجر من بين اصابعه ويقول " حى على الطهور والبركة من الله عز وجل " . قال الاعمش فحدثني سالم بن ابي الجعد قال قلت لجابر كم كنتم يوميذ قال الف وخمسماية
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ صحابہ کرام نے وضو کا پانی تلاش کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے؟ ( تو ایک برتن میں تھوڑا سا پانی لایا گیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ یہ فرماتے ہوئے پانی میں ڈالا: بسم اللہ کر کے وضو کرو میں نے دیکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے نکل رہا تھا، حتیٰ کہ ان میں سے آخری آدمی نے بھی وضو کر لیا۔ ثابت کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کے خیال میں وہ کتنے لوگ تھے؟ تو انہوں نے کہا: ستر کے قریب ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال حدثنا معمر، عن ثابت، وقتادة، عن انس، قال طلب بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وضوءا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل مع احد منكم ماء " . فوضع يده في الماء ويقول " توضيوا بسم الله " . فرايت الماء يخرج من بين اصابعه حتى توضيوا من عند اخرهم . قال ثابت قلت لانس كم تراهم قال نحوا من سبعين
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے غزوہ تبوک میں جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، آپ پر پانی ڈالا، پھر آپ نے اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا ۱؎۔
اخبرنا سليمان بن داود، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن وهب، عن مالك، ويونس، وعمرو بن الحارث، ان ابن شهاب، اخبرهم عن عباد بن زياد، عن عروة بن المغيرة، انه سمع اباه، يقول سكبت على رسول الله صلى الله عليه وسلم حين توضا في غزوة تبوك فمسح على الخفين . قال ابو عبد الرحمن لم يذكر مالك عروة بن المغيرة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں نہ بتاؤں؟ پھر انہوں نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثنا زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابن عباس، قال الا اخبركم بوضوء، رسول الله صلى الله عليه وسلم فتوضا مرة مرة