Loading...

Loading...
کتب
۳۲۴ احادیث
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ( حقارت کے انداز میں ) ان سے کہا: تمہارے نبی تمہیں ( سب کچھ ) سکھاتے ہیں یہاں تک کہ پاخانہ کرنا ( بھی ) ؟ تو انہوں نے ( فخریہ انداز میں ) کہا: ہاں! آپ نے ہمیں پاخانہ اور پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے اور ( استنجاء کے لیے ) تین پتھر سے کم پر اکتفا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا ابو معاوية، قال حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن سلمان، قال قال له رجل ان صاحبكم ليعلمكم حتى الخراءة . قال اجل نهانا ان نستقبل القبلة بغايط او بول او نستنجي بايماننا او نكتفي باقل من ثلاثة احجار
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت ( پاخانے ) کی جگہ میں آئے، اور مجھے تین پتھر لانے کا حکم فرمایا، مجھے دو پتھر ملے، تیسرے کی میں نے تلاش کی مگر وہ نہیں ملا، تو میں نے گوبر لے لیا اور ان تینوں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے دونوں پتھر لے لیے، اور گوبر پھینک دیا ۱؎ اور فرمایا: یہ «رکس» ( ناپاک ) ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن النسائی کہتے ہیں: «رکس» سے مراد جنوں کا کھانا ہے ۲؎۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا ابو نعيم، عن زهير، عن ابي اسحاق، قال ليس ابو عبيدة ذكره ولكن عبد الرحمن بن الاسود عن ابيه، انه سمع عبد الله، يقول اتى النبي صلى الله عليه وسلم الغايط وامرني ان اتيه بثلاثة احجار فوجدت حجرين والتمست الثالث فلم اجده فاخذت روثة فاتيت بهن النبي صلى الله عليه وسلم فاخذ الحجرين والقى الروثة وقال " هذه ركس " . قال ابو عبد الرحمن الركس طعام الجن
سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب استنجاء کرو تو طاق ( ڈھیلا ) استعمال کرو ۱؎۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا جرير، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن سلمة بن قيس، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا استجمرت فاوتر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو اپنے ساتھ تین پتھر لے جائے، اور ان سے پاکی حاصل کرے کیونکہ یہ طہارت کے لیے کافی ہیں ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن ابيه، عن مسلم بن قرط، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا ذهب احدكم الى الغايط فليذهب معه بثلاثة احجار فليستطب بها فانها تجزي عنه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو میں اور میرے ساتھ مجھ ہی جیسا ایک لڑکا دونوں پانی کا برتن لے جا کر رکھتے، تو آپ پانی سے استنجاء فرماتے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا النضر، قال انبانا شعبة، عن عطاء بن ابي ميمونة، قال سمعت انس بن مالك، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا دخل الخلاء احمل انا وغلام معي نحوي اداوة من ماء فيستنجي بالماء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ تم عورتیں اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ پانی سے استنجاء کریں، کیونکہ میں ان سے یہ کہنے میں شرماتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن معاذة، عن عايشة، انها قالت مرن ازواجكن ان يستطيبوا بالماء فاني استحييهم منه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يفعله
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پانی پئیے تو اپنے برتن میں سانس نہ لے، اور جب قضائے حاجت کے لیے آئے تو اپنے داہنے ہاتھ سے ذکر ( عضو تناسل ) نہ چھوئے، اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے ۱؎۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال انبانا هشام، عن يحيى، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابي قتادة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا شرب احدكم فلا يتنفس في انايه واذا اتى الخلاء فلا يمس ذكره بيمينه ولا يتمسح بيمينه
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے، داہنے ہاتھ سے عضو تناسل چھونے سے اور داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن، قال حدثنا عبد الوهاب، عن ايوب، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابن ابي قتادة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يتنفس في الاناء وان يمس ذكره بيمينه وان يستطيب بيمينه
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکوں نے ( حقارت کے انداز میں ) کہا کہ ہم تمہارے نبی کو دیکھتے ہیں کہ وہ تمہیں پاخانہ ( تک ) کی تعلیم دیتے ہیں، تو انہوں نے ( فخریہ ) کہا: ہاں، آپ نے ہمیں داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے اور ( بحالت قضائے حاجت ) قبلہ کا رخ کرنے سے منع فرمایا، نیز فرمایا: تم میں سے کوئی تین پتھروں سے کم میں استنجاء نہ کرے ۱؎۔
اخبرنا عمرو بن علي، وشعيب بن يوسف، واللفظ، له عن عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن منصور، والاعمش، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن سلمان، قال قال المشركون انا لنرى صاحبكم يعلمكم الخراءة . قال اجل نهانا ان يستنجي احدنا بيمينه ويستقبل القبلة وقال " لا يستنجي احدكم بدون ثلاثة احجار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، جب آپ نے ( اس سے پہلے ) استنجاء کیا تو اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑا ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك المخرمي، قال حدثنا وكيع، عن شريك، عن ابراهيم بن جرير، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم توضا فلما استنجى دلك يده بالارض
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ قضائے حاجت کی جگہ میں آئے، اور آپ نے حاجت پوری کی، پھر فرمایا: جریر! پانی لاؤ ، میں نے پانی حاضر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی سے استنجاء کیا، اور راوی نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کو زمین پر رگڑا۔
اخبرنا احمد بن الصباح، قال حدثنا شعيب، - يعني ابن حرب - قال حدثنا ابان بن عبد الله البجلي، قال حدثنا ابراهيم بن جرير، عن ابيه، قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم فاتى الخلاء فقضى الحاجة ثم قال " يا جرير هات طهورا " . فاتيته بالماء فاستنجى بالماء وقال بيده فدلك بها الارض . قال ابو عبد الرحمن هذا اشبه بالصواب من حديث شريك والله سبحانه وتعالى اعلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر چوپائے اور درندے آتے جاتے ہوں؛ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب پانی دو قلہ ۱؎ ہو تو وہ گندگی کو اثر انداز نہیں ہونے دے گا یعنی اسے دفع کر دے گا؟ ۲؎۔
اخبرنا هناد بن السري، والحسين بن حريث، عن ابي اسامة، عن الوليد بن كثير، عن محمد بن جعفر، عن عبد الله بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الماء وما ينوبه من الدواب والسباع . فقال " اذا كان الماء قلتين لم يحمل الخبث
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) مسجد میں پیشاب کرنے لگا، تو کچھ لوگ اس پر جھپٹے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، کرنے دو روکو نہیں ۱؎، جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ نے پانی منگوایا، اور اس پر انڈیل دیا۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی رحمہ اللہ ) کہتے ہیں: یعنی بیچ میں نہ روکو پیشاب کر لینے دو۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا حماد، عن ثابت، عن انس، ان اعرابيا، بال في المسجد فقام اليه بعض القوم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " دعوه لا تزرموه " . فلما فرغ دعا بدلو فصبه عليه . قال ابو عبد الرحمن يعني لا تقطعوا عليه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے مسجد میں پیشاب کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا جو اس پر ڈال دیا گیا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا عبيدة، عن يحيى بن سعيد، عن انس، قال بال اعرابي في المسجد فامر النبي صلى الله عليه وسلم بدلو من ماء فصب عليه
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی مسجد میں آیا اور پیشاب کرنے لگا، تو لوگ اس پر چیخے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو ( کرنے دو ) تو لوگوں نے اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس نے پیشاب کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا جو اس پر بہا دیا گیا۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن يحيى بن سعيد، قال سمعت انسا، يقول جاء اعرابي الى المسجد فبال فصاح به الناس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتركوه " . فتركوه حتى بال ثم امر بدلو فصب عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی اٹھا، اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، تو لوگ اسے پکڑنے کے لیے بڑھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اسے چھوڑ دو ( پیشاب کر لینے دو ) اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو، کیونکہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، سختی کرنے والے بنا کر نہیں ۔
اخبرنا عبد الرحمن بن ابراهيم، عن عمر بن عبد الواحد، عن الاوزاعي، عن محمد بن الوليد، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابي هريرة، قال قام اعرابي فبال في المسجد فتناوله الناس فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " دعوه واهريقوا على بوله دلوا من ماء فانما بعثتم ميسرين ولم تبعثوا معسرين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے وضو کرے ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عيسى بن يونس، قال حدثنا عوف، عن محمد، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يبولن احدكم في الماء الدايم ثم يتوضا منه " . قال عوف وقال خلاس عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ہرگز ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل کرے ۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا اسماعيل، عن يحيى بن عتيق، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يبولن احدكم في الماء الدايم ثم يغتسل منه " . قال ابو عبد الرحمن كان يعقوب لا يحدث بهذا الحديث الا بدينار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کر لیں تو پیاسے رہ جائیں، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا ہے، اور اس کا مردار حلال ہے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن صفوان بن سليم، عن سعيد بن سلمة، ان المغيرة بن ابي بردة، من بني عبد الدار اخبره انه، سمع ابا هريرة، يقول سال رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله انا نركب البحر ونحمل معنا القليل من الماء فان توضانا به عطشنا افنتوضا من ماء البحر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هو الطهور ماوه الحل ميتته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر خاموش رہتے، تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! آپ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان اپنے خاموش رہنے کے دوران کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کہتا ہوں «اللہم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللہم نقني من خطاياى كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللہم اغسلني من خطاياى بالثلج والماء والبرد» اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اسی طرح دوری پیدا کر دے جیسے کہ تو نے پورب اور پچھم کے درمیان دوری رکھی ہے، اے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے برف، پانی اور اولے کے ذریعہ دھو ڈال ۱؎۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا جرير، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا استفتح الصلاة سكت هنيهة فقلت بابي انت وامي يا رسول الله ما تقول في سكوتك بين التكبير والقراءة قال " اقول اللهم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم نقني من خطاياى كما ينقى الثوب الابيض من الدنس اللهم اغسلني من خطاياى بالثلج والماء والبرد