Loading...

Loading...
کتب
۳۲۴ احادیث
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاخانہ و پیشاب کے لیے قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرو، بلکہ پورب یا پچھم کی طرف کرو ۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد، عن ابي ايوب، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تستقبلوا القبلة ولا تستدبروها لغايط او بول ولكن شرقوا او غربوا
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف رخ نہ کرے، بلکہ پورب یا پچھم کی طرف کرے ۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال انبانا غندر، قال انبانا معمر، قال انبانا ابن شهاب، عن عطاء بن يزيد، عن ابي ايوب الانصاري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اتى احدكم الغايط فلا يستقبل القبلة ولكن ليشرق او ليغرب
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کچی اینٹوں پر قضائے حاجت کے لیے بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے بیٹھے دیکھا ۱؎۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن عمه، واسع بن حبان، عن عبد الله بن عمر، قال لقد ارتقيت على ظهر بيتنا فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم على لبنتين مستقبل بيت المقدس لحاجته
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر ( عضو تناسل ) نہ پکڑے ۱؎۔
اخبرنا يحيى بن درست، قال انبانا ابو اسماعيل، - وهو القناد - قال حدثني يحيى بن ابي كثير، ان عبد الله بن ابي قتادة، حدثه عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا بال احدكم فلا ياخذ ذكره بيمينه
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی جگہ میں داخل ہو تو اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر نہ چھوئے ۔
اخبرنا هناد بن السري، عن وكيع، عن هشام، عن يحيى، - هو ابن ابي كثير - عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا دخل احدكم الخلاء فلا يمس ذكره بيمينه
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے کوڑا خانہ پر آئے تو کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
اخبرنا مومل بن هشام، قال انبانا اسماعيل، قال اخبرنا شعبة، عن سليمان، عن ابي وايل، عن حذيفة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتى سباطة قوم فبال قايما
حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے کوڑا خانہ پر آئے تو کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال انبانا محمد، قال انبانا شعبة، عن منصور، قال سمعت ابا وايل، ان حذيفة، قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتى سباطة قوم فبال قايما
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ایک کوڑا خانہ پر چل کر آئے تو آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔
اخبرنا سليمان بن عبيد الله، قال انبانا بهز، قال انبانا شعبة، عن سليمان، ومنصور، عن ابي وايل، عن حذيفة، ان النبي صلى الله عليه وسلم مشى الى سباطة قوم فبال قايما . قال سليمان في حديثه ومسح على خفيه ولم يذكر منصور المسح
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جو تم سے یہ بیان کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، تو تم اس کی تصدیق نہ کرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ہی پیشاب کیا کرتے تھے ۱؎۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا شريك، عن المقدام بن شريح، عن ابيه، عن عايشة، قالت من حدثكم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بال قايما فلا تصدقوه ما كان يبول الا جالسا
عبدالرحمٰن بن حسنہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ کے ہاتھ میں ڈھال کی طرح کوئی چیز تھی، تو آپ نے اسے رکھا، پھر اس کے پیچھے بیٹھے، اور اس کی طرف منہ کر کے پیشاب کیا، اس پر لوگوں نے کہا: ان کو دیکھو! یہ عورت کی طرح پیشاب کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: کیا تمہیں اس چیز کی خبر نہیں جو بنی اسرائیل کے ایک شخص کو پیش آئی، انہیں جب پیشاب میں سے کچھ لگ جاتا تو اسے قینچی سے کاٹ ڈالتے تھے، تو ان کے ایک شخص نے انہیں ( ایسا کرنے سے ) روکا، چنانچہ اس کی وجہ سے وہ اپنی قبر میں عذاب دیا گیا ۔
اخبرنا هناد بن السري، عن ابي معاوية، عن الاعمش، عن زيد بن وهب، عن عبد الرحمن ابن حسنة، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي يده كهيية الدرقة فوضعها ثم جلس خلفها فبال اليها فقال بعض القوم انظروا يبول كما تبول المراة فسمعه فقال " اوما علمت ما اصاب صاحب بني اسراييل كانوا اذا اصابهم شىء من البول قرضوه بالمقاريض فنهاهم صاحبهم فعذب في قبره
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: یہ دونوں قبر والے عذاب دئیے جا رہے ہیں، اور کسی بڑی وجہ سے عذاب نہیں دیے جا رہے ہیں ۱؎، رہا یہ شخص تو اپنے پیشاب کی چھینٹ سے نہیں بچتا تھا، اور رہا یہ ( دوسرا ) شخص تو یہ چغل خوری کیا کرتا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ایک تازہ ٹہنی منگوائی، اور اسے چیر کر دو ٹکڑے کیے اور ہر ایک کی قبر پر ایک ایک شاخ گاڑ دی، پھر فرمایا: امید ہے کہ جب تک یہ دونوں خشک نہ ہو جائیں ان کے عذاب میں تخفیف کر دی جائے ۲؎۔
اخبرنا هناد بن السري، عن وكيع، عن الاعمش، قال سمعت مجاهدا، يحدث عن طاوس، عن ابن عباس، قال مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على قبرين فقال " انهما يعذبان وما يعذبان في كبير اما هذا فكان لا يستنزه من بوله واما هذا فانه كان يمشي بالنميمة " . ثم دعا بعسيب رطب فشقه باثنين فغرس على هذا واحدا وعلى هذا واحدا ثم قال " لعله يخفف عنهما ما لم ييبسا " . خالفه منصور رواه عن مجاهد عن ابن عباس ولم يذكر طاوسا
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ تھا، جس میں آپ پیشاب کرتے اور اسے تخت کے نیچے رکھ لیتے تھے۔
اخبرنا ايوب بن محمد الوزان، قال حدثنا حجاج، قال قال ابن جريج اخبرتني حكيمة بنت اميمة، عن امها، اميمة بنت رقيقة قالت كان للنبي صلى الله عليه وسلم قدح من عيدان يبول فيه ويضعه تحت السرير
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مرض الموت میں ) علی رضی اللہ عنہ کو وصی بنایا، حقیقت یہ ہے کہ آپ نے تھال منگوایا کہ اس میں پیشاب کریں، مگر ( اس سے قبل ہی ) آپ کا جسم ڈھیلا پڑ گیا۔ ( آپ فوت ہو گئے ) مجھے پتہ بھی نہ چلا، تو آپ نے کس کو وصیت کی؟
اخبرنا عمرو بن علي، قال انبانا ازهر، انبانا ابن عون، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت يقولون ان النبي صلى الله عليه وسلم اوصى الى علي لقد دعا بالطست ليبول فيها فانخنثت نفسه وما اشعر فالى من اوصى قال الشيخ ازهر هو ابن سعد السمان
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی سوراخ میں ہرگز پیشاب نہ کرے ، لوگوں نے قتادہ سے پوچھا ؛ سوراخ میں پیشاب کرنا کیوں مکروہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: کہا جاتا ہے کہ یہ جنوں کی رہائش گاہیں ہیں ۱؎۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، قال انبانا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، عن عبد الله بن سرجس، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يبولن احدكم في جحر " . قالوا لقتادة وما يكره من البول في الجحر قال يقال انها مساكن الجن
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه نهى عن البول في الماء الراكد
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے غسل خانے میں پیشاب نہ کرے، کیونکہ زیادہ تر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں ۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا ابن المبارك، عن معمر، عن الاشعث بن عبد الله، عن الحسن، عن عبد الله بن مغفل، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يبولن احدكم في مستحمه فان عامة الوسواس منه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے، تو اس نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا ۱؎۔
اخبرنا محمود بن غيلان، حدثنا زيد بن الحباب، وقبيصة، قالا انبانا سفيان، عن الضحاك بن عثمان، عن نافع، عن ابن عمر، قال مر رجل على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يبول فسلم عليه فلم يرد عليه السلام
مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، اور آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا یہاں تک کہ وضو کیا، پھر جب آپ نے وضو کر لیا، تو ان کے سلام کا جواب دیا۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا معاذ بن معاذ، قال انبانا سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن حضين ابي ساسان، عن المهاجر بن قنفذ، انه سلم على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يبول فلم يرد عليه السلام حتى توضا فلما توضا رد عليه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ تم میں سے کوئی ہڈی یا گوبر سے استنجاء کرے ۱؎۔
اخبرنا احمد بن عمرو بن السرح، قال انبانا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن ابي عثمان بن سنة الخزاعي، عن عبد الله بن مسعود، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يستطيب احدكم بعظم او روث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے باپ کے منزلے میں ہوں ( باپ کی طرح ہوں ) ، تمہیں سکھا رہا ہوں کہ جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو قبلہ کی طرف نہ منہ کرے، نہ پیٹھ، اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے ، آپ ( استنجاء کے لیے ) تین پتھروں کا حکم فرماتے، اور گوبر اور بوسیدہ ہڈی سے ( استنجاء کرنے سے ) آپ منع فرماتے ۱؎۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى، - يعني ابن سعيد - عن محمد بن عجلان، قال اخبرني القعقاع، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " انما انا لكم مثل الوالد اعلمكم اذا ذهب احدكم الى الخلاء فلا يستقبل القبلة ولا يستدبرها ولا يستنج بيمينه " وكان يامر بثلاثة احجار ونهى عن الروث والرمة