Loading...

Loading...
کتب
۴۲ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ ( مسجد میں ) داخل ہوئے، حبشی لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے تو آپ انہیں ڈانٹنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! انہیں چھوڑو ( کھیلنے دو ) یہ بنو ارفدہ ہی تو ہیں ۔
اخبرنا اسحاق بن موسى، قال حدثنا الوليد بن مسلم، قال حدثنا الاوزاعي، قال حدثني الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال دخل عمر والحبشة يلعبون في المسجد فزجرهم عمر رضى الله عنه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " دعهم يا عمر فانما هم بنو ارفدة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے ( گھر میں ) داخل ہوئے، ان کے پاس دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں، اور گانا گا رہی تھیں۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ اپنے کپڑے سے ڈھانپے ہوئے تھے، تو آپ نے اپنا چہرہ کھولا، اور فرمایا: ابوبکر! انہیں چھوڑو کھیلنے دو، یہ عید کے دن ہیں، اور منیٰ کے دن تھے ۲؎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مدینہ میں تھے۔
اخبرنا احمد بن حفص بن عبد الله، قال حدثني ابي قال، حدثني ابراهيم بن طهمان، عن مالك بن انس، عن الزهري، عن عروة، انه حدثه ان عايشة حدثته ان ابا بكر الصديق دخل عليها وعندها جاريتان تضربان بالدف وتغنيان ورسول الله صلى الله عليه وسلم مسجى بثوبه - وقال مرة اخرى متسج ثوبه - فكشف عن وجهه فقال " دعهما يا ابا بكر انها ايام عيد " . وهن ايام منى ورسول الله صلى الله عليه وسلم يوميذ بالمدينة