Loading...

Loading...
کتب
۴۲ احادیث
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن عید گاہ کی طرف نکلتے تو لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر جب دوسری رکعت میں بیٹھتے اور سلام پھیرتے، تو کھڑے ہوتے اور اپنا چہرہ لوگوں کی طرف کرتے، اور لوگ بیٹھے رہتے، پھر اگر آپ کو کوئی ضرورت ہوتی جیسے کہیں فوج بھیجنا ہو تو لوگوں سے اس کا ذکر کرتے، ورنہ لوگوں کو صدقہ دینے کا حکم دیتے، تین بار کہتے: صدقہ کرو ، تو صدقہ دینے والوں میں زیادہ تر عورتیں ہوتی تھیں۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا عبد العزيز، عن داود، عن عياض بن عبد الله، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخرج يوم الفطر ويوم الاضحى الى المصلى فيصلي بالناس فاذا جلس في الثانية وسلم قام فاستقبل الناس بوجهه والناس جلوس فان كانت له حاجة يريد ان يبعث بعثا ذكره للناس والا امر الناس بالصدقة قال " تصدقوا " . ثلاث مرات فكان من اكثر من يتصدق النساء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نے اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو، اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو حرکت کی ۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن ابن المسيب، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا قلت لصاحبك انصت والامام يخطب فقد لغوت
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے جو اس کی شایان شان ہوتی، پھر آپ فرماتے: جسے اللہ راہ دکھائے تو کوئی اسے گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے گمراہ کر دے تو اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، اور بدترین کام نئے کام ہیں، اور ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے ، پھر آپ فرماتے: میں اور قیامت دونوں اس قدر نزدیک ہیں جیسے یہ دونوں انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہیں ، اور جب آپ قیامت کا ذکر کرتے تو آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو جاتے، اور آواز بلند ہو جاتی، اور آپ کا غصہ بڑھ جاتا جیسے آپ کسی لشکر کو ڈرا رہے ہوں، اور کہہ رہے ہوں: ( ہوشیار رہو! دشمن ) تم پر صبح میں حملہ کرنے والا ہے، یا شام میں، پھر آپ فرماتے: جو ( مرنے کے بعد ) مال چھوڑے تو وہ اس کے گھر والوں کا ہے، اور جو قرض چھوڑے یا بال بچے چھوڑ کر مرے تو وہ میری طرف یا میرے ذمہ ہیں، اور میں مومنوں کا ولی ہوں ۱؎۔
اخبرنا عتبة بن عبد الله، قال انبانا ابن المبارك، عن سفيان، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في خطبته يحمد الله ويثني عليه بما هو اهله ثم يقول " من يهده الله فلا مضل له ومن يضلله فلا هادي له ان اصدق الحديث كتاب الله واحسن الهدى هدى محمد وشر الامور محدثاتها وكل محدثة بدعة وكل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار " . ثم يقول " بعثت انا والساعة كهاتين " . وكان اذا ذكر الساعة احمرت وجنتاه وعلا صوته واشتد غضبه كانه نذير جيش يقول " صبحكم مساكم " . ثم قال " من ترك مالا فلاهله ومن ترك دينا او ضياعا فالى او على وانا اولى بالمومنين
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلتے تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر خطبہ دیتے تو صدقہ کرنے کا حکم دیتے، تو صدقہ کرنے والوں میں زیادہ تر عورتیں ہوتی تھی، پھر اگر آپ کو کوئی حاجت ہوتی یا کوئی لشکر بھیجنے کا ارادہ ہوتا تو ذکر کرتے ورنہ لوٹ آتے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا داود بن قيس، قال حدثني عياض، عن ابي سعيد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخرج يوم العيد فيصلي ركعتين ثم يخطب فيامر بالصدقة فيكون اكثر من يتصدق النساء فان كانت له حاجة او اراد ان يبعث بعثا تكلم والا رجع
حسن بصری سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہم نے بصرہ میں خطبہ دیا تو کہا: تم لوگ اپنے روزوں کی زکاۃ ادا کرو، تو ( یہ سن کر ) لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، تو انہوں نے کہا: یہاں مدینہ والے کون کون ہیں، تم اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ، اور انہیں سکھاؤ کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۃ الفطر آدھا صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا جو، چھوٹے، بڑے، آزاد، غلام، مرد، عورت سب پر فرض کیا ہے۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا يزيد، - وهو ابن هارون - قال انبانا حميد، عن الحسن، ان ابن عباس، خطب بالبصرة فقال ادوا زكاة صومكم فجعل الناس ينظر بعضهم الى بعض فقال من ها هنا من اهل المدينة قوموا الى اخوانكم فعلموهم فانهم لا يعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم فرض صدقة الفطر على الصغير والكبير والحر والعبد والذكر والانثى نصف صاع من بر او صاعا من تمر او شعير
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا، پھر فرمایا: جس نے ہماری ( طرح ) نماز پڑھی، اور ہماری طرح قربانی کی تو اس نے قربانی کو پا لیا، اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کر دی، تو وہ گوشت کی بکری ہے ۱؎ تو ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں نے تو نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا، میں نے سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے، اس لیے میں نے جلدی کر دی، چنانچہ میں نے ( خود ) کھایا، اور اپنے گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو گوشت کی بکری ہوئی ( اب قربانی کے طور پر دوسری کرو ) تو انہوں نے کہا: میرے پاس ایک سال کا ایک دنبہ ہے، جو گوشت کی دو بکریوں سے ( بھی ) اچھا ہے، تو کیا وہ میری طرف سے کافی ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، مگر تمہارے بعد وہ کسی کے لیے کافی نہیں ہو گا ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو الاحوص، عن منصور، عن الشعبي، عن البراء، قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم النحر بعد الصلاة ثم قال " من صلى صلاتنا ونسك نسكنا فقد اصاب النسك ومن نسك قبل الصلاة فتلك شاة لحم " . فقال ابو بردة بن نيار يا رسول الله والله لقد نسكت قبل ان اخرج الى الصلاة عرفت ان اليوم يوم اكل وشرب فتعجلت فاكلت واطعمت اهلي وجيراني . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تلك شاة لحم " . قال فان عندي جذعة خير من شاتى لحم فهل تجزي عني قال " نعم ولن تجزي عن احد بعدك
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتا تھا، تو آپ کی نماز درمیانی ہوتی تھی، اور آپ کا خطبہ ( بھی ) درمیانہ ( اوسط درجہ کا ) ہوتا تھا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو الاحوص، عن سماك، عن جابر بن سمرة، قال كنت اصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم فكانت صلاته قصدا وخطبته قصدا
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا، پھر آپ تھوڑی دیر کے لیے بیٹھتے اس میں بولتے نہیں، پھر کھڑے ہوتے، اور دوسرا خطبہ دیتے، تو جو شخص تمہیں یہ خبر دے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر خطبہ دیا تو اس کی تصدیق نہ کرنا ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن سماك، عن جابر بن سمرة، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب قايما ثم يقعد قعدة لا يتكلم فيها ثم قام فخطب خطبة اخرى فمن خبرك ان النبي صلى الله عليه وسلم خطب قاعدا فلا تصدقه
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، پھر بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور بعض آیتیں پڑھتے اور اللہ کا ذکر کرتے، اور آپ کا خطبہ اور آپ کی نماز متوسط ( درمیانی ) ہوا کرتی تھی۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا سفيان، عن سماك، عن جابر بن سمرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يخطب قايما ثم يجلس ثم يقوم ويقرا ايات ويذكر الله وكانت خطبته قصدا وصلاته قصدا
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران حسن اور حسین رضی اللہ عنہم سرخ قمیص پہنے گرتے پڑتے آتے دکھائی دیے، آپ منبر سے اتر پڑے، اور ان دونوں کو اٹھا لیا، اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے: «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں میں نے ان دونوں کو ان کی قمیصوں میں گرتے پڑتے آتے دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا یہاں تک کہ میں منبر سے اتر گیا، اور میں نے ان کو اٹھا لیا۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابو تميلة، عن الحسين بن واقد، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر يخطب اذ اقبل الحسن والحسين عليهما السلام عليهما قميصان احمران يمشيان ويعثران فنزل وحملهما فقال " صدق الله { انما اموالكم واولادكم فتنة } رايت هذين يمشيان ويعثران في قميصيهما فلم اصبر حتى نزلت فحملتهما
عبدالرحمٰن بن عابس کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم سے سنا کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا: کیا آپ عیدین کے لیے جاتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں، اور اگر میری آپ سے قرابت نہ ہوتی تو میں آپ کے ساتھ نہ ہوتا یعنی اپنی کم سنی کی وجہ سے، آپ اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس ہے، تو آپ نے ( وہاں ) نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے، اور انہیں بھی آپ نے نصیحت کی اور ( آخرت کی ) یاد دلائی، اور صدقہ کرنے کا حکم دیا، تو عورتیں اپنا ہاتھ اپنے گلے کی طرف بڑھانے ( اور اپنا زیور اتار اتار کر ) بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا عبد الرحمن بن عابس، قال سمعت ابن عباس، قال له رجل شهدت الخروج مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم ولولا مكاني منه ما شهدته يعني من صغره اتى العلم الذي عند دار كثير بن الصلت فصلى ثم خطب ثم اتى النساء فوعظهن وذكرهن وامرهن ان يتصدقن فجعلت المراة تهوي بيدها الى حلقها تلقي في ثوب بلال
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلے، تو آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، نہ تو ان سے پہلے کوئی نماز پڑھی، اور نہ ہی ان کے بعد۔
اخبرنا عبد الله بن سعيد الاشج، قال حدثنا ابن ادريس، قال انبانا شعبة، عن عدي، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج يوم العيد فصلى ركعتين لم يصل قبلها ولا بعدها
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن ہمیں خطبہ دیا، اور ( اس کے بعد ) آپ دو چتکبرے مینڈھوں کی طرف جھکے اور انہیں ذبح کیا۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا حاتم بن وردان، عن ايوب، عن محمد بن سيرين، عن انس بن مالك، قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم اضحى وانكفا الى كبشين املحين فذبحهما
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ ہی میں ذبح یا نحر کرتے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، عن شعيب، عن الليث، عن كثير بن فرقد، عن نافع، ان عبد الله بن عمر، اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يذبح او ينحر بالمصلى
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ اور عید دونوں میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے، اور جب جمعہ اور عید ایک ہی دن میں جمع ہو جاتے تو بھی آپ انہیں دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔
اخبرني محمد بن قدامة، عن جرير، عن ابراهيم بن محمد بن المنتشر، قلت عن ابيه، قال نعم عن حبيب بن سالم، عن النعمان بن بشير، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في الجمعة والعيد ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { هل اتاك حديث الغاشية } واذا اجتمع الجمعة والعيد في يوم قرا بهما
ایاس بن ابی رملہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو سنا، انہوں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدین میں رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے صبح میں عید کی نماز پڑھی، پھر آپ نے جمعہ نہ پڑھنے کی رخصت دی۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا اسراييل، عن عثمان بن المغيرة، عن اياس بن ابي رملة، قال سمعت معاوية، سال زيد بن ارقم اشهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عيدين قال نعم صلى العيد من اول النهار ثم رخص في الجمعة
وہب بن کیسان کہتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہم کے دور میں دونوں عیدیں ایک ہی دن میں جمع ہو گئیں، تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے نکلنے میں تاخیر کی یہاں تک کہ دن چڑھ آیا، پھر وہ نکلے، اور انہوں نے خطبہ دیا، تو لمبا خطبہ دیا، پھر وہ اترے اور نماز پڑھی۔ اس دن انہوں نے لوگوں کو جمعہ نہیں پڑھایا یہ بات ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بیان کی گئی تو انہوں نے کہا: انہوں نے سنت پر عمل کیا ہے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا عبد الحميد بن جعفر، قال حدثني وهب بن كيسان، قال اجتمع عيدان على عهد ابن الزبير فاخر الخروج حتى تعالى النهار ثم خرج فخطب فاطال الخطبة ثم نزل فصلى ولم يصل للناس يوميذ الجمعة . فذكر ذلك لابن عباس فقال اصاب السنة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے پاس دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، تو ان دونوں کو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ڈانٹا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑو ( بجانے دو ) کیونکہ ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے ( جس میں لوگ کھیلتے کودتے اور خوشی مناتے ہیں ) ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا محمد بن جعفر، عن معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عليها وعندها جاريتان تضربان بدفين فانتهرهما ابو بكر فقال النبي صلى الله عليه وسلم " دعهن فان لكل قوم عيدا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عید کے دن حبشی لوگ آئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھیل کود رہے تھے، آپ نے مجھے بلایا، تو میں انہیں آپ کے کندھے کے اوپر سے دیکھ رہی تھی میں برابر دیکھتی رہی یہاں تک کہ میں ( خود ) ہی لوٹ آئی۔
اخبرنا محمد بن ادم، عن عبدة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت جاء السودان يلعبون بين يدى النبي صلى الله عليه وسلم في يوم عيد فدعاني فكنت اطلع اليهم من فوق عاتقه فما زلت انظر اليهم حتى كنت انا التي انصرفت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مجھے اپنی چادر سے آڑ کئے ہوئے تھے، اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی کہ وہ مسجد میں کھیل رہے تھے، یہاں تک کہ میں خود ہی اکتا گئی، تم خود ہی اندازہ لگا لو کہ ایک کم سن لڑکی کھیل کود ( دیکھنے ) کی کتنی حریص ہوتی ہے۔
اخبرنا علي بن خشرم، قال حدثنا الوليد، قال حدثنا الاوزاعي، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسترني بردايه وانا انظر الى الحبشة يلعبون في المسجد حتى اكون انا اسام فاقدروا قدر الجارية الحديثة السن الحريصة على اللهو