Loading...

Loading...
کتب
۴۲ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے لوگوں کے لیے سال میں دو دن ایسے ہوتے تھے جن میں وہ کھیل کود کیا کرتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ سے ہجرت کر کے ) مدینہ آئے تو آپ نے فرمایا: تمہارے لیے دو دن تھے جن میں تم کھیل کود کیا کرتے تھے ( اب ) اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلہ ان سے بہتر دو دن دے دیئے ہیں: ایک عید الفطر کا دن اور دوسرا عید الاضحی کا دن ۔
اخبرنا علي بن حجر، قال انبانا اسماعيل، قال حدثنا حميد، عن انس بن مالك، قال كان لاهل الجاهلية يومان في كل سنة يلعبون فيهما فلما قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة قال " كان لكم يومان تلعبون فيهما وقد ابدلكم الله بهما خيرا منهما يوم الفطر ويوم الاضحى
ابو عمیر بن انس اپنے ایک چچا سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عید کا چاند دیکھا تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ( اور آپ سے اس کا ذکر کیا ) آپ نے انہیں دن چڑھ آنے کے بعد حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں، اور عید کی نماز کی لیے کل نکلیں۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا ابو بشر، عن ابي عمير بن انس، عن عمومة، له ان قوما، راوا الهلال فاتوا النبي صلى الله عليه وسلم فامرهم ان يفطروا بعد ما ارتفع النهار وان يخرجوا الى العيد من الغد
حفصہ بنت سرین کہتی ہیں کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو کہتی تھیں: میرے باپ آپ پر فدا ہوں تو میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ایسا ذکر کرتے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، میرے باپ آپ پر فدا ہوں، آپ نے فرمایا: چاہیئے کہ دوشیزائیں، پردہ والیاں، اور جو حیض سے ہوں ( عید گاہ کو ) نکلیں اور سب عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہیں، البتہ جو حائضہ ہوں وہ صلاۃ گاہ سے الگ رہیں ۔
اخبرنا عمرو بن زرارة، قال حدثنا اسماعيل، عن ايوب، عن حفصة، قالت كانت ام عطية لا تذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الا قالت بابا . فقلت اسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر كذا وكذا فقالت نعم بابا قال " ليخرج العواتق وذوات الخدور والحيض ويشهدن العيد ودعوة المسلمين وليعتزل الحيض المصلى
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اور میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( ایسا ایسا کہتے ہوئے ) سنا ہے؟ اور وہ جب بھی آپ کا ذکر کرتیں تو کہتیں: میرے باپ آپ پر فدا ہوں، ( انہوں نے کہا: ہاں ) آپ نے فرمایا: بالغ لڑکیوں کو اور پردہ والیوں کو بھی ( عید کی نماز کے لیے ) نکالو تاکہ وہ عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہیں، اور حائضہ عورتیں مصلیٰ ( عید گاہ ) سے الگ تھلگ رہیں ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن ايوب، عن محمد، قال لقيت ام عطية فقلت لها هل سمعت من النبي صلى الله عليه وسلم وكانت اذا ذكرته قالت بابا قال " اخرجوا العواتق وذوات الخدور فيشهدن العيد ودعوة المسلمين وليعتزل الحيض مصلى الناس
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بازار میں موٹے ریشمی کپڑے کا ایک جوڑا ( بکتے ہوئے ) پایا، تو اسے لیا، اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اسے خرید لیں، اور عید کے لیے اور وفود سے ملتے وقت اسے پہنیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہ ہو گا، یا اسے تو وہی پہنے گا جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہ ہو گا ، تو عمر رضی اللہ عنہ ٹھہرے رہے جب تک اللہ نے چاہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس باریک ریشمی کپڑے کا ایک جبہ بھیجا، تو وہ اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا تھا کہ یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں، پھر آپ نے اسے میرے پاس بھیج دیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بیچ دو، اور اس سے اپنی ضرورت پوری کرو ۱؎۔
اخبرنا سليمان بن داود، عن ابن وهب، قال اخبرني يونس بن يزيد، وعمرو بن الحارث، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، قال وجد عمر بن الخطاب - رضى الله تعالى عنه - حلة من استبرق بالسوق فاخذها فاتى بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ابتع هذه فتجمل بها للعيد والوفد . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما هذه لباس من لا خلاق له او انما يلبس هذه من لا خلاق له " . فلبث عمر ما شاء الله ثم ارسل اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم بجبة ديباج فاقبل بها حتى جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله قلت " انما هذه لباس من لا خلاق له " . ثم ارسلت الى بهذه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بعها وتصب بها حاجتك
ثعلبہ بن زہدم سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ابومسعود رضی اللہ عنہ کو لوگوں پر اپنا نائب مقرر کیا، تو ( جب ) وہ عید کے دن نکلے تو کہنے لگے: لوگو! یہ سنت نہیں ہے کہ امام سے پہلے نماز پڑھی جائے۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال انبانا عبد الرحمن، عن سفيان، عن الاشعث، عن الاسود بن هلال، عن ثعلبة بن زهدم، ان عليا، استخلف ابا مسعود على الناس فخرج يوم عيد فقال يا ايها الناس انه ليس من السنة ان يصلى قبل الامام
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بغیر اذان اور بغیر اقامت کے خطبہ سے پہلے عید کی نماز پڑھائی۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن عطاء، عن جابر، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في عيد قبل الخطبة بغير اذان ولا اقامة
شعبی (عامر بن شراحیل) کہتے ہیں کہ ہم سے براء بن عازب رضی اللہ عنہم نے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے پاس بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا، تو آپ نے فرمایا: اپنے اس دن میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں، پھر قربانی کریں، تو جس نے ایسا کیا تو اس نے ہماری سنت کو پا لیا، اور جس نے اس سے پہلے ذبح کر لیا تو وہ محض گوشت ہے جسے وہ اپنے گھر والوں کو پہلے پیش کر رہا ہے ، ابوبردہ ابن نیار ( نماز سے پہلے ہی ) ذبح کر چکے تھے، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سال کا ایک دنبہ ہے، جو دانت والے دنبہ سے بہتر ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے ہی ذبح کر لو، لیکن تمہارے بعد اور کسی کے لیے یہ کافی نہیں ہو گا ۔
اخبرنا محمد بن عثمان، قال حدثنا بهز، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني زبيد، قال سمعت الشعبي، يقول حدثنا البراء بن عازب، عند سارية من سواري المسجد قال خطب النبي صلى الله عليه وسلم يوم النحر فقال " ان اول ما نبدا به في يومنا هذا ان نصلي ثم نذبح فمن فعل ذلك فقد اصاب سنتنا ومن ذبح قبل ذلك فانما هو لحم يقدمه لاهله " . فذبح ابو بردة بن نيار فقال يا رسول الله عندي جذعة خير من مسنة . قال " اذبحها ولن توفي عن احد بعدك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبدة بن سليمان، قال حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم وابا بكر وعمر - رضى الله عنهما - كانوا يصلون العيدين قبل الخطبة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی دونوں میں نیزہ لے جاتے اور اسے گاڑتے، پھر اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخرج العنزة يوم الفطر ويوم الاضحى يركزها فيصلي اليها
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عید الاضحی کی نماز دو رکعت ہے، عید الفطر کی نماز دو رکعت ہے، مسافر کی نماز دو رکعت ہے، اور جمعہ کی نماز دو رکعت ہے۔ اور یہ سب ( دو دو رکعت ہونے کے باوجود ) بزبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکمل ہیں، ان میں کوئی کمی نہیں۔
اخبرنا عمران بن موسى، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا سفيان بن سعيد، عن زبيد الايامي، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، ذكره عن عمر بن الخطاب، - رضى الله عنه - قال صلاة الاضحى ركعتان وصلاة الفطر ركعتان وصلاة المسافر ركعتان وصلاة الجمعة ركعتان تمام ليس بقصر على لسان النبي صلى الله عليه وسلم
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ( ایک دفعہ ) عید کے دن عمر رضی اللہ عنہ نکلے تو انہوں نے ابوواقد لیثی سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آج کے دن کون سی ( سورتیں ) پڑھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: سورۃ قٓ اور سورۃ اقتربت ۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال انبانا سفيان، قال حدثني ضمرة بن سعيد، عن عبيد الله بن عبد الله، قال خرج عمر - رضى الله عنه - يوم عيد فسال ابا واقد الليثي باى شىء كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في هذا اليوم فقال ب { ق } و{ اقتربت}
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں اور جمعہ کے دن «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے، اور کبھی یہ دونوں ایک ساتھ ایک ہی دن میں جمع ہو جاتے، تو بھی انہیں دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو عوانة، عن ابراهيم بن محمد بن المنتشر، عن ابيه، عن حبيب بن سالم، عن النعمان بن بشير، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا في العيدين ويوم الجمعة ب { سبح اسم ربك الاعلى } و{ هل اتاك حديث الغاشية } وربما اجتمعا في يوم واحد فيقرا بهما
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں شریک رہا، تو آپ نے خطبہ سے پہلے نماز شروع کی، پھر آپ نے خطبہ دیا۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال سمعت ايوب، يخبر عن عطاء، قال سمعت ابن عباس، يقول اشهد اني شهدت العيد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فبدا بالصلاة قبل الخطبة ثم خطب
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قربانی کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا ابو الاحوص، عن منصور، عن الشعبي، عن البراء بن عازب، قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم النحر بعد الصلاة
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھی، پھر فرمایا: جو ( واپس ) لوٹنا چاہے لوٹ جائے، اور جو خطبہ سننے کے لیے ٹھہرنا چاہے ٹھہرے ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن ايوب، قال حدثنا الفضل بن موسى، قال حدثنا ابن جريج، عن عطاء، عن عبد الله بن السايب، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى العيد قال " من احب ان ينصرف فلينصرف ومن احب ان يقيم للخطبة فليقم
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ خطبہ دے رہے تھے اور آپ پر ہرے رنگ کی دو چادریں تھیں۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا عبيد الله بن اياد، عن ابيه، عن ابي رمثة، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب وعليه بردان اخضران
ابو کاہل احمسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے اور ایک حبشی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھا۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابن ابي زايدة، قال اخبرني اسماعيل بن ابي خالد، عن اخيه، عن ابي كاهل الاحمسي، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب على ناقة وحبشي اخذ بخطام الناقة
سماک کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ کچھ دیر بیٹھتے تھے پھر کھڑے ہو جاتے تھے۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد، قال حدثنا شعبة، عن سماك، قال سالت جابرا اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب قايما قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب قايما ثم يقعد قعدة ثم يقوم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عید کے دن نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، آپ نے خطبہ سے پہلے بغیر اذان اور بغیر اقامت کے نماز پڑھی، پھر جب نماز پوری کر لی، تو آپ بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے، اور آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، لوگوں کو نصیحتیں کیں، اور انہیں ( آخرت کی ) یاد دلائی، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارا، پھر آپ مڑے اور عورتوں کی طرف چلے، بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے، آپ نے انہیں ( بھی ) اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا، اور انہیں نصیحت کی اور ( آخرت کی ) یاد دلائی، اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر انہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارا، پھر فرمایا: تم صدقہ کیا کرو کیونکہ عورتیں ہی زیادہ تر جہنم کا ایندھن ہوں گی، تو ایک عام درجہ کی ہلکے کالے رنگ کے گالوں والی عورت نے پوچھا: کس سبب سے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: ( کیونکہ ) وہ شکوے اور گلے بہت کرتی ہیں، اور شوہر کی ناشکری کرتی ہیں ، عورتوں نے یہ سنا تو وہ اپنے ہار، بالیاں اور انگوٹھیاں اتار اتار کر بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں، وہ انہیں صدقہ میں دے رہی تھیں۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا عبد الملك بن ابي سليمان، قال حدثنا عطاء، عن جابر، قال شهدت الصلاة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في يوم عيد فبدا بالصلاة قبل الخطبة بغير اذان ولا اقامة فلما قضى الصلاة قام متوكيا على بلال فحمد الله واثنى عليه ووعظ الناس وذكرهم وحثهم على طاعته ثم مال ومضى الى النساء ومعه بلال فامرهن بتقوى الله ووعظهن وذكرهن وحمد الله واثنى عليه ثم حثهن على طاعته ثم قال " تصدقن فان اكثركن حطب جهنم " . فقالت امراة من سفلة النساء سفعاء الخدين بم يا رسول الله قال " تكثرن الشكاة وتكفرن العشير " . فجعلن ينزعن قلايدهن واقرطهن وخواتيمهن يقذفنه في ثوب بلال يتصدقن به