Loading...

Loading...
کتب
۱۸۸ احادیث
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کو اس منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير لا حول ولا قوة إلا باللہ لا إله إلا اللہ لا نعبد إلا إياه أهل النعمة والفضل والثناء الحسن لا إله إلا اللہ مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے جو اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، نہیں طاقت و قوت مگر اللہ ہی کی توفیق سے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم صرف اسی نعمت، فضل اور بہترین تعریف والے کی عبادت کرتے ہیں، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں، اگرچہ کافروں کو برا لگے ۔
اخبرنا محمد بن شجاع المروذي، قال حدثنا اسماعيل ابن علية، عن الحجاج بن ابي عثمان، قال حدثني ابو الزبير، قال سمعت عبد الله بن الزبير، يحدث على هذا المنبر وهو يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سلم يقول " لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير لا حول ولا قوة الا بالله لا اله الا الله لا نعبد الا اياه اهل النعمة والفضل والثناء الحسن لا اله الا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم نماز کے بعد تہلیل کرتے اور کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير لا إله إلا اللہ ولا نعبد إلا إياه له النعمة وله الفضل وله الثناء الحسن لا إله إلا اللہ مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، جو تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے سب پر، اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں، نعمت، فضل اور بہترین ثنا اسی کے لیے ہے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں، اگرچہ کافروں کو برا لگے پھر ابن زبیر رضی اللہ عنہم کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد انہیں کلمات کے ذریعہ تہلیل کیا کرتے تھے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا عبدة، قال حدثنا هشام بن عروة، عن ابي الزبير، قال كان عبد الله بن الزبير يهلل في دبر الصلاة يقول لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير لا اله الا الله ولا نعبد الا اياه له النعمة وله الفضل وله الثناء الحسن لا اله الا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون . ثم يقول ابن الزبير كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يهلل بهن في دبر الصلاة
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے منشی وراد کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ چکتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير اللہم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور مالدار کی مالداری تیرے عذاب سے بچا نہیں سکتی ۔
اخبرنا محمد بن منصور، عن سفيان، قال سمعته من، عبدة بن ابي لبابة وسمعته من عبد الملك بن عمير، كلاهما سمعه من، وراد، كاتب المغيرة بن شعبة قال كتب معاوية الى المغيرة بن شعبة اخبرني بشىء، سمعته من، رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قضى الصلاة قال " لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير اللهم لا مانع لما اعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
وراد کہتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد جب سلام پھیرتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير اللہم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے سلطنت و حکومت ہے، اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک دے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور نہ مالدار کی مالداری تیرے عذاب سے بچا سکے گی ۔
اخبرني محمد بن قدامة، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن المسيب ابي العلاء، عن وراد، قال كتب المغيرة بن شعبة الى معاوية ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول دبر الصلاة اذا سلم " لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير اللهم لا مانع لما اعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
مغیرہ رضی اللہ عنہ کے منشی وراد سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: مجھے کوئی حدیث لکھ بھیجو جسے تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پھیر کر پلٹتے وقت «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے تین بار کہتے سنا ہے۔
اخبرنا الحسن بن اسماعيل المجالدي، قال انبانا هشيم، قال انبانا المغيرة، وذكر، اخر ح وانبانا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا هشيم، قال انبانا غير، واحد، منهم المغيرة عن الشعبي، عن وراد، كاتب المغيرة ان معاوية، كتب الى المغيرة ان اكتب الى بحديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم . فكتب اليه المغيرة اني سمعته يقول عند انصرافه من الصلاة " لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير " . ثلاث مرات
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے ان کلمات کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے کوئی بھلی بات کی ہو گی تو یہ کلمات اس پر قیامت کے دن تک بطور مہر ہوں گے، اور اگر اس کے علاوہ اس نے کوئی اور بات کی ہو گی تو یہ کلمات اس کے لیے کفارہ ہوں گے، وہ یہ ہیں: «سبحانك اللہم وبحمدك أستغفرك وأتوب إليك» تیری ذات پاک ہے اے اللہ! اور تیری حمد کے ذریعہ سے میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں، اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں ۔
اخبرنا محمد بن اسحاق الصاغاني، قال حدثنا ابو سلمة الخزاعي، منصور بن سلمة قال حدثنا خلاد بن سليمان، - قال ابو سلمة وكان من الخايفين - عن خالد بن ابي عمران، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا جلس مجلسا او صلى تكلم بكلمات فسالته عايشة عن الكلمات فقال " ان تكلم بخير كان طابعا عليهن الى يوم القيامة وان تكلم بغير ذلك كان كفارة له سبحانك اللهم وبحمدك استغفرك واتوب اليك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی: پیشاب سے نہ بچنے پر قبر میں عذاب ہوتا ہے تو میں نے کہا: تو جھوٹی ہے، تو اس نے کہا: سچ ہے ایسا ہی ہے، ہم کھال یا کپڑے کو پیشاب لگ جانے پر کاٹ ڈالتے ہیں، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے باہر تشریف لائے، ہماری آواز بلند ہو گئی تھی، آپ نے پوچھا: کیا ماجرا ہے؟ میں نے آپ کو جو اس نے کہا تھا بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سچ کہہ رہی ہے ، چنانچہ اس دن کے بعد سے آپ جو بھی نماز پڑھتے تو نماز کے بعد یہ کلمات ضرور کہتے: «رب جبريل وميكائيل وإسرافيل أعذني من حر النار وعذاب القبر» اے جبرائیل وم یکائیل اور اسرافیل کے رب! مجھے جہنم کی آگ کی تپش، اور قبر کے عذاب سے بچا ۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا يعلى، قال حدثنا قدامة، عن جسرة، قالت حدثتني عايشة، - رضى الله عنها - قالت دخلت على امراة من اليهود فقالت ان عذاب القبر من البول . فقلت كذبت . فقالت بلى انا لنقرض منه الجلد والثوب . فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم الى الصلاة وقد ارتفعت اصواتنا فقال " ما هذا " . فاخبرته بما قالت فقال " صدقت " . فما صلى بعد يوميذ صلاة الا قال في دبر الصلاة " رب جبريل وميكاييل واسرافيل اعذني من حر النار وعذاب القبر
ابومروان روایت کرتے ہیں کہ کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے اس اللہ کی قسم کھا کر کہا جس نے موسیٰ کے لیے سمندر پھاڑا کہ ہم لوگ تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ کے نبی داود علیہ السلام جب اپنی نماز سے سلام پھیر کر پلٹتے تو کہتی: «اللہم أصلح لي ديني الذي جعلته لي عصمة وأصلح لي دنياى التي جعلت فيها معاشي اللہم إني أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بعفوك من نقمتك وأعوذ بك منك لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست فرما دے جسے تو نے میرے لیے بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے، اور میرے لیے میری دنیا درست فرما دے جس میں میری روزی ہے، اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں، اور تیرے عذاب سے تیرے عفو و درگزر کی پناہ چاہتا ہوں، اور میں تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں، نہیں ہے کوئی روکنے والا اس کو جو تو دیدے، اور نہ ہی ہے کوئی دینے والا اسے جسے تو روک لے، اور نہ مالدار کو اس کی مالداری بچا پائے گی۔ ابومروان کہتے ہیں: اور کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ صہیب رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کو نماز سے سلام پھیر کر پلٹنے پر کہا کرتے تھے۔
اخبرنا عمرو بن سواد بن الاسود بن عمرو، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني حفص بن ميسرة، عن موسى بن عقبة، عن عطاء بن ابي مروان، عن ابيه، ان كعبا، حلف له بالله الذي فلق البحر لموسى انا لنجد في التوراة ان داود نبي الله صلى الله عليه وسلم كان اذا انصرف من صلاته قال " اللهم اصلح لي ديني الذي جعلته لي عصمة واصلح لي دنياى التي جعلت فيها معاشي اللهم اني اعوذ برضاك من سخطك واعوذ بعفوك من نقمتك واعوذ بك منك لا مانع لما اعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد . قال وحدثني كعب ان صهيبا حدثه ان محمدا صلى الله عليه وسلم كان يقولهن عند انصرافه من صلاته
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد ( ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ) نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے: «اللہم إني أعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر» اے اللہ میں کفر سے، محتاجی سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں تو میں بھی انہیں کہا کرتا تھا، تو میرے والد نے کہا: میرے بیٹے! تم نے یہ کس سے یاد کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ سے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نماز کے بعد کہا کرتے تھے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، عن عثمان الشحام، عن مسلم بن ابي بكرة، قال كان ابي يقول في دبر الصلاة اللهم اني اعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر فكنت اقولهن فقال ابي اى بنى عمن اخذت هذا قلت عنك . قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقولهن في دبر الصلاة
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ایسی خصلتیں ہیں کہ کوئی مسلمان آدمی انہیں اختیار کر لے تو وہ جنت میں داخل ہو گا، یہ دونوں آسان ہیں لیکن ان پر عمل کرنے والے کم ہیں، پانچ نمازیں تم میں سے جو کوئی ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان اللہ» دس بار «الحمد لله» اور دس بار «اللہ أكبر» کہے گا، تو وہ زبان سے کہنے کے لحاظ سے ڈیڑھ سو کلمے ہوئے، مگر میزان میں ان کا شمار ڈیڑھ ہزار کلموں کے برابر ہو گا، ( عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں اپنے ہاتھوں ( انگلیوں ) پر شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے ) ، اور جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے، اور تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أكبر» کہے، تو وہ زبان پر سو کلمات ہوں گے، مگر میزان ( ترازو ) میں ایک ہزار شمار ہوں گے، تو تم میں سے کون دن و رات میں دو ہزار پانچ سو گناہ کرتا ہے، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہم یہ دونوں تسبیحیں کیوں کر نہیں گن سکتے؟۱؎ تو آپ نے فرمایا: شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے، اور وہ نماز میں ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: فلاں بات یاد کرو، فلاں بات یاد کرو اور اسی طرح اس کے سونے کے وقت اس کے پاس آتا ہے، اور اسے ( یہ کلمات کہے بغیر ہی ) سلا دیتا ہے ۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال حدثنا حماد، عن عطاء بن السايب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خلتان لا يحصيهما رجل مسلم الا دخل الجنة وهما يسير ومن يعمل بهما قليل " . قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الصلوات الخمس يسبح احدكم في دبر كل صلاة عشرا ويحمد عشرا ويكبر عشرا فهي خمسون وماية في اللسان والف وخمسماية في الميزان " . وانا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يعقدهن بيده " واذا اوى احدكم الى فراشه او مضجعه سبح ثلاثا وثلاثين وحمد ثلاثا وثلاثين وكبر اربعا وثلاثين فهي ماية على اللسان والف في الميزان " . قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فايكم يعمل في كل يوم وليلة الفين وخمسماية سيية " . قيل يا رسول الله وكيف لا نحصيهما فقال " ان الشيطان ياتي احدكم وهو في صلاته فيقول اذكر كذا اذكر كذا وياتيه عند منامه فينيمه
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ ایسے الفاظ ہیں جنہیں ہر نماز کے بعد کہا جاتا ہے ان کا کہنے والا ناکام و نامراد نہیں ہو سکتا، یعنی جو ہر نماز کے بعد تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أکبر» کہے۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن سمرة، عن اسباط، قال حدثنا عمرو بن قيس، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " معقبات لا يخيب قايلهن يسبح الله في دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين ويحمده ثلاثا وثلاثين ويكبره اربعا وثلاثين
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ہر نماز کے بعد تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أکبر» کہیں، پھر ایک انصاری شخص سے اس کے خواب میں پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ہر نماز کے بعد تینتیس بار «سبحان اللہ»تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أکبر» کہنے کا حکم دیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، تو پوچھنے والے نے کہا: تم انہیں پچیس، پچیس بار کر لو، اور باقی پچیس کی جگہ «لا الٰہ إلا اللہ» کہا کرو، تو جب صبح ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے سارا واقعہ بیان کیا، تو آپ نے فرمایا: اسے اسی طرح کر لو ۔
اخبرنا موسى بن حزام الترمذي، قال حدثنا يحيى بن ادم، عن ابن ادريس، عن هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن كثير بن افلح، عن زيد بن ثابت، قال امروا ان يسبحوا، دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين ويحمدوا ثلاثا وثلاثين ويكبروا اربعا وثلاثين فاتي رجل من الانصار في منامه فقيل له امركم رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تسبحوا دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين وتحمدوا ثلاثا وثلاثين وتكبروا اربعا وثلاثين قال نعم . قال فاجعلوها خمسا وعشرين واجعلوا فيها التهليل فلما اصبح اتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال " اجعلوها كذلك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دیکھا جیسے سونے والا خواب دیکھتا ہے، اس سے خواب میں پوچھا گیا: تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کس چیز کا حکم دیا ہے؟ اس نے کہا: آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أكبر» کہیں، تو یہ کل سو ہیں، تو اس نے کہا: تم پچیس بار «سبحان اللہ» پچیس بار «الحمد لله» پچیس بار «اللہ أكبر» اور پچیس بار «لا إله إلا اللہ»کہو، یہ بھی سو ہیں، چنانچہ جب صبح ہوئی تو اس آدمی نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایسے ہی کر لو جیسے انصاری نے کہا ۔
اخبرنا عبيد الله بن عبد الكريم ابو زرعة الرازي، قال حدثنا احمد بن عبد الله بن يونس، قال حدثني علي بن الفضيل بن عياض، عن عبد العزيز بن ابي رواد، عن نافع، عن ابن عمر، ان رجلا، راى فيما يرى النايم قيل له باى شىء امركم نبيكم صلى الله عليه وسلم قال امرنا ان نسبح ثلاثا وثلاثين ونحمد ثلاثا وثلاثين ونكبر اربعا وثلاثين فتلك ماية . قال سبحوا خمسا وعشرين واحمدوا خمسا وعشرين وكبروا خمسا وعشرين وهللوا خمسا وعشرين فتلك ماية فلما اصبح ذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افعلوا كما قال الانصاري
ام المؤمنین جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، اور وہ مسجد میں دعا مانگ رہی تھیں، پھر آپ ان کے پاس سے دوپہر کے قریب گزرے ( تو دیکھا وہ اسی جگہ دعا میں مشغول ہیں ) تو آپ نے ان سے فرمایا: تم اب تک اسی حال میں ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ بتاؤں کہ جنہیں تم کہا کرو؟ وہ یہ ہیں: «سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ مداد كلماته سبحان اللہ مداد كلماته سبحان اللہ مداد كلماته» اللہ کی پاکی اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر ۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا محمد، قال حدثنا شعبة، عن محمد بن عبد الرحمن، مولى ال طلحة قال سمعت كريبا، عن ابن عباس، عن جويرية بنت الحارث، ان النبي صلى الله عليه وسلم مر عليها وهي في المسجد تدعو ثم مر بها قريبا من نصف النهار فقال لها " ما زلت على حالك " . قالت نعم . قال " الا اعلمك - يعني - كلمات تقولينهن سبحان الله عدد خلقه سبحان الله عدد خلقه سبحان الله عدد خلقه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله رضا نفسه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله زنة عرشه سبحان الله مداد كلماته سبحان الله مداد كلماته سبحان الله مداد كلماته
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ فقراء نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مالدار لوگ ( بھی ) نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں، وہ بھی روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، ان کے پاس مال ہے وہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں، اور ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرتے ہیں، ( اور ہم نہیں کر پاتے ہیں تو ہم ان کے برابر کیسے ہو سکتے ہیں ) یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوگ نماز پڑھ چکو تو تینتیس بار «سبحان اللہ»تینتیس بار «الحمد لله» اور تینتیس بار «اللہ أكبر» اور دس بار «لا إله إلا اللہ» کہو، تو تم اس کے ذریعہ سے ان لوگوں کو پا لو گے جو تم سے سبقت کر گئے ہیں، اور اپنے بعد والوں سے سبقت کر جاؤ گے ۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا عتاب، - هو ابن بشير - عن خصيف، عن عكرمة، ومجاهد، عن ابن عباس، قال جاء الفقراء الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله ان الاغنياء يصلون كما نصلي ويصومون كما نصوم ولهم اموال يتصدقون وينفقون . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا صليتم فقولوا سبحان الله ثلاثا وثلاثين والحمد لله ثلاثا وثلاثين والله اكبر ثلاثا وثلاثين ولا اله الا الله عشرا فانكم تدركون بذلك من سبقكم وتسبقون من بعدكم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فجر کی نماز کے بعد سو بار «سبحان اللہ» اور سو بار «لا إله إلا اللہ» کہے گا، اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔
اخبرنا احمد بن حفص بن عبد الله النيسابوري، قال حدثني ابي قال، حدثني ابراهيم، - يعني ابن طهمان - عن الحجاج بن الحجاج، عن ابي الزبير، عن ابي علقمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سبح في دبر صلاة الغداة ماية تسبيحة وهلل ماية تهليلة غفرت له ذنوبه ولو كانت مثل زبد البحر
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح گنتے ہوئے دیکھا ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، والحسين بن محمد الذارع، - واللفظ له - قالا حدثنا عثام بن علي، قال حدثنا الاعمش، عن عطاء بن السايب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يعقد التسبيح
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( رمضان کے ) مہینہ کے بیچ کے دس دنوں میں اعتکاف کرتے تھے، جب بیسویں رات گزر جاتی اور اکیسویں کا استقبال کرتے تو آپ اپنے گھر واپس آ جاتے، اور وہ لوگ بھی واپس آ جاتے جو آپ کے ساتھ اعتکاف کرتے تھے، پھر ایک مہینہ ایسا ہوا کہ آپ جس رات گھر واپس آ جاتے تھے اعتکاف ہی میں ٹھہرے رہے، لوگوں کو خطبہ دیا، اور انہیں حکم دیا جو اللہ نے چاہا، پھر فرمایا: میں اس عشرہ میں اعتکاف کیا کرتا تھا پھر میرے جی میں آیا کہ میں ان آخری دس دنوں میں اعتکاف کروں، تو جو شخص میرے ساتھ اعتکاف میں ہے تو وہ اپنے اعتکاف کی جگہ میں ٹھہرا رہے، میں نے اس رات ( لیلۃ القدر ) کو دیکھا، پھر وہ مجھے بھلا دی گئی، تم اسے آخری دس دنوں کی طاق راتوں میں تلاش کرو، اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں ، ابو سعید خدری کہتے ہیں: اکیسویں رات کو بارش ہوئی تو مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی جگہ پر ٹپکنے لگی، چنانچہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر لوٹ رہے ہیں، اور آپ کا چہرہ مٹی اور پانی سے تر تھا۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا بكر، - وهو ابن مضر - عن ابن الهاد، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي سعيد الخدري، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجاور في العشر الذي في وسط الشهر فاذا كان من حين يمضي عشرون ليلة ويستقبل احدى وعشرين يرجع الى مسكنه ويرجع من كان يجاور معه ثم انه اقام في شهر جاور فيه تلك الليلة التي كان يرجع فيها فخطب الناس فامرهم بما شاء الله ثم قال " اني كنت اجاور هذه العشر ثم بدا لي ان اجاور هذه العشر الاواخر فمن كان اعتكف معي فليثبت في معتكفه وقد رايت هذه الليلة فانسيتها فالتمسوها في العشر الاواخر في كل وتر وقد رايتني اسجد في ماء وطين " . قال ابو سعيد مطرنا ليلة احدى وعشرين فوكف المسجد في مصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فنظرت اليه وقد انصرف من صلاة الصبح ووجهه مبتل طينا وماء
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر سے فارغ ہو جاتے تو آپ اپنے مصلیٰ ہی پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا ابو الاحوص، عن سماك، عن جابر بن سمرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا صلى الفجر قعد في مصلاه حتى تطلع الشمس
سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں ( پھر انہوں نے بیان کیا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر پڑھ لیتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا، پھر آپ کے صحابہ آپ سے میں بات چیت کرتے، جاہلیت کے دور کا ذکر کرتے، اور اشعار پڑھتے، اور ہنستے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکراتے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا زهير، وذكر، اخر عن سماك بن حرب، قال قلت لجابر بن سمرة كنت تجالس رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا صلى الفجر جلس في مصلاه حتى تطلع الشمس فيتحدث اصحابه يذكرون حديث الجاهلية وينشدون الشعر ويضحكون ويتبسم صلى الله عليه وسلم