Loading...

Loading...
کتب
۱۸۸ احادیث
عبدالرحمٰن بن اصم کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز میں اللہ اکبر کہنے کے سلسلہ میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر کہے جب رکوع میں جائے، اور جب سجدہ میں جائے، اور جب سجدہ سے سر اٹھائے، اور جب دوسری رکعت سے اٹھے۔ حطیم نے پوچھا: آپ نے اسے کس سے سن کر یاد کیا ہے، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم سے، پھر وہ خاموش ہو گئے، تو حطیم نے ان سے کہا، اور عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی؟ انہوں نے کہا: اور عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا ابو عوانة، عن عبد الرحمن بن الاصم، قال سيل انس بن مالك عن التكبير، في الصلاة فقال يكبر اذا ركع واذا سجد واذا رفع راسه من السجود واذا قام من الركعتين . فقال حطيم عمن تحفظ هذا فقال عن النبي صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر - رضى الله عنهما - ثم سكت . فقال له حطيم وعثمان قال وعثمان
مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی، تو وہ ہر جھکنے اور اٹھنے میں اللہ اکبر کہتے تھے، اور تکبیر پوری کرتے تھے ( اس میں کوئی کمی نہیں کرتے تھے ) تو عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا: اس شخص نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا حماد بن زيد، قال حدثنا غيلان بن جرير، عن مطرف بن عبد الله، قال صلى علي بن ابي طالب فكان يكبر في كل خفض ورفع يتم التكبير . فقال عمران بن حصين لقد ذكرني هذا صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دونوں رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے، اور رفع یدین کرتے یہاں تک کہ دونوں ہاتھوں کو اپنے مونڈھوں کے برابر لے جاتے، جیسے وہ نماز شروع کرتے وقت کرتے تھے۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، ومحمد بن بشار، - واللفظ له - قالا حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا عبد الحميد بن جعفر، قال حدثني محمد بن عمرو بن عطاء، عن ابي حميد الساعدي، قال سمعته يحدث، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا قام من السجدتين كبر ورفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه كما صنع حين افتتح الصلاة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے جب نماز میں داخل ہوتے، اور جب رکوع کا ارادہ کرتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے، اور دو رکعتوں کے بعد جب کھڑے ہوتے تو بھی اپنے ہاتھوں کو مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے تھے۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، قال حدثنا المعتمر، قال سمعت عبيد الله، - وهو ابن عمر - عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يرفع يديه اذا دخل في الصلاة واذا اراد ان يركع واذا رفع راسه من الركوع واذا قام من الركعتين يرفع يديه كذلك حذو المنكبين
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے گئے تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا، تو مؤذن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور اس نے ان سے لوگوں کو جمع کر کے ان کی امامت کرنے کے لیے کہا ( چنانچہ انہوں نے امامت شروع کر دی ) اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اور صفوں کو چیر کر اگلی صف میں آ کر کھڑے ہو گئے، لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو تالیاں بجانے لگے تاکہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خبر دے دیں، جب لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجائیں تو انہیں احساس ہوا کہ نماز میں کوئی چیز ہو گئی ہے، تو وہ متوجہ ہوئے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی اور طرف دھیان نہیں کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ جیسے ہو ویسے ہی رہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کہنے پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر وہ الٹے پاؤں پیچھے آ گئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے، پھر آپ نے نماز پڑھائی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم نے نماز کیوں نہیں پڑھائی، جب میں نے تمہیں اشارہ کر دیا تھا؟ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا: تمہیں کیا ہو گیا تھا کہ تم تالیاں بجا رہے تھے، تالیاں تو عورتوں کے لیے ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہیں تمہاری نماز میں کوئی چیز پیش آ جائے، تو تم سبحان اللہ کہو ۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن بزيع، قال حدثنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى، قال حدثنا عبيد الله، - وهو ابن عمر - عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال انطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلح بين بني عمرو بن عوف فحضرت الصلاة فجاء الموذن الى ابي بكر فامره ان يجمع الناس ويومهم فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرق الصفوف حتى قام في الصف المقدم وصفح الناس بابي بكر ليوذنوه برسول الله صلى الله عليه وسلم وكان ابو بكر لا يلتفت في الصلاة فلما اكثروا علم انه قد نابهم شىء في صلاتهم فالتفت فاذا هو برسول الله صلى الله عليه وسلم فاوما اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم اى كما انت فرفع ابو بكر يديه فحمد الله واثنى عليه لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم رجع القهقرى وتقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى فلما انصرف قال لابي بكر " ما منعك اذ اومات اليك ان تصلي " . فقال ابو بكر رضى الله عنه ما كان ينبغي لابن ابي قحافة ان يوم رسول الله صلى الله عليه وسلم . ثم قال للناس " ما بالكم صفحتم انما التصفيح للنساء " . ثم قال " اذا نابكم شىء في صلاتكم فسبحوا
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اور ہم نماز میں اپنے ہاتھ اٹھا اٹھا کر سلام کر رہے تھے ۱؎ تو آپ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ نماز میں اپنے ہاتھ اٹھا رہے ہیں گویا وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، نماز میں سکون سے رہا کرو ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا عبثر، عن الاعمش، عن المسيب بن رافع، عن تميم بن طرفة، عن جابر بن سمرة، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن رافعو ايدينا في الصلاة فقال " ما بالهم رافعين ايديهم في الصلاة كانها اذناب الخيل الشمس اسكنوا في الصلاة
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے، اور اپنے ہاتھ اٹھا کر سلام کرتے تھے، اس پر آپ نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ اپنے ہاتھ اٹھا اٹھا کر سلام کرتے ہیں گویا کہ یہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھیں پھر«السلام عليكم، السلام عليكم» کہیں ۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا يحيى بن ادم، عن مسعر، عن عبيد الله ابن القبطية، عن جابر بن سمرة، قال كنا نصلي خلف النبي صلى الله عليه وسلم فنسلم بايدينا فقال " ما بال هولاء يسلمون بايديهم كانها اذناب خيل شمس اما يكفي احدهم ان يضع يده على فخذه ثم يقول السلام عليكم السلام عليكم
صحابی رسول صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، اور آپ نماز پڑھ رہے تھے تو میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا، ( ابن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں ) اور میں یہی جانتا ہوں کہ صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا الليث، عن بكير، عن نابل، صاحب العباء عن ابن عمر، عن صهيب، صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال مررت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يصلي فسلمت عليه فرد على اشارة ولا اعلم الا انه قال باصبعه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں نماز پڑھنے کے لیے داخل ہوئے، تو لوگ ان کے پاس سلام کرنے کے لیے آئے، میں نے صہیب صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ( وہ آپ کے ساتھ تھے ) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سلام کیا جاتا تھا تو آپ کیسے جواب دیتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔
اخبرنا محمد بن منصور المكي، قال حدثنا سفيان، عن زيد بن اسلم، قال قال ابن عمر دخل النبي صلى الله عليه وسلم مسجد قباء ليصلي فيه فدخل عليه رجال يسلمون عليه فسالت صهيبا وكان معه كيف كان النبي صلى الله عليه وسلم يصنع اذا سلم عليه قال كان يشير بيده
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ نے انہیں ( اشارے سے ) جواب دیا۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا وهب، - يعني ابن جرير - قال حدثنا ابي، عن قيس بن سعد، عن عطاء، عن محمد بن علي، عن عمار بن ياسر، انه سلم على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يصلي فرد عليه
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا، جب میں ( واپس آیا تو ) میں نے آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا، تو میں نے ( اسی حالت میں ) آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے اشارے سے جواب دیا، جب آپ نماز پڑھ چکے تو مجھے بلایا، اور فرمایا: تم نے ابھی مجھے سلام کیا تھا، اور میں نماز پڑھ رہا تھا ، اور اس وقت آپ پورب کی طرف رخ کیے ہوئے تھے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر، قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم لحاجة ثم ادركته وهو يصلي فسلمت عليه فاشار الى فلما فرغ دعاني فقال " انك سلمت على انفا وانا اصلي " . وانما هو موجه يوميذ الى المشرق
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کسی ضرورت سے ) بھیجا، میں ( لوٹ کر ) آپ کے پاس آیا تو آپ ( سواری پر ) مشرق یا مغرب کی طرف جا رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، میں واپس ہونے لگا تو آپ نے مجھے آواز دی: اے جابر! ( تو میں نے نہیں سنا ) پھر لوگوں نے بھی مجھے جابر کہہ کر ( بلند آواز سے ) پکارا، تو میں آپ کے پاس آیا، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نماز پڑھ رہا تھا ۔
اخبرنا محمد بن هاشم البعلبكي، قال حدثنا محمد بن شعيب بن شابور، عن عمرو بن الحارث، قال اخبرني ابو الزبير، عن جابر، قال بعثني النبي صلى الله عليه وسلم فاتيته وهو يسير مشرقا او مغربا فسلمت عليه فاشار بيده ثم سلمت عليه فاشار بيده فانصرفت فناداني " يا جابر " . فناداني الناس يا جابر . فاتيته فقلت يا رسول الله اني سلمت عليك فلم ترد على . فقال " اني كنت اصلي
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو وہ کنکری پر ہاتھ نہ پھیرے، کیونکہ رحمت اس کا سامنا کر رہی ہوتی ہے ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، والحسين بن حريث، - واللفظ له - عن سفيان، عن الزهري، عن ابي الاحوص، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا قام احدكم في الصلاة فلا يمسح الحصى فان الرحمة تواجهه
معیقب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اگر تمہیں ( کنکریوں پر ) ہاتھ پھیرنا ضروری ہی ہو تو ایک بار پھیر سکتے ہو ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، قال حدثني معيقيب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان كنت لا بد فاعلا فمرة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ نماز میں اپنی نگاہوں کو آسمان کی جانب اٹھاتے ہیں ، آپ نے بڑی سخت بات اس سلسلہ میں کہی یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: وہ اس سے باز آ جائیں ورنہ ان کی نظریں اچک لی جائیں گی ۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، وشعيب بن يوسف، عن يحيى، - وهو ابن سعيد القطان - عن ابن ابي عروبة، عن قتادة، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما بال اقوام يرفعون ابصارهم الى السماء في صلاتهم " . فاشتد قوله في ذلك حتى قال " لينتهن عن ذلك او لتخطفن ابصارهم
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو تو وہ اپنی نظروں کو آسمان کی طرف نہ اٹھائے، ایسا نہ ہو کہ اس کی نظر اچک لی جائے ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن يونس، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، ان رجلا، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم حدثه انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا كان احدكم في الصلاة فلا يرفع بصره الى السماء ان يلتمع بصره
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برابر اللہ بندے پر اس کی نماز میں متوجہ رہتا ہے اس وقت تک جب تک کہ وہ ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتا، اور جب وہ رخ پھیر لیتا ہے تو اللہ بھی اس سے پھر جاتا ہے ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن يونس، عن الزهري، قال سمعت ابا الاحوص، يحدثنا في مجلس سعيد بن المسيب وابن المسيب جالس انه سمع ابا ذر، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يزال الله عز وجل مقبلا على العبد في صلاته ما لم يلتفت فاذا صرف وجهه انصرف عنه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ چھینا جھپٹی ہے جسے شیطان اس سے نماز میں کرتا ہے ۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا زايدة، عن اشعث بن ابي الشعثاء، عن ابيه، عن مسروق، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الالتفات في الصلاة فقال " اختلاس يختلسه الشيطان من الصلاة
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتی ہیں۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا ابو الاحوص، عن اشعث، عن ابيه، عن مسروق، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثله
اس سند سے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، قال حدثنا اسراييل، عن اشعث بن ابي الشعثاء، عن ابي عطية، عن مسروق، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثله