احادیث
#1183
سنن نسائی - Forgetfulness (in Prayer)
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے گئے تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا، تو مؤذن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور اس نے ان سے لوگوں کو جمع کر کے ان کی امامت کرنے کے لیے کہا ( چنانچہ انہوں نے امامت شروع کر دی ) اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، اور صفوں کو چیر کر اگلی صف میں آ کر کھڑے ہو گئے، لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو تالیاں بجانے لگے تاکہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خبر دے دیں، جب لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجائیں تو انہیں احساس ہوا کہ نماز میں کوئی چیز ہو گئی ہے، تو وہ متوجہ ہوئے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی اور طرف دھیان نہیں کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ جیسے ہو ویسے ہی رہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کہنے پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر وہ الٹے پاؤں پیچھے آ گئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے، پھر آپ نے نماز پڑھائی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم نے نماز کیوں نہیں پڑھائی، جب میں نے تمہیں اشارہ کر دیا تھا؟ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کرے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کہا: تمہیں کیا ہو گیا تھا کہ تم تالیاں بجا رہے تھے، تالیاں تو عورتوں کے لیے ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہیں تمہاری نماز میں کوئی چیز پیش آ جائے، تو تم سبحان اللہ کہو ۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن بزيع، قال حدثنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى، قال حدثنا عبيد الله، - وهو ابن عمر - عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال انطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلح بين بني عمرو بن عوف فحضرت الصلاة فجاء الموذن الى ابي بكر فامره ان يجمع الناس ويومهم فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرق الصفوف حتى قام في الصف المقدم وصفح الناس بابي بكر ليوذنوه برسول الله صلى الله عليه وسلم وكان ابو بكر لا يلتفت في الصلاة فلما اكثروا علم انه قد نابهم شىء في صلاتهم فالتفت فاذا هو برسول الله صلى الله عليه وسلم فاوما اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم اى كما انت فرفع ابو بكر يديه فحمد الله واثنى عليه لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم رجع القهقرى وتقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى فلما انصرف قال لابي بكر " ما منعك اذ اومات اليك ان تصلي " . فقال ابو بكر رضى الله عنه ما كان ينبغي لابن ابي قحافة ان يوم رسول الله صلى الله عليه وسلم . ثم قال للناس " ما بالكم صفحتم انما التصفيح للنساء " . ثم قال " اذا نابكم شىء في صلاتكم فسبحوا
Metadata
- Edition
- سنن نسائی
- Book
- Forgetfulness (in Prayer)
- Hadith Index
- #1183
- Book Index
- 5
Grades
- Abu GhuddahSahih
- Al-AlbaniSahih
- Zubair Ali ZaiSahih - Agreed Upon
