Loading...

Loading...
کتب
۱۸۸ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نماز میں ادھر ادھر دیکھنا چھینا جھپٹی ہے جسے شیطان نماز میں اس سے کرتا ہے۔
اخبرنا هلال بن العلاء بن هلال، قال حدثنا المعافى بن سليمان، قال حدثنا القاسم، - وهو ابن معن - عن الاعمش، عن عمارة، عن ابي عطية، قال قالت عايشة ان الالتفات في الصلاة اختلاس يختلسه الشيطان من الصلاة
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ زور سے تکبیر کہہ کر لوگوں کو آپ کی تکبیر سنا رہے تھے، ( نماز میں ) آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے ہمیں دیکھا کہ ہم کھڑے ہیں، آپ نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا، تو ہم بیٹھ گئے، اور ہم نے آپ کی امامت میں بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ نے سلام پھیرا تو فرمایا: ابھی ابھی تم لوگ فارس اور روم والوں کی طرح کر رہے تھے، وہ لوگ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں، اور وہ بیٹھے رہتے ہیں، تو تم ایسا نہ کرو، اپنے اماموں کی اقتداء کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تو تم کھڑے ہو کر پڑھو، اور اگر بیٹھ کر پڑھیں بھی بیٹھ کر پڑھو ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر، انه قال اشتكى رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلينا وراءه وهو قاعد وابو بكر يكبر يسمع الناس تكبيره فالتفت الينا فرانا قياما فاشار الينا فقعدنا فصلينا بصلاته قعودا فلما سلم قال " ان كنتم انفا تفعلون فعل فارس والروم يقومون على ملوكهم وهم قعود فلا تفعلوا ايتموا بايمتكم ان صلى قايما فصلوا قياما وان صلى قاعدا فصلوا قعودا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دائیں بائیں متوجہ ہوتے تھے ۱؎ لیکن آپ اپنی گردن اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں موڑتے تھے۔
اخبرنا ابو عمار الحسين بن حريث، قال حدثنا الفضل بن موسى، عن عبد الله بن سعيد بن ابي هند، عن ثور بن زيد، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يلتفت في صلاته يمينا وشمالا ولا يلوي عنقه خلف ظهره
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ( کی حالت ) میں دو کالوں کو یعنی سانپ اور بچھو کو مارنے کا حکم دیا ہے۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن سفيان، ويزيد، - وهو ابن زريع - عن معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن ضمضم بن جوس، عن ابي هريرة، قال امر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقتل الاسودين في الصلاة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دو کالوں کو مارنے کا حکم دیا۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا سليمان بن داود ابو داود، قال حدثنا هشام، - وهو ابن ابي عبد الله - عن معمر، عن يحيى، عن ضمضم، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بقتل الاسودين في الصلاة
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، اور نماز کی حالت میں ( اپنی نواسی ) امامہ رضی اللہ عنہا کو اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ سجدہ میں گئے تو انہیں اتار دیا، اور جب کھڑے ہوئے تو انہیں اٹھا لیا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا مالك، عن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن عمرو بن سليم، عن ابي قتادة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي وهو حامل امامة فاذا سجد وضعها واذا قام رفعها
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ لوگوں کی امامت کر رہے ہیں، اور امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ عنہم کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے ہیں، جب آپ رکوع میں گئے تو انہیں اتار دیا، اور جب سجدے سے فارغ ہوئے تو انہیں پھر اٹھا لیا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن عثمان بن ابي سليمان، عن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن عمرو بن سليم، عن ابي قتادة، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يوم الناس وهو حامل امامة بنت ابي العاص على عاتقه فاذا ركع وضعها فاذا فرغ من سجوده اعادها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے دروازہ کھلوانا چاہا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ قبلہ کی طرف پڑ رہا تھا، آپ اپنے دائیں جانب یا بائیں جانب ( چند قدم ) چلے، اور آپ نے دروازہ کھولا، پھر آپ اپنی جگہ پر واپس لوٹ آئے۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا حاتم بن وردان، قال حدثنا برد بن سنان ابو العلاء، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت استفتحت الباب ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي تطوعا والباب على القبلة فمشى عن يمينه او عن يساره ففتح الباب ثم رجع الى مصلاه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۔ ابن مثنیٰ نے «في الصلاة» کا اضافہ کیا ہے ( یعنی نماز میں ) ۔
اخبرنا قتيبة، ومحمد بن المثنى، - واللفظ له - قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " التسبيح للرجال والتصفيق للنساء " . زاد ابن المثنى " في الصلاة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني سعيد بن المسيب، وابو سلمة بن عبد الرحمن انهما سمعا ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " التسبيح للرجال والتصفيق للنساء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ ( کہنا ) مردوں کے لیے ہے، اور دستک دینا عورتوں کے لیے ہے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الفضيل بن عياض، عن الاعمش، ح وانبانا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن سليمان الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " التسبيح للرجال والتصفيق للنساء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۔
اخبرنا عبيد الله بن سعيد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن عوف، قال حدثني محمد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " التسبيح للرجال والتصفيق للنساء
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے میرے لیے ایک گھڑی ایسی مقرر تھی کہ میں اس میں آپ کے پاس آیا کرتا تھا، جب میں آپ کے پاس آتا تو اجازت مانگتا، اگر میں آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پاتا تو آپ کھنکھارتے، تو میں اندر داخل ہو جاتا، اگر میں آپ کو خالی پاتا تو آپ مجھے اجازت دیتے۔
اخبرنا محمد بن قدامة، قال حدثنا جرير، عن المغيرة، عن الحارث العكلي، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، قال حدثنا عبد الله بن نجى، عن علي، قال كان لي من رسول الله صلى الله عليه وسلم ساعة اتيه فيها فاذا اتيته استاذنت ان وجدته يصلي فتنحنح دخلت وان وجدته فارغا اذن لي
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میرے آنے کے دو وقت تھے، ایک رات میں اور ایک دن میں، جب میں رات میں آپ کے پاس آتا ( اور آپ نماز وغیرہ میں مشغول ہوتے ) تو آپ میرے لیے کھنکھارتے ۱؎۔
اخبرني محمد بن عبيد، قال حدثنا ابن عياش، عن مغيرة، عن الحارث العكلي، عن ابن نجى، قال قال علي كان لي من رسول الله صلى الله عليه وسلم مدخلان مدخل بالليل ومدخل بالنهار فكنت اذا دخلت بالليل تنحنح لي
نجی کہتے ہیں کہ مجھ سے علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں میرا ایسا مقام و مرتبہ تھا جو مخلوق میں سے کسی اور کو میسر نہیں تھا، چنانچہ میں آپ کے پاس ہر صبح تڑکے آتا اور کہتا «السلام عليك يا نبي اللہ» اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو اگر آپ کھنکھارتے تو میں اپنے گھر واپس لوٹ جاتا، اور نہیں تو میں اندر داخل ہو جاتا۔
اخبرنا القاسم بن زكريا بن دينار، قال حدثنا ابو اسامة، قال حدثني شرحبيل، - يعني ابن مدرك - قال حدثني عبد الله بن نجى، عن ابيه، قال قال لي علي كانت لي منزلة من رسول الله صلى الله عليه وسلم لم تكن لاحد من الخلايق فكنت اتيه كل سحر فاقول السلام عليك يا نبي الله فان تنحنح انصرفت الى اهلي والا دخلت عليه
عبداللہ بن الشخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ کے پیٹ سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے ہانڈی ابل رہی ہو یعنی آپ رو رہے تھے ۱؎۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن حماد بن سلمة، عن ثابت البناني، عن مطرف، عن ابيه، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يصلي ولجوفه ازيز كازيز المرجل يعني يبكي
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو کہتے سنا: «أعوذ باللہ منك» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے پھر آپ نے فرمایا: «ألعنك بلعنة اللہ» میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں تین بار آپ نے ایسا کہا، اور اپنا ہاتھ پھیلایا گویا آپ کوئی چیز پکڑنی چاہ رہے ہیں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو نماز میں ایک ایسی بات کہتے ہوئے سنا جسے ہم نے اس سے پہلے آپ کو کبھی کہتے ہوئے نہیں سنا، نیز ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے، تو میں نے تین بار کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے، پھر میں نے تین بار کہا: میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں، پھر بھی وہ پیچھے نہیں ہٹا، تو میں نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ لوں، اللہ کی قسم! اگر ہمارے بھائی سلیمان ( علیہ السلام ) کی دعا نہ ہوتی، تو وہ صبح کو اس ( کھمبے ) سے بندھا ہوا ہوتا، اور اس سے اہل مدینہ کے بچے کھیل کرتے ۔
اخبرنا محمد بن سلمة، عن ابن وهب، عن معاوية بن صالح، قال حدثني ربيعة بن يزيد، عن ابي ادريس الخولاني، عن ابي الدرداء، قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي فسمعناه يقول " اعوذ بالله منك " . ثم قال " العنك بلعنة الله " . ثلاثا وبسط يده كانه يتناول شييا فلما فرغ من الصلاة قلنا يا رسول الله قد سمعناك تقول في الصلاة شييا لم نسمعك تقوله قبل ذلك ورايناك بسطت يدك . قال " ان عدو الله ابليس جاء بشهاب من نار ليجعله في وجهي فقلت اعوذ بالله منك ثلاث مرات ثم قلت العنك بلعنة الله فلم يستاخر ثلاث مرات ثم اردت ان اخذه والله لولا دعوة اخينا سليمان لاصبح موثقا بها يلعب به ولدان اهل المدينة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ کے ساتھ ہم ( بھی ) کھڑے ہوئے، تو ایک اعرابی نے کہا ( اور وہ نماز میں مشغول تھا ) : «اللہم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا» اے اللہ! میرے اوپر اور محمد پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما ۱؎جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ نے اعرابی سے فرمایا: تو نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ، آپ اس سے اللہ کی رحمت مراد لے رہے تھے۔
اخبرنا كثير بن عبيد، قال حدثنا محمد بن حرب، عن الزبيدي، عن الزهري، عن ابي سلمة، ان ابا هريرة، قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم الى الصلاة وقمنا معه فقال اعرابي وهو في الصلاة اللهم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا احدا . فلما سلم رسول الله صلى الله عليه وسلم قال للاعرابي " لقد تحجرت واسعا " . يريد رحمة الله عز وجل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر اس نے ( نماز ہی میں ) کہا: «اللہم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا» اے اللہ! مجھ پر اور محمد پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ۔
اخبرنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن الزهري، قال حدثنا سفيان، قال احفظه من الزهري قال اخبرني سعيد، عن ابي هريرة، ان اعرابيا، دخل المسجد فصلى ركعتين ثم قال اللهم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا احدا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لقد تحجرت واسعا
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا جاہلیت کا زمانہ ابھی ابھی گزرا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسلام کو لے آیا، ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو برا شگون لیتے ہیں! آپ نے فرمایا: یہ محض ایک خیال ہے جسے لوگ اپنے دلوں میں پاتے ہیں، تو یہ ان کے آڑے نہ آئے ۱؎ معاویہ بن حکم نے کہا: اور ہم میں بعض لوگ ایسے ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں! تو آپ نے فرمایا: تم لوگ ان کے پاس نہ جایا کرو ، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اور ہم میں سے کچھ لوگ ( زمین پر یا کاغذ پر آئندہ کی بات بتانے کے لیے ) لکیریں کھینچتے ہیں! آپ نے فرمایا: نبیوں میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھینچتے تھے، تو جس شخص کی لکیر ان کے موافق ہو تو وہ صحیح ہے ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ ہی رہا تھا کہ اسی دوران اچانک قوم میں سے ایک آدمی کو چھینک آ گئی، تو میں نے ( زور سے ) «يرحمك اللہ» اللہ تجھ پر رحم کرے کہا، تو لوگ مجھے گھور کر دیکھنے لگے، میں نے کہا: «واثكل أمياه» میری ماں مجھ پر روئے ، تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ تم مجھے گھور رہے ہو؟ لوگوں نے ( مجھے خاموش کرنے کے لیے ) اپنے ہاتھوں سے اپنی رانوں کو تھپتھپایا، جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کر رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے مجھے بلایا، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، نہ تو آپ نے مجھے مارا، نہ ہی مجھے ڈانٹا، اور نہ ہی برا بھلا کہا، میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد آپ سے اچھا اور بہتر معلم کسی کو نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا: ہماری اس نماز میں لوگوں کی گفتگو میں سے کوئی چیز درست نہیں، نماز تو صرف تسبیح، تکبیر اور قرأت قرآن کا نام ہے ، پھر میں اپنی بکریوں کی طرف آیا جنہیں میری باندی احد پہاڑ اور جوانیہ ۲؎ میں چرا رہی تھی، میں ( وہاں ) آیا تو میں نے پایا کہ بھیڑیا ان میں سے ایک بکری اٹھا لے گیا ہے، میں ( بھی ) بنو آدم ہی میں سے ایک فرد ہوں، مجھے ( بھی ) غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے، چنانچہ میں نے اسے ایک چانٹا مارا، پھر میں لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی، تو آپ نے مجھ پر اس کی سنگینی واضح کی، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اس کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بلاؤ ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: آسمان کے اوپر، آپ نے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مومنہ ہے، تو تم اسے آزاد کر دو ۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا محمد بن يوسف، قال حدثنا الاوزاعي، قال حدثني يحيى بن ابي كثير، عن هلال بن ابي ميمونة، قال حدثني عطاء بن يسار، عن معاوية بن الحكم السلمي، قال قلت يا رسول الله انا حديث عهد بجاهلية فجاء الله بالاسلام وان رجالا منا يتطيرون . قال " ذاك شىء يجدونه في صدورهم فلا يصدنهم " . ورجال منا ياتون الكهان . قال " فلا تاتوهم " . قال يا رسول الله ورجال منا يخطون . قال " كان نبي من الانبياء يخط فمن وافق خطه فذاك " . قال وبينا انا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلاة اذ عطس رجل من القوم فقلت يرحمك الله فحدقني القوم بابصارهم فقلت واثكل امياه ما لكم تنظرون الى قال فضرب القوم بايديهم على افخاذهم فلما رايتهم يسكتوني لكني سكت فلما انصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم دعاني بابي وامي هو ما ضربني ولا كهرني ولا سبني ما رايت معلما قبله ولا بعده احسن تعليما منه قال " ان صلاتنا هذه لا يصلح فيها شىء من كلام الناس انما هو التسبيح والتكبير وتلاوة القران " . قال ثم اطلعت الى غنيمة لي ترعاها جارية لي في قبل احد والجوانية واني اطلعت فوجدت الذيب قد ذهب منها بشاة وانا رجل من بني ادم اسف كما ياسفون فصككتها صكة ثم انصرفت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرته فعظم ذلك على فقلت يا رسول الله افلا اعتقها قال " ادعها " . فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " اين الله عز وجل " . قالت في السماء . قال " فمن انا " . قالت انت رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال " انها مومنة فاعتقها