Loading...

Loading...
کتب
۱۸۸ احادیث
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( شروع میں ) آدمی نماز میں اپنے ساتھ والے سے ضرورت کی باتیں کر لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» محافظت کرو نمازوں کی، اور بیچ والی نماز کی، اور اللہ کے لیے خاموش کھڑے رہو نازل ہوئی تو ( اس کے بعد سے ) ہمیں خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا ( البقرہ: ۲۳۸ ) ۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، قال حدثني الحارث بن شبيل، عن ابي عمرو الشيباني، عن زيد بن ارقم، قال كان الرجل يكلم صاحبه في الصلاة بالحاجة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى نزلت هذه الاية { حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين } فامرنا بالسكوت
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا، اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو میں آپ کو سلام کرتا، تو آپ مجھے جواب دیتے، ( ایک بار ) میں آپ کے پاس آیا، اور میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، جب آپ نے سلام پھیرا، تو لوگوں کی طرف اشارہ کیا، اور فرمایا: اللہ نے نماز میں ایک نیا حکم دیا ہے کہ تم لوگ ( نماز میں ) سوائے ذکر الٰہی اور مناسب دعاؤں کے کوئی اور گفتگو نہ کرو، اور اللہ کے لیے یکسو ہو کر کھڑے رہا کرو ۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عمار، قال حدثنا ابن ابي غنية، - واسمه يحيى بن عبد الملك - والقاسم بن يزيد الجرمي عن سفيان، عن الزبير بن عدي، عن كلثوم، عن عبد الله بن مسعود، - وهذا حديث القاسم - قال كنت اتي النبي صلى الله عليه وسلم وهو يصلي فاسلم عليه فيرد على فاتيته فسلمت عليه وهو يصلي فلم يرد على فلما سلم اشار الى القوم فقال " ان الله عز وجل - يعني - احدث في الصلاة ان لا تكلموا الا بذكر الله وما ينبغي لكم وان تقوموا لله قانتين
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے، تو آپ ہمیں سلام کا جواب دیتے تھے، یہاں تک کہ ہم سر زمین حبشہ سے واپس آئے تو میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، تو مجھے نزدیک و دور کی فکر لاحق ہوئی ۱؎ لہٰذا میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ جب آپ نے نماز ختم کر لی تو فرمایا: اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے نیا حکم دیتا ہے، اب اس نے یہ نیا حکم دیا ہے کہ ( اب ) نماز میں گفتگو نہ کی جائے ۔
اخبرنا الحسين بن حريث، قال حدثنا سفيان، عن عاصم، عن ابي وايل، عن ابن مسعود، قال كنا نسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فيرد علينا السلام حتى قدمنا من ارض الحبشة فسلمت عليه فلم يرد على فاخذني ما قرب وما بعد فجلست حتى اذا قضى الصلاة قال " ان الله عز وجل يحدث من امره ما يشاء وانه قد احدث من امره ان لا يتكلم في الصلاة
عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو دو رکعت نماز پڑھائی، پھر آپ کھڑے ہو گئے اور بیٹھے نہیں، تو لوگ ( بھی ) آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جب آپ نے نماز مکمل کر لی، اور ہم آپ کے سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے، تو آپ نے اللہ اکبر کہا، اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر آپ نے سلام پھیرا۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عبد الرحمن الاعرج، عن عبد الله ابن بحينة، قال صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتين ثم قام فلم يجلس فقام الناس معه فلما قضى صلاته ونظرنا تسليمه كبر فسجد سجدتين وهو جالس قبل التسليم ثم سلم
عبداللہ ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہو گئے حالانکہ آپ کو تشہد کے لیے بیٹھنا چاہیئے تھا، تو آپ نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن يحيى بن سعيد، عن عبد الرحمن بن هرمز، عن عبد الله ابن بحينة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قام في الصلاة وعليه جلوس فسجد سجدتين وهو جالس قبل التسليم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو شام کی دونوں نمازوں ( ظہر یا عصر ) میں سے کوئی ایک نماز پڑھائی، لیکن میں بھول گیا ( کہ آپ نے کون سی نماز پڑھائی تھی ) تو آپ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا، پھر آپ مسجد میں لگی ایک لکڑی کی جانب گئے، اور اس پر اپنا ہاتھ رکھا، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ گویا آپ غصہ میں ہیں، اور جلد باز لوگ مسجد کے دروازے سے نکل گئے، اور کہنے لگے: نماز کم کر دی گئی ہے، لوگوں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم ( بھی ) تھے، لیکن وہ دونوں ڈرے کہ آپ سے اس سلسلہ میں پوچھیں، لوگوں میں ایک شخص تھے جن کے دونوں ہاتھ لمبے تھے، انہیں ذوالیدین ( دو ہاتھوں والا ) کہا جاتا تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں یا نماز ہی کم کر دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ تو میں بھولا ہوں، اور نہ نماز ہی کم کی گئی ہے ، آپ نے ( لوگوں سے ) پوچھا: کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، ( ایسا ہی ہے ) چنانچہ آپ ( مصلے پر واپس آئے ) اور وہ ( دو رکعتیں ) پڑھیں جنہیں آپ نے چھوڑ دیا تھا، پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا اور اپنے سجدوں کے جیسا یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اور اللہ اکبر کہا، اور اپنے سجدوں کی طرح یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا پھر اللہ اکبر کہا۔
اخبرنا حميد بن مسعدة، قال حدثنا يزيد، - وهو ابن زريع - قال حدثنا ابن عون، عن محمد بن سيرين، قال قال ابو هريرة صلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم احدى صلاتى العشي . قال قال ابو هريرة ولكني نسيت - قال - فصلى بنا ركعتين ثم سلم فانطلق الى خشبة معروضة في المسجد فقال بيده عليها كانه غضبان وخرجت السرعان من ابواب المسجد فقالوا قصرت الصلاة وفي القوم ابو بكر وعمر - رضى الله عنهما - فهاباه ان يكلماه وفي القوم رجل في يديه طول قال كان يسمى ذا اليدين فقال يا رسول الله انسيت ام قصرت الصلاة قال " لم انس ولم تقصر الصلاة " . قال وقال " اكما قال ذو اليدين " . قالوا نعم . فجاء فصلى الذي كان تركه ثم سلم ثم كبر فسجد مثل سجوده او اطول ثم رفع راسه وكبر ثم سجد مثل سجوده او اطول ثم رفع راسه ثم كبر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہی رکعت پر نماز ختم کر دی، تو آپ سے ذوالیدین نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر آپ نے دو ( رکعت مزید ) پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر آپ نے اللہ اکبر کہہ کر اپنے سجدوں کی طرح یا اس سے لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، پھر اپنے سجدوں کی طرح یا اس سے لمبا دوسرا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن القاسم، عن مالك، قال حدثني ايوب، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم انصرف من اثنتين فقال له ذو اليدين اقصرت الصلاة ام نسيت يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اصدق ذو اليدين " . فقال الناس نعم . فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى اثنتين ثم سلم ثم كبر فسجد مثل سجوده او اطول ثم رفع راسه ثم سجد مثل سجوده او اطول ثم رفع
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز عصر پڑھائی، تو دو ہی رکعت میں سلام پھیر دیا، ذوالیدین کھڑے ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( ان دونوں میں سے ) کوئی بات بھی نہیں ہوئی ہے ، ذوالیدین نے کہا: اللہ کے رسول! ان دونوں میں سے کوئی ایک بات ضرور ہوئی ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور آپ نے ان سے پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، ( سچ کہہ رہے ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سے جو رہ گیا تھا، اسے پورا، کیا پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن داود بن الحصين، عن ابي سفيان، مولى ابن ابي احمد انه قال سمعت ابا هريرة، يقول صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة العصر فسلم في ركعتين فقام ذو اليدين فقال اقصرت الصلاة يا رسول الله ام نسيت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل ذلك لم يكن " . فقال قد كان بعض ذلك يا رسول الله . فاقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم على الناس فقال " اصدق ذو اليدين " . فقالوا نعم . فاتم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما بقي من الصلاة ثم سجد سجدتين وهو جالس بعد التسليم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا، تو لوگ کہنے لگے کہ نماز کم کر دی گئی ہے، تو آپ کھڑے ہوئے، اور دو رکعت مزید پڑھائی، پھر سلام پھیرا پھر دو سجدے کئے۔
اخبرنا سليمان بن عبيد الله، قال حدثنا بهز بن اسد، قال حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، انه سمع ابا سلمة، يحدث عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى صلاة الظهر ركعتين ثم سلم فقالوا اقصرت الصلاة فقام وصلى ركعتين ثم سلم ثم سجد سجدتين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی تو آپ نے دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر جانے لگے تو آپ کے پاس ذوالشمالین ۱؎ آئے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: نہ تو نماز کم کی گئی ہے اور نہ ہی میں بھولا ہوں ، اس پر انہوں نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ان دونوں میں سے ضرور کوئی ایک بات ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لوگوں سے ) پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعتیں اور پڑھائیں۔
اخبرنا عيسى بن حماد، قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عمران بن ابي انس، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى يوما فسلم في ركعتين ثم انصرف فادركه ذو الشمالين فقال يا رسول الله انقصت الصلاة ام نسيت فقال " لم تنقص الصلاة ولم انس " . قال بلى والذي بعثك بالحق . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اصدق ذو اليدين " . قالوا نعم . فصلى بالناس ركعتين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز میں ) بھول گئے، تو آپ نے دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، تو آپ سے ذوالشمالین نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لوگوں سے ) پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، ( سچ کہہ رہے ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر آپ نے نماز پوری کی۔
اخبرنا هارون بن موسى الفروي، قال حدثني ابو ضمرة، عن يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابو سلمة، عن ابي هريرة، قال نسي رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلم في سجدتين . فقال له ذو الشمالين اقصرت الصلاة ام نسيت يا رسول الله قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اصدق ذو اليدين " . قالوا نعم . فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتم الصلاة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہم کو ) ظہر یا عصر پڑھائی، تو آپ نے دو ہی رکعت میں سلام پھیر دیا، اور اٹھ کر جانے لگے، تو آپ سے ذوالشمالین بن عمرو نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لوگوں سے ) پوچھا: ذوالیدین کیا کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: وہ سچ کہہ رہے ہیں، اللہ کے نبی! تو آپ نے ان دو رکعتوں کو جو باقی رہ گئی تھیں لوگوں کے ساتھ پورا کیا۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، وابي، بكر بن سليمان بن ابي حثمة عن ابي هريرة، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر او العصر فسلم في ركعتين وانصرف . فقال له ذو الشمالين بن عمرو انقصت الصلاة ام نسيت فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ما يقول ذو اليدين " . فقالوا صدق يا نبي الله . فاتم بهم الركعتين اللتين نقص
ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھائی، تو ذوالشمالین نے آپ سے عرض کیا، آگے حدیث اسی طرح ہے۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطہ سے دی ہے، وہ ( زہری ) کہتے ہیں: نیز مجھے اس کی خبر ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث اور عبیدالرحمن بن عبداللہ نے بھی دی ہے۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا يعقوب، قال حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، ان ابا بكر بن سليمان بن ابي حثمة، اخبره انه، بلغه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى ركعتين فقال له ذو الشمالين نحوه . قال ابن شهاب اخبرني هذا الخبر سعيد بن المسيب عن ابي هريرة . قال واخبرنيه ابو سلمة بن عبد الرحمن وابو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث وعبيد الله بن عبد الله
سعید بن مسیب، ابوسلمہ، ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ابن ابی حثمہ چاروں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن نہ تو سلام سے پہلے سجدہ ( سہو ) کیا، اور نہ ہی اس کے بعد۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، قال حدثنا شعيب، قال انبانا الليث، عن عقيل، قال حدثني ابن شهاب، عن سعيد، وابي، سلمة وابي بكر بن عبد الرحمن وابن ابي حثمة عن ابي هريرة، انه قال لم يسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم يوميذ قبل السلام ولا بعده
عراک بن مالک ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالیدین والے دن سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کئے۔
اخبرنا عمرو بن سواد بن الاسود بن عمرو، قال حدثنا عبد الله بن وهب، قال انبانا الليث بن سعد، عن يزيد بن ابي حبيب، عن جعفر بن ربيعة، عن عراك بن مالك، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سجد يوم ذي اليدين سجدتين بعد السلام
محمد بن سیرین ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
اخبرنا عمرو بن سواد بن الاسود، قال اخبرنا ابن وهب، قال انبانا عمرو بن الحارث، قال حدثنا قتادة، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بمثله
ابن سیرین ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول ہو جانے کی صورت میں سلام پھیرنے کے بعد سجدہ ( سہو ) کیا۔
اخبرنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار، قال حدثنا بقية، قال حدثنا شعبة، قال وحدثني ابن عون، وخالد الحذاء، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم سجد في وهمه بعد التسليم
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ کو سہو ہو گیا، تو آپ نے دو سجدے ( سہو کے ) کیے، پھر سلام پھیرا ۱؎۔
اخبرنا محمد بن يحيى بن عبد الله النيسابوري، قال حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، قال اخبرني اشعث، عن محمد بن سيرين، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن ابي المهلب، عن عمران بن حصين، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى بهم فسها فسجد سجدتين ثم سلم
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر آپ اپنے حجرے میں چلے گئے، تو آپ کی طرف اٹھ کر خرباق نامی ایک شخص گئے اور پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ تو آپ غصہ کی حالت میں اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے، اور پوچھا: کیا یہ سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ کھڑے ہوئے، اور ( جو چھوٹ گئی تھی ) اسے پڑھایا پھر سلام پھیرا، پھر اس رکعت کے ( چھوٹ جانے کے سبب ) دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔
اخبرنا ابو الاشعث، عن يزيد بن زريع، قال حدثنا خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن ابي المهلب، عن عمران بن حصين، قال سلم رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثلاث ركعات من العصر فدخل منزله فقام اليه رجل يقال له الخرباق فقال يعني نقصت الصلاة يا رسول الله فخرج مغضبا يجر رداءه فقال " اصدق " . قالوا نعم . فقام فصلى تلك الركعة ثم سلم ثم سجد سجدتيها ثم سلم
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اس کی نماز میں شک ہو جائے تو وہ شک کو چھوڑ دے، اور یقین پر بنا کرے، جب اسے نماز کے پورا ہونے کا یقین ہو جائے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے، ( اب ) اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھیں ہوں گی تو ( یہ ) دونوں سجدے اس کی نماز کو جفت بنا دیں گے، اور اگر اس نے چار رکعتیں پڑھی ہوں گی تو ( یہ ) دونوں سجدے شیطان کی ذلت و خواری کے موجب ہوں گے ۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال حدثنا خالد، عن ابن عجلان، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا شك احدكم في صلاته فليلغ الشك وليبن على اليقين فاذا استيقن بالتمام فليسجد سجدتين وهو قاعد فان كان صلى خمسا شفعتا له صلاته وان صلى اربعا كانتا ترغيما للشيطان