Loading...

Loading...
کتب
۱۸۸ احادیث
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ( نماز پڑھتے وقت ) نہ جان پائے کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار، تو اسے ایک رکعت اور پڑھ لینی چاہیئے، پھر وہ ان سب کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے، ( اب ) اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھی ہوں گی، تو یہ دونوں سجدے اس کی نماز کو جفت بنا دیں گے، اور اگر اس نے چار رکعتیں پڑھی ہوں گی تو یہ دونوں سجدے شیطان کی ذلت و خواری کا اور اسے غیظ و غضب میں مبتلا کرنے کا سبب بنیں گے ۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا حجين بن المثنى، قال حدثنا عبد العزيز، - وهو ابن ابي سلمة - عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا لم يدر احدكم صلى ثلاثا ام اربعا فليصل ركعة ثم يسجد بعد ذلك سجدتين وهو جالس فان كان صلى خمسا شفعتا له صلاته وان صلى اربعا كانتا ترغيما للشيطان
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اس کی نماز میں شک ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ ( غور و فکر کے بعد ) اس چیز کا قصد کرے جسے اس نے درست سمجھا ہو، اور اسی پر اتمام کرے، پھر اس کے بعد یعنی دو سجدے کرے ، راوی کہتے ہیں: آپ کے بعض حروف کو میں اس طرح سمجھ نہیں سکا جیسے میں چاہ رہا تھا۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا مفضل، - وهو ابن مهلهل - عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، يرفعه الى النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا شك احدكم في صلاته فليتحر الذي يرى انه الصواب فيتمه ثم - يعني - يسجد سجدتين " . ولم افهم بعض حروفه كما اردت
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اس کی نماز میں شک ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ غور و فکر کرے، ( اور ظن غالب کو تلاش کرے ) اور نماز سے فارغ ہو جانے کے بعد دو سجدے کر لے ۱؎۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك المخرمي، قال حدثنا وكيع، عن مسعر، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا شك احدكم في صلاته فليتحر ويسجد سجدتين بعد ما يفرغ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو آپ نے کچھ بڑھایا گھٹا دیا، جب آپ نے سلام پھیرا تو ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی بات ہوئی ہے؟ آپ نے فرمایا: اگر نماز کے سلسلہ میں کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تمہیں اسے بتاتا، البتہ میں بھی انسان ہی ہوں، جس طرح تم لوگ بھول جاتے ہو، مجھ سے بھی بھول ہو سکتی ہے، لہٰذا تم میں سے کسی کو نماز میں کچھ شک ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ اس چیز کو دیکھے جو صحت و درستی کے زیادہ لائق ہے، اور اسی پر اتمام کرے، پھر سلام پھیرے، اور دو سجدے کر لے ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن مسعر، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فزاد او نقص فلما سلم قلنا يا رسول الله هل حدث في الصلاة شىء قال " لو حدث في الصلاة شىء انباتكموه ولكني انما انا بشر انسى كما تنسون فايكم ما شك في صلاته فلينظر احرى ذلك الى الصواب فليتم عليه ثم ليسلم وليسجد سجدتين
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، آپ نے اس میں کچھ بڑھا، یا گھٹا دیا، تو جب آپ نے سلام پھیرا تو ہم نے پوچھا: اللہ کے نبی! کیا نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ تو ہم نے آپ سے اس چیز کا ذکر کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، تو آپ نے اپنا پاؤں موڑا، قبلہ رخ ہوئے، اور سہو کے دو سجدے کیے، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اگر نماز کے متعلق کوئی نئی چیز ہوتی تو میں تمہیں اس کی خبر دیتا ، پھر فرمایا: میں انسان ہی تو ہوں، جیسے تم بھولتے ہو، میں بھی بھولتا ہوں، لہٰذا تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی شک ہو جائے تو غور و فکر کرے، اور اس چیز کا قصد کرے جس کو وہ درست سمجھ رہا ہو، پھر وہ سلام پھیرے، پھر سہو کے دو سجدے کرے ۔
اخبرنا الحسن بن اسماعيل بن سليمان المجالدي، قال حدثنا الفضيل، - يعني ابن عياض - عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة فزاد فيها او نقص فلما سلم قلنا يا نبي الله هل حدث في الصلاة شىء قال " وما ذاك " . فذكرنا له الذي فعل فثنى رجله فاستقبل القبلة فسجد سجدتى السهو ثم اقبل علينا بوجهه فقال " لو حدث في الصلاة شىء لانباتكم به " . ثم قال " انما انا بشر انسى كما تنسون فايكم شك في صلاته شييا فليتحر الذي يرى انه صواب ثم يسلم ثم يسجد سجدتى السهو
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے، تو لوگوں نے عرض کیا: کیا نماز کے متعلق کوئی نئی چیز واقع ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ کیا؟ تو لوگوں نے آپ کو جو آپ نے کیا تھا بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اسی حالت میں ) اپنا پاؤں موڑا، اور آپ قبلہ رخ ہوئے، اور دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا، پھر آپ ( دوبارہ ) لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا: میں انسان ہی تو ہوں اسی طرح بھولتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو، تو جب میں بھول جاؤں تو تم مجھے یاد دلا دو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر نماز میں کوئی چیز ہوئی ہوتی تو میں تمہیں اسے بتاتا ، نیز آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اس کی نماز میں وہم ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ سوچے، اور اس چیز کا قصد کرے جو درستی سے زیادہ قریب ہو، پھر اسی پر اتمام کرے، پھر دو سجدے کرے ۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا خالد بن الحارث، عن شعبة، قال كتب الى منصور وقراته عليه وسمعته يحدث رجلا عن ابراهيم عن علقمة عن عبد الله ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى صلاة الظهر ثم اقبل عليهم بوجهه فقالوا احدث في الصلاة حدث قال " وما ذاك " . فاخبروه بصنيعه فثنى رجله واستقبل القبلة فسجد سجدتين ثم سلم ثم اقبل عليهم بوجهه فقال " انما انا بشر انسى كما تنسون فاذا نسيت فذكروني " . وقال " لو كان حدث في الصلاة حدث انباتكم به " . وقال " اذا اوهم احدكم في صلاته فليتحر اقرب ذلك من الصواب ثم ليتم عليه ثم يسجد سجدتين
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جسے اپنی نماز میں وہم ہو جائے تو اسے صحیح اور صواب جاننے کی کوشش کرنی چاہیئے، پھر فارغ ہونے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدہ کرے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن شعبة، عن الحكم، قال سمعت ابا وايل، يقول قال عبد الله من اوهم في صلاته فليتحر الصواب ثم يسجد سجدتين بعد ما يفرغ وهو جالس
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جسے کچھ شک یا وہم ہو جائے تو اسے صحیح اور صواب جاننے کی کوشش کرنی چاہیئے، پھر دو سجدے کرے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن مسعر، عن الحكم، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال من شك او اوهم فليتحر الصواب ثم ليسجد سجدتين
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ لوگ کہتے تھے کہ جب کسی آدمی کو وہم ہو جائے تو اسے صحیح و صواب جاننے کی کوشش کرنی چاہیئے، پھر دو سجدے کرے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن ابن عون، عن ابراهيم، قال كانوا يقولون اذا اوهم يتحرى الصواب ثم يسجد سجدتين
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو اس کی نماز میں شک ہو جائے، تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن ابن جريج، قال قال عبد الله بن مسافع عن عتبة بن محمد بن الحارث، عن عبد الله بن جعفر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من شك في صلاته فليسجد سجدتين بعد ما يسلم
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی نماز میں شک کرے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے ۔
اخبرنا محمد بن هاشم، انبانا الوليد، انبانا ابن جريج، عن عبد الله بن مسافع، عن عتبة بن محمد بن الحارث، عن عبد الله بن جعفر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من شك في صلاته فليسجد سجدتين بعد التسليم
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی نماز میں شک کرے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے ۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا حجاج، قال ابن جريج اخبرني عبد الله بن مسافع، ان مصعب بن شيبة، اخبره عن عتبة بن محمد بن الحارث، عن عبد الله بن جعفر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من شك في صلاته فليسجد سجدتين بعد ما يسلم
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی نماز میں شک کرے تو وہ دو سجدے کرے ، حجاج کی روایت میں ہے: سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے ، اور روح کی روایت میں ہے: بیٹھے بیٹھے ( دو سجدے کرے ) ۔
اخبرنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا حجاج، وروح، - هو ابن عبادة - عن ابن جريج، قال اخبرني عبد الله بن مسافع، ان مصعب بن شيبة، اخبره عن عتبة بن محمد بن الحارث، عن عبد الله بن جعفر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من شك في صلاته فليسجد سجدتين " . قال حجاج " بعد ما يسلم " . وقال روح " وهو جالس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے، اور اس پر اس کی نماز کو گڈمڈ کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ایسا محسوس کرے تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے ۔
اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان احدكم اذا قام يصلي جاءه الشيطان فلبس عليه صلاته حتى لا يدري كم صلى فاذا وجد احدكم ذلك فليسجد سجدتين وهو جالس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، پھر جب اقامت کہہ دی جاتی ہے تو وہ واپس لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ آدمی کے دل میں گھس کر وسوسے ڈالتا ہے، یہاں تک کہ وہ جان نہیں پاتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی، لہٰذا جب تم میں سے کوئی اس قسم کی صورت حال دیکھے تو وہ دو سجدے کرے ۔
اخبرنا بشر بن هلال، قال حدثنا عبد الوارث، عن هشام الدستوايي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا نودي للصلاة ادبر الشيطان له ضراط فاذا قضي التثويب اقبل حتى يخطر بين المرء وقلبه حتى لا يدري كم صلى فاذا راى احدكم ذلك فليسجد سجدتين
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پانچ ( رکعت ) پڑھی، تو آپ سے عرض کیا گیا: کیا نماز میں زیادتی کر دی گئی ہے؟ تو آپ نے پوچھا: وہ کیا؟ لوگوں نے کہا: آپ نے پانچ ( رکعت ) پڑھی ہے، تو آپ نے اپنا پاؤں موڑا اور دو سجدے کیے۔
اخبرنا محمد بن المثنى، ومحمد بن بشار، - واللفظ لابن المثنى - قالا حدثنا يحيى، عن شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال صلى النبي صلى الله عليه وسلم الظهر خمسا فقيل له ازيد في الصلاة قال " وما ذاك " . قالوا صليت خمسا . فثنى رجله وسجد سجدتين
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھائی، تو لوگوں نے عرض کیا: آپ نے پانچ ( رکعت ) پڑھائی ہے، تو آپ نے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔
اخبرنا عبدة بن عبد الرحيم، قال انبانا ابن شميل، قال انبانا شعبة، عن الحكم، ومغيرة، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه صلى بهم الظهر خمسا فقالوا انك صليت خمسا . فسجد سجدتين بعد ما سلم وهو جالس
ابراہیم بن سوید کہتے ہیں کہ علقمہ نے پانچ ( رکعت ) نماز پڑھی، تو ان سے ( اس زیادتی کے بارے میں ) کہا گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے ( ایسا ) نہیں کیا ہے، تو میں نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: کیوں نہیں؟ آپ نے ضرور کیا ہے، انہوں نے کہا: اور تم اس کی گواہی دیتے ہو اے اعور! تو میں نے کہا: ہاں ( دیتا ہوں ) تو انہوں نے دو سجدے کیے، پھر انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ ( رکعتیں ) پڑھیں، تو لوگ ایک دوسرے سے کھسر پھسر کرنے لگے، ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، لوگوں نے آپ کو بتایا ( کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں ) ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا، اور دو سجدے کیے، پھر فرمایا: میں انسان ہی ہوں، میں ( بھی ) بھول سکتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو ۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثني يحيى بن ادم، قال حدثنا مفضل بن مهلهل، عن الحسن بن عبيد الله، عن ابراهيم بن سويد، قال صلى علقمة خمسا فقيل له فقال ما فعلت . قلت براسي بلى . قال وانت يا اعور فقلت نعم . فسجد سجدتين ثم حدثنا عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم انه صلى خمسا فوشوش القوم بعضهم الى بعض فقالوا له ازيد في الصلاة قال " لا " . فاخبروه فثنى رجله فسجد سجدتين ثم قال " انما انا بشر انسى كما تنسون
مالک بن مغول کہتے ہیں کہ میں نے ( عامری شراحیل ) شعبی کو کہتے ہوئے سنا کہ علقمہ بن قیس سے نماز میں سہو ہو گیا، تو لوگوں نے آپ سے میں گفتگو کرنے کے بعد ان سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے پوچھا: کیا ایسا ہی ہے، اے اعور! ( ابراہیم بن سوید نے ) کہا: ہاں، تو انہوں نے اپنا حبوہ ۱؎ کھولا، پھر سہو کے دو سجدے کیے، اور کہنے لگے: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، ( مالک بن مغول ) نے کہا: اور میں نے حکم ( ابن عتیبہ ) کو کہتے ہوئے سنا کہ علقمہ نے پانچ ( رکعتیں ) پڑھی تھیں۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن مالك بن مغول، قال سمعت الشعبي، يقول سها علقمة بن قيس في صلاته فذكروا له بعد ما تكلم فقال اكذلك يا اعور قال نعم . فحل حبوته ثم سجد سجدتى السهو وقال هكذا فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال وسمعت الحكم يقول كان علقمة صلى خمسا
ابراہیم سے روایت ہے کہ علقمہ نے پانچ ( رکعتیں ) پڑھیں، جب انہوں نے سلام پھیرا، تو ابراہیم بن سوید نے کہا: ابو شبل ( علقمہ ) ! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، انہوں نے کہا: کیا ایسا ہوا ہے اے اعور؟ ( انہوں نے کہا: ہاں ) تو علقمہ نے سہو کے دو سجدے کیے، پھر کہا: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن سفيان، عن الحسن بن عبيد الله، عن ابراهيم، ان علقمة، صلى خمسا فلما سلم قال ابراهيم بن سويد يا ابا شبل صليت خمسا . فقال اكذلك يا اعور فسجد سجدتى السهو ثم قال هكذا فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم