Loading...

Loading...
کتب
۱۸۸ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی دونوں نمازوں ( یعنی ظہر اور عصر ) میں سے کوئی ایک نماز پانچ رکعت پڑھائی، تو آپ سے کہا گیا: کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے پوچھا: وہ کیا؟ لوگوں نے عرض کیا: آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں انسان ہی تو ہوں، میں بھی بھولتا ہوں جس طرح تم بھولتے، ہو اور مجھے بھی یاد رہتا ہے جیسے تمہیں یاد رہتا ہے ، پھر آپ نے دو سجدے کیے، اور پیچھے کی طرف پلٹے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله، عن ابي بكر النهشلي، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن ابيه، عن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى احدى صلاتى العشي خمسا فقيل له ازيد في الصلاة فقال " وما ذاك " . قالوا صليت خمسا . قال " انما انا بشر انسى كما تنسون واذكر كما تذكرون " . فسجد سجدتين ثم انفتل
یوسف سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے آگے نماز پڑھی ( یعنی ان کی امامت کی ) تو وہ نماز میں کھڑے ہو گئے، حالانکہ انہیں بیٹھنا چاہیئے تھا، تو لوگوں نے سبحان اللہ کہا، پر وہ کھڑے ہی رہے، اور نماز پوری کر لی، پھر بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر منبر پر بیٹھے، اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو اپنی نماز میں سے کوئی چیز بھول جائے تو وہ ان دونوں سجدوں کی طرح سجدے کر لے ۱؎۔
اخبرنا الربيع بن سليمان، قال حدثنا شعيب بن الليث، قال حدثنا الليث، عن محمد بن عجلان، عن محمد بن يوسف، مولى عثمان عن ابيه، يوسف ان معاوية، صلى امامهم فقام في الصلاة وعليه جلوس فسبح الناس فتم على قيامه ثم سجد سجدتين وهو جالس بعد ان اتم الصلاة ثم قعد على المنبر فقال اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من نسي شييا من صلاته فليسجد مثل هاتين السجدتين
عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی دوسری رکعت کے بعد ( بغیر قعدہ کے ) کھڑے ہو گئے، پھر ( واپس ) نہیں بیٹھے، پھر جب آپ نے اپنی نماز پوری کر لی تو جو تشہد آپ بھول گئے تھے اس کے عوض بیٹھے بیٹھے سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے، اور ہر سجدہ میں اللہ اکبر کہا، آپ کے ساتھ لوگوں نے ( بھی ) یہ دونوں سجدے کیے۔
اخبرنا احمد بن عمرو بن السرح، قال انبانا ابن وهب، قال اخبرني عمرو، ويونس، والليث، ان ابن شهاب، اخبرهم عن عبد الرحمن الاعرج، ان عبد الله ابن بحينة، حدثه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام في الثنتين من الظهر فلم يجلس فلما قضى صلاته سجد سجدتين كبر في كل سجدة وهو جالس قبل ان يسلم وسجدهما الناس معه مكان ما نسي من الجلوس
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان دو رکعتوں میں ہوتے تھے جن میں نماز ختم ہوتی ہے، تو آپ ( قعدہ میں ) اپنا بایاں پاؤں ( داہنی طرف ) نکال دیتے، اور اپنی ایک سرین پر ٹیک لگا کر بیٹھتے پھر سلام پھیرتے ۱؎۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، ومحمد بن بشار، بندار - واللفظ له - قالا حدثنا يحيى بن سعيد، قال حدثنا عبد الحميد بن جعفر، قال حدثني محمد بن عمرو بن عطاء، عن ابي حميد الساعدي، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا كان في الركعتين اللتين تنقضي فيهما الصلاة اخر رجله اليسرى وقعد على شقه متوركا ثم سلم
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب رکوع میں جاتے اور رکوع سے اپنا سر اٹھاتے ( تو بھی اسی طرح اٹھاتے ) اور جب آپ ( قعدہ میں ) بیٹھتے تو بایاں ( پاؤں ) لٹاتے، اور دایاں ( پاؤں ) کھڑا رکھتے، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھتے، اور درمیان والی انگلی اور انگوٹھے دونوں کو ملا کر گرہ بناتے، اور اشارہ کرتے ۱؎۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا سفيان، عن عاصم بن كليب، عن ابيه، عن وايل بن حجر، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه اذا افتتح الصلاة واذا ركع واذا رفع راسه من الركوع واذا جلس اضجع اليسرى ونصب اليمنى ووضع يده اليسرى على فخذه اليسرى ويده اليمنى على فخذه اليمنى وعقد ثنتين الوسطى والابهام واشار
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں بیٹھے تو آپ نے اپنا بایاں پاؤں بچھایا، اور اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں رانوں پر رکھا، اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا، آپ اس کے ذریعہ دعا کر رہے تھے۔
اخبرنا محمد بن علي بن ميمون الرقي، قال حدثنا محمد، - وهو ابن يوسف الفريابي - قال حدثنا سفيان، عن عاصم بن كليب، عن ابيه، عن وايل بن حجر، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم جلس في الصلاة فافترش رجله اليسرى ووضع ذراعيه على فخذيه واشار بالسبابة يدعو بها
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنے جی میں ) کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر رہوں گا کہ آپ نماز کیسے پڑھتے ہیں، تو ( میں نے دیکھا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور قبلہ رو ہوئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اٹھایا کہ وہ آپ کے کانوں کے بالمقابل ہو گئے، پھر اپنے دائیں ( ہاتھ ) سے اپنے بائیں ( ہاتھ ) کو پکڑا، پھر جب رکوع میں جانے کا ارادہ کیا تو ان دونوں کو پھر اسی طرح اٹھایا، اور اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھا، پھر جب رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو پھر ان دونوں کو اسی طرح اٹھایا، پھر جب سجدہ کیا تو اپنے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان اسی جگہ پر رکھا ۱؎، پھر آپ بیٹھے تو اپنا بایاں پاؤں بچھایا، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا، اور اپنی دائیں کہنی کو اپنی دائیں ران سے دور رکھا، پھر اپنی دو انگلیاں بند کیں، اور حلقہ بنایا، اور میں نے انہیں اس طرح کرتے دیکھا۔ بشر نے داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا، اور انگوٹھے اور درمیانی انگلی کا حلقہ بنایا۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال انبانا بشر بن المفضل، قال حدثنا عاصم بن كليب، عن ابيه، عن وايل بن حجر، قال قلت لانظرن الى صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف يصلي فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستقبل القبلة فرفع يديه حتى حاذتا اذنيه ثم اخذ شماله بيمينه فلما اراد ان يركع رفعهما مثل ذلك ووضع يديه على ركبتيه فلما رفع راسه من الركوع رفعهما مثل ذلك فلما سجد وضع راسه بذلك المنزل من يديه ثم جلس فافترش رجله اليسرى ووضع يده اليسرى على فخذه اليسرى وحد مرفقه الايمن على فخذه اليمنى وقبض ثنتين وحلق ورايته يقول هكذا واشار بشر بالسبابة من اليمنى وحلق الابهام والوسطى
علی بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم کے بغل میں نماز پڑھی، تو میں کنکریوں کو الٹنے پلٹنے لگا، ( نماز سے فارغ ہونے پر ) انہوں نے مجھ سے کہا: ( نماز میں ) کنکریاں مت پلٹو، کیونکہ کنکریاں کو الٹنا پلٹنا شیطان کی جانب سے ہے، ( بلکہ ) اس طرح کرو جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے، میں نے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے کرتے دیکھا ہے؟، انہوں نے کہا: اس طرح سے، اور انہوں نے دائیں پیر کو قعدہ میں کھڑا کیا، اور بائیں پیر کو لٹایا ۱؎، اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا، اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا ۲؎۔
اخبرنا محمد بن منصور، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن مسلم بن ابي مريم، - شيخ من اهل المدينة - ثم لقيت الشيخ فقال سمعت علي بن عبد الرحمن يقول صليت الى جنب ابن عمر فقلبت الحصى فقال لي ابن عمر لا تقلب الحصى فان تقليب الحصى من الشيطان وافعل كما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعل . قلت وكيف رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعل قال هكذا ونصب اليمنى واضجع اليسرى ووضع يده اليمنى على فخذه اليمنى ويده اليسرى على فخذه اليسرى واشار بالسبابة
علی بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے دیکھا تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے مجھے منع کیا، اور کہا: اس طرح کیا کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح کرتے تھے؟ کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بیٹھتے تو اپنی دائیں ہتھیلی اپنی دائیں ران پر رکھتے ۱؎، اور اپنی سبھی انگلیاں سمیٹے رکھتے، اور اپنی اس انگلی سے جو انگوٹھے کے قریب ہے اشارہ کرتے، اور اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران پر رکھتے ۲؎۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن مسلم بن ابي مريم، عن علي بن عبد الرحمن، قال راني ابن عمر وانا اعبث، بالحصى في الصلاة فلما انصرف نهاني وقال اصنع كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع . قلت وكيف كان يصنع قال كان اذا جلس في الصلاة وضع كفه اليمنى على فخذه وقبض - يعني اصابعه كلها - واشار باصبعه التي تلي الابهام ووضع كفه اليسرى على فخذه اليسرى
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنے جی میں ) کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو دیکھوں گا کہ آپ کیسے پڑھتے ہیں؟ تو میں نے دیکھا، پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی کیفیت بیان کی، اور کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بایاں پیر بچھایا، اور اپنی بائیں ہتھیلی اپنی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھا، اور اپنی دائیں کہنی کے سرے کو اپنی دائیں ران پر کیا، پھر اپنی انگلیوں میں سے دو کو سمیٹا، اور ( باقی انگلیوں میں سے دو سے ) حلقہ بنایا، پھر اپنی شہادت کی انگلی اٹھائی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسے ہلا رہے تھے، اس کے ذریعہ دعا مانگ رہے تھے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن زايدة، قال حدثنا عاصم بن كليب، قال حدثني ابي ان وايل بن حجر، قال قلت لانظرن الى صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف يصلي فنظرت اليه فوصف قال ثم قعد وافترش رجله اليسرى ووضع كفه اليسرى على فخذه وركبته اليسرى وجعل حد مرفقه الايمن على فخذه اليمنى ثم قبض اثنتين من اصابعه وحلق حلقة ثم رفع اصبعه فرايته يحركها يدعو بها . مختصر
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو آپ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے، اور جو انگلی انگوٹھے سے لگی ہوتی اسے اٹھاتے، اور اس سے دعا مانگتے، اور آپ کا بایاں ہاتھ آپ کے بائیں گھٹنے پر پھیلا ہوتا تھا، ( یعنی: بائیں ہتھیلی کو حلقہ بنانے کے بجائے اس کی ساری انگلیاں بائیں گھٹنے پر پھیلائے رکھتے تھے ) ۔
اخبرنا محمد بن رافع، قال حدثنا عبد الرزاق، قال انبانا معمر، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا جلس في الصلاة وضع يديه على ركبتيه ورفع اصبعه التي تلي الابهام فدعا بها ويده اليسرى على ركبته باسطها عليها
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے، اور اسے ہلاتے نہیں تھے ۱؎۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ عمرو نے ( اس میں ) اضافہ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ عامر بن عبداللہ بن زبیر نے مجھے خبر دی، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی طرح دعا کرتے، اور آپ اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے بائیں پاؤں کو تھامے رہتے تھے۔
اخبرنا ايوب بن محمد الوزان، قال حدثنا حجاج، قال ابن جريج اخبرني زياد، عن محمد بن عجلان، عن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن عبد الله بن الزبير، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يشير باصبعه اذا دعا ولا يحركها . قال ابن جريج وزاد عمرو قال اخبرني عامر بن عبد الله بن الزبير عن ابيه انه راى النبي صلى الله عليه وسلم يدعو كذلك ويتحامل بيده اليسرى على رجله اليسرى
نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھے ہوئے تھے، اور اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے۔
اخبرني محمد بن عبد الله بن عمار الموصلي، عن المعافى، عن عصام بن قدامة، عن مالك، - وهو ابن نمير الخزاعي - عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم واضعا يده اليمنى على فخذه اليمنى في الصلاة ويشير باصبعه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کر رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سے ( اشارہ ) کرو ایک سے ۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا صفوان بن عيسى، قال حدثنا ابن عجلان، عن القعقاع، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان رجلا، كان يدعو باصبعيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احد احد
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے، اور میں ( تشہد میں ) اپنی انگلیوں ۱؎ سے ( اشارہ کرتے ہوئے ) دعا کر رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: ایک سے ( اشارہ ) کرو ایک سے ، اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔
اخبرنا محمد بن عبد الله بن المبارك المخرمي، قال حدثنا ابو معاوية، قال حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن سعد، قال مر على رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا ادعو باصابعي فقال " احد احد " . واشار بالسبابة
نمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں بیٹھے ہوئے دیکھا، اس حال میں کہ آپ اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھے ہوئے تھے، اور اپنی شہادت کی انگلی اٹھائے ہوئے تھے، اور آپ نے اسے کچھ جھکا رکھا تھا، اور آپ دعا کر رہے تھے۔
اخبرني احمد بن يحيى الصوفي، قال حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا عصام بن قدامة الجدلي، قال حدثني مالك بن نمير الخزاعي، من اهل البصرة ان اباه، حدثه انه، راى رسول الله صلى الله عليه وسلم قاعدا في الصلاة واضعا ذراعه اليمنى على فخذه اليمنى رافعا اصبعه السبابة قد احناها شييا وهو يدعو
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو اپنی بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے، اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے، آپ کی نگاہ آپ کے اشارہ سے آگے نہیں بڑھتی تھی۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى، عن ابن عجلان، عن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا قعد في التشهد وضع كفه اليسرى على فخذه اليسرى واشار بالسبابة لا يجاوز بصره اشارته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں دعا کے وقت لوگ اپنی نگاہوں کو آسمان کی طرف اٹھانے سے باز آ جائیں، ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی ۔
اخبرنا احمد بن عمرو بن السرح، عن ابن وهب، قال اخبرني الليث، عن جعفر بن ربيعة، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لينتهين اقوام عن رفع ابصارهم عند الدعاء في الصلاة الى السماء او لتخطفن ابصارهم
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نماز میں تشہد کے فرض کئے جانے سے پہلے «السلام على اللہ السلام على جبريل وميكائيل» سلام ہو اللہ پر، سلام ہو جبرائیل اور میکائیل پر کہا کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اس طرح نہ کہو، کیونکہ اللہ تو خود سلام ہے، بلکہ یوں کہو:«التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی آپ پر اللہ کی جانب سے سلامتی ہو، اور آپ پر اس کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔
اخبرنا سعيد بن عبد الرحمن ابو عبيد الله المخزومي، قال حدثنا سفيان، عن الاعمش، ومنصور، عن شقيق بن سلمة، عن ابن مسعود، قال كنا نقول في الصلاة قبل ان يفرض التشهد السلام على الله السلام على جبريل وميكاييل . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقولوا هكذا فان الله عز وجل هو السلام ولكن قولوا التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا عبد الرحمن بن حميد، قال حدثنا ابو الزبير، عن طاوس، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا التشهد كما يعلمنا السورة من القران