Loading...

Loading...
کتب
۱۸۸ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل خود سلام ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ( تشہد میں ) بیٹھے تو وہ یوں کہے: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی آپ پر سلام ہو، اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں آپ پر نازل ہوں، سلامتی ہو ہم پر، اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں پھر اس کے بعد اسے اختیار ہے جو چاہے دعا کرے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الفضيل، - وهو ابن عياض - عن الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله عز وجل هو السلام فاذا قعد احدكم فليقل التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله ثم ليتخير بعد ذلك من الكلام ما شاء
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا تو آپ نے ہمیں ہمارے طریقے بتائے، اور ہم سے ہماری نماز کے طریقے بیان کیے، آپ نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنی صفوں کو درست کرو، پھر تم میں سے کوئی تمہاری امامت کرے، جب وہ «اللہ اکبر» کہے، تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو، اور جب وہ «ولا الضالين» کہے تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری اس کی ہوئی دعا کو قبول کرے گا، پھر جب وہ «اللہ اکبر» کہے اور رکوع کرے، تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو اور رکوع کرو، بیشک امام تم سے پہلے رکوع کرے گا، اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ، تو ادھر کی کمی ادھر سے پوری ہو جائے گی، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «اللہم ربنا لك الحمد» اے اللہ! ہمارے رب تیرے ہی لیے تمام حمد ہے کہو، اس لیے کہ اللہ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کہلوا دیا ہے کہ اس نے اپنے حمد کرنے والے کی حمد سن لی ہے، پھر جب وہ «اللہ اکبر» کہے اور سجدہ کرے، تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو اور سجدہ کرو، بیشک امام تم سے پہلے سجدہ میں جائے گا، اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا ، تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہو جائے گی، اور جب وہ قعدہ میں ہو تو تم میں سے ہر ایک کو یہ کہنا چاہیئے: «التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام قولی، فعلی، اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، سلام ہو آپ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور برکت آپ پر نازل ہو، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن هشام، عن قتادة، ح وانبانا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا هشام، قال حدثنا قتادة، عن يونس بن جبير، عن حطان بن عبد الله، ان الاشعري، قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خطبنا فعلمنا سنتنا وبين لنا صلاتنا فقال " اذا قمتم الى الصلاة فاقيموا صفوفكم ثم ليومكم احدكم فاذا كبر فكبروا واذا قال { ولا الضالين } فقولوا امين يجبكم الله ثم اذا كبر وركع فكبروا واركعوا فان الامام يركع قبلكم ويرفع قبلكم " . قال نبي الله صلى الله عليه وسلم " فتلك بتلك واذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا اللهم ربنا لك الحمد فان الله عز وجل قال على لسان نبيه صلى الله عليه وسلم سمع الله لمن حمده ثم اذا كبر وسجد فكبروا واسجدوا فان الامام يسجد قبلكم ويرفع قبلكم " . قال نبي الله صلى الله عليه وسلم " فتلك بتلك واذا كان عند القعدة فليكن من قول احدكم ان يقول التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تشہد اسی طرح سکھاتے تھے، جس طرح آپ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے«بسم اللہ وباللہ التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأن محمدا عبده ورسوله وأسأل اللہ الجنة وأعوذ به من النار» اللہ کے نام سے اور اسی کے واسطے سے، تمام قولی فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، سلام ہو آپ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور برکت نازل ہو آپ پر، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور میں اللہ سے جنت مانگتا ہوں، اور آگ ( جہنم ) سے اس کی پناہ چاہتا ہوں۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں: ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اس روایت پر ایمن بن نابل کی متابعت کی ہو، ایمن ہمارے نزدیک قابل قبول ہیں، لیکن حدیث میں غلطی ہے، ہم اللہ سے توفیق کے طلب گار ہیں۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا ابو عاصم، قال حدثنا ايمن بن نابل، قال حدثنا ابو الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا التشهد كما يعلمنا السورة من القران " بسم الله وبالله التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين اشهد ان لا اله الا الله وان محمدا عبده ورسوله واسال الله الجنة واعوذ به من النار " . قال ابو عبد الرحمن لا نعلم احدا تابع ايمن بن نابل على هذه الرواية وايمن عندنا لا باس به والحديث خطا وبالله التوفيق
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو زمین میں گھومتے رہتے ہیں، وہ مجھ تک میرے امتیوں کا سلام پہنچاتے ہیں ۔
اخبرنا عبد الوهاب بن عبد الحكم الوراق، قال حدثنا معاذ بن معاذ، عن سفيان بن سعيد، ح واخبرنا محمود بن غيلان، قال حدثنا وكيع، وعبد الرزاق، عن سفيان، عن عبد الله بن السايب، عن زاذان، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لله ملايكة سياحين في الارض يبلغوني من امتي السلام
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار تھے، ہم نے عرض کیا: ہم آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار دیکھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: یہ اس لیے کہ میرے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ کا رب کہتا ہے: کیا آپ کے لیے یہ خوشی کی بات نہیں کہ جو کوئی آپ پر ایک بار صلاۃ ( درود ) بھیجے گا، تو میں اس پر دس بار صلاۃ ( درود ) بھیجوں گا ۱؎، اور جو کوئی آپ پر ایک بار سلام بھیجے گا، میں اس پر دس بار سلام بھیجوں گا ۔
اخبرنا اسحاق بن منصور الكوسج، قال انبانا عفان، قال حدثنا حماد، قال حدثنا ثابت، قال قدم علينا سليمان مولى الحسن بن علي زمن الحجاج فحدثنا عن عبد الله بن ابي طلحة عن ابيه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء ذات يوم والبشرى في وجهه فقلنا انا لنرى البشرى في وجهك . فقال " انه اتاني الملك فقال يا محمد ان ربك يقول اما يرضيك انه لا يصلي عليك احد الا صليت عليه عشرا ولا يسلم عليك احد الا سلمت عليه عشرا
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز میں دعا کرتے ہوئے سنا، اس نے نہ تو اللہ کی بزرگی بیان کی، اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام ( درود ) بھیجا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے نمازی! تم نے جلد بازی کر دی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سکھایا ( کہ کس طرح دعا کی جائے ) اور اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز کی حالت میں اللہ کی بزرگی اور حمد بیان کرتے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ و سلام ( درود ) بھیجتے سنا تو فرمایا: آپ دعا کریں آپ کی دعا قبول کی جائے گی، اور مانگو آپ کو دیا جائے گا ۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن وهب، عن حيوة بن شريح، عن ابي هاني، ان ابا علي الجنبي، حدثه انه، سمع فضالة بن عبيد، يقول سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يدعو في صلاته لم يمجد الله ولم يصل على النبي صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عجلت ايها المصلي " . ثم علمهم رسول الله صلى الله عليه وسلم وسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يصلي فمجد الله وحمده وصلى على النبي صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ادع تجب وسل تعط
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی بیٹھک میں ہمارے پاس تشریف لائے، تو آپ سے بشر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ نے ہمیں آپ پر صلاۃ ( درود ) بھیجنے کا حکم دیا ہے تو ہم آپ پر کیسے صلاۃ ( درود ) بھیجیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہماری یہ خواہش ہونے لگی کہ کاش انہوں نے آپ سے نہ پوچھا ہوتا، پھر آپ نے فرمایا: کہو «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد» اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اسی طرح صلاۃ ( درود ) بھیج جس طرح تو نے آل ابراہیم پر صلاۃ ( درود ) بھیجا ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر اسی طرح جیسے تو نے آل ابراہیم پر تمام عالم میں برکتیں نازل فرمائی ہیں، بلاشبہ تو ہی تعریف اور بزرگی کے لائق ہے ) اور سلام بھیجنا تو تم جانتے ہی ہو ۔
اخبرنا محمد بن سلمة، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، - واللفظ له - عن ابن القاسم، قال حدثني مالك، عن نعيم بن عبد الله المجمر، ان محمد بن عبد الله بن زيد الانصاري، - وعبد الله بن زيد الذي اري النداء بالصلاة - اخبره عن ابي مسعود الانصاري، انه قال اتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم في مجلس سعد بن عبادة فقال له بشير بن سعد امرنا الله عز وجل ان نصلي عليك يا رسول الله فكيف نصلي عليك فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى تمنينا انه لم يساله ثم قال " قولوا اللهم صل على محمد وعلى ال محمد كما صليت على ال ابراهيم وبارك على محمد وعلى ال محمد كما باركت على ال ابراهيم في العالمين انك حميد مجيد والسلام كما علمتم
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: ہمیں آپ پر صلاۃ ( درود ) و سلام بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے، رہا سلام تو اسے ہم جان چکے ہیں، مگر ہم آپ پر صلاۃ ( درود ) کس طرح بھیجیں؟ آپ نے فرمایا: کہو «اللہم صل على محمد كما صليت على آل إبراهيم اللہم بارك على محمد كما باركت على آل إبراهيم» اے اللہ! محمد پر تو اسی طرح صلاۃ ( درود ) و رحمت بھیج جس طرح تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے، اے اللہ! محمد پر تو اسی طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی ہیں ۔
اخبرنا زياد بن يحيى، قال حدثنا عبد الوهاب بن عبد المجيد، قال حدثنا هشام بن حسان، عن محمد، عن عبد الرحمن بن بشر، عن ابي مسعود الانصاري، قال قيل للنبي صلى الله عليه وسلم امرنا ان نصلي عليك ونسلم اما السلام فقد عرفناه فكيف نصلي عليك قال " قولوا اللهم صل على محمد كما صليت على ال ابراهيم اللهم بارك على محمد كما باركت على ال ابراهيم
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہم جان چکے ہیں، صلاۃ ( درود ) کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا: اس طرح کہو: «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللہم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! محمد اور آل محمد پر تو اسی طرح صلاۃ ( درود ) بھیج جیسے تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے، یقیناً تو تعریف اور بزرگی کے لائق ہے، اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اسی طرح برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، یقیناً تو حمید و مجید یعنی تعریف اور بزرگی کے لائق ہے ۔ ابن ابی لیلیٰ نے کہا: اور ہم لوگ «وعلينا معهم» اور ان لوگوں کے ساتھ ہم پر بھی کہتے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یہ سند ہمارے شیخ قاسم نے ہم سے اپنی کتاب سے بیان کی ہے، اور یہ غلط ہے ۱؎۔
اخبرنا القاسم بن زكريا بن دينار، من كتابه قال حدثنا حسين بن علي، عن زايدة، عن سليمان، عن عمرو بن مرة، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، قال قلنا يا رسول الله السلام عليك قد عرفناه فكيف الصلاة قال " قولوا اللهم صل على محمد وعلى ال محمد كما صليت على ال ابراهيم انك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى ال محمد كما باركت على ال ابراهيم انك حميد مجيد " . قال ابن ابي ليلى ونحن نقول وعلينا معهم . قال ابو عبد الرحمن حدثنا به من كتابه وهذا خطا
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنے کو ہم جان چکے ہیں مگر آپ پر صلاۃ ( درود ) کس طرح بھیجیں؟ تو آپ نے فرمایا: کہو «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وآل إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وآل إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! تو صلاۃ ( درود ) بھیج محمد اور آل محمد پر اسی طرح جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر بھیجا ہے، یقیناً تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگ ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد اور آل محمد پر اسی طرح جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، یقیناً تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگ ہے ۔ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: اور ہم «وعلينا معهم» اور ان لوگوں کے ساتھ ہم پر بھی بھی کہتے تھے۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ سند اس سے پہلے والی سے زیادہ قرین صواب ہے ( یعنی عمرو کی جگہ حکم کا ہونا ) اور ہم قاسم کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے جس نے عمرو بن مرہ کا ذکر کیا ہو، «واللہ اعلم» ۱؎۔
اخبرنا القاسم بن زكريا، قال حدثنا حسين، عن زايدة، عن سليمان، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة، قال قلنا يا رسول الله السلام عليك قد عرفناه فكيف الصلاة عليك قال " قولوا اللهم صل على محمد وعلى ال محمد كما صليت على ابراهيم وال ابراهيم انك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى ال محمد كما باركت على ابراهيم وال ابراهيم انك حميد مجيد " . قال عبد الرحمن ونحن نقول وعلينا معهم . قال ابو عبد الرحمن وهذا اولى بالصواب من الذي قبله ولا نعلم احدا قال فيه عمرو بن مرة غير هذا والله تعالى اعلم
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا میں تمہیں ایک ہدیہ نہ دوں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ جان چکے ہیں، مگر ہم آپ پر صلاۃ ( درود ) کیسے بھیجیں؟ تو آپ نے فرمایا: کہو «اللہم صل على محمد وآل محمد كما صليت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللہم بارك على محمد وآل محمد كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! درود بھیج محمد اور آل محمد پر جیسے تو نے آل ابراہیم پر بھیجا ہے یقیناً تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگی والا ہے، اے اللہ! برکتیں نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر جیسے تو نے آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، یقیناً تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگی والا ہے ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، عن شعبة، عن الحكم، عن ابن ابي ليلى، قال قال لي كعب بن عجرة الا اهدي لك هدية قلنا يا رسول الله قد عرفنا كيف السلام عليك فكيف نصلي عليك قال " قولوا اللهم صل على محمد وال محمد كما صليت على ال ابراهيم انك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وال محمد كما باركت على ال ابراهيم انك حميد مجيد
طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر صلاۃ ( درود و رحمت ) کیسے بھیجا جائے، تو آپ نے فرمایا: کہو «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وآل إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وآل إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! صلاۃ ( درود ) بھیج محمد اور آل محمد پر ایسے ہی جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر بھیجا، بلاشبہ تو حمید و مجید یعنی قابل تعریف اور بزرگی والا ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد اور آل محمد پر، ایسے ہی جیسے تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، بلاشبہ تو حمید و مجید یعنی لائق تعریف اور بزرگی والا ہے ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا محمد بن بشر، قال حدثنا مجمع بن يحيى، عن عثمان بن موهب، عن موسى بن طلحة، عن ابيه، قال قلنا يا رسول الله كيف الصلاة عليك قال " قولوا اللهم صل على محمد وعلى ال محمد كما صليت على ابراهيم وال ابراهيم انك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى ال محمد كما باركت على ابراهيم وال ابراهيم انك حميد مجيد
طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ہم آپ پر صلاۃ ( درود ) کس طرح بھیجیں؟ آپ نے فرمایا: کہو: «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد» اے اللہ! صلاۃ ( درود ) بھیج محمد پر اور آل محمد پر ویسے ہی جیسے تو نے ابراہیم پر بھیجا ہے، بلاشبہ تو حمید و مجید یعنی لائق تعریف اور بزرگی والا ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد اور آل محمد پر ویسے ہی جیسے تو نے ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں، بلاشبہ تو حمید و مجید یعنی لائق تعریف اور بزرگی والا ہے ۔
اخبرنا عبيد الله بن سعد بن ابراهيم بن سعد، قال حدثنا عمي، قال حدثنا شريك، عن عثمان بن موهب، عن موسى بن طلحة، عن ابيه، ان رجلا، اتى نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال كيف نصلي عليك يا نبي الله قال " قولوا اللهم صل على محمد وعلى ال محمد كما صليت على ابراهيم انك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى ال محمد كما باركت على ابراهيم انك حميد مجيد
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: مجھ پر صلاۃ ( درود و رحمت ) بھیجو، اور دعا میں کوشش کرو، اور کہو: «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد» اے اللہ! صلاۃ ( درود و رحمت ) بھیج محمد پر اور آل محمد پر ۔
اخبرنا سعيد بن يحيى بن سعيد الاموي، في حديثه عن ابيه، عن عثمان بن حكيم، عن خالد بن سلمة، عن موسى بن طلحة، قال سالت زيد بن خارجة قال انا سالت، رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " صلوا على واجتهدوا في الدعاء وقولوا اللهم صل على محمد وعلى ال محمد
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہم جان چکے ہیں، پر مگر آپ پر صلاۃ ( درود و رحمت ) کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہو: «اللہم صل على محمد عبدك ورسولك كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وآل محمد كما باركت على إبراهيم» اے اللہ! درود و رحمت بھیج اپنے بندے اور رسول محمد پر جس طرح تو نے ابراہیم پر بھیجا ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد اور آل محمد پر ویسے ہی جیسے تو نے ابراہیم پر نازل فرمائی ہیں ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا بكر، - وهو ابن مضر - عن ابن الهاد، عن عبد الله بن خباب، عن ابي سعيد الخدري، قال قلنا يا رسول الله السلام عليك قد عرفناه فكيف الصلاة عليك قال " قولوا اللهم صل على محمد عبدك ورسولك كما صليت على ابراهيم وبارك على محمد وال محمد كما باركت على ابراهيم
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں ( صحابہ ) نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ پر صلاۃ ( درود و رحمت ) کیسے بھیجیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «اللہم صل على محمد وأزواجه وذريته»، یہ صرف حارث کی روایت میں ہے «كما صليت على آل إبراهيم وبارك على محمد وأزواجه وذريته»۔ یہ دونوں کی روایت میں ہے «كما باركت على آل إبراهيم إنك حميد مجيد»۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: قتیبہ نے اس حدیث کو مجھ سے دو بار بیان کیا، اور شاید کہ ان سے کچھ حصہ اس حدیث کا چھوٹ گیا ہے۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، والحارث بن مسكين، قراءة عليه وانا اسمع، عن ابن القاسم، حدثني مالك، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن ابيه، عن عمرو بن سليم الزرقي، قال اخبرني ابو حميد الساعدي، انهم قالوا يا رسول الله كيف نصلي عليك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قولوا اللهم صل على محمد وازواجه وذريته " . في حديث الحارث " كما صليت على ال ابراهيم وبارك على محمد وازواجه وذريته " . قالا جميعا " كما باركت على ال ابراهيم انك حميد مجيد " . قال ابو عبد الرحمن انبانا قتيبة بهذا الحديث مرتين ولعله ان يكون قد سقط عليه منه شطر
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور آپ کے چہرے پر خوشی و مسرت جھلک رہی تھی، آپ نے فرمایا: یہ ( خوشی اس لیے ہے کہ ) میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے، اور کہنے لگے: اے محمد! کیا آپ کے لیے یہ خوشی کا باعث نہیں کہ آپ کی امت میں سے جو کوئی بھی آپ پر صلاۃ ( درود و رحمت ) بھیجے گا تو میں اس پر دس بار درود بھیجوں گا، اور جو کوئی آپ کے امتیوں میں سے آپ پر سلام بھیجے گا میں تو اس پر دس بار سلام بھیجوں گا ۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال حدثنا عبد الله، - يعني ابن المبارك - قال انبانا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن سليمان، مولى الحسن بن علي عن عبد الله بن ابي طلحة، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء ذات يوم والبشر يرى في وجهه فقال " انه جاءني جبريل صلى الله عليه وسلم فقال اما يرضيك يا محمد ان لا يصلي عليك احد من امتك الا صليت عليه عشرا ولا يسلم عليك احد من امتك الا سلمت عليه عشرا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ پر ایک ( مرتبہ ) صلاۃ ( درود و رحمت ) بھیجے گا اللہ اس پر دس مرتبہ صلاۃ ( درود و رحمت ) بھیجے گا ۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن العلاء، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صلى على واحدة صلى الله عليه عشرا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے اوپر ایک بار صلاۃ ( درود و رحمت ) بھیجے گا، تو اللہ اس پر دس بار صلاۃ ( درود و رحمت ) بھیجے گا، اور اس کے دس گناہ معاف اور دس درجے بلند کر دیئے جائیں گے ۔
اخبرنا اسحاق بن منصور، قال حدثنا محمد بن يوسف، قال حدثنا يونس بن ابي اسحاق، عن بريد بن ابي مريم، قال حدثنا انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى على صلاة واحدة صلى الله عليه عشر صلوات وحطت عنه عشر خطييات ورفعت له عشر درجات
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں بیٹھتے تو کہتے: سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں کی طرف سے، سلام ہو فلاں پر اور فلاں پر، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «السلام على اللہ» نہ کہو، کیونکہ اللہ تو خود ہی سلام ہے، ہاں جب تم میں سے کوئی قعدہ میں بیٹھے تو چاہیئے کہ وہ کہے: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين» تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو کیونکہ جب تم اس طرح کہو گے تو زمین و آسمان میں رہنے والے ہر نیک بندے کو یہ شامل ہو گا، ( پھر کہے ) : «أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں پھر اس کے بعد اپنی پسندیدہ دعا جو بھی چاہے کرے ۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، وعمرو بن علي، - واللفظ له - قالا حدثنا يحيى، قال حدثنا سليمان الاعمش، قال حدثني شقيق، عن عبد الله، قال كنا اذا جلسنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلاة قلنا السلام على الله من عباده السلام على فلان وفلان . فقال�� رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقولوا السلام على الله فان الله هو السلام ولكن اذا جلس احدكم فليقل التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين فانكم اذا قلتم ذلك اصابت كل عبد صالح في السماء والارض اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله ثم ليتخير من الدعاء بعد اعجبه اليه يدعو به