Loading...

Loading...
کتب
۱۸۸ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیجئیے جن کے ذریعہ میں اپنی نماز میں دعا کیا کروں، تو آپ نے فرمایا: دس بار «سبحان اللہ»، دس بار «الحمد لله»، دس بار «اللہ أكبر» کہو، اس کے بعد تم اللہ سے اپنی حاجت مانگو، وہ ہاں، ہاں کہے گا ، ( یعنی جو تم مانگو گی وہ تمہیں دے گا ) ۔
اخبرنا عبيد بن وكيع بن الجراح، اخو سفيان بن وكيع قال حدثنا ابي، عن عكرمة بن عمار، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، قال جاءت ام سليم الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله علمني كلمات ادعو بهن في صلاتي . قال " سبحي الله عشرا واحمديه عشرا وكبريه عشرا ثم سليه حاجتك يقل نعم نعم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مسجد میں ) بیٹھا ہوا تھا، اور ایک آدمی کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، جب اس نے رکوع اور سجدہ کر لیا، اور تشہد سے فارغ ہو گیا، تو اس نے دعا کی، اور اپنی دعا میں اس نے کہا: «اللہم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإكرام يا حى يا قيوم إني أسألك» اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس لیے کہ تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے تیرے، تو بہت احسان کرنے والا ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے اور وجود میں لانے والا ہے، اے عظمت و جلال اور احسان والے، ہمیشہ زندہ و باقی رہنے والے!، میں تجھی سے مانگتا ہوں۔ یہ سنا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا: تم جانتے ہو اس نے کن لفظوں سے دعا کی ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے تو اللہ سے اس کے اسم اعظم کے ذریعہ دعا کی ہے جس کے ذریعہ دعا کی جاتی ہے تو وہ قبول کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ مانگا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا خلف بن خليفة، عن حفص بن اخي، انس عن انس بن مالك، قال كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا - يعني - ورجل قايم يصلي فلما ركع وسجد وتشهد دعا فقال في دعايه اللهم اني اسالك بان لك الحمد لا اله الا انت المنان بديع السموات والارض يا ذا الجلال والاكرام يا حى يا قيوم اني اسالك . فقال النبي صلى الله عليه وسلم لاصحابه " تدرون بما دعا " . قالوا الله ورسوله اعلم . قال " والذي نفسي بيده لقد دعا الله باسمه العظيم الذي اذا دعي به اجاب واذا سيل به اعطى
محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں گئے، تو دیکھا کہ ایک آدمی اپنی نماز پوری کر چکا ہے، اور تشہد میں ہے اور کہہ رہا ہے:«اللہم إني أسألك يا اللہ بأنك الواحد الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد أن تغفر لي ذنوبي إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں، اے اللہ تجھی سے، اس لیے کہ تو ہی ایک ایسا تن تنہا بے نیاز ہے جس نے نہ تو کسی کو جنا ہے، اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے، اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے، لہٰذا تو میرے گناہوں کو بخش دے، تو ہی غفور و رحیم یعنی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: اس کے گناہ بخش دیے گئے ۔
اخبرنا عمرو بن يزيد ابو بريد البصري، عن عبد الصمد بن عبد الوارث، قال حدثنا ابي قال، حدثنا حسين المعلم، عن ابن بريدة، قال حدثني حنظلة بن علي، ان محجن بن الادرع، حدثه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل المسجد اذا رجل قد قضى صلاته وهو يتشهد فقال اللهم اني اسالك يا الله بانك الواحد الاحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا احد ان تغفر لي ذنوبي انك انت الغفور الرحيم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد غفر له " . ثلاثا
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئیے جس کے ذریعہ میں اپنی نماز میں دعا مانگا کروں، تو آپ نے فرمایا: کہو: «اللہم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ! بیشک میں نے اپنے اوپر بہت ظلم کیا ہے، اور سوائے تیرے گناہوں کو کوئی بخش نہیں سکتا، لہٰذا تو اپنی خاص مغفرت سے مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم کر، یقیناً تو غفور و رحیم یعنی بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عبد الله بن عمرو، عن ابي بكر الصديق، - رضى الله عنهما انه قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم علمني دعاء ادعو به في صلاتي . قال " قل اللهم اني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب الا انت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني انك انت الغفور الرحيم
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دونوں ہاتھ پکڑے، اور فرمایا: اے معاذ! میں تم سے محبت کرتا ہوں ، تو میں نے عرض کیا: اور میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو تم ہر نماز میں یہ دعا پڑھنا نہ چھوڑو «رب أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك» اے میرے رب! اپنے ذکر اور شکر پر، اور اپنی حسن عبادت پر میری مدد فرما ۔
اخبرنا يونس بن عبد الاعلى، قال حدثنا ابن وهب، قال سمعت حيوة، يحدث عن عقبة بن مسلم، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن الصنابحي، عن معاذ بن جبل، قال اخذ بيدي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اني لاحبك يا معاذ " . فقلت وانا احبك يا رسول الله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فلا تدع ان تقول في كل صلاة رب اعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں کہتے تھے: «اللہم إني أسألك الثبات في الأمر والعزيمة على الرشد وأسألك شكر نعمتك وحسن عبادتك وأسألك قلبا سليما ولسانا صادقا وأسألك من خير ما تعلم وأعوذ بك من شر ما تعلم وأستغفرك لما تعلم» اے اللہ! میں معاملہ میں تجھ سے ثابت قدمی کا، اور راست روی میں عزیمت کا سوال کرتا ہوں، اور تجھ سے تیری نعمتوں کے شکر اور تیری حسن عبادت کی توفیق مانگتا ہوں، اور تجھ سے تمام برائیوں اور آلائشوں سے پاک و صاف دل، اور سچ کہنے والی زبان کا طلب گار ہوں، اور تجھ سے ان چیزوں کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں جنہیں تو جانتا ہے، اور ان چیزوں کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں جنہیں تو جانتا ہے، اور میں تجھ سے ان گناہوں کی مغفرت طلب کرتا ہوں جو تیرے علم میں ہیں ۔
اخبرنا ابو داود، قال حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن سلمة، عن سعيد الجريري، عن ابي العلاء، عن شداد بن اوس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول في صلاته " اللهم اني اسالك الثبات في الامر والعزيمة على الرشد واسالك شكر نعمتك وحسن عبادتك واسالك قلبا سليما ولسانا صادقا واسالك من خير ما تعلم واعوذ بك من شر ما تعلم واستغفرك لما تعلم
سائب کہتے ہیں کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے ہمیں نماز پڑھائی تو اس میں اختصار سے کام لیا، قوم میں سے کچھ لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے نماز ہلکی کر دی ہے، راوی کو شک ہے «خففت» کہا یا «أوجزت» ( ہلکی کر دی یا مختصر کر دی ) تو انہوں نے کہا: اس کے باوجود میں نے اس میں ایسی دعائیں پڑھی ہیں جن کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، تو جب وہ جانے کے لیے کھڑے ہوئے تو قوم میں سے ایک آدمی ان کے پیچھے ہو لیا ( وہ کوئی اور نہیں میرے والد تھے مگر انہوں نے اپنا نام چھپایا ہے ) ۱؎ اس نے ان سے اس دعا کے بارے میں سوال کیا، پھر آ کر لوگوں کو اس کی خبر دی، وہ دعا یہ تھی: «اللہم بعلمك الغيب وقدرتك على الخلق أحيني ما علمت الحياة خيرا لي وتوفني إذا علمت الوفاة خيرا لي اللہم وأسألك خشيتك في الغيب والشهادة وأسألك كلمة الحق في الرضا والغضب وأسألك القصد في الفقر والغنى وأسألك نعيما لا ينفد وأسألك قرة عين لا تنقطع وأسألك الرضاء بعد القضاء وأسألك برد العيش بعد الموت وأسألك لذة النظر إلى وجهك والشوق إلى لقائك في غير ضراء مضرة ولا فتنة مضلة اللہم زينا بزينة الإيمان واجعلنا هداة مهتدين» اے اللہ! میں تیرے علم غیب اور تمام مخلوق پر تیری قدرت کے واسطہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تو جانے کہ زندگی میرے لیے باعث خیر ہے، اور مجھے موت دیدے جب تو جانے کہ موت میرے لیے بہتر ہے، اے اللہ! میں غیب و حضور دونوں حالتوں میں تیری مشیت کا طلب گار ہوں، اور میں تجھ سے خوشی و ناراضگی دونوں حالتوں میں کلمہ حق کہنے کی توفیق مانگتا ہوں، اور تنگ دستی و خوشحالی دونوں میں میانہ روی کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو، اور میں تجھ سے ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک کا طلبگار ہوں جو منقطع نہ ہو، اور میں تجھ سے تیری قضاء پر رضا کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے موت کے بعد کی راحت اور آسائش کا طالب ہوں، اور میں تجھ سے تیرے دیدار کی لذت، اور تیری ملاقات کے شوق کا طالب ہوں، اور پناہ چاہتا ہوں تجھ سے اس مصیبت سے جس پر صبر نہ ہو سکے، اور ایسے فتنے سے جو گمراہ کر دے، اے اللہ! ہم کو ایمان کے زیور سے آراستہ رکھ، اور ہم کو راہ نما اور ہدایت یافتہ بنا دے ۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال حدثنا حماد، قال حدثنا عطاء بن السايب، عن ابيه، قال صلى بنا عمار بن ياسر صلاة فاوجز فيها فقال له بعض القوم لقد خففت او اوجزت الصلاة . فقال اما على ذلك فقد دعوت فيها بدعوات سمعتهن من رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما قام تبعه رجل من القوم هو ابي غير انه كنى عن نفسه فساله عن الدعاء ثم جاء فاخبر به القوم " اللهم بعلمك الغيب وقدرتك على الخلق احيني ما علمت الحياة خيرا لي وتوفني اذا علمت الوفاة خيرا لي اللهم واسالك خشيتك في الغيب والشهادة واسالك كلمة الحق في الرضا والغضب واسالك القصد في الفقر والغنى واسالك نعيما لا ينفد واسالك قرة عين لا تنقطع واسالك الرضاء بعد القضاء واسالك برد العيش بعد الموت واسالك لذة النظر الى وجهك والشوق الى لقايك في غير ضراء مضرة ولا فتنة مضلة اللهم زينا بزينة الايمان واجعلنا هداة مهتدين
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اور اسے ہلکی پڑھائی، تو گویا کہ لوگوں نے اسے ناپسند کیا، تو انہوں نے کہا: کیا میں نے رکوع اور سجدے پورے پورے نہیں کیے ہیں؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور کیا ہے، پھر انہوں نے کہا: سنو! میں نے اس میں ایسی دعا پڑھی ہے جس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے وہ یہ ہے: «اللہم بعلمك الغيب وقدرتك على الخلق أحيني ما علمت الحياة خيرا لي وتوفني إذا علمت الوفاة خيرا لي وأسألك خشيتك في الغيب والشهادة وكلمة الإخلاص في الرضا والغضب وأسألك نعيما لا ينفد وقرة عين لا تنقطع وأسألك الرضاء بالقضاء وبرد العيش بعد الموت ولذة النظر إلى وجهك والشوق إلى لقائك وأعوذ بك من ضراء مضرة وفتنة مضلة اللہم زينا بزينة الإيمان واجعلنا هداة مهتدين» اے اللہ! میں تیرے علم غیب اور تمام مخلوق پر تیری قدرت کے واسطہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تو جانے کہ زندگی میرے لیے باعث خیر ہے، اور مجھے موت دیدے جب تو جانے کہ موت میرے لیے بہتر ہے، اے اللہ! میں غیب و حضور دونوں حالتوں میں تیری خشیت کا طلب گار ہوں، اور میں تجھ سے خوشی و ناراضگی دونوں حالتوں میں کلمہ اخلاص کی توفیق مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو، اور میں تجھ سے ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک کا طلبگار ہوں جو منقطع نہ ہو، اور میں تجھ سے تیری قضاء پر رضا کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے موت کے بعد کی راحت اور آسائش کا طلبگار ہوں، اور میں تجھ سے تیرے دیدار کی لذت، اور تیری ملاقات کے شوق کا طلبگار ہوں، اور پناہ چاہتا ہوں تیری اس مصیبت سے جس پر صبر نہ ہو سکے، اور ایسے فتنے سے جو گمراہ کر دے، اے اللہ! ہم کو ایمان کے زیور سے آراستہ رکھ، اور ہم کو راہنما و ہدایت یافتہ بنا دے ۔
اخبرنا عبيد الله بن سعد بن ابراهيم بن سعد، قال حدثنا عمي، قال حدثنا شريك، عن ابي هاشم الواسطي، عن ابي مجلز، عن قيس بن عباد، قال صلى عمار بن ياسر بالقوم صلاة اخفها فكانهم انكروها فقال الم اتم الركوع والسجود قالوا بلى . قال اما اني دعوت فيها بدعاء كان النبي صلى الله عليه وسلم يدعو به " اللهم بعلمك الغيب وقدرتك على الخلق احيني ما علمت الحياة خيرا لي وتوفني اذا علمت الوفاة خيرا لي واسالك خشيتك في الغيب والشهادة وكلمة الاخلاص في الرضا والغضب واسالك نعيما لا ينفد وقرة عين لا تنقطع واسالك الرضاء بالقضاء وبرد العيش بعد الموت ولذة النظر الى وجهك والشوق الى لقايك واعوذ بك من ضراء مضرة وفتنة مضلة اللهم زينا بزينة الايمان واجعلنا هداة مهتدين
فروہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ آپ مجھ سے ایسی چیز بیان کیجئیے جس کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دعا کرتے رہے ہوں، تو وہ کہنے لگیں: ہاں، سنو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل» اے اللہ! میں تجھ سے اس کام کی برائی سے پناہ چاہتا ہوں جو میں نے کیا ہے، اور اس کام کی برائی سے جو میں نے نہیں کیا ہے ۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن فروة بن نوفل، قال قلت لعايشة حدثيني بشىء، كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو به في صلاته . فقالت نعم كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم اني اعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم اعمل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبر کے عذاب کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ہاں، قبر کا عذاب برحق ہے ، اس کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا جس میں آپ نے قبر کے عذاب سے پناہ نہ مانگی ہو۔
اخبرنا محمد بن بشار، عن محمد، قال حدثنا شعبة، عن اشعث، عن ابيه، عن مسروق، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عذاب القبر فقال " نعم عذاب القبر حق " . قالت عايشة فما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي صلاة بعد الا تعوذ من عذاب القبر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دعا مانگتے: «اللہم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات اللہم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم» اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، اور پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے، اے اللہ! میں تجھ سے گناہ اور قرض سے پناہ چاہتا ہوں تو کہنے والے نے آپ سے کہا: آپ قرض سے اتنا زیادہ کیوں پناہ مانگتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی جب مقروض ہوتا ہے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، اور وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے ۔
اخبرنا عمرو بن عثمان، قال حدثنا ابي، عن شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة، اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدعو في الصلاة " اللهم اني اعوذ بك من عذاب القبر واعوذ بك من فتنة المسيح الدجال واعوذ بك من فتنة المحيا والممات اللهم اني اعوذ بك من الماثم والمغرم " . فقال له قايل ما اكثر ما تستعيذ من المغرم فقال " ان الرجل اذا غرم حدث فكذب ووعد فاخلف
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھے، تو وہ چار چیزوں سے اللہ کی پناہ چاہے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے، اور مسیح دجال کے شر سے، پھر وہ اپنے لیے جو جی چاہے دعا کرے ۔
اخبرني محمد بن عبد الله بن عمار الموصلي، عن المعافى، عن الاوزاعي، ح وانبانا علي بن خشرم، عن عيسى بن يونس، - واللفظ له - عن الاوزاعي، عن حسان بن عطية، عن محمد بن ابي عايشة، قال سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا تشهد احدكم فليتعوذ بالله من اربع من عذاب جهنم وعذاب القبر وفتنة المحيا والممات ومن شر المسيح الدجال ثم يدعو لنفسه بما بدا له
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے بعد اپنی نماز میں کہتے تھے: «أحسن الكلام كلام اللہ وأحسن الهدى هدى محمد صلى اللہ عليه وسلم» سب سے عمدہ کلام اللہ کا کلام ہے، اور سب سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے ۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا يحيى، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول في صلاته بعد التشهد " احسن الكلام كلام الله واحسن الهدى هدى محمد صلى الله عليه وسلم
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے، اور اچھی طرح نہیں پڑھ رہا ہے، اس میں وہ کمی کر رہا ہے، تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: اس طرح سے نماز تم کب سے پڑھ رہے ہو؟ اس نے کہا: چالیس سال سے، تو انہوں نے کہا: تم نے چالیس سال سے کامل نماز نہیں پڑھی، اور اگر تم اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے مر جاتے تو تمہارا خاتمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت کے علاوہ پر ہوتا، پھر انہوں نے کہا: آدمی ہلکی نماز پڑھے لیکن پوری اور اچھی پڑھے۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا يحيى بن ادم، قال حدثنا مالك، - وهو ابن مغول - عن طلحة بن مصرف، عن زيد بن وهب، عن حذيفة، انه راى رجلا يصلي فطفف فقال له حذيفة منذ كم تصلي هذه الصلاة قال منذ اربعين عاما . قال ما صليت منذ اربعين سنة ولو مت وانت تصلي هذه الصلاة لمت على غير فطرة محمد صلى الله عليه وسلم ثم قال ان الرجل ليخفف ويتم ويحسن
یحییٰ اپنے چچا بدری صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے بیان کیا کہ ایک آدمی مسجد میں آیا اور نماز پڑھنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے، اور ہم نہیں سمجھ رہے تھے، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوا، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آ کر اس نے آپ کو سلام کیا، آپ نے ( جواب دینے کے بعد ) فرمایا: واپس جاؤ دوبارہ نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے ، چنانچہ وہ واپس گیا، اور اس نے پھر سے نماز پڑھی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے ( ابھی بھی ) نماز نہیں پڑھی ہے ، دو یا تین بار ایسا ہوا تو اس آدمی نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو عزت دی ہے، میں اپنی بھر کوشش کر چکا ہوں لہٰذا آپ مجھے سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو وضو کرو اور اچھی طرح سے وضو کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر تحریمہ کہو، پھر قرآن پڑھو، پھر رکوع کرو اور اطمینان سے رکوع کرو، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سجدہ سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سر اٹھاؤ، پھر اس کے بعد دوسری رکعت میں اسی طرح کرو یہاں تک کہ تم نماز سے فارغ ہو جاؤ ۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن علي، - وهو ابن يحيى - عن ابيه، عن عم، له بدري انه حدثه ان رجلا دخل المسجد فصلى ورسول الله صلى الله عليه وسلم يرمقه ونحن لا نشعر فلما فرغ اقبل فسلم على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ارجع فصل فانك لم تصل " . فرجع فصلى ثم اقبل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ارجع فصل فانك لم تصل " . مرتين او ثلاثا . فقال له الرجل والذي اكرمك يا رسول الله لقد جهدت فعلمني فقال " اذا قمت تريد الصلاة فتوضا فاحسن وضوءك ثم استقبل القبلة فكبر ثم اقرا ثم اركع فاطمين راكعا ثم ارفع حتى تعتدل قايما ثم اسجد حتى تطمين ساجدا ثم ارفع حتى تطمين قاعدا ثم اسجد حتى تطمين ساجدا ثم ارفع ثم افعل كذلك حتى تفرغ من صلاتك
یحییٰ بن خلاد بن رافع بن مالک انصاری کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے چچا بدری صحابی روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر وہ آیا، اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہے تھے، آپ نے سلام کا جواب دیا، پھر اس سے فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے ، چنانچہ وہ واپس آیا، اور پھر سے اس نے نماز پڑھی، پھر وہ دوبارہ آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے ، یہاں تک کہ تیسری یا چوتھی بار میں اس نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے، میں اپنی کوشش کر چکا ہوں، اور میری خواہش ہے آپ مجھے ( صحیح نماز پڑھنے کا طریقہ ) دکھا، اور سکھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو پہلے اچھی طرح وضو کرو پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر تحریمہ کہو پھر قرآت کرو پھر رکوع میں جاؤ اور رکوع میں رہو یہاں تک کہ تمہیں اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ میں جاؤ اور اطمینان سے سجدہ کرو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ تم آرام سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کر اور سجدہ میں رہو یہاں تک کہ تمہیں اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ تو جب تم اپنی نماز کو اس نہج پر پورا کرو گے تو وہ مکمل ہو گی، اور اگر تم نے اس میں سے کچھ کمی کی تو تم اپنی نماز میں کمی کرو گے۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن داود بن قيس، قال حدثني علي بن يحيى بن خلاد بن رافع بن مالك الانصاري، قال حدثني ابي، عن عم، له بدري قال كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا في المسجد فدخل رجل فصلى ركعتين ثم جاء فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم وقد كان النبي صلى الله عليه وسلم يرمقه في صلاته فرد عليه السلام ثم قال له " ارجع فصل فانك لم تصل " . فرجع فصلى ثم جاء فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فرد عليه السلام ثم قال " ارجع فصل فانك لم تصل " . حتى كان عند الثالثة او الرابعة فقال والذي انزل عليك الكتاب لقد جهدت وحرصت فارني وعلمني . قال " اذا اردت ان تصلي فتوضا فاحسن وضوءك ثم استقبل القبلة فكبر ثم اقرا ثم اركع حتى تطمين راكعا ثم ارفع حتى تعتدل قايما ثم اسجد حتى تطمين ساجدا ثم ارفع حتى تطمين قاعدا ثم اسجد حتى تطمين ساجدا ثم ارفع فاذا اتممت صلاتك على هذا فقد تمت وما انتقصت من هذا فانما تنتقصه من صلاتك
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں بتائیے، تو انہوں نے کہا: ہم آپ کے ( تہجد کے ) لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ جب آپ کو رات میں بیدار کرنا چاہتا بیدار کر دیتا، آپ اٹھ کر مسواک کرتے، اور وضو کرتے، اور آٹھ رکعتیں پڑھتے ۱؎، ان میں صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے، اللہ عزوجل کا ذکر کرتے، اور دعائیں کرتے، پھر اتنی اونچی آواز میں آپ سلام پھیرتے کہ ہمیں سنا دیتے۔
اخبرنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى، عن سعيد، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، قال قلت يا ام المومنين انبييني عن وتر رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالت كنا نعد له سواكه وطهوره فيبعثه الله لما شاء ان يبعثه من الليل فيتسوك ويتوضا ويصلي ثمان ركعات لا يجلس فيهن الا عند الثامنة فيجلس فيذكر الله عز وجل ويدعو ثم يسلم تسليما يسمعنا
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز میں ) اپنے دائیں اور بائیں سلام پھیرتے تھے۔
اخبرنا محمد بن اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثنا سليمان، - يعني ابن داود الهاشمي - قال حدثنا ابراهيم، - وهو ابن سعد - قال حدثني عبد الله بن جعفر، - وهو ابن المسور المخرمي - عن اسماعيل بن محمد، قال حدثني عامر بن سعد، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسلم عن يمينه وعن يساره
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تھا کہ آپ اپنے دائیں اور بائیں سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دیکھی جاتی۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: عبداللہ بن جعفر مخرمی میں کوئی حرج نہیں یعنی قابل قبول راوی ہیں، اور علی بن مدینی کے والد عبداللہ بن جعفر بن نجیح، متروک الحدیث ہیں۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا ابو عامر العقدي، قال حدثنا عبد الله بن جعفر المخرمي، عن اسماعيل بن محمد بن سعد، عن عامر بن سعد، عن سعد، قال كنت ارى رسول الله صلى الله عليه وسلم يسلم عن يمينه وعن يساره حتى يرى بياض خده . قال ابو عبد الرحمن عبد الله بن جعفر هذا ليس به باس وعبد الله بن جعفر بن نجيح والد علي بن المديني متروك الحديث
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم سلام پھیرتے وقت «السلام عليكم السلام عليكم» کہتے تھے، ( مسعر نے اپنے ہاتھ سے دائیں بائیں دونوں طرف اشارہ کر کے بتایا ) تو آپ نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو اپنے ہاتھ اس طرح کرتے ہیں گویا شریر گھوڑوں کی دم ہیں، کیا یہ کافی نہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھیں، پھر وہ اپنے دائیں طرف اور اپنے بائیں اپنے بھائی کو سلام کریں ۔
اخبرنا عمرو بن منصور، قال حدثنا ابو نعيم، عن مسعر، عن عبيد الله ابن القبطية، قال سمعت جابر بن سمرة، يقول كنا اذا صلينا خلف النبي صلى الله عليه وسلم قلنا السلام عليكم السلام عليكم . واشار مسعر بيده عن يمينه وعن شماله فقال " ما بال هولاء الذين يرمون بايديهم كانها اذناب الخيل الشمس اما يكفي ان يضع يده على فخذه ثم يسلم على اخيه عن يمينه وعن شماله