Loading...

Loading...
کتب
۱۸۸ احادیث
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہر جھکنے اٹھنے اور کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں اللہ اکبر کہتے، پھر اپنی دائیں طرف اور بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے ہوئے سلام پھیرتے، یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دیکھی جاتی، اور میں نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا۔
اخبرنا محمد بن المثنى، قال حدثنا معاذ بن معاذ، قال حدثنا زهير، عن ابي اسحاق، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن الاسود، وعلقمة، عن عبد الله، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يكبر في كل خفض ورفع وقيام وقعود ويسلم عن يمينه وعن شماله " السلام عليكم ورحمة الله السلام عليكم ورحمة الله " . حتى يرى بياض خده ورايت ابا بكر وعمر - رضى الله عنهما - يفعلان ذلك
واسع بن حبان سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب جھکتے تو «اللہ أكبر» کہتے، اور جب اٹھتے تو «اللہ أكبر» کہتے، پھر آپ اپنی دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے اور اپنی بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے۔
اخبرنا الحسن بن محمد الزعفراني، عن حجاج، قال ابن جريج انبانا عمرو بن يحيى، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن عمه، واسع بن حبان، . انه سال عبد الله بن عمر عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال الله اكبر كلما وضع الله اكبر كلما رفع ثم يقول " السلام عليكم ورحمة الله عن يمينه السلام عليكم ورحمة الله عن يساره
واسع بن حبان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیے کہ وہ کیسی ہوتی تھی، تو انہوں نے تکبیر کہی، اور اپنی دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہنے، اور بائیں طرف «السلام عليكم» ۱؎ کہنے کا ذکر کیا۔
اخبرنا قتيبة، قال حدثنا عبد العزيز، - يعني الدراوردي - عن عمرو بن يحيى، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن عمه، واسع بن حبان، قال قلت لابن عمر اخبرني عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف كانت قال فذكر التكبير قال يعني وذكر " السلام عليكم ورحمة الله" عن يمينه, "السلام عليكم" عن يساره
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہا، اور اپنی بائیں طرف«السلام عليكم ورحمة اللہ» کہا، گویا میں آپ کے گال کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔
اخبرنا زيد بن اخزم، عن ابن داود، - يعني عبد الله بن داود الخريبي - عن علي بن صالح، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال كاني انظر الى بياض خده عن يمينه " السلام عليكم ورحمة الله " . وعن يساره " السلام عليكم ورحمة الله
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی، اور آپ بائیں طرف سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی۔
اخبرنا محمد بن ادم، عن عمر بن عبيد، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسلم عن يمينه حتى يبدو بياض خده وعن يساره حتى يبدو بياض خده
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف اور بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے ہوئے سلام پھیرتے، اور ( آپ اپنے سر کو اتنا گھماتے ) کہ آپ کے رخسار کی سفیدی ادھر سے، اور ادھر سے دکھائی دیتی۔
اخبرنا عمرو بن علي، قال حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن ابي الاحوص، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم . انه كان يسلم عن يمينه وعن يساره " السلام عليكم ورحمة الله السلام عليكم ورحمة الله " . حتى يرى بياض خده من ها هنا وبياض خده من ها هنا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے دائیں گال کی سفیدی دکھائی دینے لگتی، اور بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے بائیں گال کی سفیدی دکھائی دینے لگتی۔
اخبرنا ابراهيم بن يعقوب، قال حدثنا علي بن الحسن بن شقيق، قال انبانا الحسين بن واقد، قال حدثنا ابو اسحاق، عن علقمة، والاسود، وابي الاحوص، قالوا حدثنا عبد الله بن مسعود، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسلم عن يمينه " السلام عليكم ورحمة الله " . حتى يرى بياض خده الايمن وعن يساره " السلام عليكم ورحمة الله " . حتى يرى بياض خده الايسر
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب ہم سلام پھیرتے تو اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہتے:«السلام عليكم السلام عليكم» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ تم لوگ اپنے ہاتھوں سے اشارے کرتے ہو، گویا کہ وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، جب تم میں سے کوئی سلام پھیرے تو وہ اپنے ساتھ والے کی طرف متوجہ ہو جائے، اور اپنے ہاتھ سے اشارہ نہ کرے ۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا عبيد الله بن موسى، قال حدثنا اسراييل، عن فرات القزاز، عن عبيد الله، - وهو ابن القبطية - عن جابر بن سمرة، قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فكنا اذا سلمنا قلنا بايدينا السلام عليكم السلام عليكم - قال - فنظر الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ما شانكم تشيرون بايديكم كانها اذناب خيل شمس اذا سلم احدكم فليلتفت الى صاحبه ولا يومي بيده
محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں اپنی قوم بنی سالم کو نماز پڑھایا کرتا تھا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے عرض کیا کہ میری آنکھیں کمزور ہو گئی ہیں، اور برسات میں میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان سیلاب حائل ہو جاتا ہے، لہٰذا میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لاتے، اور کسی جگہ میں نماز پڑھ دیتے تو میں اس جگہ کو اپنے لیے مسجد بنا لیتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا ان شاءاللہ عنقریب آؤں گا ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوب دن چڑھ آنے کے بعد میرے پاس تشریف لائے، آپ کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے آپ کو اندر تشریف لانے کے لیے کہا، آپ بیٹھے بھی نہیں کہ آپ نے پوچھا: تم اپنے گھر کے کس حصہ میں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟ تو میں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں میں چاہتا تھا کہ آپ اس میں نماز پڑھیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، پھر آپ نے سلام پھیرا، اور ہم نے بھی سلام پھیرا جس وقت آپ نے سلام پھیرا۔
اخبرنا سويد بن نصر، قال انبانا عبد الله بن المبارك، عن معمر، عن الزهري، اخبره قال اخبرني محمود بن الربيع، قال سمعت عتبان بن مالك، يقول كنت اصلي بقومي بني سالم فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت اني قد انكرت بصري وان السيول تحول بيني وبين مسجد قومي فلوددت انك جيت فصليت في بيتي مكانا اتخذه مسجدا . قال النبي صلى الله عليه وسلم " سافعل ان شاء الله " . فغدا على رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر - رضى الله عنه - معه بعد ما اشتد النهار فاستاذن النبي صلى الله عليه وسلم فاذنت له فلم يجلس حتى قال " اين تحب ان اصلي من بيتك " . فاشرت له الى المكان الذي احب ان يصلي فيه فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم وصففنا خلفه ثم سلم وسلمنا حين سلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فجر تک کے بیچ میں گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، اور ایک رکعت کے ذریعہ وتر کرتے۱؎، اور ایک سجدہ اتنا لمبا کرتے کہ کوئی اس سے پہلے کہ آپ سجدہ سے سر اٹھائیں پچاس آیتیں پڑھ لے۔ اس حدیث کے رواۃ ( ابن ابی ذئب، عمرو بن حارث اور یونس بن یزید ) ایک دوسرے پر اضافہ بھی کرتے ہیں اور یہ حدیث ایک لمبی حدیث سے مختصر کی گئی ہے۔
اخبرنا سليمان بن داود بن حماد بن سعد، عن ابن وهب، قال اخبرني ابن ابي ذيب، وعمرو بن الحارث، ويونس بن يزيد، ان ابن شهاب، اخبرهم عن عروة، قال قالت عايشة كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي فيما بين ان يفرغ من صلاة العشاء الى الفجر احدى عشرة ركعة ويوتر بواحدة ويسجد سجدة قدر ما يقرا احدكم خمسين اية قبل ان يرفع راسه . وبعضهم يزيد على بعض في الحديث . مختصر
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر آپ نے گفتگو کی، پھر سہو کے دو سجدے کیے۔
اخبرنا محمد بن ادم، عن حفص، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم سلم ثم تكلم ثم سجد سجدتى السهو
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے بیٹھے بیٹھے کئے، پھر سلام پھیرا، راوی کہتے ہیں: اس کا ذکر ذوالیدین والی حدیث میں بھی ہے۔
اخبرنا سويد بن نصر، عن عبد الله بن المبارك، عن عكرمة بن عمار، قال حدثنا ضمضم بن جوس، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سلم ثم سجد سجدتى السهو وهو جالس ثم سلم . قال ذكره في حديث ذي اليدين
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیر دیا، تو خرباق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ نے تین ہی رکعت نماز پڑھی ہے، چنانچہ آپ نے انہیں وہ رکعت پڑھائی جو باقی رہ گئی تھی، پھر آپ نے سلام پھیرا، پھر سجدہ سہو کیا، اس کے بعد سلام پھیرا۔
اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال حدثنا حماد، قال حدثنا خالد، عن ابي قلابة، عن ابي المهلب، عن عمران بن حصين، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى ثلاثا ثم سلم فقال الخرباق انك صليت ثلاثا . فصلى بهم الركعة الباقية ثم سلم ثم سجد سجدتى السهو ثم سلم
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو بغور دیکھا، تو میں نے پایا کہ آپ کا قیام ۱؎، آپ کا رکوع، اور رکوع کے بعد آپ کا سیدھا کھڑا ہونا، پھر آپ کا سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا، پھر دوسرا سجدہ کرنا، پھر سلام پھیرنے اور مقتدیوں کی طرف پلٹنے کے درمیان بیٹھنا تقریباً برابر برابر ہوتا تھا۔
اخبرنا احمد بن سليمان، قال حدثنا عمرو بن عون، قال حدثنا ابو عوانة، عن هلال، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن البراء بن عازب، قال رمقت رسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاته فوجدت قيامه وركعته واعتداله بعد الركعة فسجدته فجلسته بين السجدتين فسجدته فجلسته بين التسليم والانصراف قريبا من السواء
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں جب نماز سے سلام پھیرتیں تو کھڑی ہو جاتیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مردوں میں سے جو لوگ نماز میں ہوتے بیٹھے رہتے جب تک اللہ چاہتا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تو مرد بھی کھڑے ہو جاتے۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن وهب، عن يونس، قال ابن شهاب اخبرتني هند بنت الحارث الفراسية، ان ام سلمة، اخبرتها ان النساء في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم كن اذا سلمن من الصلاة قمن وثبت رسول الله صلى الله عليه وسلم ومن صلى من الرجال ما شاء الله فاذا قام رسول الله صلى الله عليه وسلم قام الرجال
یزید بن اسود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی، جب نماز پڑھ چکے تو آپ نے اپنا رخ پلٹ کر مقتدیوں کی طرف کر لیا۔
اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني يعلى بن عطاء، عن جابر بن يزيد بن الاسود، عن ابيه، انه صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح فلما صلى انحرف
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے ختم ہونے کو تکبیر کے ذریعہ جانتا تھا ۱؎۔
اخبرنا بشر بن خالد العسكري، قال حدثنا يحيى بن ادم، عن سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن ابي معبد، عن ابن عباس، قال انما كنت اعلم انقضاء صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم بالتكبير
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذتین «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھا کروں۔
اخبرنا محمد بن سلمة، قال حدثنا ابن وهب، عن الليث، عن حنين بن ابي حكيم، عن على بن رباح، عن عقبة بن عامر، قال امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اقرا المعوذات دبر كل صلاة
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین بار «استغفر اللہ» کہتے، پھر کہتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» اے اللہ! تو سلام ہے، اور تجھ سے ہی تمام کی سلامتی ہے، تیری ذات بڑی بابرکت ہے، اے بزرگی اور عزت والے ۔
اخبرنا محمود بن خالد، قال حدثنا الوليد، عن ابي عمرو الاوزاعي، قال حدثني شداد ابو عمار، ان ابا اسماء الرحبي، حدثه انه، سمع ثوبان، مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا انصرف من صلاته استغفر ثلاثا وقال " اللهم انت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والاكرام
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کہتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» اے اللہ! تو سلام ہے، اور تجھی سے تمام کی سلامتی ہے، اے عزت و بزرگی والے تیری ذات بڑی بابرکت ہے ۔
اخبرنا محمد بن عبد الاعلى، ومحمد بن ابراهيم بن صدران، عن خالد، قال حدثنا شعبة، عن عاصم، عن عبد الله بن الحارث، عن عايشة، - رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا سلم قال " اللهم انت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والاكرام