Loading...

Loading...
کتب
۱۸۸ احادیث
سدی (اسماعیل بن عبدالرحمٰن) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ میں اپنے داہنے اور بائیں سلام پھیر کر کیسے پلٹوں؟ تو انہوں نے کہا: رہا میں تو میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں طرف سے پلٹتے دیکھا ہے۔
اخبرنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا ابو عوانة، عن السدي، قال سالت انس بن مالك كيف انصرف اذا صليت عن يميني، او عن يساري، قال اما انا فاكثر، ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينصرف عن يمينه
اسود کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں سے کوئی خود سے شیطان کا کوئی حصہ نہ کرے کہ غیر ضروری چیز کو اپنے اوپر لازم سمجھ لے، اور داہنی طرف ہی سے پلٹنے کو اپنے اوپر لازم کر لے، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر بائیں طرف سے پلٹتے دیکھا ہے۔
اخبرنا ابو حفص، عمرو بن علي قال حدثنا يحيى، قال حدثنا الاعمش، عن عمارة، عن الاسود، قال قال عبد الله لا يجعلن احدكم للشيطان من نفسه جزءا يرى ان حتما عليه ان لا ينصرف الا عن يمينه لقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اكثر انصرافه عن يساره
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر، اور ننگے پاؤں اور جوتے پہن کر بھی نماز پڑھتے دیکھا ہے، اور آپ سلام پھیر نے کے بعد ( کبھی ) اپنے دائیں طرف پلٹتے، اور ( کبھی ) اپنے بائیں طرف۔
اخبرنا اسحاق بن ابراهيم، قال انبانا بقية، قال حدثنا الزبيري، ان مكحولا، حدثه ان مسروق بن الاجدع حدثه عن عايشة، قالت رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يشرب قايما وقاعدا ويصلي حافيا ومنتعلا وينصرف عن يمينه وعن شماله
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر ادا کرتی تھیں، جب آپ سلام پھیرتے تو وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی نکل جاتیں، اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتیں ۱؎۔
اخبرنا علي بن خشرم، قال انبانا عيسى بن يونس، عن الاوزاعي، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت كان النساء يصلين مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الفجر فكان اذا سلم انصرفن متلفعات بمروطهن فلا يعرفن من الغلس
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: میں تمہارا امام ہوں، تو تم مجھ سے رکوع و سجود اور قیام میں جلدی نہ کرو، اور نہ ہی سلام میں، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں، اور پیچھے سے بھی ، پھر آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم وہ چیزیں دیکھتے جو میں دیکھتا ہوں تو تم ہنستے کم، اور روتے زیادہ ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے جنت اور جہنم دیکھی ہے ۔
اخبرنا علي بن حجر، قال حدثنا علي بن مسهر، عن المختار بن فلفل، عن انس بن مالك، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم ثم اقبل علينا بوجهه فقال " اني امامكم فلا تبادروني بالركوع ولا بالسجود ولا بالقيام ولا بالانصراف فاني اراكم من امامي ومن خلفي " . ثم قال " والذي نفسي بيده لو رايتم ما رايت لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا " . قلنا ما رايت يا رسول الله قال " رايت الجنة والنار
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزے رکھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ رمضان کے مہینہ کی سات راتیں رہ گئیں، تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے ( اور پڑھاتے رہے ) یہاں تک کہ تہائی رات کے قریب گزر گئی، پھر چھٹی رات آئی لیکن آپ ہمیں پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے، پھر جب پانچویں رات آئی تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے ( اور پڑھاتے رہے ) یہاں تک کہ تقریباً آدھی رات گزر گئی، تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ یہ رات پوری پڑھاتے، آپ نے فرمایا: آدمی جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے ، پھر چوتھی رات آئی تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے نہیں کھڑے ہوئے، پھر جب رمضان کے مہینہ کی تین راتیں باقی رہ گئیں، تو آپ نے اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو کہلا بھیجا اور لوگوں کو بھی جمع کیا، اور ہمیں تراویح پڑھائی یہاں تک کہ ہمیں خوف ہوا کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے، پھر اس کے بعد مہینہ کے باقی دنوں میں آپ نے ہمیں تراویح نہیں پڑھائی۔ داود بن ابی ہند کہتے ہیں: میں نے پوچھا: فلاح کیا ہے؟ تو انہوں نے ( ولید بن عبدالرحمٰن نے ) کہا: سحری کھانا۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، قال حدثنا بشر، - وهو ابن المفضل - قال حدثنا داود بن ابي هند، عن الوليد بن عبد الرحمن، عن جبير بن نفير، عن ابي ذر، قال صمنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم رمضان فلم يقم بنا النبي صلى الله عليه وسلم حتى بقي سبع من الشهر فقام بنا حتى ذهب نحو من ثلث الليل ثم كانت سادسة فلم يقم بنا فلما كانت الخامسة قام بنا حتى ذهب نحو من شطر الليل قلنا يا رسول الله لو نفلتنا قيام هذه الليلة . قال " ان الرجل اذا صلى مع الامام حتى ينصرف حسب له قيام ليلة " . قال ثم كانت الرابعة فلم يقم بنا فلما بقي ثلث من الشهر ارسل الى بناته ونسايه وحشد الناس فقام بنا حتى خشينا ان يفوتنا الفلاح ثم لم يقم بنا شييا من الشهر . قال داود قلت ما الفلاح قال السحور
عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں نماز عصر پڑھی، پھر آپ تیزی سے لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے گئے یہاں تک کہ لوگ آپ کی تیزی سے تعجب میں پڑ گئے، کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے پیچھے گئے ( کہ کیا معاملہ ہے ) آپ اپنی ایک بیوی کے حجرہ میں داخل ہوئے، پھر باہر نکلے اور فرمایا: میں نماز عصر میں تھا کہ مجھے سونے کا وہ ڈلا یاد آ گیا جو ہمارے پاس تھا، تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ رات بھر وہ ہمارے پاس پڑا رہے، لہٰذا جا کر میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا ۔
اخبرنا احمد بن بكار الحراني، قال حدثنا بشر بن السري، عن عمر بن سعيد بن ابي حسين النوفلي، عن ابن ابي مليكة، عن عقبة بن الحارث، قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم العصر بالمدينة ثم انصرف يتخطى رقاب الناس سريعا حتى تعجب الناس لسرعته فتبعه بعض اصحابه فدخل على بعض ازواجه ثم خرج فقال " اني ذكرت وانا في العصر شييا من تبر كان عندنا فكرهت ان يبيت عندنا فامرت بقسمته
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے دن سورج ڈوب جانے کے بعد کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نماز نہیں پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، تو رسول اللہ نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں نے بھی نہیں پڑھی ہے ، چنانچہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی بطحان میں اترے، پھر آپ نے نماز کے لیے وضو کیا، اور ہم نے بھی وضو کیا پھر آپ نے سورج ڈوب جانے کے باوجود ( پہلے ) عصر پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب پڑھی۔
اخبرنا اسماعيل بن مسعود، ومحمد بن عبد الاعلى، قالا حدثنا خالد، - وهو ابن الحارث - عن هشام، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن جابر بن عبد الله، ان عمر بن الخطاب، يوم الخندق بعد ما غربت الشمس جعل يسب كفار قريش وقال يا رسول الله ما كدت ان اصلي حتى كادت الشمس تغرب فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فوالله ما صليتها " . فنزلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الى بطحان فتوضا للصلاة وتوضانا لها فصلى العصر بعد ما غربت الشمس ثم صلى بعدها المغرب