Loading...

Loading...
کتب
۶۵ احادیث
ابورافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقہ کی وصولی پر بھیجا تو اس نے ابورافع سے کہا: تم میرے ساتھ چلو تاکہ تم بھی اس میں سے حصہ پاس کو، مگر انہوں نے کہا: نہیں، یہاں تک کہ میں جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں، چنانچہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں، اور قوم کے موالی بھی قوم ہی میں سے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابورافع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ ہیں، ان کا نام اسلم ہے اور ابن ابی رافع کا نام عبیداللہ بن ابی رافع ہے، وہ علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے منشی تھے۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابن ابي رافع، عن ابي رافع، رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث رجلا من بني مخزوم على الصدقة فقال لابي رافع اصحبني كيما تصيب منها . فقال لا . حتى اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فاساله . فانطلق الى النبي صلى الله عليه وسلم فساله فقال " ان الصدقة لا تحل لنا وان موالي القوم من انفسهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو رافع مولى النبي صلى الله عليه وسلم اسمه اسلم وابن ابي رافع هو عبيد الله بن ابي رافع كاتب علي بن ابي طالب رضى الله عنه
سلمان بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو کھجور سے افطار کرے، کیونکہ اس میں برکت ہے، اگر کھجور میسر نہ ہو تو پانی سے افطار کرے وہ نہایت پاکیزہ چیز ہے“، نیز فرمایا: ”مسکین پر صدقہ، صرف صدقہ ہے اور رشتے دار پر صدقہ میں دو بھلائیاں ہیں، یہ صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سلمان بن عامر کی حدیث حسن ہے، ۲- سفیان ثوری نے بھی عاصم سے بطریق: «حفصة بنت سيرين، عن الرباب، عن سلمان بن عامر، عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۳- نیز شعبہ نے بطریق: «عاصم، عن حفصة، عن سلمان بن عامر» روایت کی ہے اور اس میں انہوں نے رباب کا ذکر نہیں کیا ہے، ۴- سفیان ثوری اور ابن عیینہ کی حدیث ۱؎ زیادہ صحیح ہے، ۵- اسی طرح ابن عون اور ہشام بن حسان نے بھی بطریق: «حفصة، عن الرباب، عن سلمان بن عامر» روایت کی ہے، ۶- اس باب میں عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی اہلیہ زینب، جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عاصم الاحول، عن حفصة بنت سيرين، عن الرباب، عن عمها، سلمان بن عامر يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا افطر احدكم فليفطر على تمر فانه بركة فان لم يجد تمرا فالماء فانه طهور " . وقال " الصدقة على المسكين صدقة وهي على ذي الرحم ثنتان صدقة وصلة " . قال وفي الباب عن زينب امراة عبد الله بن مسعود وجابر وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث سلمان بن عامر حديث حسن . والرباب هي ام الرايح بنت صليع . وهكذا روى سفيان الثوري عن عاصم عن حفصة بنت سيرين عن الرباب عن سلمان بن عامر عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا الحديث . وروى شعبة عن عاصم عن حفصة بنت سيرين عن سلمان بن عامر . ولم يذكر فيه عن الرباب . وحديث سفيان الثوري وابن عيينة اصح . وهكذا روى ابن عون وهشام بن حسان عن حفصة بنت سيرين عن الرباب عن سلمان بن عامر
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے زکاۃ کے بارے میں پوچھا، یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زکاۃ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی کچھ حق ہے ۱؎“ پھر آپ نے سورۃ البقرہ کی یہ آیت تلاوت فرمائی: «ليس البر أن تولوا وجوهكم» ”نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے پھیر لو“ ۲؎ الآیۃ۔
حدثنا محمد بن احمد بن مدويه، حدثنا الاسود بن عامر، عن شريك، عن ابي حمزة، عن الشعبي، عن فاطمة بنت قيس، قالت سالت او سيل النبي صلى الله عليه وسلم عن الزكاة فقال " ان في المال لحقا سوى الزكاة " . ثم تلا هذه الاية التي في البقرة ( ليس البر ان تولوا وجوهكم ) الاية
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی حقوق ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند کوئی خاص نہیں ہے ۱؎، ۲- ابوحمزہ میمون الاعور کو ضعیف گردانا جاتا ہے، ۳- بیان اور اسماعیل بن سالم نے یہ حدیث شعبی سے روایت کی ہے اور اسے شعبی ہی کا قول قرار دیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا محمد بن الطفيل، عن شريك، عن ابي حمزة، عن عامر الشعبي، عن فاطمة بنت قيس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان في المال حقا سوى الزكاة " . قال ابو عيسى هذا حديث اسناده ليس بذاك . وابو حمزة ميمون الاعور يضعف . وروى بيان واسماعيل بن سالم عن الشعبي هذا الحديث قوله وهذا اصح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے بھی کسی پاکیزہ چیز کا صدقہ کیا اور اللہ پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے ۱؎ تو رحمن اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے ۲؎ اگرچہ وہ ایک کھجور ہی ہو، یہ مال صدقہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ سے بڑا ہو جاتا ہے، جیسے کہ تم میں سے ایک اپنے گھوڑے کے بچے یا گائے کے بچے کو پالتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ، عدی بن حاتم، انس، عبداللہ بن ابی اوفی، حارثہ بن وہب، عبدالرحمٰن بن عوف اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن سعيد بن يسار، انه سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما تصدق احد بصدقة من طيب ولا يقبل الله الا الطيب الا اخذها الرحمن بيمينه وان كانت تمرة تربو في كف الرحمن حتى تكون اعظم من الجبل كما يربي احدكم فلوه او فصيله " . قال وفي الباب عن عايشة وعدي بن حاتم وانس وعبد الله بن ابي اوفى وحارثة بن وهب وعبد الرحمن بن عوف وبريدة . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ صدقہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے اور اسے پالتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچھڑے کو پالتا ہے یہاں تک کہ لقمہ احد پہاڑ کے مثل ہو جاتا ہے۔ اس کی تصدیق اللہ کی کتاب ( قرآن ) سے ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ألم يعلموا أن الله هو يقبل التوبة عن عباده ويأخذ الصدقات» ”کیا انہیں نہیں معلوم کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور صدقات لیتا ہے“ اور « ( يمحق الله الربا ويربي الصدقات» ”اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نیز عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں نے اس حدیث کے بارے میں اور اس جیسی صفات کی دوسری روایات کے بارے میں اور باری تعالیٰ کے ہر رات آسمان دنیا پر اترنے کے بارے میں کہا ہے کہ ”اس سلسلے کی روایات ثابت ہیں، ان پر ایمان لایا جائے، ان میں کسی قسم کا وہم نہ کیا جائے گا، اور نہ اس کی کیفیت پوچھی جائے۔ اور اسی طرح مالک، سفیان بن عیینہ اور عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے، ان لوگوں نے ان احادیث کے بارے میں کہا ہے کہ ان حدیثوں کو بلاکیفیت جاری کرو ۱؎ اسی طرح کا قول اہل سنت و الجماعت کے اہل علم کا ہے، البتہ جہمیہ نے ان روایات کا انکار کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ان سے تشبیہ لازم آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے کئی مقامات پر ”ہاتھ، کان، آنکھ“ کا ذکر کیا ہے۔ جہمیہ نے ان آیات کی تاویل کی ہے اور ان کی ایسی تشریح کی ہے جو اہل علم کی تفسیر کے خلاف ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا، دراصل ہاتھ کے معنی یہاں قوت کے ہیں۔ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: تشبیہ تو تب ہو گی جب کوئی کہے: «يد كيد أو مثل يد» یا «سمع كسمع أو مثل سمع» ”یعنی اللہ کا ہاتھ ہمارے ہاتھ کی طرح ہے، یا ہمارے ہاتھ کے مانند ہے، اس کا کان ہمارے کان کی طرح ہے یا ہمارے کان کے مانند ہے“ تو یہ تشیبہ ہوئی۔ ( نہ کہ صرف یہ کہنا کہ اللہ کا ہاتھ ہے، اس سے تشبیہ لازم نہیں آتی ) اور جب کوئی کہے جیسے اللہ نے کہا ہے کہ اس کے ہاتھ کان اور آنکھ ہے اور یہ نہ کہے کہ وہ کیسے ہیں اور نہ یہ کہے کہ فلاں کے کان کی مانند یا فلاں کے کان کی طرح ہے تو یہ تشبیہ نہیں ہوئی، یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا: «ليس كمثله شيئ وهو السميع البصير» ”اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سمیع ہے بصیر ہے“۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء حدثنا وكيع، حدثنا عباد بن منصور، حدثنا القاسم بن محمد، قال سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله يقبل الصدقة وياخذها بيمينه فيربيها لاحدكم كما يربي احدكم مهره حتى ان اللقمة لتصير مثل احد " . وتصديق ذلك في كتاب الله عز وجل (وهو الذي يقبل التوبة عن عباده ) وياخذ الصدقات (يمحق الله الربا ويربي الصدقات). قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح. وقد روي عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا. وقد قال غير واحد من اهل العلم في هذا الحديث وما يشبه هذا من الروايات من الصفات ونزول الرب تبارك وتعالى كل ليلة الى السماء الدنيا قالوا قد تثبت الروايات في هذا ويومن بها ولا يتوهم ولا يقال كيف هكذا روي عن مالك وسفيان بن عيينة وعبد الله بن المبارك انهم قالوا في هذه الاحاديث امروها بلا كيف. وهكذا قول اهل العلم من اهل السنة والجماعة. واما الجهمية فانكرت هذه الروايات وقالوا هذا تشبيه. وقد ذكر الله عز وجل في غير موضع من كتابه اليد والسمع والبصر فتاولت الجهمية هذه الايات ففسروها على غير ما فسر اهل العلم وقالوا ان الله لم يخلق ادم بيده. وقالوا ان معنى اليد هاهنا القوة. وقال اسحاق بن ابراهيم انما يكون التشبيه اذا قال يد كيد او مثل يد او سمع كسمع او مثل سمع. فاذا قال سمع كسمع او مثل سمع فهذا التشبيه واما اذا قال كما قال الله تعالى يد وسمع وبصر ولا يقول كيف ولا يقول مثل سمع ولا كسمع فهذا لا يكون تشبيها وهو كما قال الله تعالى في كتابه: {ليس كمثله شيء وهو السميع البصير}
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: رمضان کے بعد کون سے روزے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”شعبان کے روزے جو رمضان کی تعظیم کے لیے ہوں“، پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: ”رمضان میں صدقہ کرنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- صدقہ بن موسیٰ محدثین کے نزدیک زیادہ قوی راوی نہیں ہیں۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا صدقة بن موسى، عن ثابت، عن انس، قال سيل النبي صلى الله عليه وسلم اى الصوم افضل بعد رمضان فقال " شعبان لتعظيم رمضان " . قيل فاى الصدقة افضل قال " صدقة في رمضان " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وصدقة بن موسى ليس عندهم بذاك القوي
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ رب کے غصے کو بجھا دیتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حدثنا عقبة بن مكرم العمي البصري، حدثنا عبد الله بن عيسى الخزاز البصري، عن يونس بن عبيد، عن الحسن، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الصدقة لتطفي غضب الرب وتدفع ميتة السوء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
عبدالرحمٰن بن بجید کی دادی ام بجید حواء رضی الله عنہا ( جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والیوں میں سے ہیں ) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مسکین میرے دروازے پر کھڑا ہوتا ہے اور اسے دینے کے لیے میرے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ( تو میں کیا کروں؟ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر اسے دینے کے لیے تمہیں کوئی جلی ہوئی کھر ہی ملے تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام بجید رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، حسین بن علی، ابوہریرہ اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث بن سعد، عن سعيد بن ابي سعيد، عن عبد الرحمن بن بجيد، عن جدته ام بجيد، - وكانت ممن بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم - انها قالت يا رسول الله ان المسكين ليقوم على بابي فما اجد له شييا اعطيه اياه . فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لم تجدي شييا تعطينه اياه الا ظلفا محرقا فادفعيه اليه في يده " . قال وفي الباب عن علي وحسين بن علي وابي هريرة وابي امامة . قال ابو عيسى حديث ام بجيد حديث حسن صحيح
صفوان بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے روز مجھے دیا، آپ مجھے ( فتح مکہ سے قبل ) تمام مخلوق میں سب سے زیادہ مبغوض تھے، اور برابر آپ مجھے دیتے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہو گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حسن بن علی نے مجھ سے اس حدیث یا اس جیسی چیز کو مذاکرہ میں بیان کیا، ۲- اس باب میں ابوسعید رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- صفوان کی حدیث معمر وغیرہ نے زہری سے اور زہری نے سعید بن مسیب سے روایت کی ہے جس میں «عن صفوان بن أمية» کے بجائے «أن صفوان بن أمية قال أعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم» ہے گویا یہ حدیث یونس بن یزید کی حدیث سے زیادہ صحیح اور اشبہ ہے، یہ «عن سعید بن المسیب عن صفوان» کے بجائے «عن سعيد بن مسيب أن صفوان» ہی ہے ۱؎، ۴- جن کا دل رجھانا اور جن کو قریب لانا مقصود ہو انہیں دینے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، اکثر اہل علم کہتے ہیں کہ انہیں نہ دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے چند لوگ تھے جن کی آپ تالیف قلب فرما رہے تھے یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئے لیکن اب اس طرح ہر کسی کو زکاۃ کا مال دینا جائز نہیں ہے، سفیان ثوری، اہل کوفہ وغیرہ اسی کے قائل ہیں، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ اگر کوئی آج بھی ان لوگوں جیسی حالت میں ہو اور امام اسلام کے لیے اس کی تالیف قلب ضروری سمجھے اور اسے کچھ دے تو یہ جائز ہے، یہ شافعی کا قول ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا يحيى بن ادم، عن ابن المبارك، عن يونس بن يزيد، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن صفوان بن امية، قال اعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين وانه لابغض الخلق الى فما زال يعطيني حتى انه لاحب الخلق الى . قال ابو عيسى حدثني الحسن بن علي بهذا او شبهه في المذاكرة . قال وفي الباب عن ابي سعيد . قال ابو عيسى حديث صفوان رواه معمر وغيره عن الزهري عن سعيد بن المسيب ان صفوان بن امية قال اعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم . وكان هذا الحديث اصح واشبه انما هو سعيد بن المسيب ان صفوان . وقد اختلف اهل العلم في اعطاء المولفة قلوبهم فراى اكثر اهل العلم ان لا يعطوا . وقالوا انما كانوا قوما على عهد النبي صلى الله عليه وسلم كان يتالفهم على الاسلام حتى اسلموا . ولم يروا ان يعطوا اليوم من الزكاة على مثل هذا المعنى وهو قول سفيان الثوري واهل الكوفة وغيرهم وبه يقول احمد واسحاق . وقال بعضهم من كان اليوم على مثل حال هولاء وراى الامام ان يتالفهم على الاسلام فاعطاهم جاز ذلك . وهو قول الشافعي
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک عورت نے آپ کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقے میں دی تھی، اب وہ مر گئیں ( تو اس لونڈی کا کیا ہو گا؟ ) آپ نے فرمایا: ”تمہیں ثواب بھی مل گیا اور میراث نے اُسے تمہیں لوٹا بھی دیا“۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! میری ماں پر ایک ماہ کے روزے فرض تھے، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھ لوں؟ آپ نے فرمایا: ”تو ان کی طرف سے روزہ رکھ لے“، اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! انہوں نے کبھی حج نہیں کیا، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، ان کی طرف سے حج کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بریدہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث صرف اسی طریق سے جانی جاتی ہے۔ ۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی جب کوئی صدقہ کرے پھر وہ اس کا وارث ہو جائے تو اس کے لیے وہ جائز ہے، ۴- اور بعض کہتے ہیں: صدقہ تو اس نے اللہ کی خاطر کیا تھا لہٰذا جب اس کا وارث ہو جائے تو لازم ہے کہ پھر اسے اسی کے راستے میں صرف کر دے ( یہ زیادہ افضل ہے ) ۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا علي بن مسهر، عن عبد الله بن عطاء، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال كنت جالسا عند النبي صلى الله عليه وسلم اذ اتته امراة فقالت يا رسول الله اني كنت تصدقت على امي بجارية وانها ماتت . قال " وجب اجرك وردها عليك الميراث " . قالت يا رسول الله انها كان عليها صوم شهر افاصوم عنها قال " صومي عنها " . قالت يا رسول الله انها لم تحج قط افاحج عنها قال " نعم حجي عنها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح ولا يعرف هذا من حديث بريدة الا من هذا الوجه . وعبد الله بن عطاء ثقة عند اهل الحديث . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم ان الرجل اذا تصدق بصدقة ثم ورثها حلت له . وقال بعضهم انما الصدقة شيء جعلها لله فاذا ورثها فيجب ان يصرفها في مثله . وروى سفيان الثوري وزهير بن معاوية هذا الحديث عن عبد الله بن عطاء
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کسی کو ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا، پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا بیچا جا رہا ہے تو اسے خریدنا چاہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا صدقہ واپس نہ لو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، عن عمر، انه حمل على فرس في سبيل الله ثم راها تباع فاراد ان يشتريها فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تعد في صدقتك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری والدہ فوت ہو چکی ہیں، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا یہ ان کے لیے مفید ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے عرض کیا: میرا ایک باغ ہے، آپ گواہ رہئیے کہ میں نے اسے والدہ کی طرف سے صدقہ میں دے دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق «عن عمرو بن دينار عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے، ۳- اور یہی اہل علم بھی کہتے ہیں کہ کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو میت کو پہنچتی ہو سوائے صدقہ اور دعا کے ۱؎، ۴- «إن لي مخرفا» میں «مخرفاً» سے مراد باغ ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا زكريا بن اسحاق، حدثني عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رجلا، قال يا رسول الله ان امي توفيت افينفعها ان تصدقت عنها قال " نعم " . قال فان لي مخرفا فاشهدك اني قد تصدقت به عنها . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وبه يقول اهل العلم . يقولون ليس شيء يصل الى الميت الا الصدقة والدعاء . وقد روى بعضهم هذا الحديث عن عمرو بن دينار عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . قال ومعنى قوله ان لي مخرفا . يعني بستانا
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے خطبہ میں فرماتے سنا: ”عورت اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ نہ کرے“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اور کھانا بھی نہیں؟ ۔ آپ نے فرمایا: ”یہ ہمارے مالوں میں سب سے افضل مال ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں سعد بن ابی وقاص، اسماء بنت ابی بکر، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا شرحبيل بن مسلم الخولاني، عن ابي امامة الباهلي، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم في خطبته عام حجة الوداع يقول " لا تنفق امراة شييا من بيت زوجها الا باذن زوجها " . قيل يا رسول الله ولا الطعام قال " ذاك افضل اموالنا " . وفي الباب عن سعد بن ابي وقاص واسماء بنت ابي بكر وابي هريرة وعبد الله بن عمرو وعايشة . قال ابو عيسى حديث ابي امامة حديث حسن
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ کرے تو اسے اس کا اجر ملتا ہے اور اتنا ہی اجر اس کے شوہر کو بھی، اور خزانچی کو بھی، اور ان میں کسی کا اجر دوسرے کے اجر کی وجہ سے کم نہیں کیا جاتا۔ شوہر کو اس کے کمانے کا اجر ملتا ہے اور عورت کو اس کے خرچ کرنے کا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، قال سمعت ابا وايل، يحدث عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " اذا تصدقت المراة من بيت زوجها كان لها به اجر وللزوج مثل ذلك وللخازن مثل ذلك ولا ينقص كل واحد منهم من اجر صاحبه شييا له بما كسب ولها بما انفقت " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے خوش دلی کے ساتھ بغیر فساد کی نیت کے کوئی چیز دے تو اسے مرد کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا۔ اسے اپنی نیک نیتی کا ثواب ملے گا اور خازن کو بھی اسی طرح ثواب ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ عمرو بن مرہ کی حدیث سے جسے انہوں نے ابووائل سے روایت کی ہے، زیادہ صحیح ہے، عمرو بن مرہ اپنی روایت میں مسروق کے واسطے کا ذکر نہیں کرتے ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا المومل، عن سفيان، عن منصور، عن ابي وايل، عن مسروق، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اعطت المراة من بيت زوجها بطيب نفس غير مفسدة كان لها مثل اجره لها ما نوت حسنا وللخازن مثل ذلك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهذا اصح من حديث عمرو بن مرة عن ابي وايل وعمرو بن مرة لا يذكر في حديثه عن مسروق
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں ہم لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے – صدقہ فطر ۱؎ میں ایک صاع گیہوں ۲؎ یا ایک صاع جو، یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع کشمش یا ایک صاع پنیر نکالتے تھے۔ تو ہم اسی طرح برابر صدقہ فطر نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ رضی الله عنہ مدینہ آئے، تو انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا، اس خطاب میں یہ بات بھی تھی کہ میں شام کے دو مد گیہوں کو ایک صاع کھجور کے برابر سمجھتا ہوں۔ تو لوگوں نے اسی کو اختیار کر لیا یعنی لوگ دو مد آدھا صاع گیہوں دینے لگے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ان کا خیال ہے کہ ہر چیز میں ایک صاع ہے، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ہر چیز میں ایک صاع ہے سوائے گیہوں کے، اس میں آدھا صاع کافی ہے، ۴- یہی سفیان ثوری اور ابن مبارک کا بھی قول ہے۔ اور اہل کوفہ کی بھی رائے ہے کہ گیہوں میں نصف صاع ہی ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن زيد بن اسلم، عن عياض بن عبد الله، عن ابي سعيد الخدري، قال كنا نخرج زكاة الفطر اذ كان فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم - صاعا من طعام او صاعا من شعير او صاعا من تمر او صاعا من زبيب او صاعا من اقط فلم نزل نخرجه حتى قدم معاوية المدينة فتكلم فكان فيما كلم به الناس اني لارى مدين من سمراء الشام تعدل صاعا من تمر . قال فاخذ الناس بذلك . قال ابو سعيد فلا ازال اخرجه كما كنت اخرجه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم يرون من كل شيء صاعا . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم من كل شيء صاع الا من البر فانه يجزي نصف صاع . وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك واهل الكوفة يرون نصف صاع من بر
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو مکہ کی گلیوں میں منادی کرنے کے لیے بھیجا کہ ”سنو! صدقہ فطر ہر مسلمان مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا، گیہوں سے دو مد اور گیہوں کے علاوہ دوسرے غلوں سے ایک صاع واجب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- عمر بن ہارون نے یہ حدیث ابن جریج سے روایت کی، اور کہا: «العباس بن ميناء عن النبي صلى الله عليه وسلم» پھر آگے اس حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا۔
حدثنا عقبة بن مكرم البصري، حدثنا سالم بن نوح، عن ابن جريج، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث مناديا في فجاج مكة " الا ان صدقة الفطر واجبة على كل مسلم ذكر او انثى حر او عبد صغير او كبير مدان من قمح او سواه صاع من طعام " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وروى عمر بن هارون هذا الحديث عن ابن جريج وقال عن العباس بن ميناء عن النبي صلى الله عليه وسلم فذكر بعض هذا الحديث . حدثنا جارود حدثنا عمر بن هارون هذا الحديث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر مرد، عورت، آزاد اور غلام پر، ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جو فرض کیا، راوی کہتے ہیں: پھر لوگوں نے آدھا صاع گیہوں کو اس کے برابر کر لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوسعید، ابن عباس، حارث بن عبدالرحمٰن بن ابی ذباب کے دادا ( یعنی ابوذباب ) ، ثعلبہ بن ابی صعیر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم صدقة الفطر على الذكر والانثى والحر والمملوك صاعا من تمر او صاعا من شعير . قال فعدل الناس الى نصف صاع من بر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابي سعيد وابن عباس وجد الحارث بن عبد الرحمن بن ابي ذباب وثعلبة بن ابي صعير وعبد الله بن عمرو
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مسلمانوں میں سے ہر آزاد اور غلام، مرد اور عورت پر فرض کیا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- مالک نے بھی بطریق: «نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» ایوب کی حدیث کی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں «من المسلمين» کا اضافہ ہے۔ ۳- اور دیگر کئی لوگوں نے نافع سے روایت کی ہے، اس میں «من المسلمين» کا ذکر نہیں ہے، ۴- اہل علم کا اس سلسلے میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ جب آدمی کے پاس غیر مسلم غلام ہوں تو وہ ان کا صدقہ فطر ادا نہیں کرے گا۔ یہی مالک، شافعی اور احمد کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ وہ غلاموں کا صدقہ فطر ادا کرے گا خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں، یہ ثوری، ابن مبارک اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم فرض زكاة الفطر من رمضان صاعا من تمر او صاعا من شعير على كل حر او عبد ذكر او انثى من المسلمين . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . وروى مالك عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث ايوب وزاد فيه من المسلمين . ورواه غير واحد عن نافع ولم يذكر فيه من المسلمين . واختلف اهل العلم في هذا فقال بعضهم اذا كان للرجل عبيد غير مسلمين لم يود عنهم صدقة الفطر . وهو قول مالك والشافعي واحمد . وقال بعضهم يودي عنهم وان كانوا غير مسلمين . وهو قول الثوري وابن المبارك واسحاق