Loading...

Loading...
کتب
۶۵ احادیث
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ دو عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ان کے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن تھے، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم دونوں اس کی زکاۃ ادا کرتی ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تم پسند کرو گی کہ اللہ تم دونوں کو آگ کے دو کنگن پہنائے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو تم دونوں ان کی زکاۃ ادا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کو مثنیٰ بن صباح نے بھی عمرو بن شعیب سے اسی طرح روایت کیا ہے اور مثنیٰ بن صباح اور ابن لہیعہ دونوں حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں کوئی چیز صحیح نہیں ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان امراتين، اتتا رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي ايديهما سواران من ذهب فقال لهما " اتوديان زكاته " . قالتا لا . قال فقال لهما رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتحبان ان يسوركما الله بسوارين من نار " . قالتا لا . قال " فاديا زكاته " . قال ابو عيسى وهذا حديث قد رواه المثنى بن الصباح عن عمرو بن شعيب نحو هذا . والمثنى بن الصباح وابن لهيعة يضعفان في الحديث ولا يصح في هذا الباب عن النبي صلى الله عليه وسلم شيء
معاذ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا، وہ آپ سے سبزیوں کی زکاۃ کے بارے میں پوچھ رہے تھے تو آپ نے فرمایا: ”ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے، ۲- اور اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز صحیح نہیں ہے، اور اسے صرف موسیٰ بن طلحہ سے روایت کیا جاتا ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، ۳- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ سبزیوں میں زکاۃ نہیں ہے، ۴- حسن، عمارہ کے بیٹے ہیں، اور یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ شعبہ وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے، اور ابن مبارک نے انہیں متروک قرار دیا ہے۔
حدثنا علي بن خشرم، اخبرنا عيسى بن يونس، عن الحسن بن عمارة، عن محمد بن عبد الرحمن بن عبيد، عن عيسى بن طلحة، عن معاذ، انه كتب الى النبي صلى الله عليه وسلم يساله عن الخضروات وهي البقول فقال " ليس فيها شيء " . قال ابو عيسى اسناد هذا الحديث ليس بصحيح وليس يصح في هذا الباب عن النبي صلى الله عليه وسلم شيء وانما يروى هذا عن موسى بن طلحة عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . والعمل على هذا عند اهل العلم ان ليس في الخضروات صدقة . قال ابو عيسى والحسن هو ابن عمارة وهو ضعيف عند اهل الحديث ضعفه شعبة وغيره وتركه عبد الله بن المبارك
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس فصل کی سینچائی بارش یا نہر کے پانی سے کی گئی ہو، اس میں زکاۃ دسواں حصہ ہے، اور جس کی سینچائی ڈول سے کھینچ کر کی گئی ہو تو اس میں زکاۃ دسویں حصے کا آدھا یعنی بیسواں حصہ ۱؎ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں انس بن مالک، ابن عمر اور جابر سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- یہ حدیث بکیر بن عبداللہ بن اشج، سلیمان بن یسار اور بسر بن سعید سے بھی روایت کی گئی ہے، اور ان سب نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، گویا یہ زیادہ صحیح ہے، ۳- اور اس باب میں ابن عمر کی حدیث بھی صحیح ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۲؎، ۴- اور اسی پر بیشتر فقہاء کا عمل ہے۔
حدثنا ابو موسى الانصاري، حدثنا عاصم بن عبد العزيز المدني، حدثنا الحارث بن عبد الرحمن بن ابي ذباب، عن سليمان بن يسار، وبسر بن سعيد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فيما سقت السماء والعيون العشر وفيما سقي بالنضح نصف العشر " . قال وفي الباب عن انس بن مالك وابن عمر وجابر . قال ابو عيسى وقد روي هذا الحديث عن بكير بن عبد الله بن الاشج عن سليمان بن يسار وبسر بن سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . وكان هذا اصح . وقد صح حديث ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الباب وعليه العمل عند عامة الفقهاء
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طریقہ جاری فرمایا کہ جسے بارش یا چشمے کے پانی نے سیراب کیا ہو، یا عثری یعنی رطوبت والی زمین ہو جسے پانی دینے کی ضرورت نہ پڑتی ہو تو اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے، اور جسے ڈول سے سیراب کیا جاتا ہو اس میں دسویں کا آدھا یعنی بیسواں حصہ زکاۃ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن الحسن، حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا ابن وهب، حدثني يونس، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه سن فيما سقت السماء والعيون او كان عثريا العشر وفيما سقي بالنضح نصف العشر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا تو فرمایا: ”جو کسی ایسے یتیم کا ولی ( سر پرست ) ہو جس کے پاس کچھ مال ہو تو وہ اسے تجارت میں لگا دے، اسے یونہی نہ چھوڑ دے کہ اسے زکاۃ کھا لے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صرف اسی سند سے مروی ہے اور اس کی سند میں کلام ہے اس لیے کہ مثنیٰ بن صباح حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں، ۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث عمرو بن شعیب سے روایت کی ہے کہ عمر بن خطاب نے کہا: … اور آگے یہی حدیث ذکر کی، ۳- عمرو: شعیب کے بیٹے ہیں، اور شعیب محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کے بیٹے ہیں۔ اور شعیب نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو سے سماعت کی ہے، یحییٰ بن سعید نے عمرو بن شعیب کی حدیث میں کلام کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: یہ ہمارے نزدیک ضعیف ہیں، اور جس نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے صرف اس وجہ سے ضعیف کہا ہے کہ انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو کے صحیفے سے حدیث بیان کی ہے۔ لیکن اکثر اہل حدیث علماء عمرو بن شعیب کی حدیث سے دلیل لیتے ہیں اور اسے ثابت مانتے ہیں جن میں احمد اور اسحاق بن راہویہ وغیرہما بھی شامل ہیں، ۴- اس باب میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں کی رائے ہے کہ یتیم کے مال میں زکاۃ ہے، انہیں میں عمر، علی، عائشہ، اور ابن عمر ہیں۔ اور یہی مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۵- اور اہل علم کی ایک جماعت کہتی ہے کہ یتیم کے مال میں زکاۃ نہیں ہے۔ سفیان ثوری اور عبداللہ بن مبارک کا یہی قول ہے ۲؎۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا ابراهيم بن موسى، حدثنا الوليد بن مسلم، عن المثنى بن الصباح، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم خطب الناس فقال " الا من ولي يتيما له مال فليتجر فيه ولا يتركه حتى تاكله الصدقة " . قال ابو عيسى وانما روي هذا الحديث من هذا الوجه وفي اسناده مقال لان المثنى بن الصباح يضعف في الحديث . وروى بعضهم هذا الحديث عن عمرو بن شعيب ان عمر بن الخطاب . فذكر هذا الحديث . وقد اختلف اهل العلم في هذا الباب فراى غير واحد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في مال اليتيم زكاة . منهم عمر وعلي وعايشة وابن عمر وبه يقول مالك والشافعي واحمد واسحاق . وقالت طايفة من اهل العلم ليس في مال اليتيم زكاة . وبه يقول سفيان الثوري وعبد الله بن المبارك . وعمرو بن شعيب هو ابن محمد بن عبد الله بن عمرو بن العاص وشعيب قد سمع من جده عبد الله بن عمرو . وقد تكلم يحيى بن سعيد في حديث عمرو بن شعيب وقال هو عندنا واه . ومن ضعفه فانما ضعفه من قبل انه يحدث من صحيفة جده عبد الله بن عمرو واما اكثر اهل الحديث فيحتجون بحديث عمرو بن شعيب ويثبتونه منهم احمد واسحاق وغيرهما
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانور کا زخم رائیگاں ہے ۱؎ یعنی معاف ہے، کان رائیگاں ہے اور کنواں رائیگاں ہے ۲؎ اور رکاز ( دفینے ) میں سے پانچواں حصہ دیا جائے گا“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس بن مالک، عبداللہ بن عمرو، عبادہ بن صامت، عمرو بن عوف مزنی اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث بن سعد، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " العجماء جرحها جبار والمعدن جبار والبير جبار وفي الركاز الخمس " . قال وفي الباب عن انس بن مالك وعبد الله بن عمرو وعبادة بن الصامت وعمرو بن عوف المزني وجابر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبدالرحمٰن بن مسعود بن نیار کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہ ہماری مجلس میں آئے تو بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جب تم تخمینہ لگاؤ تو تخمینہ کے مطابق لو اور ایک تہائی چھوڑ دیا کرو، اگر ایک تہائی نہ چھوڑ سکو تو چوتھائی چھوڑ دیا کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ، عتاب بن اسید اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۲- تخمینہ لگانے کے سلسلے میں اکثر اہل علم کا عمل سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہ کی حدیث پر ہے اور سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہ کی حدیث ہی کے مطابق احمد اور شافعی بھی کہتے ہیں، تخمینہ لگانا یہ ہے کہ جب کھجور یا انگور کے پھل جن کی زکاۃ دی جاتی ہے پک جائیں تو سلطان ( انتظامیہ ) ایک تخمینہ لگانے والے کو بھیجے جو اندازہ لگا کر بتائے کہ اس میں کتنا غلہ یا پھل ہو گا اور تخمینہ لگانا یہ ہے کہ کوئی تجربہ کار آدمی دیکھ کر یہ بتائے کہ اس درخت سے اتنا اتنا انگور نکلے گا، اور اس سے اتنی اتنی کھجور نکلے گی۔ پھر وہ اسے جوڑ کر دیکھے کہ کتنا عشر کی مقدار کو پہنچا، تو ان پر وہی عشر مقرر کر دے۔ اور پھل کے پکنے تک ان کو مہلت دے، پھل توڑنے کے وقت اپنا عشر دیتے رہیں۔ پھر مالکوں کو اختیار ہو گا کہ بقیہ سے جو چاہیں کریں۔ بعض اہل علم نے تخمینہ لگانے کی تشریح اسی طرح کی ہے، اور یہی مالک شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود الطيالسي، اخبرنا شعبة، اخبرني خبيب بن عبد الرحمن، قال سمعت عبد الرحمن بن مسعود بن نيار، يقول جاء سهل بن ابي حثمة الى مجلسنا فحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول " اذا خرصتم فخذوا ودعوا الثلث فان لم تدعوا الثلث فدعوا الربع " . قال وفي الباب عن عايشة وعتاب بن اسيد وابن عباس . قال ابو عيسى والعمل على حديث سهل بن ابي حثمة عند اكثر اهل العلم في الخرص وبحديث سهل بن ابي حثمة يقول احمد واسحاق . والخرص اذا ادركت الثمار من الرطب والعنب مما فيه الزكاة بعث السلطان خارصا يخرص عليهم . والخرص ان ينظر من يبصر ذلك فيقول يخرج من هذا من الزبيب كذا وكذا ومن التمر كذا وكذا فيحصى عليهم وينظر مبلغ العشر من ذلك فيثبت عليهم ثم يخلي بينهم وبين الثمار فيصنعون ما احبوا فاذا ادركت الثمار اخذ منهم العشر . هكذا فسره بعض اهل العلم وبهذا يقول مالك والشافعي واحمد واسحاق
عتاب بن اسید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس ایک آدمی بھیجتے تھے جو ان کے انگوروں اور دوسرے پھلوں کا تخمینہ لگاتا تھا۔ اسی سند سے ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کی زکاۃ کے بارے میں فرمایا: ”اس کا بھی تخمینہ لگایا جائے گا، جیسے کھجور کا لگایا جاتا ہے، پھر کشمش ہو جانے کے بعد اس کی زکاۃ نکالی جائے گی جیسے کھجور کی زکاۃ تمر ہو جانے کے بعد نکالی جاتی ہے۔ ( یعنی جب خشک ہو جائیں ) “ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابن جریج نے یہ حدیث بطریق: «ابن شهاب، عن عروة، عن عائشة» روایت کی ہے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے کہا: ابن جریج کی حدیث محفوظ نہیں ہے اور ابن مسیب کی حدیث جسے انہوں نے عتاب بن اسید سے روایت کی ہے زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے ( بس صرف سنداً، ورنہ ضعیف یہ بھی ہے ) ۔
حدثنا ابو عمرو، مسلم بن عمرو الحذاء المدني حدثنا عبد الله بن نافع الصايغ، عن محمد بن صالح التمار، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن عتاب بن اسيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يبعث على الناس من يخرص عليهم كرومهم وثمارهم . وبهذا الاسناد ان النبي صلى الله عليه وسلم قال في زكاة الكروم " انها تخرص كما يخرص النخل ثم تودى زكاته زبيبا كما تودى زكاة النخل تمرا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وقد روى ابن جريج هذا الحديث عن ابن شهاب عن عروة عن عايشة . وسالت محمدا عن هذا الحديث فقال حديث ابن جريج غير محفوظ وحديث ابن المسيب عن عتاب بن اسيد اثبت واصح
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”صحیح ڈھنگ سے صدقہ وصول کرنے والا، اللہ کی راہ میں لڑنے والے غازی کی طرح ہے، جب تک کہ وہ اپنے گھر لوٹ نہ آئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رافع بن خدیج کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور یزید بن عیاض محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ۳- محمد بن اسحاق کی یہ حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا يزيد بن عياض، عن عاصم بن عمر بن قتادة، ح وحدثنا محمد بن اسماعيل، قال حدثنا احمد بن خالد، عن محمد بن اسحاق، عن عاصم بن عمر بن قتادة، عن محمود بن لبيد، عن رافع بن خديج، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " العامل على الصدقة بالحق كالغازي في سبيل الله حتى يرجع الى بيته " . قال ابو عيسى حديث رافع بن خديج حديث حسن صحيح . ويزيد بن عياض ضعيف عند اهل الحديث . وحديث محمد بن اسحاق اصح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زکاۃ وصول کرنے میں ظلم و زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن عمر، ام سلمہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- انس کی حدیث اس سند سے غریب ہے، ۳- احمد بن حنبل نے سعد بن سنان کے سلسلہ میں کلام کیا ہے۔ اسی طرح لیث بن سعد بھی کہتے ہیں۔ وہ بھی «عن يزيد بن حبيب، عن سعد بن سنان، عن أنس بن مالك» کہتے ہیں، اور عمرو بن حارث اور ابن لہیعہ «عن يزيد بن حبيب، عن سنان بن سعد، عن أنس بن مالك» کہتے ہیں ۱؎، ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ صحیح ”سنان بن سعد“ ہے، ۵- اور زکاۃ وصول کرنے میں زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے کا مطلب یہ ہے کہ زیادتی کرنے والے پر وہی گناہ ہے جو نہ دینے والے پر ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن سعد بن سنان، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المعتدي في الصدقة كمانعها " . قال وفي الباب عن ابن عمر وام سلمة وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث انس حديث غريب من هذا الوجه . وقد تكلم احمد بن حنبل في سعد بن سنان . وهكذا يقول الليث بن سعد عن يزيد بن ابي حبيب عن سعد بن سنان عن انس بن مالك . ويقول عمرو بن الحارث وابن لهيعة عن يزيد بن ابي حبيب عن سنان بن سعد عن انس . قال وسمعت محمدا يقول والصحيح سنان بن سعد . وقوله " المعتدي في الصدقة كمانعها " يقول على المعتدي من الاثم كما على المانع اذا منع
جریر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زکاۃ وصول کرنے والا تمہارے پاس آئے تو وہ تم سے راضی اور خوش ہو کر ہی جدا ہو“۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا محمد بن يزيد، عن مجالد، عن الشعبي، عن جرير، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا اتاكم المصدق فلا يفارقنكم الا عن رضا
اس سند سے بھی جریر رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: داود کی شعبی سے روایت کی ہوئی حدیث مجالد کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، مجالد کو بعض اہل علم نے ضعیف گردانا ہے وہ کثیر الغلط ہیں یعنی ان سے بکثرت غلطیاں ہوتی ہیں۔
حدثنا ابو عمار الحسين بن حريث، حدثنا سفيان بن عيينة، عن داود، عن الشعبي، عن جرير، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه . قال ابو عيسى حديث داود عن الشعبي، اصح من حديث مجالد . وقد ضعف مجالدا بعض اهل العلم وهو كثير الغلط
ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مصدق ( زکاۃ وصول کرنے والا ) آیا اور اس نے زکاۃ ہمارے مالداروں سے لی اور اسے ہمارے فقراء کو دے دیا۔ میں اس وقت ایک یتیم لڑکا تھا، تو اس نے مجھے بھی اس میں سے ایک اونٹنی دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوجحیفہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا علي بن سعيد الكندي الكوفي، حدثنا حفص بن غياث، عن اشعث، عن عون بن ابي جحيفة، عن ابيه، قال قدم علينا مصدق النبي صلى الله عليه وسلم فاخذ الصدقة من اغنياينا فجعلها في فقراينا وكنت غلاما يتيما فاعطاني منها قلوصا . قال وفي الباب عن ابن عباس . قال ابو عيسى حديث ابي جحيفة حديث حسن
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگوں سے سوال کرے اور اس کے پاس اتنا مال ہو کہ اسے سوال کرنے سے بے نیاز کر دے تو وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا سوال کرنا اس کے چہرے پر خراش ہو گی ۱؎، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کتنے مال سے وہ سوال کرنے سے بے نیاز ہو جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”پچاس درہم یا اس کی قیمت کے بقدر سونے سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے، ۳- شعبہ نے اسی حدیث کی وجہ سے حکیم بن جبیر پر کلام کیا ہے۔
حدثنا قتيبة، وعلي بن حجر، - قال قتيبة حدثنا شريك، وقال، علي اخبرنا شريك، والمعنى، واحد، عن حكيم بن جبير، عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد، عن ابيه، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سال الناس وله ما يغنيه جاء يوم القيامة ومسالته في وجهه خموش او خدوش او كدوح " . قيل يا رسول الله وما يغنيه قال " خمسون درهما او قيمتها من الذهب " . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى حديث ابن مسعود حديث حسن . وقد تكلم شعبة في حكيم بن جبير من اجل هذا الحديث
سفیان نے بھی حکیم بن جبیر سے یہ حدیث اسی سند سے روایت کی ہے۔ جب سفیان نے یہ حدیث روایت کی تو ان سے شعبہ کے شاگرد عبداللہ بن عثمان نے کہا: کاش حکیم کے علاوہ کسی اور نے اس حدیث کو بیان کیا ہوتا، تو سفیان نے ان سے پوچھا ـ: کیا بات ہے کہ شعبہ حکیم سے حدیث روایت نہیں کرتے؟ انہوں نے کہا: ہاں، وہ نہیں کرتے۔ تو سفیان نے کہا: میں نے اسے زبید کو محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کرتے سنا ہے، اور اسی پر ہمارے بعض اصحاب کا عمل ہے اور یہی سفیان ثوری، عبداللہ بن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب آدمی کے پاس پچاس درہم ہوں تو اس کے لیے زکاۃ جائز نہیں۔ اور بعض اہل علم حکیم بن جبیر کی حدیث کی طرف نہیں گئے ہیں بلکہ انہوں نے اس میں مزید گنجائش رکھی ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب کسی کے پاس پچاس درہم یا اس سے زیادہ ہوں اور وہ ضرورت مند ہو تو اس کو زکاۃ لینے کا حق ہے، اہل فقہ و اہل حدیث میں سے شافعی وغیرہ کا یہی قول ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا سفيان، عن حكيم بن جبير، بهذا الحديث . فقال له عبد الله بن عثمان صاحب شعبة لو غير حكيم حدث بهذا الحديث . فقال له سفيان وما لحكيم لا يحدث عنه شعبة قال نعم . قال سفيان سمعت زبيدا يحدث بهذا عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد . والعمل على هذا عند بعض اصحابنا وبه يقول الثوري وعبد الله بن المبارك واحمد واسحاق . قالوا اذا كان عند الرجل خمسون درهما لم تحل له الصدقة . قال ولم يذهب بعض اهل العلم الى حديث حكيم بن جبير ووسعوا في هذا وقالوا اذا كان عنده خمسون درهما او اكثر وهو محتاج فله ان ياخذ من الزكاة وهو قول الشافعي وغيره من اهل الفقه والعلم
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مالدار کے لیے مانگنا جائز نہیں اور نہ کسی طاقتور اور صحیح سالم شخص کے لیے مانگنا جائز ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن عمرو کی حدیث حسن ہے، ۲- اور شعبہ نے بھی یہ حدیث اسی سند سے سعد بن ابراہیم سے روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، حبشی بن جنادہ اور قبیصہ بن مخارق رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اور اس حدیث کے علاوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ ”کسی مالدار کے لیے مانگنا جائز نہیں اور نہ کسی ہٹے کٹے کے لیے مانگنا جائز ہے“ اور جب آدمی طاقتور و توانا ہو لیکن محتاج ہو اور اس کے پاس کچھ نہ ہو اور اسے صدقہ دیا جائے تو اہل علم کے نزدیک اس دینے والے کی زکاۃ ادا ہو جائے گی۔ بعض اہل علم نے اس حدیث کی توجیہ یہ کی ہے کہ «لا تحل له الصدقة» کا مطلب ہے کہ اس کے لیے مانگنا درست نہیں ہے ۲؎۔
حدثنا ابو بكر، محمد بن بشار حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا سفيان بن سعيد، ح وحدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا سفيان، عن سعد بن ابراهيم، عن ريحان بن يزيد، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تحل الصدقة لغني ولا لذي مرة سوي " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وحبشي بن جنادة وقبيصة بن مخارق . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن عمرو حديث حسن . وقد روى شعبة عن سعد بن ابراهيم هذا الحديث بهذا الاسناد ولم يرفعه . وقد روي في غير هذا الحديث عن النبي صلى الله عليه وسلم " لا تحل المسالة لغني ولا لذي مرة سوي " . واذا كان الرجل قويا محتاجا ولم يكن عنده شيء فتصدق عليه اجزا عن المتصدق عند اهل العلم ووجه هذا الحديث عند بعض اهل العلم على المسالة
حبشی بن جنادہ سلولی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا آپ عرفہ میں کھڑے تھے، آپ کے پاس ایک اعرابی آیا اور آپ کی چادر کا کنارا پکڑ کر آپ سے مانگا، آپ نے اسے دیا اور وہ چلا گیا، اس وقت مانگنا حرام ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مالدار کے لیے مانگنا جائز نہیں نہ کسی ہٹے کٹے صحیح سالم آدمی کے لیے سوائے جان لیوا فقر والے کے اور کسی بھاری تاوان میں دبے شخص کے۔ اور جو لوگوں سے اس لیے مانگے کہ اس کے ذریعہ سے اپنا مال بڑھائے تو یہ مال قیامت کے دن اس کے چہرے پر خراش ہو گا۔ اور وہ جہنم کا ایک گرم پتھر ہو گا جسے وہ کھا رہا ہو گا، تو جو چاہے اسے کم کر لے اور جو چاہے زیادہ کر لے“ ا؎۔
حدثنا علي بن سعيد الكندي، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن مجالد، عن عامر الشعبي، عن حبشي بن جنادة السلولي، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع وهو واقف بعرفة اتاه اعرابي فاخذ بطرف ردايه فساله اياه فاعطاه وذهب فعند ذلك حرمت المسالة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان المسالة لا تحل لغني ولا لذي مرة سوي الا لذي فقر مدقع او غرم مفظع ومن سال الناس ليثري به ماله كان خموشا في وجهه يوم القيامة ورضفا ياكله من جهنم فمن شاء فليقل ومن شاء فليكثر
اس سند سے بھی عبدالرحیم بن سلیمان سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس سند سے یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا يحيى بن ادم، عن عبد الرحيم بن سليمان، نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص ۱؎ کے پھلوں میں جو اس نے خریدے تھے، کسی آفت کی وجہ سے جو اسے لاحق ہوئی نقصان ہو گیا اور اس پر قرض زیادہ ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ دو“ چنانچہ لوگوں نے اسے صدقہ دیا، مگر وہ اس کے قرض کی مقدار کو نہ پہنچا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا: ”جتنا مل رہا ہے لے لو، اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-ابوسعید کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، جویریہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن بكير بن عبد الله بن الاشج، عن عياض بن عبد الله، عن ابي سعيد الخدري، قال اصيب رجل في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثمار ابتاعها فكثر دينه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تصدقوا عليه " . فتصدق الناس عليه فلم يبلغ ذلك وفاء دينه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لغرمايه " خذوا ما وجدتم وليس لكم الا ذلك " . قال وفي الباب عن عايشة وجويرية وانس . قال ابو عيسى حديث ابي سعيد حديث حسن صحيح
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی الله عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی چیز لائی جاتی تو آپ پوچھتے: ”صدقہ ہے یا ہدیہ؟“ اگر لوگ کہتے کہ صدقہ ہے تو آپ نہیں کھاتے اور اگر کہتے کہ ہدیہ ہے تو کھا لیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بہز بن حکیم کی یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں سلمان، ابوہریرہ، انس، حسن بن علی، ابوعمیرہ ( معرف بن واصل کے دادا ہیں ان کا نام رشید بن مالک ہے ) ، میمون ( یا مہران ) ، ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، ابورافع اور عبدالرحمٰن بن علقمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نیز یہ حدیث عبدالرحمٰن بن علقمة، سے بھی مروی ہے انہوں نے اسے عبدالرحمٰن بن أبي عقيل سے اور عبدالرحمٰن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا مكي بن ابراهيم، ويوسف بن يعقوب الضبعي السدوسي، قالا حدثنا بهز بن حكيم، عن ابيه، عن جده، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اتي بشيء سال " اصدقة هي ام هدية " . فان قالوا صدقة لم ياكل وان قالوا هدية اكل . قال وفي الباب عن سلمان وابي هريرة وانس والحسن بن علي وابي عميرة جد معرف بن واصل واسمه رشيد بن مالك وميمون بن مهران وابن عباس وعبد الله بن عمرو وابي رافع وعبد الرحمن بن علقمة . وقد روي هذا الحديث ايضا عن عبد الرحمن بن علقمة عن عبد الرحمن بن ابي عقيل عن النبي صلى الله عليه وسلم . وجد بهز بن حكيم اسمه معاوية بن حيدة القشيري . قال ابو عيسى وحديث بهز بن حكيم حديث حسن غريب