Loading...

Loading...
کتب
۶۵ احادیث
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے آپ نے مجھے آتا دیکھا تو فرمایا: ”رب کعبہ کی قسم! قیامت کے دن یہی لوگ خسارے میں ہوں گے“ ۲؎ میں نے اپنے جی میں کہا: شاید کوئی چیز میرے بارے میں نازل کی گئی ہو۔ میں نے عرض کیا: کون لوگ؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی لوگ جو بہت مال والے ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایسا ایسا کرے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ سے لپ بھر کر اپنے سامنے اور اپنے دائیں اور اپنے بائیں طرف اشارہ کیا، پھر فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو بھی آدمی اونٹ اور گائے چھوڑ کر مرا اور اس نے اس کی زکاۃ ادا نہیں کی تو قیامت کے دن وہ اس سے زیادہ بھاری اور موٹے ہو کر آئیں گے جتنا وہ تھے ۳؎ اور اسے اپنی کھروں سے روندیں گے، اور اپنی سینگوں سے ماریں گے، جب ان کا آخری جانور بھی گزر چکے گا تو پھر پہلا لوٹا دیا جائے گا ۴؎ یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی اسی کے مثل روایت ہے، ۳- علی رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ زکاۃ روک لینے والے پر لعنت کی گئی ہے ۵؎، ۴- ( یہ حدیث ) قبیصہ بن ہلب نے اپنے والد ہلب سے روایت کی ہے، نیز جابر بن عبداللہ اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۵- ضحاک بن مزاحم کہتے ہیں کہ «الأكثرون» سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس دس ہزار ( درہم یا دینار ) ہوں۔
حدثنا هناد بن السري التميمي الكوفي، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن المعرور بن سويد، عن ابي ذر، قال جيت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو جالس في ظل الكعبة . قال فراني مقبلا فقال " هم الاخسرون ورب الكعبة يوم القيامة " . قال فقلت ما لي لعله انزل في شيء . قال قلت من هم فداك ابي وامي . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هم الاكثرون الا من قال هكذا وهكذا وهكذا " . فحثا بين يديه وعن يمينه وعن شماله . ثم قال " والذي نفسي بيده لا يموت رجل فيدع ابلا او بقرا لم يود زكاتها الا جاءته يوم القيامة اعظم ما كانت واسمنه تطوه باخفافها وتنطحه بقرونها كلما نفدت اخراها عادت عليه اولاها حتى يقضى بين الناس " . وفي الباب عن ابي هريرة مثله . وعن علي بن ابي طالب رضى الله عنه قال لعن مانع الصدقة . وعن قبيصة بن هلب عن ابيه وجابر بن عبد الله وعبد الله بن مسعود . قال ابو عيسى حديث ابي ذر حديث حسن صحيح . واسم ابي ذر جندب بن السكن ويقال ابن جنادة . حدثنا عبد الله بن منير عن عبيد الله بن موسى عن سفيان الثوري عن حكيم بن الديلم عن الضحاك بن مزاحم قال الاكثرون اصحاب عشرة الاف . قال وعبد الله بن منير مروزي رجل صالح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے اپنے مال کی زکاۃ ادا کر دی تو جو تمہارے ذمہ فریضہ تھا اسے تم نے ادا کر دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری اور سندوں سے بھی مروی ہے کہ آپ نے زکاۃ کا ذکر کیا، تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میرے اوپر اس کے علاوہ بھی کچھ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں سوائے اس کے کہ تم بطور نفل کچھ دو“ ( یہ حدیث آگے آ رہی ہے ) ۔
حدثنا عمر بن حفص الشيباني البصري، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرنا عمرو بن الحارث، عن دراج، عن ابن حجيرة، هو عبد الرحمن بن حجيرة المصري عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اديت زكاة مالك فقد قضيت ما عليك " . قال ابو عيسى . هذا حديث حسن غريب . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير وجه انه ذكر الزكاة . فقال رجل يا رسول الله هل على غيرها فقال " لا الا ان تتطوع
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کی خواہش ہوتی تھی کہ کوئی عقلمند اعرابی ( دیہاتی ) آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھے اور ہم آپ کے پاس ہوں ۱؎ ہم آپ کے پاس تھے کہ اسی دوران آپ کے پاس ایک اعرابی آیا ۲؎ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھ گیا۔ اور پوچھا: اے محمد! آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے ہمیں بتایا کہ آپ کہتے ہیں کہ آپ کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ( کیا یہ صحیح ہے؟ ) ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، یہ صحیح ہے“، اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آسمان بلند کیا، زمین اور پہاڑ نصب کئے۔ کیا اللہ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے کہا: آپ کا قاصد ہم سے کہتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں: ہم پر دن اور رات میں پانچ صلاۃ فرض ہیں ( کیا ایسا ہے؟ ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی، جس نے آپ کو رسول بنایا ہے! کیا آپ کو اللہ نے اس کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے کہا: آپ کا قاصد کہتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں: ہم پر سال میں ایک ماہ کے صیام فرض ہیں ( کیا یہ صحیح ہے؟ ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں وہ ( سچ کہہ رہا ہے ) “ اعرابی نے مزید کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ( دیا ہے ) “، اس نے کہا: آپ کا قاصد کہتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں: ہم پر ہمارے مالوں میں زکاۃ واجب ہے ( کیا یہ صحیح ہے؟ ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ( اس نے سچ کہا ) “۔ اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی، جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے، کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں،“ ( دیا ہے ) اس نے کہا: آپ کا قاصد کہتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں: ہم میں سے ہر اس شخص پر بیت اللہ کا حج فرض ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو ( کیا یہ سچ ہے؟ ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، ( حج فرض ہے ) “ اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے، کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ( دیا ہے ) “ تو اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا: میں ان میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑوں گا اور نہ میں اس میں کسی چیز کا اضافہ کروں گا ۳؎، پھر یہ کہہ کر وہ واپس چل دیا تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اعرابی نے سچ کہا ہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی یہ حدیث انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو سنا: وہ کہہ رہے تھے کہ بعض اہل علم فرماتے ہیں: اس حدیث سے یہ بات نکلتی ہے کہ شاگرد کا استاذ کو پڑھ کر سنانا استاذ سے سننے ہی کی طرح ہے ۴؎ انہوں نے استدلال اس طرح سے کیا ہے کہ اعرابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلومات پیش کیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی۔
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکاۃ معاف کر دی ہے ۱؎ تو اب تم چاندی کی زکاۃ ادا کرو ۲؎، ہر چالیس درہم پر ایک درہم، ایک سو نوے درہم میں کچھ نہیں ہے، جب دو سو درہم ہو جائیں تو ان میں پانچ درہم ہیں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اعمش اور ابو عوانہ، وغیرہم نے بھی یہ حدیث بطریق: «أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي» روایت کی ہے، اور سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے بھی بطریق: «أبي إسحاق عن الحارث عن علي» روایت کی ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ابواسحاق سبیعی سے مروی یہ دونوں حدیثیں میرے نزدیک صحیح ہیں، احتمال ہے کہ یہ حارث اور عاصم دونوں سے ایک ساتھ روایت کی گئی ہو ( تو ابواسحاق نے اسے دونوں سے روایت کیا ہو ) ۳- اس باب میں ابوبکر صدیق اور عمرو بن حزم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا ابو عوانة، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد عفوت عن صدقة الخيل والرقيق فهاتوا صدقة الرقة من كل اربعين درهما درهما وليس في تسعين وماية شيء فاذا بلغت مايتين ففيها خمسة الدراهم " . وفي الباب عن ابي بكر الصديق وعمرو بن حزم . قال ابو عيسى روى هذا الحديث الاعمش وابو عوانة وغيرهما عن ابي اسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي وروى سفيان الثوري وابن عيينة وغير واحد عن ابي اسحاق عن الحارث عن علي . قال وسالت محمدا عن هذا الحديث فقال كلاهما عندي صحيح عن ابي اسحاق يحتمل ان يكون روي عنهما جميعا
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کی دستاویز تحریر کرائی، ابھی اسے عمال کے پاس روانہ بھی نہیں کر سکے تھے کہ آپ کی وفات ہو گئی، اور اسے آپ نے اپنی تلوار کے پاس رکھ دیا ۱؎، آپ وفات فرما گئے تو ابوبکر رضی الله عنہ اس پر عمل پیرا رہے یہاں تک کہ وہ بھی فوت ہو گئے، ان کے بعد عمر رضی الله عنہ بھی اسی پر عمل پیرا رہے، یہاں تک کہ وہ بھی فوت ہو گئے، اس کتاب میں تحریر تھا: ”پانچ اونٹوں میں، ایک بکری زکاۃ ہے۔ دس میں دو بکریاں، پندرہ میں تین بکریاں اور بیس میں چار بکریاں ہیں۔ پچیس سے لے کر پینتیس تک میں ایک سال کی اونٹنی کی زکاۃ ہے، جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو پینتالیس تک میں دو سال کی اونٹنی کی زکاۃ ہے۔ اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو ساٹھ تک میں تین سال کی ایک اونٹنی کی زکاۃ ہے۔ اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو پچہتر تک میں چار سال کی ایک اونٹنی کی زکاۃ ہے اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو نوے تک میں دو سال کی دو اونٹوں کی زکاۃ ہے۔ اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو ان میں ایک سو بیس تک تین سال کی دو اونٹوں کی زکاۃ ہے۔ جب ایک سو بیس سے زائد ہو جائیں تو ہر پچاس میں تین سال کی ایک اونٹنی اور ہر چالیس میں دو سال کی ایک اونٹنی زکاۃ میں دینی ہو گی۔ اور بکریوں کے سلسلہ میں اس طرح تھا: چالیس بکریوں میں ایک بکری کی زکاۃ ہے، ایک سو بیس تک، اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو دو سو تک میں دو بکریوں کی زکاۃ ہے، اور جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو تین سو تک میں تین بکریوں کی زکاۃ ہے۔ اور جب تین سو سے زیادہ ہو جائیں تو پھر ہر سو پر ایک بکری کی زکاۃ ہے۔ پھر اس میں کچھ نہیں یہاں تک کہ وہ چار سو کو پہنچ جائیں، اور ( زکاۃ والے ) متفرق ( مال ) کو جمع نہیں کیا جائے گا ۲؎ اور جو مال جمع ہو اسے صدقے کے خوف سے متفرق نہیں کیا جائے گا ۳؎ اور جن میں دو ساجھی دار ہوں ۴؎ تو وہ اپنے اپنے حصہ کی شراکت کے حساب سے دیں گے۔ صدقے میں کوئی بوڑھا اور عیب دار جانور نہیں لیا جائے گا“۔ زہری کہتے ہیں: جب صدقہ وصول کرنے والا آئے تو وہ بکریوں کو تین حصوں میں تقسیم کرے، پہلی تہائی بہتر قسم کی ہو گی، دوسری تہائی اوسط درجے کی اور تیسری تہائی خراب قسم کی ہو گی، پھر صدقہ وصول کرنے والا اوسط درجے والی بکریوں میں سے لے۔ زہری نے گائے کا ذکر نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر کی حدیث حسن ہے، ۲- یونس بن یزید اور دیگر کئی لوگوں نے بھی یہ حدیث زہری سے، اور زہری نے سالم سے روایت کی ہے، اور ان لوگوں نے اسے مرفوع بیان نہیں کیا۔ صرف سفیان بن حسین ہی نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے، ۳- اور اسی پر عام فقہاء کا عمل ہے، ۴- اس باب میں ابوبکر صدیق بہز بن حکیم عن أبیہ عن جدہ معاویۃ بن حیدۃ قشیری ہے ابوذر اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا زياد بن ايوب البغدادي، وابراهيم بن عبد الله الهروي، ومحمد بن كامل المروزي المعنى، واحد، قالوا حدثنا عباد بن العوام، عن سفيان بن حسين، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب كتاب الصدقة فلم يخرجه الى عماله حتى قبض فقرنه بسيفه فلما قبض عمل به ابو بكر حتى قبض وعمر حتى قبض وكان فيه " في خمس من الابل شاة وفي عشر شاتان وفي خمس عشرة ثلاث شياه وفي عشرين اربع شياه وفي خمس وعشرين بنت مخاض الى خمس وثلاثين فاذا زادت ففيها ابنة لبون الى خمس واربعين فاذا زادت ففيها حقة الى ستين فاذا زادت ففيها جذعة الى خمس وسبعين فاذا زادت ففيها ابنتا لبون الى تسعين فاذا زادت ففيها حقتان الى عشرين وماية فاذا زادت على عشرين وماية ففي كل خمسين حقة وفي كل اربعين ابنة لبون . وفي الشاء في كل اربعين شاة شاة الى عشرين وماية فاذا زادت فشاتان الى مايتين فاذا زادت فثلاث شياه الى ثلاثماية شاة فاذا زادت على ثلاثماية شاة ففي كل ماية شاة شاة ثم ليس فيها شيء حتى تبلغ اربعماية ولا يجمع بين متفرق ولا يفرق بين مجتمع مخافة الصدقة وما كان من خليطين فانهما يتراجعان بالسوية ولا يوخذ في الصدقة هرمة ولا ذات عيب " . وقال الزهري اذا جاء المصدق قسم الشاء اثلاثا ثلث خيار وثلث اوساط وثلث شرار واخذ المصدق من الوسط . ولم يذكر الزهري البقر . وفي الباب عن ابي بكر الصديق وبهز بن حكيم عن ابيه عن جده . وابي ذر وانس . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن . والعمل على هذا الحديث عند عامة الفقهاء . وقد روى يونس بن يزيد وغير واحد عن الزهري عن سالم هذا الحديث ولم يرفعوه وانما رفعه سفيان بن حسين
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیس گائے میں ایک سال کا بچھوا، یا ایک سال کی بچھیا کی زکاۃ ہے اور چالیس گایوں میں دو سال کی بچھیا کی زکاۃ ہے ( دانتی یعنی دو دانت والی ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبدالسلام بن حرب نے اسی طرح یہ حدیث خصیف سے روایت کی ہے، اور عبدالسلام ثقہ ہیں حافظ ہیں، ۲- شریک نے بھی یہ حدیث بطریق: «خصيف عن أبي عبيدة عن أمه عن عبد الله» روایت کی ہے، ۳- اور ابوعبیدہ بن عبداللہ کا سماع اپنے والد عبداللہ سے نہیں ہے۔ ۴- اس باب میں معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن عبيد المحاربي، وابو سعيد الاشج قالا حدثنا عبد السلام بن حرب، عن خصيف، عن ابي عبيدة، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " في ثلاثين من البقر تبيع او تبيعة وفي اربعين مسنة " . وفي الباب عن معاذ بن جبل . قال ابو عيسى هكذا رواه عبد السلام بن حرب عن خصيف وعبد السلام ثقة حافظ . وروى شريك هذا الحديث عن خصيف عن ابي عبيدة عن امه عن عبد الله . وابو عبيدة بن عبد الله لم يسمع من عبد الله
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا اور حکم دیا کہ میں ہر تیس گائے پر ایک سال کا بچھوا یا بچھیا زکاۃ میں لوں اور ہر چالیس پر دو سال کی بچھیا زکاۃ میں لوں، اور ہر ( ذمّی ) بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافری ۱؎ کپڑے بطور جزیہ لوں ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «سفيان، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن مسروق» مرسلاً روایت کی ہے ۳؎ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو یمن بھیجا اور اس میں «فأمرني أن آخذ» کے بجائے «فأمره أن يأخذ» ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے ۴؎۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن مسروق، عن معاذ بن جبل، قال بعثني النبي صلى الله عليه وسلم الى اليمن فامرني ان اخذ من كل ثلاثين بقرة تبيعا او تبيعة ومن كل اربعين مسنة ومن كل حالم دينارا او عدله معافر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وروى بعضهم هذا الحديث عن سفيان عن الاعمش عن ابي وايل عن مسروق ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث معاذا الى اليمن فامره ان ياخذ . وهذا اصح
عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوعبیدہ بن عبداللہ سے پوچھا: کیا وہ ( اپنے والد ) عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے کوئی چیز یاد رکھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔
حدثنا محمد بن بشار حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة عن عمرو بن مرة قال سالت ابا عبيدة بن عبد الله هل تذكر من عبد الله شييا قال لا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی الله عنہ کو یمن ( کی طرف اپنا عامل بنا کر ) بھیجا اور ان سے فرمایا: ”تم اہل کتاب کی ایک جماعت کے پاس جا رہے ہو، تم انہیں دعوت دینا کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اگر وہ اس کو مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر رات اور دن میں پانچ وقت کی نماز فرض کی ہے، اگر وہ اسے مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان کے مال میں زکاۃ فرض کی ہے، جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور ان کے فقراء و مساکین کو لوٹا دی جائے گی ۱؎، اگر وہ اسے مان لیں تو تم ان کے عمدہ مال لینے سے اپنے آپ کو بچانا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا، اس لیے کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں صنابحی رضی الله عنہ ۲؎ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، حدثنا زكريا بن اسحاق المكي، حدثنا يحيى بن عبد الله بن صيفي، عن ابي معبد، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث معاذا الى اليمن فقال له " انك تاتي قوما اهل كتاب فادعهم الى شهادة ان لا اله الا الله واني رسول الله فان هم اطاعوا لذلك فاعلمهم ان الله افترض عليهم خمس صلوات في اليوم والليلة فان هم اطاعوا لذلك فاعلمهم ان الله افترض عليهم صدقة في اموالهم توخذ من اغنيايهم وترد على فقرايهم فان هم اطاعوا لذلك فاياك وكرايم اموالهم واتق دعوة المظلوم فانها ليس بينها وبين الله حجاب " . وفي الباب عن الصنابحي . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . وابو معبد مولى ابن عباس اسمه نافذ
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اونٹوں ۱؎ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ ۲؎ چاندنی سے کم میں زکاۃ نہیں ہے اور پانچ وسق ۳؎ غلے سے کم میں زکاۃ نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، ابن عمر، جابر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن يحيى المازني، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس فيما دون خمس ذود صدقة وليس فيما دون خمس اواق صدقة وليس فيما دون خمسة اوسق صدقة " . وفي الباب عن ابي هريرة وابن عمر وجابر وعبد الله بن عمرو
اس سند سے بھی ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے جیسے عبدالعزیز بن محمد کی حدیث ہے جسے انہوں نے عمرو بن یحییٰ سے روایت کی ہے ( جو اوپر گزر چکی ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ان سے یہ روایت اور بھی کئی طرق سے مروی ہے، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں ہے۔ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔ اور پانچ وسق میں تین سو صاع ہوتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع ساڑھے پانچ رطل کا تھا اور اہل کوفہ کا صاع آٹھ رطل کا، پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔ اور پانچ اوقیہ کے دو سو درہم ہوتے ہیں۔ اسی طرح سے پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے۔ جب پچیس اونٹ ہو جائیں تو ان میں ایک سال کی اونٹنی کی زکاۃ ہے اور پچیس اونٹ سے کم میں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری زکاۃ ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، وشعبة، ومالك بن انس، عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث عبد العزيز عن عمرو بن يحيى . قال ابو عيسى حديث ابي سعيد حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عنه . والعمل على هذا عند اهل العلم ان ليس فيما دون خمسة اوسق صدقة . والوسق ستون صاعا وخمسة اوسق ثلاثماية صاع وصاع النبي صلى الله عليه وسلم خمسة ارطال وثلث وصاع اهل الكوفة ثمانية ارطال . وليس فيما دون خمس اواق صدقة والاوقية اربعون درهما وخمس اواق مايتا درهم . وليس فيما دون خمس ذود صدقة يعني ليس فيما دون خمس من الابل صدقة فاذا بلغت خمسا وعشرين من الابل ففيها بنت مخاض وفيما دون خمس وعشرين من الابل في كل خمس من الابل شاة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر نہ اس کے گھوڑوں میں زکاۃ ہے اور نہ ہی اس کے غلاموں میں زکاۃ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ پالتو گھوڑوں میں جنہیں دانہ چارہ باندھ کر کھلاتے ہیں زکاۃ نہیں اور نہ ہی غلاموں میں ہے، جب کہ وہ خدمت کے لیے ہوں الاّ یہ کہ وہ تجارت کے لیے ہوں۔ اور جب وہ تجارت کے لیے ہوں تو ان کی قیمت میں زکاۃ ہو گی جب ان پر سال گزر جائے۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء ومحمود بن غيلان قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، وشعبة، عن عبد الله بن دينار، عن سليمان بن يسار، عن عراك بن مالك، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس على المسلم في فرسه ولا في عبده صدقة " . وفي الباب عن علي وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند اهل العلم انه ليس في الخيل السايمة صدقة ولا في الرقيق اذا كانوا للخدمة صدقة الا ان يكونوا للتجارة فاذا كانوا للتجارة ففي اثمانهم الزكاة اذا حال عليها الحول
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہد میں ہر دس مشک پر ایک مشک زکاۃ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوہریرہ، ابوسیارہ متعی اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۲- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کی سند میں کلام ہے ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں کچھ زیادہ صحیح چیزیں مروی نہیں اور اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ شہد میں کوئی زکاۃ نہیں ۲؎، ۴- صدقہ بن عبداللہ حافظ نہیں ہیں۔ نافع سے اس حدیث کو روایت کرنے میں صدقہ بن عبداللہ کی مخالفت کی گئی ہے۔
حدثنا عمرو بن ابي سلمة التنيسي، عن صدقة بن عبد الله، عن موسى بن يسار، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " في العسل في كل عشرة ازق زق " . وفي الباب عن ابي هريرة وابي سيارة المتعي وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى حديث ابن عمر في اسناده مقال ولا يصح عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الباب كبير شيء والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم وبه يقول احمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم ليس في العسل شيء . وصدقة بن عبد الله ليس بحافظ وقد خولف صدقة بن عبد الله في رواية هذا الحديث عن نافع
نافع کہتے ہیں کہ مجھ سے عمر بن عبدالعزیز نے شہد کی زکاۃ کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ ہمارے پاس شہد نہیں کہ ہم اس کی زکاۃ دیں، لیکن ہمیں مغیرہ بن حکیم نے خبر دی ہے کہ شہد میں زکاۃ نہیں ہے۔ تو عمر بن عبدالعزیز نے کہا: یہ مبنی برعدل اور پسندیدہ بات ہے۔ چنانچہ انہوں نے لوگوں کو لکھا کہ ان سے شہد کی زکاۃ معاف کر دی جائے۔
حدثنا محمد بن بشار حدثنا عبد الوهاب الثقفي حدثنا عبيد الله بن عمر عن نافع قال سالني عمر بن عبد العزيز عن صدقة العسل . قال قلت ما عندنا عسل نتصدق منه ولكن اخبرنا المغيرة بن حكيم انه قال ليس في العسل صدقة . فقال عمر عدل مرضي . فكتب الى الناس ان توضع . يعني عنهم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے کوئی مال حاصل ہو تو اس پر کوئی زکاۃ نہیں جب تک کہ اس پر اس کے مالک کے یہاں ایک سال نہ گزر جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں سراء بنت نبھان غنویہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا هارون بن صالح الطلحي المدني، حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من استفاد مالا فلا زكاة عليه حتى يحول عليه الحول عند ربه " . وفي الباب عن سراء بنت نبهان الغنوية
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں جسے کوئی مال حاصل ہو تو اس پر زکاۃ نہیں جب تک کہ اس کے ہاں اس مال پر ایک سال نہ گزر جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ ( موقوف ) حدیث عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کی ( مرفوع ) حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ ۲- ایوب، عبیداللہ بن عمر اور دیگر کئی لوگوں نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر سے موقوفاً ( ہی ) روایت کی ہے۔ ۳- عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم حدیث میں ضعیف ہیں، احمد بن حنبل، علی بن مدینی اور ان کے علاوہ دیگر محدثین نے ان کی تضعیف کی ہے وہ کثرت سے غلطیاں کرتے ہیں، ۴- صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے مروی ہے کہ حاصل شدہ مال میں زکاۃ نہیں ہے، جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ۵- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب آدمی کے پاس پہلے سے اتنا مال ہو جس میں زکاۃ واجب ہو تو حاصل شدہ مال میں بھی زکاۃ واجب ہو گی اور اگر اس کے پاس حاصل شدہ مال کے علاوہ کوئی اور مال نہ ہو جس میں زکاۃ واجب ہوئی ہو تو کمائے ہوئے مال میں بھی کوئی زکاۃ واجب نہیں ہو گی جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے، اور اگر اسے ( پہلے سے نصاب کو پہنچے ہوئے ) مال پر سال گزرنے سے پہلے کوئی کمایا ہوا مال ملا تو وہ اس مال کے ساتھ جس میں زکاۃ واجب ہو گئی ہے، مال مستفاد کی بھی زکاۃ نکالے گا سفیان ثوری اور اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، حدثنا ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال من استفاد مالا فلا زكاة فيه حتى يحول عليه الحول عند ربه . قال ابو عيسى وهذا اصح من حديث عبد الرحمن بن زيد بن اسلم . قال ابو عيسى وروى ايوب وعبيد الله بن عمر وغير واحد عن نافع عن ابن عمر موقوفا . وعبد الرحمن بن زيد بن اسلم ضعيف في الحديث ضعفه احمد بن حنبل وعلي بن المديني وغيرهما من اهل الحديث وهو كثير الغلط . وقد روي عن غير واحد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ان لا زكاة في المال المستفاد حتى يحول عليه الحول . وبه يقول مالك بن انس والشافعي واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم اذا كان عنده مال تجب فيه الزكاة ففيه الزكاة وان لم يكن عنده سوى المال المستفاد ما تجب فيه الزكاة لم يجب عليه في المال المستفاد زكاة حتى يحول عليه الحول فان استفاد مالا قبل ان يحول عليه الحول فانه يزكي المال المستفاد مع ماله الذي وجبت فيه الزكاة . وبه يقول سفيان الثوري واهل الكوفة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سر زمین پر دو قبلے ہونا درست نہیں ۱؎ اور نہ ہی مسلمانوں پر جزیہ درست ہے“ ۲؎۔
حدثنا يحيى بن اكثم، حدثنا جرير، عن قابوس بن ابي ظبيان، عن ابيه، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تصلح قبلتان في ارض واحدة وليس على المسلمين جزية
اس سند سے بھی قابوس سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث قابوس بن ابی ظبیان سے مروی ہے جسے انہوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، ۲- اس باب میں سعید بن زید اور حرب بن عبیداللہ ثقفی کے دادا سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ نصرانی جب اسلام قبول کر لے تو اس کی اپنی گردن کا جزیہ معاف کر دیا جائے گا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «ليس على المسلمين عشور» ”مسلمانوں پر عشر نہیں ہے“ کا مطلب بھی گردن کا جزیہ ہے، اور حدیث میں بھی اس کی وضاحت کر دی گئی ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا: ”عشر صرف یہود و نصاریٰ پر ہے، مسلمانوں پر کوئی عشر نہیں“ ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا جرير، عن قابوس، بهذا الاسناد نحوه . وفي الباب عن سعيد بن زيد، وجد حرب بن عبيد الله الثقفي . قال ابو عيسى حديث ابن عباس قد روي عن قابوس بن ابي ظبيان، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . والعمل على هذا عند عامة اهل العلم ان النصراني اذا اسلم وضعت عنه جزية رقبته . وقول النبي صلى الله عليه وسلم " ليس على المسلمين عشور " انما يعني به جزية الرقبة وفي الحديث ما يفسر هذا حيث قال " انما العشور على اليهود والنصارى وليس على المسلمين عشور
عبداللہ بن مسعود کی اہلیہ زینب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: ”اے گروہ عورتوں کی جماعت! زکاۃ دو ۱؎ گو اپنے زیورات ہی سے کیوں نہ دو۔ کیونکہ قیامت کے دن جہنم والوں میں تم ہی سب سے زیادہ ہو گی“۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن عمرو بن الحارث بن المصطلق، عن ابن اخي، زينب امراة عبد الله عن زينب، امراة عبد الله بن مسعود قالت خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " يا معشر النساء تصدقن ولو من حليكن فانكن اكثر اهل جهنم يوم القيامة
اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود کی اہلیہ زینب رضی الله عنہا کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ ابومعاویہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ انہیں اپنی حدیث میں وہم ہوا ہے ۱؎ انہوں نے کہا ہے ”عمرو بن الحارث سے روایت ہے وہ عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب کے بھتیجے سے روایت کر رہے ہیں“ اور صحیح یوں ہے ”زینب کے بھتیجے عمرو بن حارث سے روایت ہے“، ۲- نیز عمرو بن شعیب سے بطریق: «عن أبيه، عن جده، عبدالله بن عمرو بن العاص عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت ہے کہ آپ نے زیورات میں زکاۃ واجب قرار دی ہے ۲؎ اس حدیث کی سند میں کلام ہے، ۳- اہل علم کا اس سلسلے میں اختلاف ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین میں سے بعض اہل علم سونے چاندی کے زیورات میں زکاۃ کے قائل ہیں۔ سفیان ثوری اور عبداللہ بن مبارک بھی یہی کہتے ہیں۔ اور بعض صحابہ کرام جن میں ابن عمر، عائشہ، جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک رضی الله عنہم شامل ہیں، کہتے ہیں کہ زیورات میں زکاۃ نہیں ہے۔ بعض تابعین فقہاء سے بھی اسی طرح مروی ہے، اور یہی مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، عن شعبة، عن الاعمش، قال سمعت ابا وايل، يحدث عن عمرو بن الحارث ابن اخي، زينب امراة عبد الله - عن زينب، - امراة عبد الله - عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال ابو عيسى وهذا اصح من حديث ابي معاوية وابو معاوية وهم في حديثه فقال عن عمرو بن الحارث عن ابن اخي زينب . والصحيح انما هو عن عمرو بن الحارث ابن اخي زينب . وقد روي عن عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده عن النبي صلى الله عليه وسلم انه راى في الحلي زكاة . وفي اسناد هذا الحديث مقال . واختلف اهل العلم في ذلك فراى بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين في الحلي زكاة ما كان منه ذهب وفضة . وبه يقول سفيان الثوري وعبد الله بن المبارك . وقال بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم ابن عمر وعايشة وجابر بن عبد الله وانس بن مالك ليس في الحلي زكاة . وهكذا روي عن بعض فقهاء التابعين وبه يقول مالك بن انس والشافعي واحمد واسحاق
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا علي بن عبد الحميد الكوفي، حدثنا سليمان بن المغيرة، عن ثابت، عن انس، قال كنا نتمنى ان ياتي، الاعرابي العاقل فيسال النبي صلى الله عليه وسلم ونحن عنده فبينا نحن على ذلك اذ اتاه اعرابي فجثا بين يدى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا محمد ان رسولك اتانا فزعم لنا انك تزعم ان الله ارسلك . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " نعم " . قال فبالذي رفع السماء وبسط الارض ونصب الجبال الله ارسلك فقال النبي صلى الله عليه وسلم " نعم " . قال فان رسولك زعم لنا انك تزعم ان علينا خمس صلوات في اليوم والليلة . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " نعم " . قال فبالذي ارسلك الله امرك بهذا قال النبي صلى الله عليه وسلم " نعم " . قال فان رسولك زعم لنا انك تزعم ان علينا صوم شهر في السنة . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " صدق " . قال فبالذي ارسلك الله امرك بهذا قال النبي صلى الله عليه وسلم " نعم " . قال فان رسولك زعم لنا انك تزعم ان علينا في اموالنا الزكاة . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " صدق " . قال فبالذي ارسلك الله امرك بهذا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " نعم " . قال فان رسولك زعم لنا انك تزعم ان علينا الحج الى البيت من استطاع اليه سبيلا . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " نعم " . قال فبالذي ارسلك الله امرك بهذا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " نعم " . فقال والذي بعثك بالحق لا ادع منهن شييا ولا اجاوزهن . ثم وثب فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان صدق الاعرابي دخل الجنة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه وقد روي من غير هذا الوجه عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم . سمعت محمد بن اسماعيل يقول قال بعض اهل العلم فقه هذا الحديث ان القراءة على العالم والعرض عليه جايز مثل السماع . واحتج بان الاعرابي عرض على النبي صلى الله عليه وسلم فاقر به النبي صلى الله عليه وسلم