Loading...

Loading...
کتب
۶۵ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نماز کے لیے جانے سے پہلے صدقہ فطر نکالنے کا حکم دیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اور اہل علم اسی کو مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی صدقہ فطر نماز کے لیے جانے سے پہلے نکال دے۔
حدثنا مسلم بن عمرو بن مسلم ابو عمرو الحذاء المدني، حدثني عبد الله بن نافع الصايغ، عن ابن ابي الزناد، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يامر باخراج الزكاة قبل الغدو للصلاة يوم الفطر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وهو الذي يستحبه اهل العلم ان يخرج الرجل صدقة الفطر قبل الغدو الى الصلاة
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عباس رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی زکاۃ وقت سے پہلے دینے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے انہیں اس کی اجازت دی۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا سعيد بن منصور، حدثنا اسماعيل بن زكريا، عن الحجاج بن دينار، عن الحكم بن عتيبة، عن حجية بن عدي، عن علي، ان العباس، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن تعجيل صدقته قبل ان تحل فرخص له في ذلك
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے فرمایا: ”ہم عباس سے اس سال کی زکاۃ گزشتہ سال ہی لے چکے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۲- اسرائیل کی پہلے زکاۃ نکالنے والی حدیث کو جسے انہوں نے حجاج بن دینار سے روایت کی ہے ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۳- اسماعیل بن زکریا کی حدیث جسے انہوں نے حجاج سے روایت کی ہے میرے نزدیک اسرائیل کی حدیث سے جسے انہوں نے حجاج بن دینار سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے، ۴- نیز یہ حدیث حکم بن عتیبہ سے بھی مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، ۵- اہل علم کا وقت سے پہلے پیشگی زکاۃ دینے میں اختلاف ہے، اہل علم میں سے ایک جماعت کی رائے ہے کہ اسے پیشگی ادا نہ کرے، سفیان ثوری اسی کے قائل ہیں، وہ کہتے ہیں: کہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ یہی ہے کہ اسے پیشگی ادا نہ کرے، اور اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ اگر وقت سے پہلے پیشگی ادا کر دے تو جائز ہے۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ۱؎۔
حدثنا القاسم بن دينار الكوفي، حدثنا اسحاق بن منصور، عن اسراييل، عن الحجاج بن دينار، عن الحكم بن جحل، عن حجر العدوي، عن علي، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لعمر " انا قد اخذنا زكاة العباس عام الاول للعام " . قال وفي الباب عن ابن عباس . قال ابو عيسى لا اعرف حديث تعجيل الزكاة من حديث اسراييل عن الحجاج بن دينار الا من هذا الوجه وحديث اسماعيل بن زكريا عن الحجاج عندي اصح من حديث اسراييل عن الحجاج بن دينار . وقد روي هذا الحديث عن الحكم بن عتيبة عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . وقد اختلف اهل العلم في تعجيل الزكاة قبل محلها فراى طايفة من اهل العلم ان لا يعجلها . وبه يقول سفيان الثوري قال احب الى ان لا يعجلها . وقال اكثر اهل العلم ان عجلها قبل محلها اجزات عنه . وبه يقول الشافعي واحمد واسحاق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”تم میں سے کوئی شخص صبح سویرے جائے اور لکڑیوں کا گٹھر اپنی پیٹھ پر رکھ کر لائے اور اس میں سے ( یعنی اس کی قیمت میں سے ) صدقہ کرے اور اس طرح لوگوں سے بے نیاز رہے ( یعنی ان سے نہ مانگے ) اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے مانگے، وہ اسے دے یا نہ دے ۱؎ کیونکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے ۲؎، اور پہلے اسے دو جس کی تم خود کفالت کرتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- وہ بیان کی حدیث سے جسے انہوں نے قیس سے روایت کی ہے غریب جانی جاتی ہے، ۳- اس باب میں حکیم بن حزام، ابو سعید خدری، زبیر بن عوام، عطیہ سعدی، عبداللہ بن مسعود، مسعود بن عمرو، ابن عباس، ثوبان، زیاد بن حارث صدائی، انس، حبشی بن جنادہ، قبیصہ بن مخارق، سمرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن بيان بن بشر، عن قيس بن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لان يغدو احدكم فيحتطب على ظهره فيتصدق منه فيستغني به عن الناس خير له من ان يسال رجلا اعطاه او منعه ذلك فان اليد العليا افضل من اليد السفلى وابدا بمن تعول " . قال وفي الباب عن حكيم بن حزام وابي سعيد الخدري والزبير بن العوام وعطية السعدي وعبد الله بن مسعود ومسعود بن عمرو وابن عباس وثوبان وزياد بن الحارث الصدايي وانس وحبشي بن جنادة وقبيصة بن مخارق وسمرة وابن عمر . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح غريب يستغرب من حديث بيان عن قيس
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا ایک زخم ہے جس سے آدمی اپنا چہرہ زخمی کر لیتا ہے، سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے مانگے ۱؎ یا کسی ایسے کام کے لیے مانگے جو ضروری اور ناگزیر ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن عبد الملك بن عمير، عن زيد بن عقبة، عن سمرة بن جندب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان المسالة كد يكد بها الرجل وجهه الا ان يسال الرجل سلطانا او في امر لا بد منه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح