Loading...

Loading...
کتب
۷۳ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو گروہوں میں سے ایک گروہ کو صلاۃ خوف ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہا، پھر یہ لوگ پلٹے، اور ان لوگوں کی جگہ پر جو دشمن کے مقابل میں تھے جا کر کھڑے ہو گئے اور جو لوگ دشمن کے مقابل میں تھے وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر یہ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی ایک رکعت پوری کی۔ اور ( جو ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے سامنے چلے گئے تھے ) وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی اپنی ایک رکعت پوری کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اور موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- اس باب میں جابر، حذیفہ، زید بن ثابت، ابن عباس، ابوہریرہ، ابن مسعود، سہل بن ابی حثمہ، ابوعیاش زرقی ( ان کا نام زید بن صامت ہے ) اور ابوبکرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- مالک بن انس صلاۃ خوف کے بارے میں سہل بن ابی حثمہ کی حدیث کی طرف گئے ہیں ۱؎ اور یہی شافعی کا بھی قول ہے، ۵- احمد کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صلاۃ خوف کئی طریقوں سے مروی ہے، اور میں اس باب میں صرف ایک ہی صحیح حدیث جانتا ہوں، مجھے سہل بن ابی حثمہ کی حدیث پسند ہے، ۶- اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بھی کہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صلاۃ خوف کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات ثابت ہیں، ان کا خیال ہے کہ صلاۃ خوف کے بارے میں جو کچھ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، وہ سب جائز ہے، اور یہ ساری صورتیں خوف کی مقدار پر مبنی ہیں۔ اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ ہم سہل بن ابی حثمہ کی حدیث کو دوسری حدیثوں پر فوقیت نہیں دیتے۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى صلاة الخوف باحدى الطايفتين ركعة والطايفة الاخرى مواجهة العدو ثم انصرفوا فقاموا في مقام اوليك وجاء اوليك فصلى بهم ركعة اخرى ثم سلم عليهم فقام هولاء فقضوا ركعتهم وقام هولاء فقضوا ركعتهم . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح . وقد روى موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر مثل هذا . قال وفي الباب عن جابر وحذيفة وزيد بن ثابت وابن عباس وابي هريرة وابن مسعود وسهل بن ابي حثمة وابي عياش الزرقي واسمه زيد بن صامت وابي بكرة . قال ابو عيسى وقد ذهب مالك بن انس في صلاة الخوف الى حديث سهل بن ابي حثمة وهو قول الشافعي . وقال احمد قد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف على اوجه وما اعلم في هذا الباب الا حديثا صحيحا واختار حديث سهل بن ابي حثمة . وهكذا قال اسحاق بن ابراهيم قال ثبتت الروايات عن النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الخوف . وراى ان كل ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الخوف فهو جايز وهذا على قدر الخوف . قال اسحاق ولسنا نختار حديث سهل بن ابي حثمة على غيره من الروايات
سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے صلاۃ خوف کے بارے میں کہا کہ امام قبلہ رخ کھڑا ہو گا، اور لوگوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ کھڑی ہو گی اور ایک جماعت دشمن کے سامنے رہے گی اور اس کا رخ دشمن کی طرف ہو گا، امام انہیں ایک رکعت پڑھائے گا، اور دوسری ایک رکعت وہ خود اپنی جگہ پر پڑھیں گے اور خود ہی سجدے کریں گے، پھر یہ ان لوگوں کی جگہ پر چلے جائیں گے اور وہ ان کی جگہ آ جائیں گے، اب امام ایک رکعت انہیں پڑھائے گا اور ان کے ساتھ دو سجدے کرے گا، اس طرح امام کی دو رکعتیں ہو جائیں گی اور ان کی ایک ہی رکعت ہو گی، پھر یہ ایک رکعت اور پڑھیں گے اور دو سجدے کریں گے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد القطان، حدثنا يحيى بن سعيد الانصاري، عن القاسم بن محمد، عن صالح بن خوات بن جبير، عن سهل بن ابي حثمة، انه قال في صلاة الخوف قال يقوم الامام مستقبل القبلة وتقوم طايفة منهم معه وطايفة من قبل العدو ووجوهم الى العدو فيركع بهم ركعة ويركعون لانفسهم ركعة ويسجدون لانفسهم سجدتين في مكانهم ثم يذهبون الى مقام اوليك ويجيء اوليك فيركع بهم ركعة ويسجد بهم سجدتين فهي له ثنتان ولهم واحدة ثم يركعون ركعة ويسجدون سجدتين
سہل بن ابی حثمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یحییٰ بن سعید انصاری کی روایت کی طرح روایت کرتے ہیں، اور مجھ سے یحییٰ ( القطان ) نے کہا: اس حدیث کو اس کے بازو میں لکھ دو مجھے یہ حدیث یاد نہیں، لیکن یہ یحییٰ بن سعید انصاری کی حدیث کی طرح تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے یحییٰ بن سعید انصاری نے قاسم بن محمد کے واسطے سے مرفوع نہیں کیا ہے، قاسم بن محمد کے واسطے سے یحییٰ بن سعید انصاری کے تلامذہ نے اِسے اسی طرح موقوفاً روایت کیا ہے، البتہ شعبہ نے اسے عبدالرحمٰن بن قاسم بن محمد کے واسطے سے مرفوع کیا ہے۔
قال ابو عيسى قال محمد بن بشار سالت يحيى بن سعيد عن هذا الحديث، فحدثني عن شعبة، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن صالح بن خوات، عن سهل بن ابي حثمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثل حديث يحيى بن سعيد الانصاري . وقال لي يحيى اكتبه الى جنبه ولست احفظ الحديث ولكنه مثل حديث يحيى بن سعيد الانصاري . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح . لم يرفعه يحيى بن سعيد الانصاري عن القاسم بن محمد وهكذا روى اصحاب يحيى بن سعيد الانصاري موقوفا ورفعه شعبة عن عبد الرحمن بن القاسم بن محمد
صالح بن خوات ایک ایسے شخص سے روایت کرتے ہیں جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلاۃ خوف ادا کی، پھر انہوں نے اسی طرح ذکر کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔ ۳- نیز کئی لوگوں سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں جماعتوں کو ایک ایک رکعت پڑھائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں اور لوگوں کی ( امام کے ساتھ ) ایک ایک رکعت۔
وروى مالك بن انس، عن يزيد بن رومان، عن صالح بن خوات، عمن صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم صلاة الخوف فذكر نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وبه يقول مالك والشافعي واحمد واسحاق . وروي عن غير واحد ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى باحدى الطايفتين ركعة ركعة فكانت للنبي صلى الله عليه وسلم ركعتان ولهم ركعة ركعة . قال ابو عيسى ابو عياش الزرقي اسمه زيد بن صامت
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیارہ سجدے کئے۔ ان میں سے ایک وہ تھا جو سورۂ نجم میں ہے۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا عبد الله بن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن سعيد بن ابي هلال، عن عمر الدمشقي، عن ام الدرداء، عن ابي الدرداء، قال سجدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم احدى عشرة سجدة منها التي في النجم
اس سند سے بھی ابو الدرداء رضی الله عنہ سے روایت ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح انہیں الفاظ کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ سفیان بن وکیع کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے انہوں نے عبداللہ بن وہب سے روایت کی ہے ۱؎، ۲- اس باب میں علی، ابن عباس، ابوہریرہ، ابن مسعود، زید بن ثابت اور عمرو بن العاص رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابو الدرداء کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف سعید بن ابی ہلال کی روایت سے جانتے ہیں، اور سعید نے عمر دمشقی سے روایت کی ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا عبد الله بن صالح، حدثنا الليث بن سعد، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن ابي هلال، عن عمر، وهو ابن حيان الدمشقي قال سمعت مخبرا، يخبر عن ام الدرداء، عن ابي الدرداء، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بلفظه . قال ابو عيسى وهذا اصح من حديث سفيان بن وكيع عن عبد الله بن وهب . قال وفي الباب عن علي وابن عباس وابي هريرة وابن مسعود وزيد بن ثابت وعمرو بن العاص . قال ابو عيسى حديث ابي الدرداء حديث غريب لا نعرفه الا من حديث سعيد بن ابي هلال عن عمر الدمشقي
مجاہد کہتے ہیں ہم لوگ ابن عمر رضی الله عنہما کے پاس تھے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”عورتوں کو رات میں مسجد جانے کی اجازت دو“، ان کے بیٹے بلال نے کہا: اللہ کی قسم! ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے۔ وہ اسے فساد کا ذریعہ بنا لیں گی، تو ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا: اللہ تجھے ایسا ایسا کرے، میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور تو کہتا ہے کہ ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب اور زید بن خالد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا عيسى بن يونس، عن الاعمش، عن مجاهد، قال كنا عند ابن عمر فقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايذنوا للنساء بالليل الى المساجد " . فقال ابنه والله لا ناذن لهن يتخذنه دغلا . فقال فعل الله بك وفعل اقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وتقول لا ناذن لهن . قال وفي الباب عن ابي هريرة وزينب امراة عبد الله بن مسعود وزيد بن خالد . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح
طارق بن عبداللہ محاربی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز میں ہو تو اپنے دائیں طرف نہ تھوکو، اپنے پیچھے یا اپنے بائیں طرف یا پھر بائیں پاؤں کے نیچے ( تھوکو ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- طارق رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوسعید، ابن عمر، انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، عن منصور، عن ربعي بن حراش، عن طارق بن عبد الله المحاربي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كنت في الصلاة فلا تبزق عن يمينك ولكن خلفك او تلقاء شمالك او تحت قدمك اليسرى " . قال وفي الباب عن ابي سعيد وابن عمر وانس وابي هريرة . قال ابو عيسى وحديث طارق حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم . قال وسمعت الجارود يقول سمعت وكيعا يقول لم يكذب ربعي بن حراش في الاسلام كذبة . قال وقال عبد الرحمن بن مهدي اثبت اهل الكوفة منصور بن المعتمر
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں تھوکنا گناہ ہے۔ اور اس کا کفارہ اسے دفن کر دینا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البزاق في المسجد خطيية وكفارتها دفنها " . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ «اقرأ باسم ربك الذي خلق» اور «إذا السماء انشقت» میں سجدہ کیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ايوب بن موسى، عن عطاء بن ميناء، عن ابي هريرة، قال سجدنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في (اقرا باسم ربك الذي خلق ) و (اذا السماء انشقت)
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ اس حدیث کی سند میں چار تابعین ۱؎ ہیں، جو ایک دوسرے سے روایت کر رہے ہیں، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك الذي خلق» میں سجدہ کرنے کے قائل ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن يحيى بن سعيد، عن ابي بكر بن محمد، هو ابن عمرو بن حزم عن عمر بن عبد العزيز، عن ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم يرون السجود في(اذا السماء انشقت ) و (اقرا باسم ربك ) . وفي هذا الحديث اربعة من التابعين بعضهم عن بعض
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں یعنی سورۃ النجم میں سجدہ کیا اور مسلمانوں، مشرکوں، جنوں اور انسانوں نے بھی سجدہ کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان کی رائے میں سورۃ النجم میں سجدہ ہے، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ مفصل کی سورتوں میں سجدہ نہیں ہے۔ اور یہی مالک بن انس کا بھی قول ہے، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں۔
حدثنا هارون بن عبد الله البزاز البغدادي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا ابي، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال سجد رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها - يعني النجم - والمسلمون والمشركون والجن والانس . قال وفي الباب عن ابن مسعود وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم يرون السجود في سورة النجم . وقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ليس في المفصل سجدة . وهو قول مالك بن انس . والقول الاول اصح وبه يقول الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق . وفي الباب عن ابن مسعود وابي هريرة
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۃ النجم پڑھی مگر آپ نے سجدہ نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زید بن ثابت رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تاویل کی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ اس لیے نہیں کیا کہ زید بن ثابت رضی الله عنہ نے جس وقت یہ سورۃ پڑھی تو خود انہوں نے بھی سجدہ نہیں کیا، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سجدہ نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں: یہ سجدہ ہر اس شخص پر واجب ہے جو اسے سنے، ان لوگوں نے اسے چھوڑنے کی اجازت نہیں دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ آدمی اگر اسے سنے اور وہ بلا وضو ہو تو جب وضو کر لے سجدہ کرے۔ اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے، اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ اور بعض اہل علم کہتے ہیں: یہ سجدہ صرف اس پر ہے جو سجدہ کرنے کا ارادہ کرے، اور اس کی خیر و برکت کا طلب گار ہو، انہوں نے اسے ترک کرنے کی اجازت دی ہے، اگر وہ ترک کرنا چاہے، ۳- اور انہوں نے حدیث مرفوع یعنی زید بن ثابت رضی الله عنہ کی حدیث سے جس میں ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۃ النجم پڑھی، لیکن آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔ استدلال کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ سجدہ واجب ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زید کو سجدہ کرائے بغیر نہ چھوڑتے اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سجدہ کرتے۔ اور ان لوگوں نے عمر رضی الله عنہ کی حدیث سے بھی استدلال ہے کہ انہوں نے منبر پر سجدہ کی آیت پڑھی اور پھر اتر کر سجدہ کیا، اسے دوسرے جمعہ میں پھر پڑھا، لوگ سجدے کے لیے تیار ہوئے تو انہوں نے کہا: یہ ہم پر فرض نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم چاہیں تو چنانچہ نہ تو انہوں نے سجدہ کیا اور نہ لوگوں نے کیا، بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں اور یہی شافعی اور احمد کا بھی قول ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا وكيع، عن ابن ابي ذيب، عن يزيد بن عبد الله بن قسيط، عن عطاء بن يسار، عن زيد بن ثابت، قال قرات على رسول الله صلى الله عليه وسلم النجم فلم يسجد فيها . قال ابو عيسى حديث زيد بن ثابت حديث حسن صحيح . وتاول بعض اهل العلم هذا الحديث فقال انما ترك النبي صلى الله عليه وسلم السجود لان زيد بن ثابت حين قرا فلم يسجد لم يسجد النبي صلى الله عليه وسلم . وقالوا السجدة واجبة على من سمعها فلم يرخصوا في تركها . وقالوا ان سمع الرجل وهو على غير وضوء فاذا توضا سجد . وهو قول سفيان الثوري واهل الكوفة وبه يقول اسحاق . وقال بعض اهل العلم انما السجدة على من اراد ان يسجد فيها والتمس فضلها ورخصوا في تركها ان اراد ذلك . واحتجوا بالحديث المرفوع حديث زيد بن ثابت حيث قال قرات على النبي صلى الله عليه وسلم النجم فلم يسجد فيها . فقالوا لو كانت السجدة واجبة لم يترك النبي صلى الله عليه وسلم زيدا حتى كان يسجد ويسجد النبي صلى الله عليه وسلم . واحتجوا بحديث عمر انه قرا سجدة على المنبر فنزل فسجد ثم قراها في الجمعة الثانية فتهيا الناس للسجود فقال انها لم تكتب علينا الا ان نشاء . فلم يسجد ولم يسجدوا . فذهب بعض اهل العلم الى هذا . وهو قول الشافعي واحمد
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ ص میں سجدہ کرتے دیکھا۔ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: یہ واجب سجدوں میں سے نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اس میں اختلاف ہے، صحابہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم کی رائے ہے کہ اس میں سجدہ کرے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ ایک نبی کی توبہ ہے، اس میں سجدہ ضروری نہیں ۱؎۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يسجد في ص . قال ابن عباس وليست من عزايم السجود . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . واختلف اهل العلم في ذلك فراى بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان يسجد فيها . وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق . وقال بعضهم انها توبة نبي ولم يروا السجود فيها
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سورۃ الحج کو یہ شرف بخشا گیا ہے کہ اس میں دو سجدے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں، جو یہ دونوں سجدے نہ کرے وہ اسے نہ پڑھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند کوئی خاص قوی نہیں ہے، ۲- اس سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، عمر بن خطاب اور ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سورۃ الحج کو یہ شرف بخشا گیا ہے کہ اس میں دو سجدے ہیں۔ ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ۳- اور بعض کی رائے ہے کہ اس میں ایک سجدہ ہے۔ یہ سفیان ثوری، مالک اور اہل کوفہ کا قول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن مشرح بن هاعان، عن عقبة بن عامر، قال قلت يا رسول الله فضلت سورة الحج بان فيها سجدتين قال " نعم ومن لم يسجدهما فلا يقراهما " . قال ابو عيسى هذا حديث ليس اسناده بذاك القوي . واختلف اهل العلم في هذا فروي عن عمر بن الخطاب وابن عمر انهما قالا فضلت سورة الحج بان فيها سجدتين . وبه يقول ابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق . وراى بعضهم فيها سجدة وهو قول سفيان الثوري ومالك واهل الكوفة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات اپنے کو دیکھا اور میں سو رہا تھا ( یعنی خواب میں دیکھا ) کہ میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدہ کیا تو میرے سجدے کے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا، پھر میں نے اسے سنا، وہ کہہ رہا تھا: «اللهم اكتب لي بها عندك أجرا وضع عني بها وزرا واجعلها لي عندك ذخرا وتقبلها مني كما تقبلتها من عبدك داود» ”اے اللہ! اس کے بدلے تو میرے لیے اجر لکھ دے، اور اس کے بدلے میرا بوجھ مجھ سے ہٹا دے، اور اسے میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا لے، اور اسے مجھ سے تو اسی طرح قبول فرما جیسے تو نے اپنے بندے داود سے قبول کیا تھا“۔ حسن بن محمد بن عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں: مجھ سے ابن جریج نے کہا کہ مجھ سے تمہارے دادا نے کہا کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت سجدے کی تلاوت کی اور سجدہ کیا، ابن عباس کہتے ہیں: تو میں نے آپ کو ویسے ہی کہتے سنا جیسے اس شخص نے اس درخت کے الفاظ بیان کئے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا محمد بن يزيد بن خنيس، حدثنا الحسن بن محمد بن عبيد الله بن ابي يزيد، قال قال لي ابن جريج يا حسن اخبرني عبيد الله بن ابي يزيد، عن ابن عباس، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني رايتني الليلة وانا نايم كاني اصلي خلف شجرة فسجدت فسجدت الشجرة لسجودي فسمعتها وهي تقول اللهم اكتب لي بها عندك اجرا وضع عني بها وزرا واجعلها لي عندك ذخرا وتقبلها مني كما تقبلتها من عبدك داود . قال الحسن قال لي ابن جريج قال لي جدك قال ابن عباس فقرا النبي صلى الله عليه وسلم سجدة ثم سجد . قال فقال ابن عباس فسمعته وهو يقول مثل ما اخبره الرجل عن قول الشجرة . قال وفي الباب عن ابي سعيد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث ابن عباس لا نعرفه الا من هذا الوجه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت قرآن کے سجدوں کہتے: «سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته» ”میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا ہے جس نے اسے بنایا، اور اپنی طاقت و قوت سے اس کے کان اور اس کی آنکھیں پھاڑیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، حدثنا خالد الحذاء، عن ابي العالية، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في سجود القران بالليل " سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبدالرحمٰن بن عبد قاری کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی الله عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سو جائے، پھر وہ اسے نماز فجر سے لے کر ظہر کے درمیان تک کسی وقت پڑھ لے تو یہ اس کے لیے ایسے ہی لکھا جائے گا، گویا اس نے اسے رات ہی میں پڑھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو صفوان، عن يونس بن يزيد، عن ابن شهاب الزهري، ان السايب بن يزيد، وعبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، اخبراه عن عبد الرحمن بن عبد القاري، قال سمعت عمر بن الخطاب، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نام عن حزبه او عن شيء منه فقراه ما بين صلاة الفجر وصلاة الظهر كتب له كانما قراه من الليل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال وابو صفوان اسمه عبد الله بن سعيد المكي وروى عنه الحميدي وكبار الناس
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جو شخص امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کے سر کو گدھے کا سر بنا دے؟“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن محمد بن زياد، وهو ابو الحارث البصري ثقة عن ابي هريرة، قال قال محمد صلى الله عليه وسلم " اما يخشى الذي يرفع راسه قبل الامام ان يحول الله راسه راس حمار " . قال قتيبة قال حماد قال لي محمد بن زياد وانما قال " اما يخشى " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ومحمد بن زياد هو بصري ثقة ويكنى ابا الحارث
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب پڑھتے تھے، پھر اپنی قوم کے لوگوں میں لوٹ کر آتے اور ان کی امامت کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہمارے اصحاب یعنی شافعی احمد اور اسحاق کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب آدمی فرض نماز میں اپنی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے پہلے یہ نماز پڑھ چکا ہو تو جن لوگوں نے اس کی اقتداء کی ہے ان کی نماز درست ہے۔ ان لوگوں نے معاذ رضی الله عنہ کے قصے سے جو جابر رضی الله عنہ کی حدیث میں ہے اس سے دلیل پکڑی ہے، ۳- ابوالدرداء رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو مسجد میں داخل ہوا اور لوگ نماز عصر میں مشغول تھے اور وہ سمجھ رہا تھا کہ ظہر ہے تو اس نے ان کی اقتداء کر لی، تو ابو الدرداء نے کہا: اس کی نماز جائز ہے، ۴- اہل کوفہ کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ جب کچھ لوگ کسی امام کی اقتداء کریں اور وہ عصر پڑھ رہا ہو اور لوگ سمجھ رہے ہوں کہ وہ ظہر پڑھ رہا ہے اور وہ انہیں نماز پڑھا دے اور لوگ اس کی اقتداء میں نماز پڑھ لیں تو مقتدی کی نماز فاسد ہے کیونکہ کہ امام کی نیت اور مقتدی کی نیت مختلف ہو گئی ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله، ان معاذ بن جبل، كان يصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم المغرب ثم يرجع الى قومه فيومهم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اصحابنا الشافعي واحمد واسحاق قالوا اذا ام الرجل القوم في المكتوبة وقد كان صلاها قبل ذلك ان صلاة من ايتم به جايزة . واحتجوا بحديث جابر في قصة معاذ وهو حديث صحيح وقد روي من غير وجه عن جابر . وروي عن ابي الدرداء انه سيل عن رجل دخل المسجد والقوم في صلاة العصر وهو يحسب انها صلاة الظهر فايتم بهم قال صلاته جايزة . وقد قال قوم من اهل الكوفة اذا ايتم قوم بامام وهو يصلي العصر وهم يحسبون انها الظهر فصلى بهم واقتدوا به فان صلاة المقتدي فاسدة اذ اختلف نية الامام ونية الماموم