Loading...

Loading...
کتب
۷۳ احادیث
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم جب دوپہر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو گرمی سے بچنے کے لیے اپنے کپڑوں پر سجدہ کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر بن عبداللہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن محمد، حدثنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا خالد بن عبد الرحمن، قال حدثني غالب القطان، عن بكر بن عبد الله المزني، عن انس بن مالك، قال كنا اذا صلينا خلف النبي صلى الله عليه وسلم بالظهاير سجدنا على ثيابنا اتقاء الحر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال وفي الباب عن جابر بن عبد الله وابن عباس . وقد روى وكيع هذا الحديث عن خالد بن عبد الرحمن
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر پڑھتے تو اپنے مصلے پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا صلى الفجر قعد في مصلاه حتى تطلع الشمس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز فجر جماعت سے پڑھی پھر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ سورج نکل گیا، پھر اس نے دو رکعتیں پڑھیں، تو اسے ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب ملے گا“۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پورا، پورا، پورا، یعنی حج و عمرے کا پورا ثواب“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے ( سند میں موجود راوی ) ابوظلال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ مقارب الحدیث ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ان کا نام ہلال ہے۔
حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي البصري، حدثنا عبد العزيز بن مسلم، حدثنا ابو ظلال، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى الغداة في جماعة ثم قعد يذكر الله حتى تطلع الشمس ثم صلى ركعتين كانت له كاجر حجة وعمرة " . قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تامة تامة تامة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . قال وسالت محمد بن اسماعيل عن ابي ظلال فقال هو مقارب الحديث . قال محمد واسمه هلال
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ( گردن موڑے بغیر ) ترچھی نظر سے دائیں اور بائیں دیکھتے تھے اور اپنی گردن اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں پھیرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- وکیع نے اپنی روایت میں فضل بن موسیٰ کی مخالفت کی ہے ۱؎۔
حدثنا محمود بن غيلان، وغير، واحد، قالوا حدثنا الفضل بن موسى، عن عبد الله بن سعيد بن ابي هند، عن ثور بن زيد، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يلحظ في الصلاة يمينا وشمالا ولا يلوي عنقه خلف ظهره . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وقد خالف وكيع الفضل بن موسى في روايته
عکرمہ کے ایک شاگرد سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ترچھی نظر سے دیکھتے تھے۔ آگے انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں انس اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، عن عبد الله بن سعيد بن ابي هند، عن بعض، اصحاب عكرمة ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يلحظ في الصلاة . فذكر نحوه . قال وفي الباب عن انس وعايشة
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے میرے بیٹے! نماز میں ادھر ادھر ( گردن موڑ کر ) دیکھنے سے بچو، نماز میں گردن موڑ کر ادھر ادھر دیکھنا ہلاکت ہے، اگر دیکھنا ضروری ہی ٹھہرے تو نفل نماز میں دیکھو، نہ کہ فرض میں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو حاتم، مسلم بن حاتم البصري حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، عن ابيه، عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيب، قال قال انس بن مالك قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا بنى اياك والالتفات في الصلاة فان الالتفات في الصلاة هلكة فان كان لا بد ففي التطوع لا في الفريضة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر ( گردن موڑ کر ) دیکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کہا: ”یہ تو اچک لینا ہے، شیطان آدمی کی نماز اچک لیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا صالح بن عبد الله، حدثنا ابو الاحوص، عن اشعث بن ابي الشعثاء، عن ابيه، عن مسروق، عن عايشة، قالت سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الالتفات في الصلاة قال " هو اختلاس يختلسه الشيطان من صلاة الرجل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
علی اور معاذ بن جبل رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے آئے اور امام جس حالت میں ہو تو وہ وہی کرے جو امام کر رہا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مسند کیا ہو سوائے اس کے جو اس طریق سے مروی ہے، ۲- اسی پر اہل علم کا عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب آدمی آئے اور امام سجدے میں ہو تو وہ بھی سجدہ کرے، لیکن جب امام کے ساتھ اس کا رکوع چھوٹ گیا ہو تو اس کی رکعت کافی نہ ہو گی۔ عبداللہ بن مبارک نے بھی اسی کو پسند کیا ہے کہ امام کے ساتھ سجدہ کرے، اور بعض لوگوں سے نقل کیا کہ شاید وہ اس سجدے سے اپنا سر اٹھاتا نہیں کہ بخش دیا جاتا ہے۔
حدثنا هشام بن يونس الكوفي، حدثنا المحاربي، عن الحجاج بن ارطاة، عن ابي اسحاق، عن هبيرة بن يريم، عن علي، وعن عمرو بن مرة، عن ابن ابي ليلى، عن معاذ بن جبل، قالا قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا اتى احدكم الصلاة والامام على حال فليصنع كما يصنع الامام " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعلم احدا اسنده الا ما روي من هذا الوجه . والعمل على هذا عند اهل العلم . قالوا اذا جاء الرجل والامام ساجد فليسجد ولا تجزيه تلك الركعة اذا فاته الركوع مع الامام واختار عبد الله بن المبارك ان يسجد مع الامام وذكر عن بعضهم فقال لعله لا يرفع راسه في تلك السجدة حتى يغفر له
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو تم اس وقت تک نہ کھڑے ہو جب تک کہ مجھے نکل کر آتے نہ دیکھ لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوقتادہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، لیکن ان کی حدیث غیر محفوظ ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے لوگوں کے کھڑے ہو کر امام کا انتظار کرنے کو مکروہ کہا ہے، ۴- بعض کہتے ہیں کہ جب امام مسجد میں ہو اور نماز کھڑی کر دی جائے تو وہ لوگ اس وقت کھڑے ہوں جب مؤذن «قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة» کہے، ابن مبارک کا یہی قول ہے۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اقيمت الصلاة فلا تقوموا حتى تروني خرجت " . قال وفي الباب عن انس وحديث انس غير محفوظ . قال ابو عيسى حديث ابي قتادة حديث حسن صحيح . وقد كره قوم من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان ينتظر الناس الامام وهم قيام . وقال بعضهم اذا كان الامام في المسجد فاقيمت الصلاة فانما يقومون اذا قال الموذن قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة . وهو قول ابن المبارك
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے، ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما ( بھی ) آپ کے ساتھ تھے، جب میں ( قعدہ اخیرہ میں ) بیٹھا تو پہلے میں نے اللہ کی تعریف کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا، پھر اپنے لیے دعا کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مانگو، تمہیں دیا جائے گا، مانگ تمہیں دیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں فضالہ بن عبید رضی الله عنہ سے روایت ہے، ۳- یہ حدیث احمد بن حنبل نے یحییٰ بن آدم سے مختصراً روایت کی ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن عاصم، عن زر، عن عبد الله، قال كنت اصلي والنبي صلى الله عليه وسلم وابو بكر وعمر معه فلما جلست بدات بالثناء على الله ثم الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم ثم دعوت لنفسي فقال النبي صلى الله عليه وسلم " سل تعطه سل تعطه " . قال وفي الباب عن فضالة بن عبيد . قال ابو عيسى حديث عبد الله بن مسعود حديث حسن صحيح . قال ابو عيسى هذا الحديث رواه احمد بن حنبل عن يحيى بن ادم مختصرا
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محلوں میں مسجد بنانے، انہیں صاف رکھنے اور خوشبو سے بسانے کا حکم دیا ہے۔
حدثنا محمد بن حاتم المودب البغدادي البصري، حدثنا عامر بن صالح الزبيري، هو من ولد الزبير حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت امر رسول الله صلى الله عليه وسلم ببناء المساجد في الدور وان تنظف وتطيب
اس سند سے بھی ہشام بن عروہ اپنے والد عروہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، پھر آگے اسی طرح کی حدیث انہوں نے ذکر کی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، ووكيع، عن هشام بن عروة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم امر فذكر نحوه . قال ابو عيسى وهذا اصح من الحديث الاول
اس سند سے بھی ہشام بن عروہ نے اپنے باپ عروہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، آگے اسی طرح کی حدیث انہوں نے ذکر کی۔ سفیان کہتے ہیں: دور یا محلوں میں مسجدیں بنانے سے مراد قبائل میں مسجدیں بنانا ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم امر فذكر نحوه . قال سفيان قوله " ببناء المساجد في الدور " . يعني القبايل
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث میں شعبہ کے تلامذہ میں اختلاف ہے، بعض نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے اور بعض نے موقوفاً، ۲- عبداللہ عمری بطریق: «نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ صحیح وہی ہے جو ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے“، ۳- ثقات نے عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اس میں ان لوگوں نے دن کی نماز کا ذکر نہیں کیا ہے ۱؎، ۴- عبیداللہ سے مروی ہے، انہوں نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے کہ وہ رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور دن کو چار چار رکعت، ۵- اس مسئلہ میں اہل علم میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں رات اور دن دونوں کی نماز دو دو رکعت ہے، یہی شافعی اور احمد کا قول ہے، اور بعض کہتے ہیں: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، ان کی رائے میں دن کی نفل نماز چار رکعت ہے مثلاً ظہر وغیرہ سے پہلے کی چار نفل رکعتیں، سفیان ثوری، ابن مبارک، اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا شعبة، عن يعلى بن عطاء، عن علي الازدي، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " صلاة الليل والنهار مثنى مثنى " . قال ابو عيسى اختلف اصحاب شعبة في حديث ابن عمر فرفعه بعضهم واوقفه بعضهم . وروي عن عبد الله العمري عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا . والصحيح ما روي عن ابن عمر ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " صلاة الليل مثنى مثنى " . وروى الثقات عن عبد الله بن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم ولم يذكروا فيه صلاة النهار . وقد روي عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر انه كان يصلي بالليل مثنى مثنى وبالنهار اربعا . وقد اختلف اهل العلم في ذلك فراى بعضهم ان صلاة الليل والنهار مثنى مثنى . وهو قول الشافعي واحمد . وقال بعضهم صلاة الليل مثنى مثنى وراوا صلاة التطوع بالنهار اربعا مثل الاربع قبل الظهر وغيرها من صلاة التطوع . وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك واسحاق
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ہم نے علی رضی الله عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دن کی نماز کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: تم اس کی طاقت نہیں رکھتے، اس پر ہم نے کہا: ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج اس طرف ( یعنی مشرق کی طرف ) اس طرح ہو جاتا جیسے کہ عصر کے وقت اس طرف ( یعنی مغرب کی طرف ) ہوتا ہے تو دو رکعتیں پڑھتے، اور جب سورج اس طرف ( مشرق میں ) اس طرح ہو جاتا جیسے کہ اس طرف ( مغرب میں ) ظہر کے وقت ہوتا ہے تو چار رکعت پڑھتے، اور چار رکعت ظہر سے پہلے پڑھتے اور دو رکعت اس کے بعد اور عصر سے پہلے چار رکعت پڑھنے، ہر دو رکعت کے درمیان مقرب فرشتوں اور انبیاء و رسل پر اور مومنوں اور مسلمانوں میں سے جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے ان پر سلام پھیر کر فصل کرتے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، قال سالنا عليا عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم من النهار فقال انكم لا تطيقون ذاك . فقلنا من اطاق ذاك منا . فقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا كانت الشمس من ها هنا كهييتها من ها هنا عند العصر صلى ركعتين واذا كانت الشمس من ها هنا كهييتها من ها هنا عند الظهر صلى اربعا وصلى اربعا قبل الظهر وبعدها ركعتين وقبل العصر اربعا يفصل بين كل ركعتين بالتسليم على الملايكة المقربين والنبيين والمرسلين ومن تبعهم من المومنين والمسلمين
اس سند سے بھی علی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دن کی نفل نماز کے سلسلے میں مروی چیزوں میں سب سے بہتر یہی روایت ہے، ۳- عبداللہ بن مبارک اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے تھے۔ اور ہمارے خیال میں انہوں نے اسے صرف اس لیے ضعیف قرار دیا ہے کہ اس جیسی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اسی سند سے۔ ( یعنی: عاصم بن ضمرہ کے واسطے سے علی رضی الله عنہ سے ) مروی ہے، ۴- سفیان ثوری کہتے ہیں: ہم عاصم بن ضمرہ کی حدیث کو حارث ( اعور ) کی حدیث سے افضل جانتے تھے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، عن علي، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقال اسحاق بن ابراهيم احسن شيء روي في تطوع النبي صلى الله عليه وسلم في النهار هذا . وروي عن عبد الله بن المبارك انه كان يضعف هذا الحديث . وانما ضعفه عندنا والله اعلم لانه لا يروى مثل هذا عن النبي صلى الله عليه وسلم الا من هذا الوجه عن عاصم بن ضمرة عن علي . وعاصم بن ضمرة هو ثقة عند بعض اهل العلم . قال علي بن المديني قال يحيى بن سعيد القطان قال سفيان كنا نعرف فضل حديث عاصم بن ضمرة على حديث الحارث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کی چادروں میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی اجازت بھی مروی ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى، حدثنا خالد بن الحارث، عن اشعث، وهو ابن عبد الملك عن محمد بن سيرين، عن عبد الله بن شقيق، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يصلي في لحف نسايه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم رخصة في ذلك
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں گھر آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور دروازہ بند تھا، تو آپ چل کر آئے اور میرے لیے دروازہ کھولا۔ پھر اپنی جگہ لوٹ گئے، اور انہوں نے بیان کیا کہ دروازہ قبلے کی طرف تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف حدثنا بشر بن المفضل، عن برد بن سنان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت جيت ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في البيت والباب عليه مغلق فمشى حتى فتح لي ثم رجع الى مكانه . ووصفت الباب في القبلة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں ایک شخص نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے لفظ «غَيْرِ آسِنٍ» یا «يَاسِنٍ» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: کیا تم نے اس کے علاوہ پورا قرآن پڑھ لیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: ایک قوم اسے ایسے پڑھتی ہے جیسے کوئی خراب کھجور جھاڑ رہا ہو، یہ ان کے گلے سے آگے نہیں بڑھتا، میں ان متشابہ سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھتے تھے۔ ابووائل کہتے ہیں: ہم نے علقمہ سے پوچھنے کے لیے کہا تو انہوں نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے پوچھا: انہوں نے بتایا کہ یہ مفصل کی بیس سورتیں ہیں ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رکعت میں دو دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: يَاسِنٍ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، عن الاعمش، قال سمعت ابا وايل، قال سال رجل عبد الله عن هذا الحرف (غير اسن) او ياسن قال كل القران قرات غير هذا الحرف قال نعم . قال ان قوما يقرءونه ينثرونه نثر الدقل لا يجاوز تراقيهم اني لاعرف السور النظاير التي كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرن بينهن . قال فامرنا علقمة فساله فقال عشرون سورة من المفصل كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرن بين كل سورتين في ركعة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر نماز کے لیے نکلے، اور اسے صرف نماز ہی نے نکالا، یا کہا اٹھایا ہو، تو جو بھی قدم وہ چلے گا، اللہ اس کے بدلے اس کا درجہ بڑھائے گا، یا اس کے بدلے اس کا ایک گناہ کم کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، عن الاعمش، سمع ذكوان، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا توضا الرجل فاحسن الوضوء ثم خرج الى الصلاة لا يخرجه او قال لا ينهزه الا اياها لم يخط خطوة الا رفعه الله بها درجة او حط عنه بها خطيية " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح